ناصر شیخ کا قاتل کون؟ —– فرحان کامرانی

0

اخبار اور ٹی وی پر اکثر قتل کی، حادثات کی خبریں بڑی بے حسی سے سنائی جاتی ہیں، ایسی خبریں محض چند سیکنڈ کی ہوتی ہیں اور ان میں عام طور پر مقتولین یا حادثے کے شکار افراد کے نام سنا دیے جاتے ہیں۔ اگر خبر ایک یا دو افراد کی ہلاکت کی ہو تو اس پر تو لوگوں کو کچھ محسوس ہوتا ہی نہیں، ہاں کوئی بم دھماکا، کوئی ٹرین حادثہ وغیرہ ہو جس میں سیکڑوں انسان مر جائیں تو لوگوں کو تھوڑی سے تشویش ہو جاتی ہے، 12 مئی 2007ء، 27 دسمبر 2007ء، 18 اکتوبر 2007ء، 16 دسمبر 2014ء اور اس نوع کی بعض تاریخیں سانحات کے طور پر یاد تو رکھی جاتی ہیں مگر اس کی وجہ بھی انسانیت کا دکھ نہیں بلکہ سیاسی ہے۔

دوسرا انسان مرتا ہے تو ہمارے معاشرے میں اب اکثریت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر اگر صرف ایک انسان مرے تو لوگوں کے لئے ایسی خبر ایسی اطلاع محض ایک مذاق ہی ہے، عام آدمی کی موت یہاں کسی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی، پھر یہ ناصر شیخ صاحب کون ہیں؟

آئیں آپ کی ملاقات ناصر شیخ صاحب سے کراتے ہیں، ان کی مختصر سی سوانح شائد ان کو محض ایک خبر سے ایک سانس لیتا انسان بنا دے۔ شائد پھر آپ ناصر شیخ لئے ہمدرد بن سکیں، شائد مرحوم کے لئے دعا کر سکیں،۔ زندگی میں آپ ان کے لئے دعا نہیں کر سکے تو اب دعائے مغفرت ہی سہی۔ 1962ء میں لیاقت آباد کے ایک غریب شیخ داؤدی خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ یہ گھرانا 1947ء میں علی گڑھ سے ہجرت کر کے کراچی آیا تھا۔ اس بچے کا نام محمد ناصر شیخ رکھا گیا۔ جب یہ بچہ محض چار سال کا تھا تو اس کے والد عبدالرشید صاحب کا انتقال ہو گیا۔ برادری والوں نے اس کی جواں سال والدہ کی دوسری شادی کرا دی۔ اس کا ایک سوتیلا بھائی اور 3سوتیلی بہنیں مولد ہوئیں۔ ناصر نے اپنے بہن بھائیوں کو کبھی سوتیلا نہ سمجھا۔

ابتداء میں ناصر کو بھی خاندان کے لوگوں نے تالے بنانے کے آبائی کام پر بٹھایا مگر اس کی والدہ نے فوراً اس کام سے بیٹے کو منع کر دیا اور سرکاری اسکول میں بھرتی کرا دیا کہ ”میرا بچہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے گا۔“ معاشی تنگی اور غربت کی وجہ سے اس بچے نے تعلیم کے ساتھ ساتھ مٹھائی کے ڈبے بنا کر اور بعد میں کارخانوں میں کام کر کے اپنے گھر کو سہارا دیا اور اپنے والدین کا بازو بنا۔ سوتیلے والد ناصر سے شفقت سے پیش آتے تھے مگر اس کی خودداری اسے ہمیشہ ان سے پیسے سے روکتی تھی۔ ناصر نے انٹر کے بعد ادارہ ترقیات کراچی (KDA) میں بحیثیت اسٹینو ملازمت اختیار کی۔ اپنی تعلیم بھی نوکری کے ساتھ جاری رکھی۔ غریب گھرانے میں جنم لینے والا ناصر تعلیم میں بہت اچھا تھا۔ اس نے جامعہ کراچی سے پرائیویٹ ماسٹرز اور ایل ایل بی کیا۔ وہ ادارے میں ترقی پاتا گیا اور گریڈ 19 میں ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچا۔

ناصر شیخ کو خدا نے تین بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ اس کی زندگی بڑی حسین تھی، بڑی خوشگوار تھی کہ2014ء کے نومبر میں اسے NAB نے گرفتار کر لیا۔ وہ سمجھا کہ یہ مصیبت جلد ختم ہو جائے گی۔ اس لئے کہ NAB کے قانون میں یہ لکھا ہے کہ مقدمہ ایک مہینے میں ختم ہونا لازم ہے۔ ناصر نے کبھی اپنی زندگی میں عدالت، جیل وغیرہ کا سامنا نہیں ک یا تھا، اس کا ماضی بالکل صاف تھا۔ وہ جانتا ہی نہ تھا کہ وکیل کیسے ملزموں کو لوٹتے ہیں اور نیب کیسے انسانوں کا سرمہ بناتی ہے۔

ناصر شیخ ساڑھے تین سال جیل میں رہا۔ان ساڑھے تین سالوں میں کئی سو عدالتی پیشیاں ہوئیں اور کل ملا کر ساڑھے تین سال میں ایک گواہی عدالت میں ریکارڈ ہوئی۔ ناصر شیخ ججوں کی بے حسی برداشت کرتا رہا۔ وہ ٹی وی پر دیکھتا رہا کہ نواز شریف کا کیس جو اس کے مقدمے سے ہزار گنا بڑا تھا، بہ مشکل ایک سال میں مکمل ہوا اور اسے محض 10 سال سزا سنائی گئی، مریم کو سات سال سزا سنائی گئی اور صفدر کو محض ایک سال۔ وہ دیکھتا رہا کہ بہت سے سیاسی لوگوں کو خلاف ضابطہ نیب عدالت سے ہی ضمانت مل گئی۔ وہ دیکھتا رہا کہ جسے بھی سزا ملی وہ ہائی کورٹ سے بری ہو کر چلا گیا۔ اس نے سزا کے لئے خود کو تیار کیا او رسوچا کہ پڑھائی پر سزا میں معافیاں ملتی ہیں تو اس نے کئی امتحانات دے ڈالے۔اس نے پریزن رول کے مطابق ان تمام معافیوں اور جیل کے دورانیے کو ملا کر 7 سال کے برابر سزا بغیر فیصلے کے ہی کاٹ لی۔

ناصر شیخ کو زیابطیس کا مرض تھا اور دل کے مسائل بھی تھے، جیل میں موجود اسپتال میں سہولتوں کا فقدان تھا۔ وہ اکثر بیمار رہتا مگر اس نے کبھی بیرونی اسپتال جانے کی درخواست عدالت سے نہ کی۔اس کے پاس پیسے نہیں تھے، وہ بھاری رشوتیں نہیں دے سکتا تھا، وہ اپنی فکروں اور پریشایوں میں دکھی، بیمار سے بیمار ہوتا گیا۔ اس کی بیٹی کی شادی تھی۔ وہ اس کی اکلوتی بیٹی تھی مگر وہ اس شادی میں شریک نہ ہو سکا۔ وہ گھٹتا رہا، تڑپتا رہا اور بالآخر اس کی حالت اتنی ابتر ہو گئی کہ 26 مارچ 2019ء کو اسے جیل کے اسپتال میں بھرتی کر لیا گیا اور 27 مارچ کو سول اسپتال بھیج دیا گیا۔ سول اسپتال میں معلوم ہوا کہ ناصر شیخ کے جگر اور گردے فیل ہو گئے ہیں۔ 6 اپریل 2019ء کو ناصر شیخ نے اس دار فانی سے کوچ کیا۔

آج کے دن تک ناصر شیخ کا کیس نہیں چلا۔ اب اس کی لاش پر مقدمہ پچھلے چھ ماہ سے جاری ہے، یادش بخیر! اس مقدمے کے دو دیگر ملزم پہلے ہی جیل سے راہی ملک عدم ہو چکے، 2016ء میں منیر احمد خان دنیا سے رخصت ہوئے اور 2017ء کے اپریل میں محمد عبدالقوی خان صاحب دنیا سے گئے۔

مگر اس مقدمے میں ساڑھے تین سال کے گزر جانے کے باوجود محض ایک گواہی چلی ہے۔ اس مقدمے میں سیکڑوں اور بھی افراد جیل میں سالوں سے بند اپنے بھی انجام کا انتظار بالکل ناصر شیخ کی ہی طرح کر رہے ہیں۔ سیکڑوں افراد صرف سینٹرل جیل میں ہی نیب کی حراست میں مر چکے۔ ان سیکڑوں میں سے ایک ناصر شیخ بھی ہیں، کوئی یہ ساری بات پڑھ کر سوچ سکتا ہے کہ ناصر تو اپنی طبعی موت مرا ہے۔ یہ قتل تو نہیں ہے؟ اگر ساڑھے تین سال تک ایک انسان کو بغیر مقدمہ چلائے قید رکھنا اس کو مارنے کے مترادف نہیں ہے تو کیا ہے؟ اور اہم بات یہ ہے کہ یہ مقدمہ جب بھی ختم ہو گا،جاننے والے جانتے ہیں کہ ناصر شیخ اس سے باعزت بری ہو گا۔ وہی ناصر شیخ جو جیل کے قواعد کے مطابق 7 سال کی سزا کاٹ کر مر چکا۔

اپنی محنت اور ہمت سے غربت اور افلاس کے گڑھے سے نکلنے والے ناصر شیخ کو اس سماج کے اداروں کی بے حسی نے بڑی بہیمیت سے مار ڈالا۔ ناصر شیخ کو بغیر قصور ثابت کئے ہی سزا دے دی گئی اور سزا بھی موت کی دی گئی۔ کاش ناصر کے قاتل اسے یوں ساڑھے تین سال جیل میں گلا کر نہ مارتے بلکہ 26 نومبر 2014ء کو ہی مار دیتے، وہ موت اس سے کہیں کم تکلیف دہ ہوتی مگر اس کے نامعلوم قاتلوں نے اس پر اتنا رحم نہ کیا۔ اس لئے کہ وہ غریب کا بچہ تھا؟ اس لئے کہ اس نے بچپن میں مٹھائی کے ڈبے بنا کر اپنی پڑھائی کے اخراجات اٹھائے تھے؟ اس لئے کہ وہ چار سال کی عمر میں یتیم ہو گیا تھا؟

مگر اس کے قاتل تو اس کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے پر بھی آمادہ نہیں، ناصر کی روح حیرت سے سوال پوچھتی ہے
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
کہ سارے شہر نے پہن رکھے ہیں دستانے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: