مذہبی سیاست کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے ——– قاسم یعقوب

0

مذہبی شدت پسندی اس خطے میں ایک دم سے پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں اس کی جڑیں ایک ڈیڑھ صدی کے عرصے پہ محیط ہیں۔ انگریز حاکمیت سے پہلے ادوار میں مذہبی جنونیت کا نام نہیں تھا۔ خطہ، ذات، قبیلہ اور برادری ہی پہچان یا جنگوں کا باعث بنتے۔ افراد اپنے آپ کو کسی مذہبی یا مسلکی وابستگی کی بجائے اپنے خطے یا برادری سے وابستہ کرنے میں فخر کرتے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تاریخ کے اوراق میں شیعہ سنی فسادات یا ہندو سکھ یا مسلم فسادات کا رواج نہیں ملتا۔ اگر ہوتے بھی توبہت انفرادی سطح پر ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے۔ انگریز عہد میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم شروع ہوئی اور افراد اپنی پہچان مذہب کے نام سے کرنے لگے۔ ایک طرف ہندو ہوگئے دوسری طرف مسلمان۔ اسی طرح سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے مسلکی علما اپنا ڈھول پیٹنے لگے۔ مذاہب کی بنیاد پر شدید عدم تحفظ پیدا ہونے لگا۔ انھی مذاہب کی بنیاد پر علاقے تقسیم ہونے لگے۔ ان علاقوں میں مخصوص زبان بولنے والے جمع ہوگئے۔ گویا زبان تک مذہب کے نام پر تقسیم ہونے لگی۔ ہندوئوں کی ہندی، مسلمانوں کی اُردو، سکھوں کی پنجابی اور عیسائیوں کی انگریزی۔

دیگر علاقائی قوموں نے مسلمانیت پر ذرا دیر سے اپنا سب کچھ قربان کیا، ان میں موجودہ پاکستانی علاقہ شامل ہے جس میں سندھی، بلوچ اور پستون قومیں آباد ہیں۔ ان علاقائی قوموں نے پہلے اپنے خطے اور کلچر کو زیادہ اہمیت دی مگر ایک عرصے کے بعد ان کے ہاں بھی مذہبیت پہلا مقصد قرار پانے لگی اور یوں انھوں نے بطور قوم ایک مذہب کی بالا دستی کی بنیاد کو قبول کر لیا۔ اسی طرح بنگلہ خطے کے افراد کا بھی تجزیہ کیا جا سکتا ہے جو سخت گیر مسلمان بھی اُتنے ہی ہیں جتنا انھوں نے اپنی زبان پہ سخت گیری کا مظاہرہ کیا۔

اس خطے کی مسلمان قوم میں شدت پسندی کہاں سے آئی؟ اس خطے کے مسلمان کیوں پوری دنیا کے مسلمانوں کا غم اپنا غم سمجھتے ہیں؟ ان کے ہاں امیر کا ایک حکم آج بھی حرفِ آخرکیوں ہوتا ہے؟ سیاست میں مذہب کو ’استعمال‘ کرنے کی تاریخ نئی ہے یا پرانی؟

آئیے ان سوالوں کے جوابات کو اپنے خطے کی تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔

خالد بن سعید نے اپنی کتاب The Formative Phase 1857-1948 میں خلافت موومنٹ کو اس شدت پسندی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ کتاب تحریک پاکستان کو سمجھنے کی طرف ایک اہم اضافہ ہے۔ خلافت کی تحریک نے مسلمانوں کو شدت پسندی کی طرف باقاعدہ ایک تحریک دی۔ اس سے پہلے ایک قومی تحریک کے مسلمان کبھی بھی اس طرح یک جا نہیں نظر آتے۔ جنگِ آزادی کی تحریک ایک انفرادی تحریک تھی جو تحریک سے زیادہ خانہ جنگی کی فضا بن گئی۔ اس جنگ کا محرک فوری اور انفرادی تھا جس کے لیے کسی منظم تبلیغ کی بنیاد نہیں تھی۔ جنگ آزادی سے مسلمان قوم کو پہلی دفعہ احساس ضرور ہوا کہ وہ ہندوئوں یا دیگر قوموں سے علیحدہ ہیں مگر یوں منظم انداز سے انھیں یک جا کرنے کا پہلا موقعہ تحریک خلافت نے فراہم کیا۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب مقامی علما نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مذہبی بنیادوں پہ اُبھارا اور انھیں جہاد کا باقاعدہ درس دیا۔ ترکی کی خلافت کے لیے کٹ مرنے کے وعدے لیے گئے۔ اسلام اور اسلامی نظام کی بقا کے لیے گھر بار چھوڑنے کے وعظ کئے گئے۔ اس تحریک کے سرگرم علما اور سیاست دانوں میں مولانا ابوالکلام آزاد اور محمد علی جوہر بھی تھے جو مسلمانوں کو غیرت کا درس دیتے رہے۔ کاروبار، تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کیا جانے لگا۔ مولانا آزاد اور مولانا باری جیسے رہنمائوں نے برصغیر کو دارالحرب قرار دے کے قریبی ہمسائیہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ لوگ جوق در جوق افغانستان کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ افغانستان پہلے ہی کمزور معیشت کا ملک تھا جس کی وجہ سے ان لوگوں کو لٹے پھٹے واپس آنا پڑا۔ کئی افراد مارے گئے اور کئی فاقوں تک پہنچ گئے۔ واپسی پہ کسی رہنما نے انھیں بازو نہ پکڑایا۔ یہ شدت پسند فیصلہ سازی کا آغاز تھا۔ مسلمان قوم نے بطور شدت پسند اپنا پہلا رویہ ظاہر کیا۔

اسی دوران انگریزوں سے جھڑپوں میں دو انگریز مارے گئے اور جس کے نتیجے میں 1919میں جلیانوالہ باغ کا واقعہ ہوا۔ اپریل 1919کے اس واقعے میں سیکڑوں مسلمان مارے گئے۔ انگریزوں نے براہِ راست گولی چلا دی۔ ہر طرف خون ہی خون تھا۔ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں نے کنوئوں تک میں گود کے جانیں بچانے کی کوشش کی مگر جان سے پھر بھی گئے۔ اس واقعے نے ایسے اثرات مرتب کئے جس کے آفٹر شاکس ابھی تک سنائی دیتے ہیں۔ اس شدید واقعہ کے پس منظر میں دو اہم نکات بھی دیکھیے:

قائداعظم اس تحریک میں شمولیت کی مخالفت کرتے رہے،شاید اس وقت تک قائد اعظم کا مذہبی بنیادوں پہ تقسیم کا واضح نقہ نظر نہیں تھا اور دوسرا اہم نکتہ یہ کہ اس نفرت کو انگریزوں نے اپنے خلاف نہیں ہندوئوں کی طرف موڑ دیا۔ یہ انگریزوں کی کمال حکمت عملی تھی کہ مسلمان انگریزں کے خلاف نہیں ہوئے بلکہ ہندو کو اپنا دشمن بنایا۔ یہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ مسلمانوں کا ہندوئوں کے ساتھ ایسا بڑا کوئی سانحاتی واقعہ موجود نہیں مگر مسلمان آج بھی ہندو سے نفرت کرتا ہے انگریز سے نہیں۔ آج بھی مسلمانوں کا ایک خواب ہے کہ برطانیہ یا لندن میں اپنا گھر یا فلیٹ ضرور ہو۔ تقسیم کے بعد بھی پاکستانی طاقت ور اشرافیہ نے انگریز سے نفرت کی بجائے ہندوئوں اور سکھوں سے نفرت کا بڑھا وا دیا۔ شاید یہ چالاکی انگریز کی تھی جس نے نفرت کو مقامی سطح پر پیدا کر کے اپنی راہ لی۔ اس چال کو بہت کم لوگ سمجھے اور آج بھی بہت کم سمجھتے ہیں۔ اشرافیہ کو سمجھنا چاہتی نہیں کیوں کہ ان کے سارے مفادات آج بھی ان ہی کے ساتھ وابستہ ہیں۔

اتا ترک نے جب یورپی افواج کو شکست دی تو خلافت کا دور ختم کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے یہاں کے سارے مذہبی جذباتی ریلے کو کسی اور رخ کو موڑنے کا اہتمام ہونے لگا۔ اس تحریک کے بعد مجلس احراراسلام اور ہندوئوں کی ’ہندو شدھی موومنٹ‘ نمودار ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مذہب مرکزی حیثیت اختیار کرتا گیا۔ مذہب کے نام سے سیاسی جماعتیں بننے لگیں۔ علامہ اقبال جیسے مفکر نے بھی ان خدشات کا ذکر اپنے خطوط میں کیا ہے۔ اکبر نجیب آبادی کو ایک خط میں اقبال نے لکھا کہ

’’سرسید تحریک سے پیشہ ور مولویوں کا اثرکم ہو گیا تھا۔ خلافت کمیٹی نے سیاسی فتوئوں کی خاطر مولویوں کا اثر ایک بار پھربڑھا دیا یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی۔‘‘

اس شدت پسندی کا عروج ہمیں تحریک پاکستان کے وقت ملتا ہے جب یہاں کے مذہبی رہنا ایک دوسرے کو آئیڈئیل ریاست کا خواب سناتے رہے یا ایک ایسی تجربہ گاہ کہتے رہے جہاں ان کے مذہبی خوابوں کو تعبیریں ملیں گی۔ ظاہری بات ہے جب خواب پورے نہیں ہوتے اور خواب بھی ایسے جس کے لیے نہایت اخلاص کے ساتھ قربانیاں بھی دے جارہی ہوں تو شدت پسندی راہ پاتی ہے۔

مذہبی شدت پسندی کو عروج اور باقاعدہ تنظیم سازی یہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے دی۔ جب پاکستان قومی اتحاد نے اپنے سیاسی ایجنڈے سے ایک دم ’نعرۂ نظام مصطفی‘ کی طرف شفٹ کیا۔ اس تحریک نے سیاسی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بھٹو کو اینٹی مذہب قرار دے کے نظام مصطفیٰ کے نافذ العمل میں سخت رکاوٹ کہا گیا۔ یہ سیاسی نعرہ Right-wing populism کہلانے لگا۔ بھٹو کو ہٹا دیا گیا مگر اس شدت پسندی اور خاص طور پر جہاد کے فلسفے کو نیا رُخ دیا گیا جس میں یہاں کی مذہبی جماعتوں نے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ 1979میں روسی افواج کی افغانستان میں مداخلت نے اس خطے میں سیاست نے ایک نیا موڑ لیا۔ اب کی بار مکمل طور پر مذہبی سیاست اپنا حصہ منوا چکی تھی۔ مذہبی سیاست کا اپنا فلسفہ ہوتا ہے۔ درپردہ سیاست مگر بظاہر مذہب کے اولین مقاصد کا حصول غالب رہتا ہے۔

مذہبی جماعتیں آمرکے ساتھ مل کے ملک کی اشرافیہ بن چکی تھی مگر بظاہر وہ مذہبی ایجنڈے، خاص کر اسلامی تجربہ گاہ بنانے کا خواب پورا کرنے جارہے تھے۔ مذہبی نعرے چوں کہ جذباتی حدوں تک جاپہنچتے ہیں ا س لیے بہت جلد اس کو قومی پالیسی بنانے کا اہتمام ہونے لگا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ضیا دور میں ہی یہ فیصلہ کیا کہ مذہبی سیاست کو ملکی سیاست سے دور نہ کیا جائے۔ یہ ایک ایسی رگ ہے جو پھڑپھڑانے میں دیر نہیں لگاتی اس سے بہت سے ’’مفید کام‘‘ لیے جا سکتے ہیں۔

اسی دور میں طالبان تیار ہوئے اور ’رشئین وار‘ کو مذہبی جنگ بنا دیا گیا۔ وہی طالبان جو ہمارے لیے مذہب کی جنگ لڑ رہے تھے، ہمارے جذبات کی ترجمانی کر رہے تھے، نائن الیون کے بعد ایک دم ہمارے لیے وبال جان بن گئے۔ کیوں کہ ہم مذہبی جنگ کو کچھ دیر کے لیے موخر کر دینا چاہتے تھے۔ مگر یہ انکار اور رکاوٹ انھیں منظور نہ تھی کیوں کہ انھیں ایک ریاست ’افغانستان‘ مل چکی تھی۔ ہمارے بارڈر اوپن تھے وہ سب بھاگ کے افغانستان چلے گئے اور پھر ایک ایک کر کے آتے اور ہمیں مارنے لگے۔ اس سلسلہ کو روکنے کی کوئی تدبیر ہی نہیں کی گئی۔ کیوں کہ جن لوگوں اور جن کے ذریعے ان کو روکنا تھا وہ مذہبی رہنما اور عوام تھے، مگر اب وہ سب کے سب ان کی طرف تھے۔ یہ سب ہماری اسٹیبلشمنٹ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ عوام خود ان کے ساتھ تھے۔ طالبان دوستی میں وہ کسی کی نہیں سن رہے تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب مذہبی شدت پسندی ہر فرد تک منتقل ہو چکی تھی۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا مگر عوام واپس لینے کو تیار نہ تھے۔ عوام بضد تھے کہ ہمیں بتایا جائے کہ کہاں ہے وہ تجربہ گاہ،یہاں تو کوئی بھی چیز اسلام کے مطابق نہیں۔

اب صورتِ حال ایسی ہے کہ مذہبی شدت پسندی ایک دلیل بن چکی ہے،خطے کے عوام کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔ ان کو مذہبیت کے لیے استعمال کسی بھی وقت، کسی بھی طرح کیا جا سکتا ہے:

کسی دوسرے ملک کے خلاف۔ اسے کافر قرار دے کے۔ اس کے ملک میں کسی کفر کی نشان دہی کر کے۔
کسی بھی دوسرے فرقے کے خلاف۔ اسے کافر کہہ کے۔ اُسے شعار اسلامی کے خلاف ارتکاب کاکہہ کے۔ ۔
کسی بھی حکومت کے خلاف۔ اسے اسلامی نظامِ مصطفی کے خلاف حکومت کا سرٹیفکیٹ جاری کر کے۔

مذہبی شدت پسندی کو کسی طرح بھی اپنے حق میں استعمال کیا جا سکتا ہے:

کسی کو اسلام محبت میں سرشار دکھا کے۔
کسی کو تحفظِ اسلام کے لیے لازمی قرار دے کے۔
کسی کو مذہبی حمایت میں وقف ثابت کر کے۔

مگر یاد رہے کہ ہم اس سلسلے میں بہت کچھ گنوا چکے ہیں۔ یہ بہت خطرناک کھیل ہے۔ وقت بار بار غلطی کی گنجائش نہیں دیتا۔ ہماری طاقت ور اشرافیہ ابھی تک سمجھ نہیں رہی کہ مذہب کے استعمال سے سب سے زیادہ نقصان اشرافیہ کو ہی ہوا ہے۔ عوام تو اخلاص میں سب کچھ کرتے جاتے ہیں مگر اس کا ازالہ انھیں کو کرنا ہوتا ہے جو اپنے لیے کام کرواتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت جو کھلواڑ شروع کر دیا گیا ہے وہ صفحہ تاریخ پہ مذہبی جنویت اور شدت پسندی سے بہنے والے خون کے علاوہ کوئی نقش نہیں چھوڑنے والا۔ یہ جذبات کو انگیخت کرنے کی کہانی جلیانوالہ باغ سے آج تک ہر دور میں دہرائی جاتی رہی ہے مگر کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔ مرنا کس نے ہے؟ مرتا کون ہے؟ صرف غریب!…….. غریب عوام، غریب سپاہی، غریب فوجی!……. آج بھی مذہبی سیاست میں غریب مر رہا ہے، پہلے بھی دارالحرب سے جانے والا غریب تھا۔ مر کے اور لُٹ کے واپس آنے والا بھی غریب تھا۔ رہنما کبھی بھی کسی نقصان میں شریک نہیں ہوتا۔

ہمیں چاہیے کہ مذہب کو اس طرح کی سیاست سے الگ کریں۔ مذہب کا منفی استعمال مذہب کی توہین ہے۔ مذاہب روح کی پاکیزگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ مفاد پرست اور متعصب جسموں کے ساتھ پاک روحوں کا تصور نہیں کیا جاتا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی دینی معاملات کو سیاست جیسی مصلحت اور ساز باز روایات سے دور رکھیں۔ مذہبی سیاست ہو تو اس میں دین کی تطہیر اور پاکیزگی کو اولیت ہو۔ کسی کا کندھا نہیں بننا چاہیے۔ اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اس دفعہ پھر مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ’پیدا ‘کی جانے والی’ قوتیں‘ انھی کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔

ذرا تاریخ کے صفحات اٹھا کے دیکھ لیں زیادہ دور کی بات نہیں، جب یہی ’تیار کردہ‘ قوتیں انھی سے ٹکرا گئی تھیں اور سب سے زیادہ نقصان انھی کا ہوا تھا۔

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: