سراب زندگی —– عمارہ نصرت

0

وہ ایک سراب تھا جس کے پیچھے وہ بھاگ رہی تھی۔ سراب جانتے ہو کسے کہتے ہیں؟ گرمیوں کی دوپہر میں چمکتے سورج تلے سفر کرو تو سڑک پر دور پانی پڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، لیکن دو تین میٹر قریب جاؤ تو وہاں سڑک خالی ہوتی ہے اور کچھ دیر بعد کہیں دور پھر سے پانی پڑا ہوا دکھائی دے جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ پانی کہیں نہیں ہوتا ہے آنکھوں دیکھا دھوکہ ہوتا ہے۔

صحرا میں بھی اسی طرح سراب پانی کے متلاشی مسافروں کو گمراہ کرتا ہے۔ وہ بالکل اسی طرح راستہ بھٹک گئی تھی۔ لمبا سفر طے کر کے آئی تھی تھی، بہت کچھ قربان کر کے، اپنی چاہتوں کے پیچھے، خواب تعبیر کرنے کے سفر میں، کمفرٹ زون کو قربان کر دیا۔ لیکن سراب کو پہچان نا سکی۔ اس کی نیت نہیں بدلی تھی، بس طور طریقے ایسے تھے نئے ماحول کے، ان میں ڈھلتے ڈھلتے وہ بے خبر ہو گی کہ اس کی منزل سے یہ نئے راستے زیادہ دور پڑتے تھے۔

اس کی فطرت چونکہ مختلف تھی، نئے حالات میں اپنی جگہ بنا لینے کے باوجود طبیعت میں بے چینی تھی۔ وہ ابھی بھی اپنی اصل منزل کو پانے کا ہی سوچتی تھی۔ انٹروورٹ تھی، صاف گو ہونے کے باوجود بتا نہیں پاتی تھی کہ اسے کس کی جستجو ہے۔ وہ الگ تھی اس بات کا ادراک کر نہیں پا رہی تھی۔

اس پورے عرصے میں اس کی ایک دوست بنی جس کا مزاج اور عادتیں تو مختلف تھی. لیکن اس کی نرم مزاجی، سب کو جوڑ کر رکھنے کا انداز، پیار سے ہر ایک کو نبٹانے کا طریقہ، اس مٹیارن کو اتنا بھایا کہ نئی دوست کو بہت کم وقت میں سول سسٹر مان لیا۔ سب دل موہ لینے والی عادتیں اس کی ایسی تھی، ہر کوئی اس چلبل کا دلدادہ تھا۔ چار مہینے کے عرصے میں اس پر اتنا اعتبار ہوگیا جب بھی دونوں کو وقت ملتا رازونیاز میں گم ہو جاتی۔ اس مٹیارن کو کچھ پریشانی تھی جو اضطراب میں ڈھل رہی تھی، وہی اس کے خواب۔۔۔۔ جن کی تکمیل کے لیے کچھ وسیلہ بن نہ پا رہا تھا۔ وہ اپنی سہیلی کو بھی نہیں بتا رہی تھی جب کوئی اتنی پہیلیاں بجھوانے لگے۔ تو غلط فہمیاں جگہ بنا لیتی ہیں۔ یہاں بھی وہی ہوا۔ ان دونوں میں دوریاں بڑھتی گئی۔

وہ نئے رنگوں میں پرانے خواب بنتی رہی، اس لیے اردگرد کے لوگ دھند کی طرح چھٹتے چلے گئے۔ اب سراب کی حقیقت کھل رہی تھی۔ جن سب کو اپنا سمجھتی تھی وہ تو نہ اس جھلّی کو سمجھتے تھے نا ہی اس کے لیے ان کے پاس ضائع کرنے کو وقت تھا۔ وہ تو اس بلبل کے ساتھی تھے۔

میٹھا گانے والی کوئل کے زمانے میں پرانے رواج اور سوچ وچار کو پوچھنے والے کم ہی ہوتے ہیں۔ اصلیت کے پردے اٹھنے پر اس کا دل تڑپ کر رہ گیا۔ وہ بتانا چاہتی تھی کہ اس کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ لیکن کوئی سننے والا نہیں تھا۔ اس پر غم کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے، اس کا مان ٹوٹا تھا۔

وہ مثبت سوچنے والی لڑکی یہی سمجھتی تھی کہ مختلف ہونا کوئی بات نہیں ہے۔ مگر وہ خود ناقابل قبول ہو جائے گی ان پرانی محفلوں میں، یہ باتیں اس کا دل دہلا رہی تھیں اور خون کے آنسو رلا رہی تھیں۔ وہ فطرتاً بہادر تھی۔ حالات سے لڑ پڑی۔ اسے یاد آ گیا کہ وہ اپنے خواب اور اپنی منزل کے لئے بنی ہے۔ سراب نے اس کا دل اور حوصلہ توڑا ضرور، لیکن اسے رب العالمین، دو جہاں کے مالک کے دربار سے جوڑ گیا۔ کہتے ہیں نا ’’آگ میں تپ تپ کر ہی کندن بنتا ہے‘‘۔ یہ سراب اور خون میں لت پت اس کے باپ کے وجود کی تصویر اسے تیار کر رہی تھی، آنے والے وقت کے لئے۔

وقت سب کا گزر جاتا ہے، لیکن مر کے بھی زندہ رہ جاتا ہے جو سب مشکلوں سے ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ اسے ابھی امر ہونا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: