کالم نویس اور ادیب امیر نواز نیازی سے گفتگو —- عبدالستار اعوان

0

امیر نواز نیازی اردو ادب اور صحافت کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ ’’گر توبرانہ مانے‘‘ جیسے شہرہ آفاق طنزیہ و مزاحیہ کالم کا عنوان سامنے آتے ہی امیر نواز نیازی کا نام ذہن میں انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔

 امیر نواز نیازی نے اس وقت قومی اخبارات میں اپنے سحر طراز کالم کے ذریعے قارئین کا ایک وسیع حلقہ قائم کیا جب عطاء الحق قاسمی، وقار انبالوی اور عبدالقادر حسن جیسے قدآور کالم نگاروں کا طوطی بول رہا تھا۔ امیر نواز نیازی اپنے کالم میں مختلف قومی، سیاسی اور سماجی مسائل کو طنز و مزاح کا ’’تڑکا‘‘ لگا کر پیش کرتے تو قاری متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان، ملک فیروز خان نون، امیر عبداللہ خان روکھڑی اور دیگر قومی شخصیات کے ساتھ بھی ان کی بہت سی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہیں۔

1978ء میں ان کا پہلا کالم اس وقت نوائے وقت میں شائع ہوا جب انہوں نے ممتاز ادیب وقار انبالوی کے مشہور زمانہ فکاہیہ کالم ’’سرراہے‘‘ کے جواب میں تین قسطوں میں کالم لکھا اور یہ نوائے وقت میں ’’دیکھتا چلا گیا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ بعدمیں نوائے وقت میں اسی عنوان سے مستقل کالم لکھتے رہے۔ امیر نواز نیازی کہتے ہیں کہ ’’دیکھتا چلا گیا‘‘ کالم پر ایک مرتبہ وقار انبالوی نے اپنے کالم میں خوبصورت تبصرہ کیا تو میرا حوصلہ اس قدر بڑھا جسے میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔

شاعر اور ادیب سعد اللہ شاہ نے بہت پیاری بات کہی: ’’امیر نوا زنیازی ایک ایسا پھول ہے جو اپنی ہی خوشبو میں گم رہتا ہے‘‘۔ ممتاز ادیب اصغر ندیم سید نے لکھاتھا: ’’امیرنوا ز نیازی کی شاعری اور نثری خدمات کو دیکھاجائے تو انہوں نے کئی دہائیاں لکھنے پڑھنے اور اعلیٰ قدروں کی پاسداری میں گزاری ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا جائے‘‘۔

گزشتہ دنوں امیر نواز نیازی کے ساتھ ہماری ایک تفصیلی نشست ہوئی جس کہ رُوداد قارئین کی نذر ہے۔


سوال: اپنے ابتدائی حالات کے متعلق کچھ بتائیے؟

جواب: میری تاریخ پیدائش 28نومبر 1933ء اور علاقہ بلوخیل ضلع میانوالی ہے۔ تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ بچپن اپنے علاقہ میں ہی گزرا۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور 1949ء میں گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی سے میٹرک اور اصغر مال کالج راولپنڈی سے ایف ایس سی کی۔ میانوالی میں گورنمنٹ کالج بنا تو یہاں سے گریجوایشن کی۔ بعدمیں پشاور یونیورسٹی سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کے لیے داخلہ لیا تو انہی دنوں پنجاب سول سروس کمیشن کی طرف سے سپیرئیر فاریسٹ سروس کا اشتہار نظر سے گزرا تو درخواست دی اور سلیکٹ ہوگیا۔ پہلے پہل ہم فاریسٹ کالج اینڈ انسٹی ٹیوٹ ایبٹ آباد پہنچے اور جس روز میں پاس آئوٹ ہو رہا تھا اسی دن فیلڈ مارشل ایوب خان نے ٹیک اوور کر کے عنان حکومت سنبھال لی۔ جب میری تربیت مکمل ہوئی تو مجھے چھانگا مانگا چنگل میں بطور فاریسٹ افسر تعینات کیا گیا۔

سوال: اپنی سرکاری ملازمت کا دور، کالم نگاری، صحافت اور زمانہ طالب علمی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ پچھتاوا یا کلمہ شکر؟

جواب: نہیں نہیں، اللہ کا میں لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے ہر لحاظ سے بڑی بھرپور زندگی گزاری ہے اور لائف کو خوب انجوائے کیاہے۔ اللہ کریم نے بچپن سے اب تک میرے حصے میں صرف کامیابیاں لکھیں اور مجھے کسی بھی میدان میں ناکام نہیں ہونے دیا۔ جب پڑھتا تھا تو میرا شمار بہترین اور ٹاپ سٹوڈنٹس میں ہوتا تھا۔ گھومنا پھرنا اور جنگلوں کی سیر مجھے بہت پسند تھی اور اللہ کا کرم دیکھیں کہ مجھے نوکری بھی ایسی ملی جس میں جنگلوں کی سیاحت ہی سیاحت تھی۔ میں نے دوران سروس مشرقی اور مغربی پاکستان کے قدرتی جنگلات، ہل ٹریکس کا نظارہ کیا۔ چٹاگانگ، سلہٹ، کشمیر اور پاکستان کا ایک ایک جنگل دیکھا اور فطری نظاروں سے محظوظ ہوا۔ مشرقی پاکستان میں سندربن کے جنگلوں میں میں نے دھاری دار رائل بنگال ٹائیگر دیکھے، جنگلی ہاتھی اور پتہ نہیں کیا کیا جنگلی حیات دیکھیں اور قدرتی مناظر سے جی بھر کر لطف اندوز ہوا۔

سوال: لکھنے کا ذوق کس دور میں بیدار ہوا؟

جواب: جب میں میانوالی کالج میں گریجویشن کررہا تھا تو اس دور میں کالج لائبریری سے کتابیں لے کر مطالعہ کرتا, پھر آہستہ آہستہ میں نے اپنا مافی الضمیر ہلکے پھلکے اشعار کی صورت میں بیان کرناشروع کیا۔ مَیں ان دنوں کالج کے بلیک بورڈ یانوٹس بورڈ پر کوئی شعر لکھ دیتا تو وہ کئی دن تک لڑکوں کی زبان پر رہتا۔ یہ شاعری اساتذہ اور کچھ دوستوں کی اشعار کے ذریعے تصویر کشی پر مبنی ہوتی جو طلبہ میں سینہ بہ سینہ آگے چلتی۔

سوال: بعض لوگوں کے نزدیک کالم نگاری ادب ہی کی ایک صنف ہے اور بعض اس سے اتفاق نہیں کرتے، یوں کالم کی کوئی مستقل اور ٹھوس تعریف موجود نہیں، اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟

جواب: بس میراکام تو تھا لکھنا اب اسے کیا نام دیاجاتا اس کا فیصلہ ادب سے وابستہ لوگوں نے کرنا ہے۔ ہاں اتنا عرض کرتا چلوں کہ عام طور پر ایک اخباری کالم کو ہم ’’لٹریری اِ ن ہری‘‘ (یعنی: تیزی میں لکھا ہوا ادب) کہہ سکتے ہیں۔ میرے خیال سے کالم کی یہی بہترین تعریف ہے۔

سوال: آپ نے ایک طویل عرصہ تک اخبارات میں لکھا، لیکن آ پ کی تحریروں میں کسی خاص سیاسی جماعت یاکسی دھڑے کی حمایت کا قطعی کوئی تاثر نہیں ابھرتا، کیا وجہ ہے؟

جواب: میرا شروع سے ہی یہ نقطہ نظر تھا کہ میں نے صرف پاکستان کے لیے ہی لکھنا ہے اور بس۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے کالموں میں کبھی بھی کسی جماعت کی نمائندگی کا کردار ہرگزادا نہیں کیا۔

سوال: آپ اپنے کالموں میں ہمیشہ ہلکے پھلکے طنز و مزاح سے کام لے کر اپنا مدعا بیان کردیتے تھے، بالکل سنجیدہ اور جارحانہ کیوں نہ لکھا؟

جواب: کالج دور سے ہی مجھ میں طنزیہ اور مزاحیہ انداز سرایت کر گیا تھا۔ اصل میں میَں یہ سمجھتا تھا کہ اپنی جو بھی بات کروں اس شگفتہ انداز سے کروں کہ تلخی کا اس میں کوئی نام و نشان نہ ہو اور وہ کسی کی طبیعت پرگراں نہ گزرے۔ بس یہی سوچ کر میں نے یہ اسلو ب اپنایا اور پھر اسی پر قائم رہا۔ اسی لیے تو ایک مرتبہ اجمل نیازی نے مجھے کہا تھا کہ یار تو بڑی بڑی تلخ باتیں کر جاتا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہہ جاتا ہے کہ ’’گر تو برا نہ مانے‘‘۔

سوال : اخباری کالموں کی ابتداء کب ہوئی؟

جواب: یو ں تومیں زمانہ طالب علمی سے لکھنے لگاتھا، کالج میگزین ’’سہیل‘‘میں لکھتا تھا اور پھر اس کا ایڈیٹر بھی رہا اور بعد ازاں نوائے وقت کے رسالے ’’قندیل‘‘ میں لکھا، اسی طرح دوران ِ ملازمت بھی اخبارات میں کالمز لکھا کرتا لیکن 1994ء میں جب میں سرکاری بندھنوں سے آزاد ہوکر ملازمت سے سبکدوش ہوا تو باقاعدہ اخبارات میں لکھنا شروع کیا۔ سب سے پہلے روزنامہ جنگ میں لکھنے کا موقع ملا اورمیرا فکاہیہ کالم ’’گر تو برا نہ مانے‘‘ شائع ہونے لگا۔ مجھے زیادہ شہرت اسی عنوان سے ملی۔ اس کے بعد یہی کالم روزنامہ خبریں میں منتقل ہو گیا۔ اسی طرح روزنامہ پاکستان اور سب سے آخر میں پھر روزنامہ نوائے وقت سے وابستہ ہوا اور 2008ء تک نوائے وقت میں ہی لکھا۔ درمیان میں کچھ تھوڑا عرصہ مجیب الرحمن شامی کے کہنے پر ان کے اخبار روزنامہ پاکستان میں بھی لکھتا رہا۔

سوال: آپ نے 2008ء تک کالم لکھا اوراس کے بعد چھوڑ دیا، کیوں؟

جواب: 2007ء میں میرے ساتھ ٹریجڈی یہ ہوئی کہ میری بصارت جواب دیتی گئی اور 2008ء میں نظر بالکل ختم ہوگئی تو میں نے نوائے وقت میں آخری کالم ’’جب چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘ لکھا جو میری کتاب ’’صبح دوام زندگی‘‘ میں بھی موجود ہے۔ اس کالم میں میں نے اپنی بیماری کے متعلق لکھتے ہوئے کہا تھا کہ یہ میرا آخری کالم ہے۔ اس کالم کے چھپنے کی دیر تھی کہ کئی دن تک میرے فون کی گھنٹیاں مسلسل بجتی رہیں اور پاکستان بھر سے قارئین نے مجھے بہت زیادہ کالیں کیں اور ہر طرح کی مدد کی آفرز کی۔ اس وقت مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ میرے قارئین کا حلقہ تو بہت زیادہ ہے جو ٹوٹ کرمجھ سے محبت کرتا ہے۔ ان تمام رابطہ کرنے والوں سے میں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی، جو بیماری مجھے لاحق ہوچکی ہے اس کا علاج تو امریکہ میں بھی نہیں ہے۔ بس آپ لوگ میرے لیے دعا کیجیے۔

سوال: آپ کس قلم کار یاسیاست دان سے زیادہ متاثرہیں؟

جواب: مشتاق یوسفی، کرنل محمد خان، اور ہمارے دورکے ایک اہم ساتھی تھے سید خورشید گیلانی (مرحوم )، انہوں نے بھی متاثرکیا۔ یہ بڑا باصلاحیت انسان تھا، افسوس اسے موت نے جلد آلیا۔ اسی طرح زمانہ طالب علمی میں ایک پنڈی کے استاد تھے ظہورالحسن ارزش جو میانوالی میں پڑھاتے تھے۔ وہ اپنی شاعری گا کر سناتے تھے، ان سے بھی دوران طالب علمی متاثرہوا۔ سیاستدانوں میں مجھے سب سے زیادہ نواب آف کالاباغ امیر محمدخان نے بہت متاثرکیا۔

سوال: اپنا کوئی شعر یا غزل جو آپ کو پسند ہو؟

جواب: 2008ء میں جب میری آنکھیں بے نور ہوگئیں تو چند اشعار میری زبان سے جاری ہوئے جو اب بھی زبان پر رہتے ہیں، لیجئے آپ بھی سنیے۔ عنوان ہے ’’آنکھیں جو بے نور ہوئیں‘‘۔

میرے خدا، ان آنکھوں سے کیاقصور ہوا
کہ دیدارِ یارمجھ سے دور ہوا
وہ جو روٹھ گئی بینائی مجھ سے
کیوں میرا جہاں، ناگہاں بے نور ہوا
سجا رکھا تھا، جودل میں اپنے
وہ نقش ِ یار، چکنا چُور ہوا
وہ نظارے جو دور ہوئے، سارے
جرم تومجھ سے کوئی ضرور ہوا
سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی مجھ کو
میرے خدا، میں کس قدر مجبور ہوا
دن بھی لگے اب رات کی مانند
کٹھن یہ راستہ میرے حضور ہوا
دکھ تو یہ ہے، دکھ چھپائوں کیسے
یہ حادثہ تو گلی گلی مشہورہوا
میں بھی راضی برضا ہوں نیازیؔ
کہ ایسا ہی، خدا کو منظور ہوا

سوال: کسی اہم ادبی اور صحافتی شخصیت سے وابستہ یادیں؟

جواب: نوائے وقت کے مجید نظامی ایک عظیم انسان تھے۔ مصروفیت کے باوجو د مجھے وقت دیتے اور گپ شپ لگاتے، بلکہ وہ اپنے ہر ملنے والے کے ساتھ یہی برتائوکرتے اور ملنے والے کو قطعی طور پر اپنی مصروفیت کا نہ بتاتے کہ میں مصروف ہوں اس لیے پھر کسی وقت آئیے، میں جب ان کے آفس جاتا وہ کام چھوڑ کربھرپور وقت دیتے۔ بس وقت بھی بدل گیااور بندے بھی بدل گئے، ان جیسے لوگ اب کہاں ہیں اس زمانے میں۔ اسی طرح مجیب الرحمن شامی، قدرت اللہ چودھری، اسد اللہ غالب وغیرہ سے اچھا تعلق رہا اور یہ اوریجنل لوگ ہیں۔ اسی طرح مجھے اپنے دور کے جس نوجوان نے بے حد متاثرکیا وہ تھا سید خورشید احمدگیلانی۔ گیلانی صاحب ایک عرصہ تک نوائے وقت میں’’قلم برداشتہ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے اورمیں ان کا کالم نہایت عقیدت سے پڑھتا تھا۔ وہ لکھنے کے ساتھ ساتھ سیر حاصل گفتگو کا ملکہ بھی رکھتے تھے۔ ان کی کتابیں علم و ادب کا ایک زبردست سرمایہ قرار پائی ہیں۔ افسوس کہ اس عظیم انسان کو عین شباب میں ہی موت نے آلیا۔

امیر نواز، دوران انٹرویو، عبدالستار اعوان کے ساتھ

سوال: تحریک پاکستان کے حوالے سے کوئی اہم واقعہ سنائیے؟

جواب: بہت سی یادیں ہیں جو جگنوئوں کی طرح ذہن میں جگمگاتی ہیں۔ یہ 1946ء کازمانہ تھا۔ برصغیر میں آزادی کے نعرے گونج رہے تھے اور پاکستان موومنٹ اپنے عروج پرتھی۔ ’’لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کے نعرے مسلمانان ہند کا جزو ایمان بن چکے تھے۔ ہندو او ر انگریز اس سیلاب کے آگے اپنے طور پر بند باندھنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ بڑے بڑے جلسے ہوتے، جلو س نکلتے، گولیاں چلتیں، لاٹھی چارج، پکڑ دھکڑ روزکا  معمول تھا۔ میں ان دنوں گورنمنٹ ہائی سکول میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میری عمر کے لڑکے اور تو کچھ کر نہیں سکتے تھے، بس چھوٹی چھوٹی گلیوں اور کوچوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے۔ عمر کچی تھی، سیاست کی باریکیوں سے ناآشنا تھے لیکن دل میں عقیدت اور محبت کی بنیادیں واضح طور پر پختہ تھیں۔ کیونکہ پاکستان ایک عقیدہ بن چکا تھا۔ ایک دن ہمارے سکول کے قریب سے مسلم لیگ کا جلوس گزرا جو ضلع کچہری کی طرف رواں دواں تھا۔ انگریز کا دورتھا ا ور کچہری انگریز کی طاقت اور ہیبت کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ کچہر ی میں ضلع کے سیاہ و سفید کا مالک انگریز ڈپٹی کمشنر بیٹھا کرتا تھا اور وہاں پولیس کا سخت پہرا ہوتا تھا کہ پرندہ بھی پر نہیں ما رسکتاتھا۔ کسی جلوس کا اس طرف آنا ہی اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ لیکن تحریک پاکستان کا یہ جلوس پورے جذبے سے اسی کچہری کی طرف روانہ تھا۔ جس وقت جلوس سکول سے آگے بڑھا تو مسلمان طالب علموں کی کثیر تعداد بھی ساتھ ہولی۔ ہم بھی اپنا بستہ اٹھائے جلوس کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ کم سنی تھی لیکن جذبہ صادق تھا۔ اپنے لیڈروں کی محبت دلوں میں موجزن تھی۔ جلوس جس وقت کچہری کی عقبی سمت میں پہنچا تو ایک خوبرو اور گورا چٹا نوجوان جو اس جلو س کا روح رواں تھا پروقار انداز میں آگے بڑھا تو فضا ’’امیر عبد اللہ خان روکھڑی، زندہ باد‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ یہ نوجوان مسلسل آگے بڑھتا گیا اور کچہری کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا عمارت پر لگے ’’یونین جیک‘‘ کے پاس جاپہنچا۔ یہ یونین جیک عمارت کی سب سے اونچی منڈیر پر نہایت تمکنت سے لہرا رہا تھا۔ یونین جیک کوئی عام جھنڈا نہ تھا بلکہ سلطنت برطانیہ کی عالمگیر حیثیت کا ایک نشان تھا جس کی عمل دار ی میں سورج بھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ لیکن آج چشم فلک نے وہ منظر دیکھا کہ ایک باہمت نوجوان نے غلامی کی اس علامت کو نفرت اور غصے سے اتار کر تار تار کر دیا تھا اور سب لوگ دم بخود ہو گئے تھے۔ پھر اس نوجوان نے جہاں سے انگریز کا جھنڈا اتارا تھا وہاں پاکستان کا علامتی جھنڈا لہرا دیا۔ اس جرم پر امیر عبد اللہ خان روکھڑی کو پولیس نے گرفتار کیا اور انہیں چار سال قید کی سزاسنائی گئی لیکن جلد ہی پاکستان بن گیا اور یوں یہ سزا بھی کالعدم ٹھہری۔ میری آنکھوں نے یہ سب کچھ دیکھا اور یہ واقعہ آج بھی میرے دل و دماغ میں تروتازہ ہے۔

سوال: آپ کی کتنی کتابیں چھپ چکی ہیں؟

جواب: میری آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ یہ میرے نثری مضامین ہیں، ان کے علاوہ ایک شعری مجموعہ بھی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: