غربت کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟ (حصہ دوم) ——– رومانہ ملک

0

غربت ایک ایسی آفت ہے جو انسان کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔ ان کے بچے جانوروں سے بد تر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اگر ان کے بچوں کی آنکھوں کو غور سے دیکھیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ یہ کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اتنے خود غرض ہیں کہ ہم اس طرف غور ہی نہیں کرتے کیونکہ ہمیں اس سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں ہو گا اور یہ اس لیے کہ ہمارے اندر کا انسان مر چکا ہے۔ یہ ہے وہ ملک جہاں عورت ایک ننگ ڈھڑنگ بچے کو اپنے ڈوپٹے کے پلو میں چھپائے رات کے آخری پہر سٹرک کے کنارے ایک روٹی کے لقمے کو ترس رہی ہے۔

آج کے دور میں یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا شخص آئے جو ان کو کپڑے کی جھگیاں ہی دے جائے مگر دو وقت کی روٹی اور ڈوپٹے کے تقدس کو پامال نہ کرے جبکہ ہمارے امراء ان لوگو ں کی مدد بھی اس طریقے سے کرتے ہیں کہ جس سے ان لوگو ں کی عزت مجروح ہو جائے۔

غربت ک تیسری بڑی وجہ بے روزگاری ہے جو 5.7 فیصد کے حساب سے ہر سال بڑھ رہی ہے اور بے روزگاری کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں ہزاروں لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو اپنا ذاتی کاروبار شروع نہیں کر سکتے کہ اس کے لیے ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے اور یہ صرف نوکری کے منتظر ہوتے ہیں کہ اس سے ہمارے دن بدل جائیں گے یہی وہ نوجوان ہیں جو قابل و ہونہار ہوتے ہیں یہ اپنی زندگی اور اپنے گھر والوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں لیکن اپنی کوشش میں ناکام رہتے ہیں اور یہ زیادہ تر مایوس اسلئے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی بڑی آسامی نہیں جس کے ذریعے یہ نوکری تک رسائی حاصل کر سکیں۔

ہمارے ملک میں یہ اصول بنا ہوا ہے کہ ہم نے نوکری ایسے شخص کو نہیں دینی جو قابل ہے اور اس کرسی کا اہل بھی ہے بلکہ اس شخص کو دینی ہے جو رشوت و سفارش پر آیا ہو یا پھر کوئی جاننے والا ہو اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ مایوس ہو جاتے ہیں اور دلبرداشتہ ہو کر کچھ لوگ اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگ بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جس سے معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں۔

اسی طرح غربت کی تیسری بڑی وجہ مہنگائی ہے۔ ہمارے ملک میں مہنگائی کی شرح آئے دن بڑھتی ہے اور موجودہ شرح 9.41 فیصد ہے۔ لوگوں کے وسائل وہی ہیں مگر ضروریات بڑھ رہی ہیں ایک عام آدمی کے لیے اپنے بچوں کو پیٹ بھر کے کھانا کھلانا سب سے مشکل کام ہے بغرض اس کی دوسری ضروریات پوری کرنا اور یہ حال 60 فیصد آبادی کا ہے۔ یہ لوگ نہ تو اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتے ہیں نہ ہی علاج کروا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں غربت بڑھتی ہے۔

اس کے علاوہ جرائم میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور جب لوگ پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھائیں گے تو معاشرے میں انتشار پیدا ہو گا اور یہ لوگ اس حد تک مجبور ہو جائیں گے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں وہ اپنے اندر کی عزت نفس کو ختم کر دیتے ہیں صرف اس لیے کہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکیں اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا سب سے مشکل کام ہے۔

’’ایک دفعہ حکیم لقمان سے کسی نے پوچھا کہ موت سے تکلیف دہ لمحہ کیا ہوتا ہے؟ تو حکیم لقمان نے اسے جواب دیا کہ جب کوئی سفید پوش مجبور ہو کر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔‘‘

اور یہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو کام نہیں کر سکتے یا وہ محنت مشقت کرنے کے بعد بھی اپنے گھر والوں کا پیٹ نہیں بھر سکتے۔ جبکہ ہمارے حکمران پر سکون نیند سوتے ہیں۔ اس تناظر میں خلفائے راشدین کو دیکھا جائے تو ان کے دور میں حکمران اس وقت تک چین کی نیند نہ سوتے تھے جب تک ان کو یہ معلوم نہ ہو جاتا تھا کہ ان کی رعیت میں سے کوئی بھوکا نہ سویا ہو۔ وہ رات کے وقت بھیس بدل کر گلیوں میں گشت لگایا کرتے تھے صرف اس لئے کہ وہ جان سکیں کہ ہماری رعایا کس حال میں رہ رہی ہے کیونکہ ان کے دماغ میں یہ بات پختہ تھی کہ مجھے خدا کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ وہ دنیا کی آرام و آسائش میں محو نہیں ہوتے تھے بلکہ آخرت کے بارے میں سوچتے تھے اور آج ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیں اور مستقبل کے بارے میں اسی وجہ سے تو ہمارا اب یہ حال ہے۔ اسکے علاوہ جاگیردارانہ نظام یہ بھی غربت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی حیل و حجت کے زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں، ناجائز طریقے سے۔

یہ جاگیردارانہ نظام سرحد، سندھ اور بلوچستان میں زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ پنجاب میں بھی ہے مگر ان تینوں صوبوں کی نسبت کم۔ ان رئیس او ر وڈیروں کے سامنے لوگوں کی حیثیت ایک چیونٹی کے برابر ہوتی ہے ان وڈیروں کی سوچ محدود ہوتی ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے علاقے کے لوگ جتنا ہو سکے کمتر زندگی گزاریں اور یہ سوچ وڈیروں میں  80 فیصد کی ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جتنا ہو سکے ان میں شعور کی کمی رہے۔ انھیں تعلیمی سہولیات میسر ہوتی ہیں اور نہ ہی صحت کی یہ لوگ ان لوگوں کی غلامی میں ہی زندگی گزار دیتے ہیں اور اسی زندگی کے عادی ہو جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ جو پڑ ھ لکھ جاتے ہیں وہ اس زندگی سے تنگ آ جاتے ہیں اور ان لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ان حالات سے چھٹکارا حاصل کریں لیکن ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے اور وہ اسی حال میں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ ان رئیس زادوں نے انھیں مجبور کر دیا ہوتا ہے ان لوگوں کو نہ تو سکون میسر ہوتا ہے نہ ہی دو وقت کی روٹی اور نہ ہی ان لوگوں کی عزتیں محفوظ ہو تی ہیں۔ اگر یہ آواز اٹھائیں تو ان کی آوازوں کو روند دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ تو اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کا علاج اچھے ہسپتال میں کروا سکتے ہیں۔ ان لوگو ں کی زندگی حسرت میں گزر جاتی ہے اور ان کو اس حال تک پہنچانے میں ان جاگیر داروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ جاگیردار زمین پر خدا بنے بیٹھے ہیں۔ ان کی سوچ اتنی پست ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے اختیار ان کے پاس ہیں اور وہ جیسے چاہیں ان لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ان کو اپنے جوتے کی گرد سمجھتے ہیں۔

ہمارے ملک کے حکمران ہیں ہی جاگیردار۔ جاگیردار کی سوچ کتنی وسیع ہے یہ آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ غربت کی کہیں وجوہات ہیں تو کیا اس کو ختم کرنے کے بھی وسائل ہیں۔ ہم غربت کو تو ختم نہیں کر سکتے لیکن اپنے اردگرد کے ماحول کو تو سنوار سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی۔

انسان دنیا میں خالی ہاتھ آیا ہے لیکن ہوش سنبھالتے ہی یہ میرا ہو جائے یہ میں لے لوں کے چکر میں پڑ کر حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر ہر اچھی چیز کو اپنی ملکیت میں دیکھنا چاہتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔

’’اور جب انھیں کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس مال سے جو تمھیں اللہ نے دیا ہے تو کہتے ہیں کافر اہل ایمان سے کیا ہم انھیں کھانا کھلائیں جنہیں اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو خود کھلا دیتا۔ (اے ناصحو) تم تو بالکل بہک گئے ہو۔‘‘ (یسین آیت :۴۷)

اور آج ہم بھی ویسے ہو گئے ہیں ہماری سوچ بھی آج سے ہزاروں سال پہلے والی ہو گئی ہے کہ اگر اللہ نے ان کی مدد کرنی ہوتی تو خود کرتے جبکہ ہم مسلمان ہیں قرآن و حدیث کی پیروی کرتے ہیں تو پھر اللہ کے حکم پر عمل کیوں نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار حکم دیا ہے کہ ’’مال خرچ کرو اللہ کی راہ میں‘‘ اور اللہ کی راہ ہمارے لیے کونسی ہے۔ وہ راہ ہے اللہ کے بندے کہ ان کی خدمت کرو اور یہی ہمارا نیک عمل ہو گا جس سے اللہ خوش ہو گا اور ہماری آخرت سنورے گی۔ نماز پڑھ لینے یا روزے رکھ لینے ہی ہمارے لیے کافی نہیں ہیں بلکہ اپنی ساری زندگی دوسروں کی بھلائی کے لیے گزارنا، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، کسی بیوہ عورت کی باپ کی طرح سرپرستی کرنا اور بغیر کسی دنیاوی لالچ کے صرف اللہ کی رضا کے لیے اس کی سسکتی مخلوق کے لیے کچھ کرنا۔ یہ وہ کام ہیں جس سے اللہ خوش ہو گا اور اگر آج کے دور میں دیکھا جائے تو ان کاموں کو بہت کم لوگ اپناتے ہیں اور ان کم ناموں میں ایک نام عبد الستار ایدھی کا ہے۔ موجودہ نفسا نفسی کے اس دور میں عبدالستار ایدھی نے اپنی ساری زندگی میں صرف ایک ہی کام کیا جسے خدمت خلق کہتے ہیں۔

خدمت خلق کا مطلب اپنی ذات سے بالاتر ہو کر دوسروں کے لیے سوچنا ہے اور عبدالستار ایدھی نے ایسا ہی کیا ہے وہ نہ تو کوئی جاگیردار تھے اور نہ ہی کوئی بڑے حکمران تھے بلکہ وہ ایک غریب آدمی تھا اس نے بھی مفلسی میں ہی زندگی گزاری تھی لیکن پھر بھی اس کے دل میں دوسروں کے لیے رحم تھا، درد تھا، دوسروں کے لیے کچھ کرنے کی تڑپ تھی۔ اس کے پاس نہ تو دولت تھی اور نہ ہی کوئی عہدہ مگر پھر بھی اس نے مدد کی اور ہمارے لیڈر ہمارے رہنما جو خود کو ہم سے بہتر خیال کرتے ہوئے ہمارے بڑے بننا چاہتے ہیں۔ لاکھوں روپوں کی بلٹ پروف پیجاروں میں بیٹھ کر آتے ہیں، ان کے جسم پر برانڈڈ لباس ہوتے ہیں اور وہ ہمیں تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے نبیﷺ کو سادگی پسند تھی۔ اس طرح باتیں کرنے سے کوئی عمل نہیں کرتا جب تک آپ خود مثال نہیں بنیں گے۔ اس وقت تک ہم خوشحال ماحول میں زندگی نہیں گزار سکتے۔

جبکہ ہمارے سامنے صحابہ کرام کی زندگیاں ہیں۔ انہوں نے حضرت محمدﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھر کا ساز و سامان اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔ چاروں خلفائے راشدین کی قربانیاں تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود خود کو عوام الناس کی خدمت میں پیش کرنا بہت بڑی مثال ہے۔ تو کیا ہم ان کی پیروی نہیں کر سکتے، کیا کچھ نہیں ہے ہمارے پاس صرف دینے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ دوسروں کی مدد کرنا ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے۔ اگر ایک انسان کی وجہ سے دوسرے انسان کے آنسو خشک ہو جائیں تو یہ بہت بڑی عبادت ہے۔ دوسروں کی مدد کرنے سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالٰی نے انصاف کا بھی کہا ہے۔ ’’کہ دوسروں سے عدل کرو‘‘ اور کوئی ملک یا کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس قوم میں انصاف اور ایمانتداری نہ ہو اور اس کی کہیں وجوہات ہیں جہاں ہمیں انصاف نظر نہیں آتا۔ کوئی چوری کرے تو اسے کوئی سزا نہیں دی جاتی۔ یہ ایک چھوٹا جرم ہے لیکن یہ جرم ہی بڑے جرائم کو پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جبکہ اسلام میں ہمارے نبیﷺ نے چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا ہے اور یہ ایک قانون ہے۔ اسی طرح ہمارے ملک میں زناء کرنے والے کھلے عام پھر رہے ہوتے ہیں اور مظلوم عزت کو بچانے کے لیے گھر میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک تو وہ پہلے ہی غربت کا شکار ہوتے ہیں جبکہ اب انھیں ایک وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑ جاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں زانی کو سر عام کوڑے مار کے سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ اسی طرح رشوت، سود وغیرہ بھی حرام ہیں جبکہ یہ سب ہمارے ہاں عام ہیں۔ رشوت، سود ہمارے ہاں کسی کام کے لیے سب سے پہلے انہی دو کاموں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اگر ہمارے ملک میں یہ چھوٹی چھوٹی برائیاں جنم لیتی رہیں گی تو ہمارے ہاں غربت کیسے ختم ہو گی۔ جبکہ آج سے چالیس سال پہلے جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامی قوانین کو اپنایا گیا تھا۔ قرآن اور احادیث پر عمل کیا گیا تھا۔ چوری کرنے والے کے ہاتھ سر عام کاٹے گئے تھے ہر برائی کو جڑ سے اکھاڑا گیا تھا۔

جنرل ضیاء الحق کو سب نے ظالم و جابر کہا تھا۔ بہت سے عہدے دار لوگ اس کے خلاف تھے لیکن اس کے دور میں جرائم کم ہو گئے تھے، غربت کم تھی، مہنگائی کم تھی۔ مگر اب کہا جاتا ہے کہ ہر فیصلہ قرآ ن و حدیث کے زیر سائے کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ ہمارا ملک و معاشرہ خوشحال تب ہو گا جب اس میں انصاف ہو گا ہر کسی کو اس کا حق ملے گا اور آج کے دور میں کسی کو اس کا حق ملنا بہت مشکل کام ہے اور ہم لوگ حکمرانوں کے آسرے پر نہیں بیٹھ سکتے۔ اس لیے ہمیں خود ایک دوسرے سے مل کر شانہ نشانہ ہو کر دوسروں کی مدد کرنا ہو گی اور یہ مدد ضروری نہیں کہ پیسوں سے کی جائے اگر آپ اپنے کھانے میں سے تھوڑا سا کھانا باہر دے دیں گھر کا پرانا فرنیچر سامان کپڑے وغیرہ باہر دے دیں اس کے علاوہ اپنے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے کہ اپنی چیزوں میں سے دوسرے بچوں کو بھی دیں۔ ان کے ساتھ کھیلنا اور باتیں کرنے کا سکھائیں۔ کیونکہ وہ بچے بھی انسان ہیں وہ بھی ہمارے طرح ہیں بس ہم اللہ کے کرم سے تین وقت کا کھانا کھا لیتے ہیں اور اس کے علاوہ ہر آسائسش ہے۔ جبکہ وہ ان چیزوں سے محروم ہیں پر ان کے احساسات ہمارے جیسے ہیں وہ بھی ہماری طرح رہنا چاہتے ہیں جبکہ ہم ان سے گھن محسوس کر تے ہیں صر ف اس لیے کہ ان لوگوں کے بچوں کا کوئی نہ کوئی اعضاء متاثر ہوتے ہیں ہم اپنے بچوں کو ان سے دور رہنے کو کہتے ہیں اگر ہم ان کے ساتھ ایسا کریں گے تو وہ معاشرے میں کیسے آگے بڑھیں گے۔ یہی بچے بڑے ہو کر احساس محرومی کا شکار ہوں گے۔ جب یہ کچھ نہیں کریں گے تو کیا اس سے غربت نہیں بڑھے گی۔

ہم زیادہ سے زیادہ مفلسی کے مارے ہوئے لوگوں کے بچوں کو اپنے گھر پر کام کرنے کے لیے رکھ لیں گے۔ یہ ہم ان پر احسان کر یں گے۔ جبکہ ہم حقیقت میں انھیں اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ وہ اس حقیر کام سے بڑھ کر کچھ کر سکیں اس سے وہ دو قت کی روٹی کے لیے پیسے تو کما لیں گے لیکن معاشرے میں عزت نہیں ملے گی۔ لیکن وہ اس وقت اتنے ذہنی مفلوج ہو گئے ہوتے ہیں کہ وہ اس کام میں عار محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ لوگ اسکو بھی اپنے لیے ایسا سمجھتے ہیں کہ جیسے ان کے ہاتھ قارون کا خزانہ لگ گیا ہو اور ہم یہ سوچ کر ہی خوش ہوتے ہیں کہ میرے گھر میں اس سے زیادہ نوکر ہیں۔ ہماری سوچ بہت پست ہو گئی ہے ہم ان لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں جبکہ ہمیں اس کے برعکس کرنا چاہیے۔ ہمیں ان بچوں یا عورتوں کو اپنے گھر ملازم بنانے کی بجائے انہیں کوئی ایسا ہنر سکھائیں جس سے وہ ترقی کر سکیں اور معاشرے میں باوقار شہر ی بن کر رہیں اور وہ اپنا تعارف کروانے پر توہین محسوس نہ کریں اور ایسی مثال ایک عورت نے اپنی اعلیٰ سوچ اور محنت سے قائم کی ہے اور اس وجہ سے وہ صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی پہچانی جاتی ہے۔

مسرت مصباح ایسی خاتون ہیں جس نے اپنے عورت ہونے کا فرض ادا کیا۔ اس نے ایک عور ت ہو کر دوسری عورت کا درد سمجھا اور انھیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنے آپ کو کمتر نہ سمجھیں ان کی سوچ میں وسعت پیدا کی اور آج وہ خواتین معاشرے میں کسی پر بوجھ نہیں ہیں اور یہ خواتین معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

یہ خواتین وہ ہیں جو اس ملک میں ظلم کا شکار ہوئی ہیں ان پر تشدد کیا گیا ہے اور ان کے چہرے مسخ کر دئیے گیے ہیں اور انہیں اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ معاشرے میں سر اٹھا کر زندگی گزار سکیں یہ وہ خواتین ہیں جو نہ تو اپنا علاج کروا سکتی ہیں اور نہ ہی اپنی خود کفالت کر سکتی ہیں کیونکہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔ مسرت مصباح نے ان کا علاج کروا کر ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کی ہے اور ان کے ہاتھ میں ہنر دیا یا یہ خواتین بھی کسی دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلا رہی ہوتیں یا بھیک جیسا ذلت نما پیشہ اختیار کیا ہوتا۔ اسی طرح ہمیں بھی کچھ کرنا چاہیے زیادہ نہیں تو اپنی سوچ کو تبدیل کریں۔ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو دیکھیں جو مفلسی میں رہ رہے ہیں لیکن وہ کچھ کرتے نہیں جبکہ وہ تندرست ہیں تو ہمیں ان کی سوچ کو تبدیل کر نا چاہیے کہ وہ اس حال سے باہر نکل سکیں ہر کام پیسے سے نہیں ہوتا بلکہ زبان سے ادا ہونے والے جملوں سے بھی ہو سکتا ہے۔

ہمیں اپنے اندر احساس اور درد پیدا کرنا چاہیے اور ان کی مدد اس طریقے سے کریں کہ وہ لوگ آپ کے عادی نہ ہوں بلکہ وہ محنت کے عادی ہو جائیں اور تب ہی معاشرہ ترقی کرے گا اور معاشرے کی ترقی میں ملک کی ترقی ہے اور یہ ترقی ہمیں تب ملے گی اور جب ہم اپنے ہر چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی قرآن و حدیث کو سامنے رکھیں گے تو تب ہی ملک میں غربت ختم ہو گی۔

پہلی قسط اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: