شرح شریعت پر کچھ خیالات: محمد منشا طارق ورک

0

کلام اللہ کے الفاظ کے مطالب کیا ہیں، خود صاحبِ کلام ہی بتا سکتے ہیں، صاحبِ کلام یعنی اللہ کی مرضی اور مُراد صر ف پیغمبر کے ذریعے معلوم کی جا سکتی ہے۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ مکمل قرآن کی تشریح پیغمبر علیہ السلام سے منقول نہیں۔ لہذا اختلاف کی صورت میں قرآن مجید کے الفاظ کے وہ معانی کیسے معلوم کیے جائیں گے جو اللہ کے مُراد ہیں۔

نبی قرآن کی عملی تشریح بھی کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالی نبی کی ہر بات کو من جانب اللہ قراردیتے ہیں، own کرتے ہیں کہ پیغمبر اپنی طرف سے بات کریں، مشورہ سے فیصلہ کریں یا وحی سنائیں، میری طرف سے سمجھا جائے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیغمبر کے بعد کسی ہستی کو یہ درجہ دیا جاسکتا ہے جو انفرادی طور پر ماخذ و مراجع شریعت ہو، یا قرآن کی تشریح کرسکے، جواب واضح ہے پیغمبر کے بعد کلام اللہ کے فہم اور شریعت پر عمل کے لیے کسی شخصیت کو انفرادی طور پر ماخذ نہیں بنایا جا سکتا۔اب یہ کام اُمت کی اجتماعی بصیرت سے لیا جائے گا۔

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں (وہ بے اختیار بو ل اٹھتے ہیں) “پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے.

يُنْبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

وہ اس پانی کے ذریعہ سے کھیتیاں اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل پیدا کرتا ہے اِس میں ایک بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں

غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ ہر انسان اہل فکر نہیں ہوتا اور نہ ہی اللہ تعالٰی ہر کسی کو ایک جیسے مشن کے لئے مخاطب کرتے ہیں۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد وحی کی تشریح کا فریضہ اجتماعی ہوگا جس میں ہر کوئی اپنی اپنی مہارت کی بنیاد پر صرف مخصوص میدان میں ہی تشریح کا کام سر انجام دے گا. یعنی یہ کا ایک ادارتی انداز میں جاری رہے گا.

التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ

اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اُس کے بندگی بجا لانے والے، اُس کی تعریف کے گن گانے والے، اُس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اُس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے خرید و فروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبیؐ ان مومنوں کو خوش خبری دے دو.

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے.

درج بالا آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی تشریح چاہے نظری ہو یا عملی، اب اُمت کی اجتماعی بصیرت کے سپرد ہے، اہلِ فکر کی ایک جماعت یہ کام کرتی رہے گی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: