پدماوتی سے البغدادی تک —- فرحان کامرانی

0

آج سے چند سال قبل بھارت میں سنجے لیلا بھنسالی صاحب کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے، ہندو انتہا پسندوں کو اعتراض تھا کہ سنجے صاحب کی فلم پدماوتی میں مہارانی پدماوتی کی شان میں کچھ گستاخی کی گئی ہے، پھر جناب بھنسالی نے اپنی فلم سے ایک گانا خارج کیا جو علاؤ الدین خلجی صاحب کا ڈریم سیکونس تھا جس میں وہ پدماوتی جی سے رومانس فرما رہے تھے۔ پھر فلم کا نام بھی تبدیل کیا گیا اور اس کے آخر سے چھوٹی یے کو نکال باہرکیا گی۔ ویسے ہم نے جب یہ فلم دیکھی تو اس میں ہم کو تو صرف راجپوت قوم کی پوجا پاٹ اور پدماوتی کی تعریف و توصیف کے کچھ نظر نہ آئی۔ یعنی پدماوتی صاحبہ کوئی اتنی مقدس ہستی ہیں کہ ان کی تعریف کرنا بھی مشکل ہے۔ ان کی تعریف کے لئے بھی لگتا ہے کہ اب بھارت میں وضو کرنا فرض ہو گیا ہے۔ وہ اب تقریباً بھگوان ہی ہیں۔ ویسے خلجی نے چتوڑ گڑھ وغیرہ کی فتوحات چودہویں صدی کے اوائل میں کی تھیں اور یہ محترمہ پدماوتی جی ایک مسلمان راجپوت شاعر ملک محمد جیسائی نے سترہویں صدی میں اپنی شاعری سے تراشی تھیں۔ ایسی کوئی رانی حقیقت میں کبھی وجود نہ رکھتی تھی، ایک خیالی کردار، ایک Fiction کا کردار، ایک شاعری کا کردار نہ صرف حقیقت بن گیا بلکہ اس کی اتنی تعظیم کی جانے لگی کہ وہ اب بھارت میں ایک دیوی ہے۔

قصے کہانیوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ قصے کہانیاں انسانوں کو وہ دکھانے لگتے ہیں جو نہیں ہوتا، وہ سنانے لگتے ہیں جو دراصل وہ سننا چاہتے ہیں، یعنی Fiction۔ حقیقی انسانوں میں وہ رومانیت وہ گلیمر کب ہوتا ہے جو کہانی کے کرداروں میں ہوتا ہے۔ آج انارکلی نام کی کنیز کے بارے میں ہر انسان جانتا ہے۔ اس نام سے لوگوں کے اذہان میں مدھوبالا سے ملیکہ شراوت تک سب ہی آ جاتی ہیں۔ کسی کے دماغ میں مغل اعظم کے گانے بجتے ہیں اور کوئی ”انارکلی ڈسکو چلی“ کی تان لگاتا ہے۔ مگر اصل تاریخ کی کتب میں انارکلی نام کی کسی عورت کا تذکرہ نہیں، یہ کردار بیسویں صدی کے اوائل میں تھیٹر کے لئے لکھے گئے ڈراموں کے لئے تراشا گیا تھا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ لاہور میں جو انارکلی بازار ہے وہ پھر کس کے نام پر ہے اور انارکلی کا مقبرہ کس کا ہے؟ انارکلی بازار بھی اسی عہد میں بسا جب یہ تھیٹر کا کردار تراشا گیا اور انارکلی کے مقبرے کے بارے میں بھی غالب گمان یہی ہے کہ وہ کسی کنیز کا مقبرہ نہیں ہے۔ مگر ایک بیسیویں صدی کا افسانوی کردار صرف تھیٹر اور فلموں کی وجہ سے اب لوگوں کی نظر میں کوئی تاریخی کردار ہے، کوئی ایسا کردار جس نے سلیم کو اکبر کے سامنے لا کھڑا کیا۔

مگر چلئے یہ سب تو پرانی باتیں ہیں اور پرانی باتوں کو بدل دینا تو آسان ہوتا ہے۔ انسانوں نے تو الہامی کتب میں تحریف کر دی تو پھر تاریخ کون سی مقدس گائے ہے؟ مگر حالیہ عہد میں کچھ ایسے افسانوی کردار بھی ذرائع ابلاغ کی مدد سے تراشے گئے کہ جن پر غور کرنے سے عقل دنگ رہ جاتی ہے، ایسا ہی ایک کردار ابوبکر البغدادی ہے جو مر کر زندہ ہو جاتا ہے، اس لئے کہ وہ مر سکتا ہی نہیں کیونکہ مرنے کیلئے وجود رکھنا ضروری ہے۔ البغدادی ایک تصویر کا نام ہے، ایک افسانے کا نام ہے، ایک افسانہ جو امریکا اور اسرائیل نے مل کر لکھا اور آج تک انہی کے اہداف کو پورا کرنے کے کام آرہا ہے۔

جب داعش بنائی جارہی تھی تو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود سارے جہادی جہازوں میں بھر کر براستہ اردن، شام میں گھسا دیے گئے تھے۔ یہ بڑی حد تک ویشال بھردواج کی فلم ”حیدر“ کی حزب المخبرین تھی۔ گوریلا تحریکوں کو کبھی بھی چلنے کے لئے اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ان کا رہنما ہر وقت سامنے ہو۔ Chain of Command کچھ ایسی ہوتی ہے کہ آپ سے عین اوپر جو امیر ہے وہی آپ کو حکم دے گا، اس کا فرمان ہی آپ کے لئے سب سے بڑے رہنما کا فرمان ہے۔

اسی تنظیمی ڈھانچے کی وجہ سے طالبان نے ملا عمر کے انتقال کے کئی سال بعد تک ان کی موت کو ساری دنیا سے بلکہ خود اپنے ہی لوگوں سے راز بنا دیا اور تحریک بھی بآسانی چلتی رہی۔

البغدادی بھی ایک ایسی انارکلی ہے جس کو کسی دیوار میں نہیں چنوایا جا سکتا کیونکہ دیوار میں انسان چنوائے جاتے ہیں، کہانیاں نہیں۔ وہ ایک ایسی پدماوتی ہے جس نے کسی الاؤ میں چھلانگ نہیں لگائی مگر الاؤ بھی سب کو نظر آیا اور پدماوتی بھی۔ البغدادی کی موت کے کئی سال بعد خبر آ گئی کہ وہ زندہ ہے، عجیب بات ہے کہ البغدادی مر جاتا ہے مگر جہاں امریکا کے قدم جمیں وہاں داعش پہنچ جاتی ہے۔

جارج آرول نے 1948ء میں لکھا تھا کہ وہ Big Brother جو ملک کا سربراہ ہے دراصل وجود ہی نہیں رکھتا، وہ صرف ایک تصویر ہے۔ وہ وجود نہیں رکھتا مگر ریاست چلا سکتا ہے، وہ لافانی ہے، اس لئے کہ مر نہیں سکتا۔ وہ مر نہیں سکتا، اس لئے کہ وہ زندہ ہی نہیں ہے، وجود ہی نہیں رکھتا، مگر ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: