سوچتا ہوں —— محمد مدثر احمد

0

سوچتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کاغذ چننے والے بچے کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے ہیں کیا؟
ان کی ماں ان کو کیچپ کھانے سے منع کرتی ہے کیا؟
زیادہ بسکٹ کھانے سے ان کے پیٹ میں درد ہوتا ہے کیا؟
کیا وہ تھوڑی سی پیپسی مانگتے ہیں؟

ان بچوں کے گھروں میں نوڈلز اور نگٹز ہوتے ہیں۔ کیا یہ بھی بیمار پڑتے ہیں اور ڈاکٹر انکل کے کہنے پر منہ کھول کر آ کرتے ہیں۔ ان کے کپڑوں پر سالن گرے تو مار پڑتی ہے۔ کیا گھر واپس آنے پر فوراً کپڑے تبدیل کرنے کا حکم ملتا ہے۔ ان کے کپڑے بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ رنگوں میں اپنی کوئی پسند رکھتے ہیں۔ ان کو صبح جگایا جائے تو کہتے ہیں کہ آج چھٹی کرنے کو دل کر رہا ہے۔ کیا ان کو دیر سے واپس آنے پر ڈر لگتا ہے۔ کیا ان کو شاہد آفریدی کا پتہ ہے۔ کیا ان کو چار موسموں کے نام یاد ہیں۔ ان کی چھت پر کوئی کٹی ہوئی پتنگ گرتی ہے؟

ان کی نیند کیسی ہوتی ہے؟ ان کے خواب کیسے ہوتے ہیں؟ ان کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے؟ یہ کہانی سنتے ہیں؟ سوئے سوئے مسکراتے ہیں؟ان کا ویک اینڈ ہوتا ہے؟چھٹی والے دن کتنے بجے تک سوتے ہے؟

کیا یہ بھی کمزور ہو جاتے ہیں؟ کیا ان کا رنگ نانی اماں کو پیلا دکھائی دیتا ہے؟ ان کے دادا سائیکل کا تحفہ دیتے ہیں؟ ان کے چچا، ماموں اور کزنز ہوتے ہیں؟ ان کے جوتے خریدے جاتے ہیں؟ تسمے والے یا میجک والے؟ کسی نے کبھی ان کی رائے لی؟ ان کی ماں پیار سے کیا کہتی ہے؟ یہ اپنا پورا نام جانتے ہیں؟ ان کا پورا نام ہوتا ہے؟ ان کا نام رکھنے پر مشورے ہوتے ہیں؟

کیا یہ اکیلے میں سوچتے ہیں کہ بڑا ہو کر پیسے اکھٹے کروں گا اور بابا کو کام نہیں کرنے دوں گا۔ کیا کوئی رات کو ان کا لحاف ٹھیک کرتا ہے۔ کیا گلی کے بچے ان کو کھیلنے کے لیے گھر سے بلاتے ہیں۔ کیا ان کو کاغذ کی کشتی بنانی آتی ہے۔ کیا یہ ناراض ہو کر کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کے خواب میں پریاں آتی ہیں؟ ان کے بابا ان کو آوارہ لڑکوں سے ملنے سے منع کرتے ہیں؟ کیا یہ چلتے چلتے یو نہی باؤلنگ کرنے کا ایکشن بناتے ہیں؟ کیایہ بور ہوتے ہیں۔ کیا ان کا موڈ خراب ہوتا ہے۔ کیا یہ روز اجلے کپڑے پہنے سکول جانے والے بچوں کو نہیں دیکھتے؟ یہ چپ چاپ کاغذ کیوں چنتے جاتے ہیں۔

جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
جیسے یہ سب جھوٹ ہو۔
یہ چیخ چیخ کر آسمان کیوں نہیں گرا دیتے۔
یہ پتھر کیوں نہیں اٹھالیتے؟
یہ اپنے سر میں خاک کیوں نہیں ڈالتے؟
یہ دیواروں سے کیوں نہیں جا ٹکراتے؟
یہ اپنا گریباں چاک کیو ں نہیں کر لیتے؟
یہ سب کچھ کیسے دیکھ لیتے ہیں۔ کیسے جیتے رہتے ہیں؟
میں سوچتا ہوں۔

مصنف کی کتاب سوچ سرائے سے۔۔۔۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: