غیر ارادی اندھا پن ——- محمد مدثر احمد

0

اُس دن پھر ایسا ہی ہوا۔ میں نے ایک جوس کارنر پر آرڈر دیا۔ جوس پیک کروایا۔ ادائیگی کر کے گاڑی کے پاس پہنچا تو جوس والا پیچھے پیچھے آگیا۔  ’’سر! آپ نے بقایا پیسے نہیں لیے۔ پلیز یہ وصول کر لیں۔‘‘ میں نے قدرے توقّف سے پیسے وصول کر لیے۔ جوس کی پیمنٹ، جیب سے والٹ نکالنا، ادائیگی کرنا، شاپر اٹھانا اور گاڑی کی طرف چلنا، پورے واقعہ کو ازسرِ نو تر تیب دینے لگا۔

’’میرا دھیان کدھر تھا‘‘ میں نے سوچا۔ میں ایسے کیوں برتائو کرتا ہوں۔ یہ تو Un-Intentional blindness کی ہی ایک صورت ہوئی۔ میں سارا منظر دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ پھر بھی کچھ ذہن میں محفوظ نہیں رہتا۔ سارا منظر آنکھیں دیکھتی ہیں مگر ذہن تک اس کی رسائی نہیں ہوتی۔ واقعہ اپنی بنیادی تفصیل کے ساتھ ذہن کے پردوں پر نقل نہیں ہوتا۔ آنکھ محض بنا میمری کارڈ کے کیمرے کی طرح خالی کلک ہی کرتی رہ جاتی ہے۔ یہ گویا غیرارادی اندھاپن ہی ہے۔ اس کی سادہ مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ جیسے ایک صاحب کان سے موبائل فون لگائے بازار سے گذریں۔ بظاہر تو یہ اس وقت دو کام کر رہے ہیں۔ایک فون پر کسی سے بات کرنا اور دوسرا بازار سے گزرتے ہوئے سارے منظر اور واقعے کو اپنی آنکھوں کی مدد سے دیکھنا اور یہ تمام تفصیلات قدرتی انداز میں ذہن کو منتقل کرنا کہ جہاں پر ان کا مزید تجزیہ ہو گا اور ضروری ہدایات وغیرہ دی جائیں گی۔ مگر ایسا ہوتا نہیں۔

موجودہ مثال میں ہم انسانی ذہن کی صلاحیت ٹھیک سے سمجھ نہیں پا رہے۔ ہمارے خیال میں سیلولر فون سے ٹرانسفر ہونے والا ڈیٹا۔ دو طرفہ گفتگو۔ ذہن کی یکسوئی کے ساتھ ساتھ آنکھ کو دکھائی دینے والے تمام مناظر پوری صحت کے ساتھ انسانی ذہن میں نہ صرف علیحدہ علیحدہ پراسس ہوتے ہیں بلکہ ان میں ربط اور تعلق بھی قائم ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس سے برعکس ہے۔ فون سنتے وقت انسان کی سننے اور جواب دینے کی ضرورت اس کی سوچنے کی صلاحیت کو بیدار کر کے مکمل طور پر اپنی خد مت پر مامور کر دیتی ہے۔ اس دوران دیگر تفصیلات جو آنکھوں کے ذریعے انسانی ذہن تک پہنچتی ہیں نظر انداز ہوتے ہوئے Un-noticed گزر جاتی ہیں۔ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کی اسی لیے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

Un-intentional blindness کا تعلق موبائل فون کے استعمال سے نہیں بلکہ اپنی توجہ کو ماحول اور حالات سے الگ کر کے کسی ایک نقطے پر مرتکز کرنے سے ہے .یہ ایک نقطہ کوئی سی بھی سوچ یاسرگرمی ہو سکتی ہے۔ جو Active Consciousness کے کام کو متاثر کر دے اور Eye-Mind Co-ordination میں خلل ڈال دے۔

اب ہم جوس والے واقعے کی طرف واپس آتے ہیں اور اس کو مزید سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے دوچار شخص اصل میں کسی سوچ یا الجھن یا الجھی ہوئی سوچ میں جکڑا ہوتا ہے۔ یہ جوس کا رنر پر کھڑا ضرور ہوتا ہے مگر وہاں پر موجود نہیں ہوتا۔ زبان پر کچھ اور ذہن پر کچھ اور ہی منظر چل رہا ہوتا ہے مزید گہرائی میں دیکھیں تو تحت الشعور پر نجانے کیا کیا چل رہا ہوتا ہے۔

اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اگر ہم Fraudian slips پر غور کریں تو ہمارے بہت سے دوست دورانِ گفتگو کہنا کچھ اور چاہ رہے ہوتے ہیں کہہ کچھ اور دیتے ہیں۔ نام کسی اور کا لینا چاہتے ہیں زبان سے کسی اور کا نام نکلتا ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق تحت الشعور کی کسی واردات سے ہوتا ہے۔ ذہن کے لیے جو KEY WORDS ٰٰٓٓ یا CRITICAL WORDS کسی وقتی دبائو، فوری ضرورت یا لمبے عرصے کی عادات کی بنا پر اہم تر قرار دئیے گئے ہوتے ہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی زبان پر آ جاتے ہیں۔ ہم اس کیفیت کا عام طور پر نفسیاتی مطالعہ نہیں کر پاتے اور اس کو زبان کے پھسل جانے کی معمولی صورت جانتے ہوئے در خور اعتناء نہیں سمجھتے۔

سو چتا ہوں میرے لیے ضروری ہے کہ میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئوں۔ اپنے سامنے ہاتھ میں نوٹ بک اور قلم پکڑے سٹینو گرافر کو dictation دیتے دیتے اس کی نظروں میں جھانکنے کی کوشش کروں۔ اس کا اصل قیام اور مقام معلوم کروں۔ کیا جسما نی طور پرمیرے سامنے مودب کھڑا ملازم اصل میں یہیں موجود ہے یا اس کے وجود کی پتنگ کی ڈور دور کہیں کسی برگد کی ٹہنی سے الجھی ہوئی ہے۔ میرے لیے ضروری ہے کہ جب میں اپنے بچوں سے ہوم ورک کی بابت استفسار کروں تو لمحہ بھر کے لیے اس کے وجود کی اصل پوزیشن کو جان پائوں۔ کیا بظاہر سامنے کھڑا بچہ اصل میں پڑوسی کے بچے کی نئی سائیکل پر گلی گلی تو نہیں گھوم رہا۔ ڈرائیونگ کے دوران یہ ساری باتیں میرے دماغ میں گردش کرتی رہیں۔ گھر کے سامنے گاڑی ر کی تو ہاتھ میں پکڑے جوس کے ڈسپوزیبل گلاس کی طرف دیکھا۔ حیرت ہوئی۔

’’یہ میں کب پی گیا۔‘‘

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: