تخلیقی و فکری یتیم نسلیں ——– عاطف جاوید (حصہ دوم)

0

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ فرمائیں۔


ہمارے ملک میں تعلیمی ڈھانچے کا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہی ہے۔ اخبارات میں کئ بار یہ دیکھا جا چکا ہے نیوز چینلز بار بار اایسی ویڈیوز شئیر کرچکے ہیں کہ کس طرح سکول میں بندھے جانوروں کے ساتھ بیٹھ کر بچے مٹی میں لت پت تعلیم۔ جیسے زیور سے آراستہ ہورہے ہیں۔۔۔ یہ ان سکولوں کا حال۔ ہے جو کسی نہ کسی صورت میں کسی دیہی یا شہری علاقے میں حکومتی سر پرستی میں چل رہے ہیں۔۔ اس کے بعد نصاب کی اگر بات کی جائے تو ہمارے سرکاری نصاب میں ایسی کوئ تخلیقی چیز موجود نہی ہے جس کو پڑھ کر بچوں کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہو سکے اور کسی طور یہ کہا جا سکے کہ یہ نصاب پڑھ کر بچے کے اندر پرائمری یا سیکنڈری لیول پر تخلیقی سوچ پروان چڑھ سکتی ہے۔ اور اگر کہیں نصاب میں ایسا کچھ مواد موجود بھی ہے تو کتنے ایسے اساتذہ ہیں جو کانسپٹ بیس سٹڈی کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔ پرائیویٹ سکولز کا نصاب الگ طور طریقہ الگ ماحول الگ اور اس طرح کے طبقاتی حصوں میں بٹی تعلیم سکول سے باہر نکلنے کے بعد بچوں کے اندر اتنی بڑی نفسیاتی خلیج پیدا کر دیتی ہے جو تاریخی طبقاتی فرق کو جنم دیتی ہے۔۔۔ اس سے بھی بڑا بنیادی سوال یہ ہے کہ اس ملک میں رہنے والے کتنے والدین ہیں جو اتنے مہنگے سکولز افورڈ کر سکیں۔۔۔ اور پھر اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ مہنگے ہوں یا سستے یہ سب سکولز مل کر سوائے ایک کلرکوں اور چوکیداروں کی نسل پروان چڑھانے کے اور کونسا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

کسی دور میں نیشنل ٹیلیوژن پر ایسے کچھ سلسلے دیکھنے کو ملا کرتے تھے جس سے اس خلا کو کسی طرح پر کیا جا سکے۔ جہاں بچوں کو بنیادی حروف تہجی خطاطی اور دوسرے علوم کے بارے میں کسی نہ کسی گھسی پٹی شکل میں کچھ نہ کچھ تفریح کے ساتھ ساتھ سیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملتا تھا۔۔۔۔ پہلی بات تو اب وہ سلسلے موجود ہی نہیں رہے اور اگر ایسے کوئی پروگرام نیشنل ٹی وی پر موجود بھی ہیں تو کتنے ایسے لوگ ہیں جو سپیشلی پی ٹی وی کا چینل ٹیون کر کے ایک مخصوص اوقات میں اپنے بچوں کو بٹھا کر وہ پروگرام دکھا سکیں۔۔۔ بنیادی مسلہ ریاستی نشریاتی ادارے کا خود کو اس سارے عمل سے باہر رکھنا ہے اور سوچی سمجھی سکیم کے تحت نیشنل ٹیلیوژن کو صرف حکومتی وکیل بنا کر رکھ دینا ہے۔ جہاں تک پیمرا اور دوسرے اداروں سمیت وزارت اطلاعات کا تعلق ہے ان کا پورا کا پورا فوکس چینلز میں پیسے بانٹنے، ان سے اپنے مقصد کے کام لینے، مقتدرہ کے گھسے پٹے بیانیے کو جدید سے جدید لفاظی کا غلاف چڑھا کر ترویج دینے پر ہے۔

پچھلے تیس سال کا ریکارڈ اٹھا کر اگر دیکھ لیا جائے تو کوئی بھی ایسا وزیر اطلاعات یا ثقافتی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والا حکومتی عہدیدار نہیں گزرا جو اس بات کو چیلنج سمجھ کر قبول کرے، اس پر کوئی پالیسی ترتیب دے یا کم سے کم کوئی ایسی تجویز یا قرار داد ہی اسمبلی میں پیش کر سکے جس میں آنے والی نسل کی ذہنی یا تخلیقی تربیت کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی کی گئ ہو۔ اور اس سے قبل اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو علم میں نہیں۔

ہر طرف ایک انتشار، سنسنی اور بے ہنگم سا شور ہے۔ جس چینل کو ٹیون کر کے دیکھ لیں مقابلہ بازی کی بے ہودہ سی سوچ کے تحت سارا نظام چلایا جا رہا ہے۔ ایک بریکنگ نیوز پر بیس بیس چینلز تین تین گھنٹے وہی ایک منظر اپنے اپنے کیمرے کی آنکھ سے صرف اس لیے دکھا رہے ہوتے ہیں کہ ہماری ریٹنگ کی بنیاد پر ہمارا ریٹ زیادہ بڑھ سکے۔۔۔

ندیم جعفری نے ایک سلسلہ جیو نیوز پر بچے من کے سچے کے نام۔ سے شروع کیا تھا مگر اس کو بھی ریٹنگ کا چکر کھا گیا۔ اس کے بعد بات پھر وہیں آکر رکتی ہے کہ اس طرح کے ہونے والے پروگرامز میں بھی بچوں سے جس طرح کے سوالات باتیں یا مکالمے کیے جاتے ہیں وہ صرف وقتی ہنسی کے لیے تو بہتر ہیں ہر اس سے کوئ دور رس نتائج برآمد نہی ہو سکتے۔۔۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسے پروگرامز میں بھی کسی بہت بڑے نامی گرامی سکول یا کسی بہت بڑے ادارے کے بچوں کو ہی رسائ دی جاتی ہے جو کہ اس ملک میں اکا دکا ہی ہیں۔

مقصد بے جا تنقید نہی ہے نہ ہی یہ باور کروانا ہے کہ ہم ایک غیر ذمہ دار اور بے وقوفانہ قسم کی سو سائٹی میں جی رہے ہیں۔۔۔ اس کے لیے تنقید یا باور کروانے کی ضرورت ہی نہی ہے۔ ہمارے ارد گرد کا جو ماحول ہے یا جس طرح سے ہماری سائنسی تخلیقی اور ترقیاتی میدان میں پسپائی ہو رہی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ کہیں نہ کہیں بہت بڑی گڑ بڑ موجود ہے۔۔۔

سرمایہ داری کی کلاسیکی شکل میں نمو پانے والے ممالک بہت زیادہ حد تک اس ایشو کو سمجھ کر اپنے نصابوں تعلیمی سٹرکچر اور الیکٹرانک میڈیا پر اس بات کو یقینی بنا چکے ہیں کہ ملکی ترقی کا اصل راز آنے والی نسلوں کی ذہن سازی میں ہے۔ گو وہاں کے ہوم لیس یا ان ایجوکیٹڈ بچوں کے بارے میں الگ سے ایک بہت لمبا کالم لکھا جا سکتا ہے مگر وہ اس وقت موضوع بحث نہی۔۔۔ جس بھی حالت میں ہوں پر ان کا آئ کیو لیول اور سوچنے کی استعداد ہمارے معاشرے میں پلنے والی نسلوں سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔

جدید سے جدید اور پیچیدہ سے پیچیدہ سلیبس ہونے کے باوجود بھی سکولوں کا نظام اور تدریسی عمل کو اتنا دلچسپ بنایا جاتا ہے کہ بچے خود سکول جانے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اکثر بچوں کو سکول جانے سے پہلے پیٹ درد جیسا تاریخی مسلہ در پیش ہوتا ہے۔ ان کو ڈانٹ ڈپٹ کر سکول تو بھیج دیا جاتا ہے پر یہ کبھی نہی پوچھا جاتا کہ ان کی اس بے زاری کی وجہ کیا ہے نہ اس پر کبھی غور کیا جاتا ہے۔۔۔

اس کے علاوہ نت نئے چینلز کارٹون سلسلے بچوں کے لیے بننے والی اینیمیشن فلمز ان کی امیجینیشن کو سوچنے کی طاقت کو بہت حد تک مضبوط کر دیتی ہے۔۔۔ تخیل حقیقت سے جنم لیتا ہے مگر بچوں کی حقیقتیں تخیلات سے جنم لیتی ہیں۔ ان کی اپنی فینٹیسی ورلڈ ہوتی ہے جسے ہمارے ہاں بری طرح سے تباہ کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔

لینن نے کہا تھا جس کے پاس نو جوان ہیں مستقبل اس کے ہاتھ میں ہے۔۔ تھوڑے سے اضافے کے ساتھ یہ عرض کرتا چلوں کہ نو جوان بھی وہی مستقبل کا معمار ہوگا جس کا لڑکپن اور بچپن مسخ ہونے کی بجائے علمی اور تخلیقی سر گرمیوں میں گزرا ہو۔

جس بچپن کی بنیاد ایک محدود نظریے اور تصور پر ڈالی گئ ہو جہاں بچوں پر پہلے دن سے ہی دنیا کو ساتھ لے کے چلنے کے بجائے صرف آخرت کے محدود تصور سے روشناس کروایا گیا ہو۔ جہاں ان کو پنپنے پھلنے پھولنے والے ماحول کی بجائے ایک ایسا ماحول دیا گیا ہو جو ان کی زہنی استعداد کو قید کر دے وہاں نہ اچھے نو جوان بنائے جا سکتے ہیں اور نہ ایک اچھا مستقبل۔۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ساری مقابلے کی منڈی اور بے ہودہ کمرشلزم میں کوئ ایسی پالیسی بھی ہونی چاہیے جو اس ملک میں آنے والی نسلوں کے حوالے سے کوئ مثبت منصوبہ بندی کر سکے۔۔۔ اندھیروں میں پلنے والی نسلوں کو روشنی کی طرف لا سکے۔۔۔ ان کے تصورات کی دنیا کو کسی سکرین پر جگہ دے سکے اور اس سے تخلیق اور تحقیق کے نئے افق کھولے جا سکیں۔۔۔ جب تک ایسا نہی ہو سکتا تب تک شعوری طور پر اپاہج نسلیں ووٹر کی لائن میں لگ سکتی ہیں پر معاشرے میں کوئی انقلابی، مثبت کردار ادا نہی کر سکتیں۔۔۔۔ اور ایسا تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب حکمران طبقات کی غلامانہ پروٹوکول کی بھوکی اور منافع کی ہوس میں لتھڑی سوچ سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20