ایک گانے والی نے تیمور لنگ کو لاجواب کردیا — اظہر عزمی

0

دولت بائی کا برجستہ جواب تاریخ کا حصّہ ہے

(ایک اشتہاری کی باتیں)

تیمور لنگ کو کون نہیں جانتا۔ فتوحات اس کے نام سے منسوب ہوئیں۔ چیونٹی والے قصے نے اس کی زندگی بدل دی۔ 8 اپریل 1336 کو پیدا ہونے والے تیمور لنگ کی جنگی طبیعت، مستقل محنت اور ہار نہ ماننے کی صلاحیت نے کامیابیوں کو اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔ زیادہ تر مغرب اور وسطی ایشیا میں فتح کے جھنڈے گاڑنے والا تیمور لنگ اپنی فوجی چالوں کو بہتر بنانے کے لئے فارغ وقت میں شطرنج کھیلا کرتا تھا۔ چنگیز خاندان میں شادی کے بعد اس نے تیمور گورکنی کا نام اختیار کیا۔ تیمور کا مطلب چغتائی زبان میں شیر ہے جب کہ منگولین میں تیمور آہن گر کو کہتے ہیں۔ 18فروری 1406 کو ابدی نیند سونے والا یہ فاتح دنیا کی نظروں سے تو اوجھل ہوگیا لیکن تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا۔ اسے تاریخ کی تنگ نظری یا ستم ظریفی کہیں کہ اس کے نام کے ساتھ فاتح کا لفظ جوڑنے کی بجائے لنگ کا سابقہ نتھی کردیا اور آج دنیا اسے تیمور لنگ کے نام سے جانتی ہے۔

تیمور لنگ ابتدا سے ہی جنگجو مزاج تھا۔ فتح پانا اس کی سرشت میں شامل تھا۔ سلطنت کو وسیع تر کرنا اس کا جنون تھا اور یہ جنون زندگی بھر اس پر اس قدر حاوی رہا کہ پیر کا لنگ “عذر لنگ” نہ بن سکا اور دنیا نے دیکھا کہ جو صحیح طرح چل بھی نہیں سکتا تھا۔ ایک دنیا اس کے زیرِ قدم رہی۔ 1360سے اسے جنگجو کے طور پر شہرت ملنے لگی تھی۔ یہی تیمور لنگ فتح کی تاریخ بناتا ہندوستان پہنچا تو اس نے حسبِ روایت جشنِ فتح کا ہتمام کیا۔ اس زمانے میں فتح کا جشن منانے کا مقصد خوشی سے زیادہ مفتوح قوم پر اپنا رعب و دبدبہ قائم کرنا ہوتا تھا۔ ہر شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں افراد کو جشن ِفتح میں بلا کران کی “لائیو پرفارمنس” دیکھنے کا مقصد علم و فن کی سرپرستی سے زیادہ یہ بات باور کرانا ہوتی تھی کہ اب ہم تمہارے بادشاہ ہیں۔ ہماری ابرو کے اشارے حکم کا درجہ رکھتے ہیں۔ تمہارے تمام تر کمالات ہمارے سامنے پیش ہونے کے لئے ہیں۔

ہندوستان میں تیمور لنگ نے جشن فتح منایا تو تمام صاحبان ِعلم و فن کو طلب کیا۔ باری باری اپنے اپنے شعبوں کے افراد آتے اور اپنی “لائیو پرفارمنس” دیتے۔ ایسے موقع پر ہارے ہوئے بادشاہ کے کے سہ لیس اور اقتدار کے تلوے چاٹنے والے موقع شناس فاتح بادشاہ سے مل جایا کرتے تھے تاکہ اس بار بھی اقتدار کی غلام گردشوں میں گردش کرتے رہیں۔ جشن ِفتح جاری تھا۔ ہر صاحبِ فن کے سامنے پیش ہونے پر ہارے ہوئے بادشاہ کے ‘نمک حلال’ اس فرد کا تعارف تیمور لنگ کے حضور پیش کرتے۔ ہوتے ہوتے ملک کی کی مشہور مغنیہ دولت بائی کی باری آگئی۔ جس وقت دولت بائی تیمور لنگ چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوئی۔ تیمور لنگ اپنے کسی مصاحب سے باتیں کر رہاتھا۔

دولت بائی نے گانا شروع کیا۔ آواز سنتے ہی تیمور لنگ ہمہ تن گوش ہوگیا۔ دولت بائی کی آواز تیمور لنگ کے کانوں میں رس گھولتی گئی اور وہ اس میں محو ہوتا چلا گیا۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ جب دولت بائی گاتی تو کوئل کوکنا چھوڑ دیتی، دریا کی لہریں مترنم ہوجاتیں۔ ہوائیں ہم نوا ہو جاتیں۔ وہ جو شاعر نے کہا ہے کہ

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

یہ دولت بائی کی آواز کا جادو تھا کہ جب تک دولت بائی گاتی رہی۔ تیمور لنگ خوش گلو کو سنتا رہا۔ وہ حیران تھا کہ اس نے دل کو چھو لینے والی یہ آواز پہلے کبھی نہیں سنی۔ ہر شہر، ہر ملک فتح کرنے کے بعد جشن ہونا معمول کی بات تھی۔ جب دولت بائی سُر کا سمندر تیمور لنگ کے رگ پے میں اتار چکی تو تیمور لنگ نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا لیکن یہ کیا دولت بائی جہاں کھڑی تھی وہاں سے ایک قدم نہ بڑھی۔ تیمور لنگ نے دوبارہ اشارہ کیا۔ دولت بائی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ تیمور لنگ کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات نمودار ہوئے۔ ایسے میں ہارے ہوئے بادشاہ کا ایک “نمک حلال” آ گے بڑھا،دولت بائی کاہاتھ تھاما اور تیمور لنگ کے لے چلا۔

تیمور لنگ کو احساس ہوا کہ دولت بائی کی دونوں آنکھیں دیکھنے سے یکسر محروم ہیں لیکن فاتح تھا دو مرتبہ اشارے کرنے کے باوجود وہ نہ آئی تھی۔ یہ بات اسے ایک آنکھ نہ بھائی۔ دولت بائی جب بالکل اس کے قریب آکر کھڑی ہوئی تو تیمور لنگ نے تمسخرانہ انداز میں با آواز بلند کہا:

“آ ج پتہ چلا کہ دولت اندھی ہوتی ہے”۔

سب زیرِ لب مسکرا دیئے۔ کچھ نے تیمور لنگ کو اس سے دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں ‘حضور حاضر جوابی اور بذلہ سنجی تو آپ پر ختم ہے”۔ خیال تھا کہ مفتوح قوم کی گانے والی کیا کہے گی مگر جرات صرف عالموں، فاصلوں اور بڑے لوگوں کے لئے مخصوص نہیں۔ یہ تو ہر اس شخص میں ہوتی ہے جس کا ضمیر زندہ ہو۔ دولت بائی ایک گانے والی تھی لیکن تھی باضمیر، باہمت اور خوددار۔ حملہ کیونکہ اس کے نام پر ہوا تھا اس لئے اخلاق کا تقاضا یہ تھا کہ جواب بھی تیمور لنگ کے نام پر دیا جائے۔ دولت بائی نے جواب دیتے وقت انسانی برابری کے اصول کو مدِنظر رکھا اور کسی قسم کے القابات اور رسمی جملوں کا سہارا لئے بغیر تیمور لنگ کو ترکی بہ ترکی جواب دیا:

“اندھی نہ ہوتی تو تجھ جیسے لنگڑے کے پاس کیوں آتی”

یہ سنتے ہی دربار میں سناٹا چھا گیا۔ تیمور لنگ کی ساری اکڑ جا چکی تھی۔ پیرکا لنگ لگتا تھا پورے جسم میں سما گیا ہے۔ بھرے دربار میں اس براہ راست حملے نے اس کے اوسان خطا کر دیئے تھے۔ درباری اِدھر اُدھر دیکھنے لگے کہ کہیں ان کی نظر تیمور لنگ کے خفت بھرے چہرے پر نہ پڑ جائے۔ تیمور لنگ نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ کوئی اس سے اس طرح بات کرنے کی ہمت بھی کرے گا۔ تیمور لنگ لاجواب ہو چکا تھا۔ میدانِ جنگ میں ناقابل ِشکست رہنے والے کی زبان کو کو ایک گانے والی نے گنگ کردیا تھا۔ تیمور لنگ سے جب کچھ نہ بن پڑا تو اپنے ایک خاص درباری کو نظروں نظروں میں اشارہ کیا۔ دربار برخاست،جشن تمام ہوا اور یہ واقعہ تاریخ کا حصّہ بن گیا۔

زمانے بدل جاتے ہیں۔ تہذیب و تمدن نئے لباس زیبِ تن کر لیتے ہیں۔ اندازِ بادشاہی و غلامی نئے روپ دھار لیتے ہیں لیکن انسان کی جبلت نہیں بدلتی۔ خواہش یہی رہتی ہے کہ زمین زیرِقدم اور بندہ مہر بہ لب سرنگوں رہے۔ آج تیمور لنگ نہ سہی کوئی اور ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج اس بھری دنیا میں سب “دولت کی بائیاں” ہیں، دولت بائی کوئی نہیں۔۔۔ کوئی ہے دولت بائی؟


مصنف

مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: