ہمارے سائنسی رویے اور کسمپرسی کے اسباب ——- محمد نعمان کاکاخیل

0

2018 کا نوبل انعام جیتنے والوں میں یونیورسٹی آف واٹر لو (University of Waterloo) کی یسوسی ایٹ پروفیسر اور تیسری خاتون نوبل لاریٹ ڈونا سٹرکلینڈ (Donna Strickland)بھی شامل تھیں جن کو پی ایچ ڈی کے دوران لکھے گئے پہلے تحقیقی مقالے (جو کہ 1985 میں شائع ہوا تھا) کے اوپر نوبل پرائز ملا۔ یہ تحقیقی مقالہ اب تک پانچ ہزار اٹھاسی (5088) دوسرے مقالوں کے اندر حوالے (ریفرنس) کے طور پر استعمال ہوا جس کو سائنسی زبان میں سائیٹیشن (Citation) کہا جاتا ہے۔

ڈونا سٹرکلینڈ سے سوال کیا گیا کہ اپنی پی ایچ ڈی کے دوران یہ پہلا پیپر لکھتے وقت آپ کے ذہن میں تھا کہ یہ نوبل انعام کا اہل قرار پائے گا؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ فرانس میں پروفیسر ِژرار مورو (Gerar Mouru)، جو کہ نوبل انعام کے شریک تھے، کی لیب جوائن کرتے ہی پروفیسر نے مجھے ایک پیپر پکڑایا اور کہا کہ “یہ تھیوری پر مشتمل پیپر ہے جس میں لیزر کو ایمپلیفائی (یعنی کئی گنا بڑھانے) کا ماڈل دیا گیا ہے۔ آپ نے پی ایچ ڈی میں یہ چیز عملاً بنا کر دکھانی ہے”۔ ڈونا سٹرکلینڈ کے بقول یہ کام ان کے لئے خاصا مشکل اور اعصاب شکن تھا اور جس کو عملی جامہ پہنانے کے اندر ان کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا۔ ان کے بقول ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ پیپر نوبل انعام کا حقدار پائے گا کیوں کہ اس وقت ان کا مقصد اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اور بروقت ڈگری مکمل کرنا تھا۔ اس مقالے کی بنیاد پر نت نئے لیزر کے آلے بنائے گئے جو آج کل میڈیکل سائنس کے شعبوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ۂیں۔ خاص کر ڈرمیٹالوجی اور نظر کی کمزوری یا پتھری وغیرہ کا علاج اس کے ذریعے سے ہی ممکن ہے جہاں یہ ایک انقلابی تحقیق کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک تحقیقی مقالہ چھاپنے کے تقریباً تینتیس (33)سال بعد وہ مقالہ نوبل انعام جیتنے کا حقدار ٹہرا۔

دوسری جانب ہمارا سائنس کی طرف رجحان ہے جو انتہائی مایوس کن ہے۔ حکومت سائنس اور ٹیکنالوجی کے اوپر خرچ کرنے کو شائد پیسے کا ضیاع سمجھتی ہے حالانکہ مذکورہ بالا و دیگر کئی واقعات سے یہ بات بصورت ماہتاب واضح ہے کہ سائنس کے تجربے مہنگے، طویل اور صبر آزما ضرور ہوتے ہیں لیکن ایک مثبت سائنسی نتیجہ اربوں کھربوں روپے کی مالیت اور منافع کی نوید ساتھ لاتا ہے جو اس قوم کی کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ہمارے ارباب اقتدار کے خیال میں وہی انویسٹمنٹ منافع بخش ہے جو ایک سال کے اندر کچھ رقم کما سکے اور جس میں زیادہ محنت و مشقت کارفرما نا ہو۔ آج ترقی یافتہ ممالک کے اندر سائنس کی ایجادات ان ممالک کی اکانومی کے اندر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ابھی تک کوئی سنجیدہ کاوش نظر نہیں آ رہی۔ ہر دور میں حکومت کو اربوں خسارے کے وقت سائنس کا بجٹ ہی کٹوتی کا متحمل نظر آتا ہے جو پہلے ہی ہر دور میں “یرقان کا شکار” رہتا ہے اور اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے۔

اس حوالے سے عمومی سائنسی سوچ کو فروغ دینا، عوامی سطح پر سائنسی تشنگی کو ابھارنا اور نوجوان نسل کو اچھی سائنس پڑھنے اور کرنے پر آمادہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہونا ضروری ہے۔ وگرنہ ہم ان ایجادات کے صارف ہی رہیں گے اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ہمارا یہ سائنسی خلاء اتنا طویل ہو جائیگا کہ اس کو سر کرنا ناممکنات میں سے ہونے کی وجہ سے ہمیں ان ممالک کا غلام اور کاسہ لیس ہونے پر مجبور کر دیگا۔

محمد نعمان کاکاخیل یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں جب کہ موجودہ وقت جنوبی کوریا سے طبیعات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: