پراڈکٹ: عورت کی معاشی آزادی پہ ایک مارکسی تحریر —- عاطف جاوید

0

ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ “اگر دنیا کو جنت بنانا ہے تو اسے ایک عورت کی نظر سے دیکھنا چاہیے”۔

ایک ربط ہے ایک ترتیب ہے ایک سلیقہ اور رویہ ہے جو عورت کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ ۔ چاہے وہ ایک جاب ہولڈر ہو، خاتون خانہ ہو، کھیت کھلیان میں کام کرنے والی محنت کش ہو، یا کسی کے گھر جھاڑو برتن کرنے والی ملازمہ ہو۔ چیزوں کو سلیقے سے رکھنا خیال کرنا سنبھالنا اپنا آپ سنوارنے کے ساتھ ایک خاندانی اکائ کو ساتھ جوڑے رکھنا عورت کی فطرت کا تقاضہ ہے۔

مگر تاریخی طور پر مردانگی کے ہاتھ میں چلا جانے والا قلمدان عورت کی اس فطری انفرادیت سے قطع نظر اس میں سے صرف اپنے ذوق کی تسکین دینے والی نسوانیت ہی ڈھونڈتا ہے۔ وہ اس کی زلفوں کے قصیدے لکھتا، وہ قلم سے اس کے خدو خال کی تراش خراش سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے، اس کی کمر کے بل کے ساتھ ساتھ اپنے سخن کو بل دیتا رہتا ہے۔ ۔ ۔ تاریخ کا یہ بے رحم قلم، جو عورت کو صنف نازک بتا کر اس کے جسم کے قصیدے لکھ کر، سمجھتا ہے کہ شاید بہت بڑا احسان فرما رہا ہے اصل میں ایک بہت بڑا جرم کر رہا ہے۔

خدوخال سے آگے بڑھ کر اس ہستی کو کبھی کہیں پر رپریزنٹ کیا ہی نہی گیا۔
پدرسری نظام کے غلبے کے تحت بہت قدیم دور سے ہی عورت کو مطیع تابعدار اور غلام بنانے کے لیے یہ سب عروسیت میں ملبوس کالے جادو اس کی ذہنی استعداد پر کیے جاتے رہے ہیں۔ عورت کی پیدا واری صلاحیت کو بچہ جننے سے آگے دیکھا ہی نہی گیا۔ ۔ ۔ قدیم روم کی جمہوریت کی ابتدا میں ہی قبائلی اور قبائل کے مابین اشتراکی نظام کو ختم کر کے خاندان کا بڑا یا وڈیرا مرد کو بنایا گیا تا کہ خاندان پر مردانہ حاکمیت کے ذریعے مرکز میں بیٹھا ہوا حکمران پوری ریاست کو آسانی سے کنٹرول کر سکے۔ اس عمل نے نہ صرف عورت سے اس کا وہ مقام چھینا جو مدرسری نظام میں اس کو اپنی انفرادی تخلیقی اور پیدا واری صلاحیت کے بل پر حاصل تھا بلکہ اس کو کچن کی بلا معاوضہ مشقت اور صرف بچوں کو اپنے پاوں پر کھڑا کر دینے تک کی حاکمیت سونپ دی گئ۔ اس کے بعد عورت ماں بنی تو بیٹے کی محتاج بیوی بنی تو شوہر کی محتاج بیٹی بنی تو باپ کی بہن بنی تو بھائ کی محتاج۔ اور پھر جب ان سب رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی کوئ پرسان حال نہ ہو تو آخری حل اپنی معاشی جنگ جیتنے کے لیے جسم کو سر بازار لا کر رکھ دینا ہے۔

تحریر کے پہلے حصے میں بہت سے سوالات اس بات سے تعلق رکھتے تھے کہ اگر کوئ عورت اپنی خوشی اور مرضی سے یہ سب کر رہی ہے تو اس میں کیا برائ ہے۔ ۔ یا اگر کوئ اور راستہ نہی مل رہا تو ایسا کر لینا کونسا جرم ہے۔ ۔
سوال یہ ہے کہ معاشرے کی کتنی فیصد خواتین ہیں بشمول آزاد خیال اور مذہبی خواتین کے جو دلی طور پر اس پیشے کو ایک با عزت طریقہ روزگار سمجھ کر اپنے آپ کو بیچنا چاہیں۔ ۔ اگر ویسٹرن کلچر میں بھی دیکھا جائے تو ایسی خواتین کا تناسب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔  اور پاکستان یا کسی اور ایشیائ معاشرے میں جہاں مذہب سے زیادہ روایات ہم پر حاوی ہیں ایسا سوچنا اپنی جان سے جانے کے مترادف ہے۔ ۔ تو کیا ہماری شعوری کوششیں اس بات پر ہونی چاہیں کہ پورے معاشرے کو معتدل آزاد خیال اس لیے بنایا جائے کہ عورت کو اپنا جسم بیچنا آسان ہو جائے۔ کیا ہم دنیا کی آدھی آبادی کو پہلے یہ باور کروانے کے لیے اپنی پوری جدو جہد لگا دیں کہ یہ کوئ برا کام نہی۔ کیا ہم آزاد خیال اس سے آگے سوچنا نہی چاہتے یا ہمارے اپنے کچھ لالچ اس کام سے جڑے ہیں؟ اور دوسری طرف کیا مذہبی حلقے اس بات کو کبھی زیر بحث لا سکتے ہیں کہ دنیا کی آدھی آبادی کو گھروں میں قید کر کے مرد کے کندھوں پر پورے گھر کا معاشی بوجھ ڈال دینے سے ایک باکردار باعزت اور ذہین خاندان پروان چڑھ سکتا ہے؟ کیا یہ بات زیادہ اہم نہی کہ عورت کو بھی مرد کے شانہ بشانہ اس معاشی دھارے کا حصہ بنا کر بہتر طور پر معاشرے کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔ ۔ اور جہاں تک بات آزاد خیالی سے عزت دینے کی ہے تو اس تحریر کے پڑھنے والے سب ہی مرد و خواتیں بہت اعلی اقدار کے مالک ہوں گے انسانیت پرست ہوںگے پر کیا معاشرے کے کروڑوں لاکھوں مردوں کا نظریہ یہی ہوگا؟ کیا ایک چیز اور جیتے جاگتے انسان کا فرق واضح کر پائے گی وہ نظر؟ کیا ایسی خاتون کو صرف ایک اور صرف ایک مقصد کے حصول کے لیے نہی دیکھا جائے گا؟ اور پھر ایسی عورت کو اپنی ظاہری ساخت جسامت چہرہ خدو خال پر صرف اس لیے محنت نہی کرنا پڑے گی کہ وہ بکنے کے لیے باقی موجود خواتین سے زیادہ موثر اور مہنگی دکھے؟ اس کے بعد وہ خواتین جو خوش شکل اور خوش جسامت نہیں ہیں اس سارے عمل سے بے دخل ہو جائیں؟ کیا یہ ظلم۔ نہیں کہ ایک مرد کی میز پر پچاس تصویریں پڑی ہوں جس میں انچاس پر وہ حقارت بھری نظر ڈالے اور ایک تصویر کو دیکھ کر رال ٹپکائے؟ کیا آپ کا شعور اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ معاشرے کی ہر عورت کو اس روپ میں دیکھا جا سکے یا معاشرے کی ہر عورت کو اپنے آپ کو ایک پراڈکٹ سے زیادہ کچھ نہ سمجھے؟ کیا معاشرے کے تمام مرد اپنے آپ کو اس حیوانی روپ میں دیکھنا چاہیں گے؟

اس سے بھی بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ اگر عورت کے کردار کو اسی اکائ سے جوڑ کر رکھ دیا جائے تو کیا وہ معاشرے اور دنیا کے پیداواری عمل میں سوائے بچے پیدا کرنے کے اور انٹرٹینمبٹ فراہم کرنے کے کوئ اور تعمیری کردار ادا کر پائے گی؟

یہ بے ہودہ سوچ نیو لبرل اکانومی اور سرمایہ دارانہ معیشت نے پروان چڑھائ ہے۔ ۔ سرمایہ داری کا بنیادی مقصد اور فوکس صرف منافع کا حصول ہے۔ ۔ اسے ہمیشہ ایک نئ سے نئ پراڈکٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور پراڈکٹ بیچنے کے لیے ایک منڈی کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ ۔ اور ایک فرسٹریٹڈ اور جنسی طور پر جاہل منڈی سے زیادہ موزوں مارکیٹ اور کیا ہو سکتی ہے جہاں عورت نامی پراڈکٹ کو آسانی سے بیچا جا سکے؟ مردوں کے شیونگ بلیڈ سے لے کر انڈر وئیر تک کے اشتہارات میں عورت کا جسم دکھنا چاہیے ورنہ تو شاید کوئ مرد شیو ہی نہ کرے۔ ۔ ۔ اپنی مرضی یا رضا مندی کی بات نہی ہے۔ آپ۔ آج اگر یہ سب لیگل کر بھی دیں تو شاید معاشرے کی اور بھی بہت سی خواتین اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈال لیں مگر آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ پھر بھی اس سارے عمل سے باہر رہنا ہی پسند کرے گا۔ ۔ ۔ اور جو سوال تھا وہ وہیں کا وہیں رہے گا۔ ۔ ۔ ایک برابر معاشی حیثیت کہاں ہے؟ اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس طبقاتی معاشرے میں عورت کو اس پیشے سے جوڑ کر ایک با عزت برابر معاشی حیثیت مل سکتی ہے تو یہ احمقوں کی جنت کے خواب کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ۔ مرد گاڑیاں بنائے۔ ریل بنائے۔ جہاز بنائے خلاوں کا سفر کرے کھیت کھلیان گھر بار سب کچھ تعمیر کرے اور تھک ہار کر اپنے کام اور تھکان کی فرسٹریشن آکر ایک جسم پر نکال دے۔ عورت اپنا معاوضہ پکڑے اور چلتی بنے۔ ۔ اس سارے عمل میں میرا بنیادی سوال یہی ہے کہ وہ برابر پیداواری اور تخلیقی معاشی حیثیت کہاں ہے؟

سوال یہ نہی کہ یہ گناہ ہے یا نہیں۔ سوال یہ نہی کہ یہ جرم ہے یا نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ مذہبی حلقے اور روشن خیال حلقے اس پیشے یا عورت کی آزادی کو لے کر کیا خیالات رکھتے ہیں۔ ۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا عورت کو ایک جنس بنا کر یا گھروں میں قید کر کے اپنی عزت اور غیرت بنا کر ایک بہتر معاشرہ تشکیل دیا جا سکے گا؟

کیا یہ بہتر نہیں کہ معاشرے میں ایسے نظام کے لیے جدو جہد کی جائے جہاں تمام غیر پیدا واری مشقتوں اور ذلتوں سے چھٹکارا حاصل کر کے عورت بھی اپنا بھر پور کردار ادا کر سکے۔

کیا یہ بہتر نہیں کہ کچن کی مشقت سے آزاد کر نے کے لیے ریاستی طور پر اجتماعی کچن گھر بنائیے جائیں جہاں کھانا پینا ریاست کی ذمہ داری ہو اور عورت کو اس جھنجٹ سے کافی حد تک آزاد کر کے اس کی استعداد کو جھاڑو برتن روٹی سے آگے بھی لے جایا جا سکے؟

کیا یہ بہتر نہیں کہ عورت اپنی میراث کے آٹھویں حصے کے لیے بھی عدالتوں میں اپنی جوتیاں گھسنے کی بجائے اپنی الگ معاشی میراث ایک با عزت طریقے سے بنا سکے؟

کیا غیرت مند بھائی اپنی بہنوں سے حصے معاف کروانے کی منتوں کی بجائے یہ نہی کر سکتے کہ اس بہن بیٹی کو ایک آزادانہ معاشی روزگار کے مواقع فراہم کر سکیں؟

ایک طبقاتی سماج جہاں مرد تو عذاب میں ہے ہی وہاں عورت اپنے دوہرے جبر کے ساتھ زندگی گزارتی ہے۔ ۔ وہ اپنی عزت (معاشرے کی روایت کے مطابق) کو بچانے کی جدو جہد کرتی ہے، اسی جدو جہد کے ساتھ صبح سے شام دفتروں میں موجود مردوں کی نظروں کے تیر کھاتی ہے، شام کو گھر جا کر بچے کچن اور دوسری اذیتوں سے نبرد آزما ہوتی ہے۔ ۔ اس کے علاوہ جو ہے ہی خاتون خانہ اس کا دماغ اور تخلیق پانچ مرلے کے گھر سے زیادہ وسیع ہو ہی نہی سکتا۔ ۔

ہزرا اعتراضات اور سوالات اب بھی کیے جا سکتے ہیں۔ کئ دنوں تک یہ بحث چل سکتی ہے۔ ۔ ۔ کئ کتابوں کے کاغذ اس موضوع پر کالے کیے جا سکتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ مگر اپنے منہ پر ملی ہوئ سیاہی کو صاف کر لینا اس سب سے زیادہ بہتر حل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ہماری جدو جہد عورت کی جسمانی نہی معاشی آزادی کی ہونی چاہیے۔ عورت کا فوکس اپنے خدو خال کی نمائش نہ ہوتا ہے نہ رہا ہے۔ ۔ ۔ ان کو بیچنا تو دور کی بات۔ ۔ ۔ ۔ عورت نے اپنی آزادی کی جنگ خود لڑنی ہے۔ ۔ ۔ بے شک اس جنگ میں بہت سے ہم خیال اور بہترین ساتھی آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ ۔ ۔ مگر اس جدو جہد کی کمان آپ نے خود سنبھالنی ہے۔ ۔ ۔ ۔ آپ نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ آپ ایک پراڈکٹ ہیں یا ایک تخلیق اور پیدا وار کی عظیم الشان مثال ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جذبے سچے ہوں تو جیت ہمیشہ مقدر بنتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ منزل دور تب تک ہوتی ہے جب تک قدم سفر شروع نہ کریں۔ ۔ ۔ ۔ یہ حکومتیں یہ نظام یہ معاشرہ اس نظام کی دی ہوئ نیو لبرل اکانومی کی بے ہودہ سوچ ایک نجات دہندہ کبھی نہی ہو سکتی۔ ۔ ۔ ۔ آپ کا فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے کہ رنگ نسل مذہب جنس کی قید سے بالا تر ہو کر ایک غیر طبقاتی اور جنسی فرق رکھنے والے سماج کے خلاف جدو جہد کرنی ہے یا اس نظام میں ایک جنس کی حیثیت سے بکنا ہے۔ ۔ ۔ ۔

(Visited 1 times, 6 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: