اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول ——– اے خالق سرگانہ

0

اسلام آباد ایک زمانے تک علم و ادب اور آرٹ کے حوالے سے ایک خشک اور ویران شہر تھا اس کی حیثیت افسروں کی کالونی جیسی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی آبادی اب تقریباً 22 لاکھ تک پہنچ چکی ہے لہٰذا اب وہ افسرانہ کلچر تو تقریباً تحلیل ہو چکا ہے اور اسلام آباد اور دوسرے بڑے شہروں کے درمیان فرق بہت کم رہ گیا ہے۔ وہی بھیڑ بھاڑ، بے پناہ بے ہنگم ٹریفک، جرائم اور اخلاقیات کا زوال وغیرہ لیکن ساتھ ساتھ علمی ادبی فضاء میں آہستہ آہستہ ایک خوشگوار تبدیلی آ رہی ہے۔ لٹریچر فیسٹیول اب اسلام آباد کا ایک خاص ایونٹ بن گیا ہے۔ نیشنل بُک فائونڈیشن پچھلے دس سالوں سے پاک چائنا فرینڈ شپ سنٹر میں بک فیسٹیول کا اہتمام کر رہی ہے لیکن ڈاکٹر انعام الحق نے گویا بک فیسٹیول میں جان ڈال دی ہے اور اب یہ فیسٹیول کچھ عرصے سے ایک ایسا ایونٹ بن گیا ہے کہ جس کا علمی، ادبی ذوق رکھنے والے شہریوں کو اس کا انتظار رہتا ہے۔

کچھ سالوں سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اپنا لٹریچر فیسٹیول کراچی سے لاہور اور اب اسلام آباد لے آیا ہے۔ لٹریچر فیسٹیول کی روایت بہت مثبت پیشرفت ہے۔ پاکستان اخلاقیات کے جس زوال سے دوچار ہے اس بیماری میں لٹریچر کے فروغ سے ایک Soothing Effect ثابت ہو سکتا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے اسلام آباد میں یہ چھٹا فیسٹیول ہے جو پچھلے ہفتے منعقد ہوا۔ دونوں فیسٹیولز میں ایک جوہری فرق تو یہ ہے کہ نیشنل بُک فائونڈیشن کے فیسٹیول کا پلڑا اُردو لٹریچر کی طرف جھکا ہے جو ہماری قومی قدروں کے قریب تر ہے اور عام آدمی کو اپیل کرتا ہے لیکن آکسفورڈ فیسٹیول پر مجموعی طور پر انگریزی زبان کا غلبہ ہے۔ آکسفورڈ کے فیسٹیول میں خارجہ پالیسی اور اقتصادی پالیسیوں پر دو بھرپور نشستیں ہوئیں۔ اِن نشستوں میں قدآور لوگوں نے شرکت کی اور یہ بحث مباحثہ بہت مفید اور دلچسپ رہا لیکن میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ کیا خارجہ پالیسی اور اقتصادیات لٹریچر کے دائرہ کار میں آتے ہیں؟ ویسے بھی تین روزہ یہ فیسٹیول کچھ زیادہ ہی ’’بھرپور‘‘ تھا۔ صبح 11 بجے سے تقریباً 8 بجے تک مختلف سیشن ہوتے رہے۔ ایک وقت میں چار چار سیشن رکھے گئے تھے۔ پھر سارے دن کے پروگرام میں لنچ بریک نہیں ہوتا۔ اس پیک پروگرام کا ایک نتیجہ تو یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنے موضوع کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص بیک وقت کئی موضوعات میں دلچسپی رکھتا ہو لیکن اُسے کچھ قربانی دینی پڑتی ہے پھر کسی اچھے پروگرام میں بڑے ہال میں بھی بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی اور پھر پارکنگ کے مسائل بھی کافی گھمبیر ہوتے ہیں۔ گاڑیاں باہر سڑک پر کھڑی کرنی پڑتی ہیں۔ پھر کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ فیسٹیول ستمبر کی بجائے اکتوبر میں منعقد ہو جب موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔

فیسٹیول میں تین دن میں مختلف موضوعات پر 57 سیشن ہوئے جن میں منتظمین کے مطابق چین، برطانیہ، سری لنکا وغیرہ سے 160 شاعروں، ادیبوں اور دوسرے ماہرین نے شرکت کی لیکن مجھے وہاں چند ایک کے سوا کوئی غیر ملکی نظر نہیں آیا۔ بھارت سے تو غالباً موجودہ کشیدگی کی وجہ سے کوئی نہیں آیا۔ موضوعات میں یقیناً بڑا تنوع تھا۔ خارجہ پالیسی، اقتصادی پالیسی کے علاوہ کئی کتابوں کی تعارفی تقریبات ہوئیں۔ طنزیہ، مزاحیہ پروگرام ہوا، انگریزی، اُردو مشاعرے ہوئے۔ نظام تعلیم پر بھی ایک نشست تھی جس میں ڈاکٹر رسول بخش رئیس بھی ایک سپیکر تھے۔ ادبی موضوعات مثلاً ترقی پسند ادب پوٹھوار کا ادبی منظرنامہ اور خواتین اور ادب کے موضوعات پر کئی نشستیں ہوئیں۔ غرضیکہ اتنے موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا جن کا اس تحریر میں احاطہ کرنا اور ذہنی طور پر انہیں ہضم کرنا خاصا مشکل ہے۔

خارجہ پالیسی پر نشست میں جنرل طلعت مسعود (ریٹائرڈ)، خورشید محمود قصوری اور سفارتکار عبدالباسط مہمان تھے۔ آجکل کی صورتحال میں موضوع کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے۔ اس پر بحث بھی پُرمغز اور دلچسپ رہی۔ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے ساتھ تعصبات پر کافی بحث ہوئی۔ قصوری صاحب وزیر خارجہ رہے ہیں اور بھارت بلکہ اسرائیل کے ساتھ بھی انتہائی اہم مذاکرات کے ایک اہم کردار تھے پھر عبدالباسط نئی دہلی میں ہمارے سفیر رہے ہیں لہٰذا وہ بھی بہت ساری باتوں کے عینی شاید ہیں۔ خارجہ پالیسی کے بہت سارے پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا اور پھر قصوری صاحب سے پوچھا گیا کہ مؤثر خارجہ پالیسی کا کیا راز ہے۔ انہوں نے وقت کی کمی کے پیش نظر مختصر جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے چار دفعہ وزیراعظم گلیڈسٹون سے یہی سوال پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ اندرونی استحکام ۔ اور یہی بنیادی نقطہ ہے کہ صرف تقریریں کرنے سے خارجہ پالیسی کے ہدف حاصل نہیں ہوتے بلکہ آپ کی تقریروں اور عمل میں اندرونی استحکام اور قومی اتفاق رائے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جنرل طلعت مسعود بڑے سلجھے ہوئے اور متوازن سوچ رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ اپنے کالموں میں بھی ہمیشہ سچ سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اِِس کا کیا مطلب ہے یعنی فوج تو حکومت کا ایک ادارہ ہے ۔ویسے ملک تب چلتے ہیں جب ساری قوم ہی ایک پیج پر ہو۔

اس بار کتابوں کے اسٹالز بہت کم تعداد میں تھے۔ یہ کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ ادب کی ترویج کتاب کے بغیر کیسے ممکن ہے، منتظمین کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے، ممکن ہو تو پبلشرز کا مفت یا بہت کم معاوضہ پہ اسٹال دئیے جائیں تاکہ عام قاری تک کتاب کی رسائی بہتر ہوسکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: