غربت کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟ (حصہ اول) ——– رومانہ ملک

0

غربت کیا ہے؟ کیوں ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر کسی کے ذہن میں نقش ہو چکا ہے اس سوال کو کھوجنے کی تگ و دو بھی کی گئی لیکن اس کا حل آج تک کسی قوم نے نہیں بتایا کیوں؟ بے حسی! غربت پر بات تو ہر کوئی کرتا ہے بتایا جاتا ہے کہ فلاں ملک میں اتنی غربت ہے وہاں کے لو گ کس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مگر اس پر کبھی خود نہیں سوچا کہ ایسا میں کیا کروں کہ اس سے ایک خاندان غربت سے بچ سکے۔ یہ سوچ اس وجہ سے ہمارے اندر نہیں آئی کہ ہم خود غرض اور بے حس ہو چکے ہیں۔

کیا زندگی اسی شے کا نام ہے کہ کمایا، کھایا اور سو گیا! ہماری زندگی کا اولین مقصد کیا ہے صرف اپنے آپ کو سنوارنا، اپنے آپ کو ترقی کی طرف گامزن کرنا، دوسروں سے سبقت لے جانا یا اپنے آپ کو بہتر سمجھنا۔ کیا یہی ہے ہماری زندگی کا مقصد؟ ہم سب اس دنیا میں صرف اپنے لیے آئے ہیں کہ صرف خود کو دیکھو، اپنے سامنے کسی کو نہ گردانو۔ کیا انسانیت اسی کو کہتے ہیں؟ کہ صرف اپنی ذات کا خیال رکھو اور اپنی دنیا میں مگن رہو اور اس کے علاوہ تمھارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے اسے اس قابل ہی نہ جانو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آج کی قوم میں اور آج سے ہزاروں سال پہلے کی قوموں میں کیا فرق ہے؟ اگر آج ہم اپنا تجزیہ کریں تو ہم میں اور ہزارو ں سال پہلے کی قوموں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا اور اس کی وجہ ہمارے اندر کی انسانیت جو اب ختم ہو چکی ہے۔ ہم اپنے آپ کو بھلا مانس اور شریف سمجھتے ہیں جبکہ ہم اس کے الٹ ہیں۔

رابرٹ بریفالٹ نے انسانیت کے بارے میں لکھا ہے کہ

’’کرہ ارض کو کائنات کا مرکز قرار دینے کے متعلق جو نظریہ تھا اس میں بھی ہمارا تصور محض غیر صحیح بلکہ حقیقت سے بالکل الٹ تھا۔ نسل انسانی کی رفتار زندگی کے متعلق تصور یہ تھا کہ اس میں انحطاط (کمی) پیدا ہو رہا ہے۔ وحشی انسان جن کو قدیم انسانیت کی وحشت و بربریت کے نمائندے سمجھنا چاہیے تھا انھیں شریف و نجیب اور مہذب قومو ں کے مورث سمجھے گئے۔ فطرت انسانی کے کسی ناگزیر قانون کے ماتحت زوال و انحطاط کی گہرائیو ں میں غرق ہو گئیں۔ ماضی کو گم گشتہ نیکی اور دانش کا خزینہ سمجھ لیا گیا اور بے حقیقت حال کے مقابلے میں اس کو محض قدامت کی وجہ سے فوقیت و برتری دی گئی غرض علم تاریخ کا سب سے بڑا وظیفہ یہ قرار پایا کہ ہم اپنے دور دراز کے قدیم بزرگو ں کی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر ایک زوال پذیر زمانے کے سامنے بطور مثال پیش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘  (تشکیل انسانیت مترجمہ عبد المجید سالک: ص 13)

جبکہ موجودہ حال کے لوگ یہ جان گئے ہیں کہ دنیائے انسانی بربریت اور حیوانیت سے ترقی پا کر اپنے موجودہ مرتبے پر پہنچی ہے اور ایسے ایسے کارنامے پیش کئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لیکن یہ ترقی ایک دم رونما نہیں ہوئی بلکہ یہ آہستہ آہستہ نسل در نسل اور قوم در قوم روح پذیر ہوئی ہے۔

ماضی میں انسان وحشیانہ زندگی گزارتا تھا۔ اس کے اندر وحشی پن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ انسانی زندگی میں تبدیلی رونما ہوتی رہی۔ انھوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا، کھانا پینا تبدیل کیا۔ مختلف ایجادات کیں مگر یہ سب تب ممکن ہوا جب انھوں نے اپنے اندر شعور پیدا کیا اور یہ دنیا جو انسان نے بنائی ہے انسان کے ذہن کی پیداوار ہے اور اسی سوچ کے ساتھ ساتھ ان کے اندر ایک نئی سوچ آئی اور وہ تھی قوت۔

اقتدار و اختیار ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے پوری دنیا اس کی محکوم ہو یہ سوچ ہی اس کے اندر ایک نیا جذبہ پیدا کرتی ہے اور انھوں نے یہ عملاً کیا۔ اوزاروں کی جگہ لوگوں کو استعمال کیا۔ بلاشبہ پتھر کی کلہاڑیاں، ہڈی کی سوئیاں، اسلحہ اوزار ہاتھ اور دماغ بڑے کام کی چیزیں ہیں لیکن ان کو خود استعمال کرنے کی نسبت یہ امر بے حد آرام دہ ہے کہ آپ لوگوں کو مجبور کر سکیں کہ ان کو آپ کے لیے استعمال کریں، صاحب اختیار کے آلات کار اسلحہ و اوزار نہیں ہوتے بلکہ خود انسان ہوتے ہیں جبکہ انسانی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خلو ص کو اپنائے ضرب المثل ہے کہ

’’ذہانت بہترین حکمت عملی ہے‘‘

اس بارے میں رابرٹ بریفالٹ کہتے ہیں کہ

’’ اس ضرب المثل کو ایک غیر یقینی سے عقیدے کے محور پر دہرایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہترین حکمت عملی انسانی نشو و ارتقاء کا ایک قانون ہے۔ جو دنیا میں انسان کی صورت حال کا لازمی نتیجہ ہے ہر وہ چیز جو اس صداقت کی موید (معاون) ہو گئی۔ دنیا میں انسان کی کامیاب مطابقت کو تقویت دے گئی۔ لیکن ہر وہ چیز جو اس کی عقل کو فاسد بنائے گی اور اس کے ذہن کو اس کے مخصوص وظائف سے منحرف کرے گی اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کے حقائق سے جن کے درمیان انسان زندگی بسر کر رہا ہے اس کا رابطہ اور توافق (اتفاق) قائم نہ رہے گا اور اس کی قوت ارتقاء کا عمل رک جائے گا۔ ثقافت انسانی کی پوری رفتار کے دوران میں کسی تہذیب کی جانداری قوت و توانائی، وقعت اور کامیابی اس کے خلوص اور اس کی دیانت فکر کا پتہ دیتی ہے اور جس تہذیب میں کہولت، انحطاط، بدعنوانی اور زوال و تباہی کا میلان پایا جائے اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ اس میں دروغ گوئی اور بددیانتی راہ پا گئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (تشکیل انسانیت مترجمہ عبد المجید سالک: ص 131)

اس لیے ہمیں اپنے اندر سے ان خصلتوں کو ختم کرنا ہو گا اور اپنے اندر اخلاقی اقدار کو شامل کرنا ہو گا تب ہی ہم ایک مکمل انسانیت کا پیکر بنیں گئے اور اس عمل کو کامیابی تب ملے گی جب ہم ایک اچھے معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور یہ تب بنے گا جب ہمیں پتا ہو گا کہ ہم کون ہیں اور ہماری اخلاقی اقدار کیا ہیں؟

ہم مسلمان ہیں اور ہم آزاد ملک پاکستان میں رہتے ہیں جو ہزار ہا قربانیاں دینے کے بعد ہمیں ملا ہے اور اسے ہم نے آزادی کے لیے حاصل کیا تھا اور ہم آزادانہ زندگی گزار سکیں اور آج ہم کیا پرسکون زندگی بسر کر رہے ہیں؟ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ہم نسل پرستی اور فرقہ واریت میں پڑ چکے ہیں۔

ایک وہ وقت تھا جب ذرا سی کوتاہی کی اور لوگ پکڑ میں آ گئے اور اب ایک یہ وقت آ گیا ہے کہ لوگ گناہ در گناہ اور از سر نو پھر سے گناہ میں ڈوبے چلے جاتے ہیں اور کوئی اندرونی بگاڑ کو جان ہی نہیں پاتا کیونکہ ہمارے اندر اعلٰی اخلاقی اقدار ختم ہو چکی ہیں۔ ہمارا لگ وطن حاصل کرنے کا جو مقصد تھا وہ ہم بھول چکے ہیں۔ ہر کوئی افراتفری میں ہے کہ مجھے فلاں سے سبقت لینی ہے۔ اس شخص کو میں نے شکست دینی ہے اور اسے میں نے یہ جواب دینا ہے۔ اپنے لیے میں نے یہ نایاب چیز لینی ہے۔ گھومنے میں نے اس شہر جانا ہے یہ ہے ہمارا آج کا مقصد جسے ہم نے ہر حال میں پورا کرنا ہے۔ آج ہم پھر اس مقام پر براجمان ہیں جہاں ہم ہزاروں سال پہلے کھڑے تھے کیونکہ ہم بے حس ہو چکے ہیں ہم دوسروں پر ظلم کر کے بھی پشیمان نہیں ہوتے کیونکہ ہمیں ڈر نہیں ہے جبکہ ہزاروں سال پہلے اگر لوگ کوتاہی کرتے تھے تو انہیں اصل سے محروم کر دیا جاتا تھا کوئی بندر کے قبیل سے کر دیا جاتا تھا اور کسی کو غرق کر دیا جاتا تھا کوئی خنزیر کی شکل میں بدل دیا جاتا تھا اور کسی کو خاک کر کے زیر زمین سرمہ بنا دیا جاتا تھا۔ ان کو مہلت نہیں عطا کی جاتی تھی۔ ’’کن سے فیکون‘‘ ہو جایا کرتا تھا اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تو یوں ہے کہ سوچو بھی تو عقل حیرت میں ڈوب جائے۔ ظالم کی رسی دراز سے دراز تر ہے کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی ہڈی تک کو چوس ڈالے کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک ماں کے بچے کو گاڑی کے بھاری بھر کم پہیے تلے کچل کر اُسے شہید کا لقب دے دیا جائے۔ کیا ایسے غم کا مداوا ہو جایا کرتا ہے؟

ایک بچی کو جامعہ کی طرف جاتے ہوئے اغواء کر کے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر حلق کی رگیں تک کھینچ کر اسے پانی کے پرسکون ریلے کے حوالے کر دیا جائے۔ ایسا بھی کبھی ہو سکتا ہے کیا؟ ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے نبی حضرت محمدﷺ کے پیغامات کو فراموش کر چکے ہیں جس کی وجہ سے ہم بے راہ روی کا شکار ہیں۔ ہم نے اسلامی اقدار کو بھلا دیا ہے اور اپنی مقدس کتاب قرآن مجید کے احکامات کو نظر انداز کر دیا ہے اور یہ ہی وجہ ہے ہم ترقی کی بجائے پستی کی طرف جا رہے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے خلفائے راشدین کے اصولوں پر عمل کر نے کی بجائے ہم نے اپنے اصول و ضوابط بنا لیے ہیں۔ جس پر ہم نے ہر صورت میں عمل پیرا ہونا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں توازن نہیں رہا ہے۔ ہم نے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ ان کو تکلیف میں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں اور اسی لیے ہمارے ملک میں غربت نے ترقی کی ہے اور غربت، مفلسی، گدا گری، ناخواندگی، چوری اور زنا وغیرہ کا نام ہے۔

یہ زیادہ آبادی اور ناانصافی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں انصاف نام کا ہی باقی ہے۔ کسی شخص کو بھی اس کا جائز حق نہیں ملتا کیونکہ ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے جو وہ قانوں کے دروازے پر بار بار جا سکے۔ یہاں انصاف صرف امراء کے لیے ہے۔

دوسری وجہ آبادی اور ہمارے ملک کی آبادی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان کی آبادی تقریباً 220,000,000 ہے۔ یہ غربت کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہ صرف ناخواندگی کی وجہ سے ہے جبکہ اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسان کو فرشتوں پر برتری حاصل ہے۔ اللہ نے انسان کو عقل و شعور دیا ہے۔ جبکہ انسان عقل و شعور کا استعمال ہی نہیں کرتا وہ اس بات کو زیر غور ہی نہیں لاتا کہ کیا میرے پاس اتنے وسائل ہیں کہ جو میں اپنے بچو ں کا پیٹ پال سکو ں۔ اگر وہ یہ بات سوچ لے تو ایک ماں اپنے بچو ں کو روٹی مانگنے پر پانی کی ٹینکی میں نہ ڈبوئے۔ ایک باپ اپنے بچو ں کا پیٹ نہ پال سکنے کے باعث خود کو ریل کی پٹری پر نہ لیٹائے۔ ہمارے ملک میں زیادہ تر اموات بھوک کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں غربت کی شرح افزائش 75 فیصد ہے اور 20 فیصد لو گ ایسے ہیں جو کچرے میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پر ملاحظہ کیجیے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: