میرا سچ ——- محمد مدثر احمد

0

میرا سچ اور ہے، آپ کاسچ اور ہے۔ اور سچ کچھ اور ہے۔ کسی بھی معاملے کے ایک سے زیادہ پہلو ہوتے ہیں۔ اس معاملے کو جانچنے اور پرکھنے کے مختلف انداز ہوتے ہیں۔ بات زاویہ نگاہ کی بھی ہوتی ہے۔ نیکی اور بدی کے خود ساختہ نجی معیارات ایک اضافی جہت واقع ہوتے ہیں۔ کونسی بات طے شدہ اور حتمی ہے۔ کہاں اختلاف کی گنجائش نہیں۔ حرفِ آخر اور پتھر پہ لکیر کے بعدبھلا گفتگو کی گنجائش کہاں بچتی ہے۔

بعض اوقات ہم اپنی آراء کو غیر متنازعہ حقائق کی صورت بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے نظریات کا بے لاگ اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اس کے نتیجے میں پیدا شدہ فطری ردّ ِعمل کو مثبت انداز میں نہیں لیتے۔ گفتگو میںڈیڈ لاک آجاتا ہے اور مسئلہ نظریاتی سرحدوں سے نکلتا ہوا ذاتی دائروں میں سمٹ کر فنا ہو جاتا ہے۔ جہاں اظہار میں بے باکی قابلِ ستائش ہے وہاں تنقید اور اختلاف کی صورت میں خندہ پیشانی اوروسیع القلبی بھی درکار ہے۔

اپنے اپنے سچ کا اظہار ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے سچ کے ساتھ نباہ کرنا،اکٹھے رہنا اور آگے بڑھنا ممکن ہے۔ ہمارے سارے جھگڑے ہمارے اور غیر کے سچ میں اختلاف سے پیدا ہوئے ہیں۔ ہر عہد کا ایک اپنا سچ ہوتا ہے۔ ہر صورت ِ حا ل کی اپنی تفصیل ہوتی ہے۔ ہر بات کی الگ الگ تشریح ہوتی ہے۔ حتمی اور طے شدہ باتیں صرف الہامی ہوسکتیں ہیں۔ خاص انسانی باتیں مکمل محفوظ اور آخری سچ کا دعویٰ کرنے سے قاصر ہیں۔ چند ایک متفقہ علیہ آفاقی اصول وضوابط، ہدایات اور قوانین کو نکا ل کردیگر تمام موضوعات جن کی حدود حواسِ خمسہ اور انسانی ذرائع عقل متعین کرتے ہیں اپنی آراء اور نتائج میں کثیر جہتی اور متنوع بھی ہو سکتے ہیں۔ سطحی اور یک سمتی ہوں تو ان کی شرح اور اختیار پر سوال اٹھنا خارج ازامکان نہیں۔

اگر ایک دوسرے کے سچ کو آدھا سچ بھی مان لیا جائے تو منفی سرگرمیوں اور تخریبی حربوں میں کام آجانے والی قیمتی توانائیوں کا رخ مثبت اور تعمیری مصروفیات کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ ایک سے زیادہ سچ ایک ہی معاشرے میں نمو پا سکتے ہیں۔ پھل پھول سکتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: