تبدیلی کی کوشش اور کم حوصلگی ———- محمد مدثر احمد

0

یہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔ میرے ذمے کچھ اداروں کی انتظامی اصلاحات ہیں۔ بظاہر تو یہ ایک دلچسپ اور باوقار کام ہے۔ ایسے کام اعلیٰ قیادت کے اعتماد کا مظہر ہوتے ہیں۔ جونیئر افسران ان ذمہ داریوں کو دونوں ہاتھوں سے وصول کرتے ہیں اور اچھے نتائج برآمد کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔ میں بھی اسی ذہنی صورتِ حال میں تھا۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ اور سہل نہ تھا۔ اصلاح کا کام اپنے اندر ایک دعویٰ رکھتا ہے۔

اصلاح کا کارکن اپنے اجلے کردار اور مکمل فہم کا غیر شعوری اعلان کرتا ہے۔ ماحول اور حالات کو بہتر بنانے کی سعی ماحول اور حالات میں کجی اور سقم کی نشاندہی کرتی ہے۔ کچھ ٹھیک کرنے سے پہلے کسی غلط بات کا سراغ لگانا پڑتا ہے۔ دوسروں کی کمیوں اور بدصورتیوں کی فہرست ترتیب دینا بھی ضروری ہے۔ نااہلی کے ثبوت اکھٹے کرنا اور بے حسی کے واقعات ترتیب دینا بھی ضروری ہے۔ اصول اور اخلاقیات کے بھاشن بھی دینا پڑتے ہیں۔ عزم اور اراد ے کا مصنوعی انداز اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ذاتیات کی نفی کابار بار اظہار کیا جاتا ہے۔ ملک اور عوامی مفاد کا لحاظ ملحوظ خاطر رکھے جانے کی بھی روایت ہے۔ معاشی تگ و دو میں جکڑے عام آدمی کی زبوں حالی اور ریاست کی اولین ذمہ داریوں کا تعلق بیان کیا جاتا ہے۔

بڑے بڑے دعوے۔ کام کے دعوے، تبدیلی کے دعوے، اصلاحات کے دعوے۔ نیکی، پارسائی اور ایمان داری کے دعوے۔

ان باتوں کو سامنے رکھا جائے تو اصلاح کا کارکن اپنے آپ کو شرمندہ سا محسوس کرتا ہے۔ وہ کس منہ سے بہتری لانے کی بات کرے۔ کیا وہ اپنی ذات اور اپنے کام کو بطورِ نمونہ پیش کر سکتا ہے۔ اس نے ایسے کون سے کمالات سر انجام دئیے ہیں کہ جن کو قابلِ تقلید سمجھا جائے۔ یہ سوال قدرے پریشا ن کن ہوتے ہیں۔ تبدیلی کے دعویدار کو سب سے پہلے اس اخلاقی کسوٹی پر اپنے آپ کو پرکھنا ہوتا ہے۔ اگر انسان اخلاقی گریبان میں جھانکے اور اسے گڑبڑ نظر آئے تو اس کے لیے عین مناسب ہے کہ وہ تبدیلی کا بیڑا اپنے سر لینے کی بجائے کسی اور کے حوالے کر دے۔ اس خاص باطنی اور اخلاقی صورتِ حال سے بخوبی نکلنے کے بعد اگلی منزل عملی زندگی کے کچھ طے شدہ تدریسی پیمانوں کی تقلید ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ جس شعبے میں بہتری لانے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔ اس شعبے کے حوالے سے کس قدر ضروری معلومات موجود ہیں۔ کیا بہتری کے لئے مطلوبہ صلاحیت موجود بھی ہے۔ اس شعبے کی مقامی حساسیات کیا ہیں۔ باقاعدہ قابلِ عمل حکمتِ عملی بنانا ضروری ہوتی ہے۔ جو کہ عمومی دانش مندی کے معیار پر پورا اتر سکتی ہو۔

ان خالص اخلاقی اور تدریسی پہلوؤں کے بعد اب ہم نہایت عملی پہلو پر بات کرتے ہیں۔ سوچتا ہوں تبدیلی اور مزاحمت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تبدیلی کے نتیجے میں کچھ مفاد پرست لوگ براہِ راست زد میں آ جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے آسانیا ں اور کچھ لوگوں کے لیے مشکلات پیداہو جاتی ہیں۔ جن قوتوں کے مفاد متاثر ہوتے ہیں ان کا ردعمل فطری ہے۔ وہ لوگ بہت جلد تبدیلی کے کارکن کو بطورِ خطرہ شمار کر لیتے ہیں۔ اس کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتے ہیں۔ تر غیب یا دھمکی سے اسکو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ دونوں حربے بے کار ثابت ہوں تو پھر اسکو کسی تنازعے میں پھنسا کر یا اس کی شخصیت کے کسی کمزور پہلو کو نمایاں کر کے اس کے عزم اور ارادے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کوشش معیاری اور غیر معیاری ہر دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے Politics of realism کی تقلید میں Below the belt وار بھی سرزد ہوجاتے ہیں۔ تبدیلی کا سپاہی دفاعی یا معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ اعصاب شکن ذہنی جنگ عہد حاضر میں سوشل میڈیا اور ابلاغ کے دیگر ذرائع پر بھی لڑی جاتی ہے۔ نئے نئے محاذ کھول کر حقیقی یا تصوراتی الزامات کی بھر مار کر دی جاتی ہے۔

کردار کشی بطور ایک موثر ہتھیار یا Poor man’s weapon استعمال کیا جاتا ہے۔ مختلف اداروں کی دہائیوں پرانی اندرونی سیاست تبدیلی کو اپنی لپیٹ میں لے کر اس پر اپنا رنگ چڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ بعض اوقات یہ سیاسی گروہ اپنے اندرونی اختلافات کو مشترکہ مفادات کے تحفظ اور سا نجھے دشمن سے مقابلے کے لیے پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہ عناصر ممکنہ تبدیلی کے عمل کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ایسے موقع پر تبدیلی کی اعلیٰ قیادت کی لگن، اعتماد اور معاملہ فہمی کے بغیر اصلاحات کی کوئی کوشش باعث ِ کامیابی نہیں بن سکتی۔

ان تمام معروضی حالات کا جائزہ لیتے لیتے میں کچھ سمٹ سا گیا ہوں۔ قدرے سہما سہما سا محسوس کر رہا ہوں۔ مجھے لڑنے کی فکر نہیں۔ بندوق کے آگے بھی کھڑا ہو سکتا ہوں۔ با اثر لوگوں کو ’’نا‘‘ کہہ سکتا ہوں۔ ان کے عہدوں اور مقام سے مرعوب ہونے سے عاری ہوں۔ علمی سطح پر بھی کافی حد تک اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش بھی کر سکتا ہوں۔ دعوے کے اخلاقی جواز پر بھی کوئی دلیل گھڑ سکتا ہوں۔ اس دوہرے پن کی کیفیت سے انکا ر بھی ممکن ہے۔ تبدیلی کے عمل کو دو طرفہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ تبدیلی مخالف نظریات کو سمجھنے کی کوشش بھی جائز ہے۔ لچک کا مظاہرہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس عمل کو سر انجام دیتے ہوئے چھوٹی موٹی شخصی قربانیاں بھی دی جاسکتی ہیں۔

اس سارے ماحول میں تنقید کو مثبت طور پر لیا جاسکتا ہے۔ مجبوریوں، کمزوریوں اور مصلحتوں کو قبول کرنا بھی ممکن ہے۔ بہت سی باتیں ممکن ہے۔ بہت کچھ برداشت کیا جاسکتا ہے۔ نقصانات گوارا کیے جاسکتے ہیں لیکن ایک پہلو ایسا ہے جو تبدیلی اور تحریک کی نیک سعی کی تمام کوششوں پر بھاری پڑجاتا ہے۔ وہ ہے ایک منظم کردار کشی کی مہم کے سامنے کھڑا ہونا، یہ ایک غیر معمولی حوصلے اور ہمت کا کام ہے۔ اس میں حقیقی کردار اور مضبوط اعصاب ابتدائی شرائط ہیں۔ میں اس مسئلے پر کافی دیر سے سوچ رہا ہوں۔ کسی نتیجے پر پہنچنے سے فی الحال قاصر ہوں۔ مجھے ڈر ہے اگر میں نے یہی انداز اپنائے رکھا اور فوری فیصلہ نہ کر سکا تو یہ ضروری کام بھی کسی اور کے حوالے کرنا پڑے گا۔ سوچتا ہوں ایسے خطرے والے کام کسی اور کے لیے چھوڑ دینا ہی عقل مندی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: