’’سموگ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‎ عاصم چوہدری

0

سموگ بنیادی طور پر دو الفاظ کا مجموعہ ہے جو کہ سموک (دھواں) اور فوگ (دھند) کے ملنے سے بنتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر دھویں اور دھند کا مکسچر ہوتا ہے جس میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیئے اس کو سموگ کہا جاتا ہے۔ اس میں شامل جو سموک ہوتا ہے وہ بنیادی طور پر کچھ ٹھوس ذرات کا مجموعہ ہوتے ہیں اور عام دھویں سے عام طور پر مختلف ہوتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر ایک پرٹیکولیٹ مادہ ہوتا ہے جس کو ’’پرٹیکولیٹ مادہ 2.5 (پی ایم 2.5) کہا جاتا ہے۔ یہ پی ایم 2.5 انسانی بال سے تقریبا 4 گنا باریک ہوتا ہے اور بڑی آسانی سے پھیپھڑوں میں گھس جاتا ہے اور پھیپھڑوں کا راستہ چونکہ برونکس (سانس کی نالی) سے ہو کر گزرتا ہے تو یہ پھیپھڑوں کے کینسر کے ساتھ سانس کی نالی کو بھی زخمی کرتا ہے اور پھر ریسرچ کے مطابق یہی پی ایم 2.5 دل کی بیماریوں کا بھی ذمہ دار پایا گیا ہے۔ 1952ء میں لندن میں سموگ تقریباً ایک ہفتہ تک چھائی رہی جس سے سے 12 ہزار اموات رپورٹ ہوئیں اور تقریبا ایک لاکھ کے قریب لوگوں کو سانس کے مسائل پیدا ہوئے۔

سموگ میں بنیادی طور پر نائٹروجن آکسائڈ کی گیسز( جن کو ناکس بھی کہتے ہیں)، طیران پذیر نامیاتی مرکبات، اوزون اور پین مرکبات شامل ہوتے ہیں۔ نائٹروجن کی گیسیں جن کے نام آپ نے نویں دسویں کلاس میں پڑھے ہونگے جیسے نائٹروجن آکسائڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائڈ وغیرہ۔ یہ خطرناک گیسں ہوتی ہیں۔ طیران پذیر نامیاتی مرکبات وہ مرکبات ہوتے ہیں جو بخارات میں تبدیل ہو کر فضا میں معلق ہو جاتے ہیں۔ اوزون کا آپ نے نام صرف اسی حوالے سے سنا ہو گا کہ یہ ہماری حفاظت کرتی ہے تو وہ ٹھیک ہے لیکن یہ گیس جس زمین کے حصے میں ہم رہتے ہیں وہاں موجود نہیں ہوتی۔ بلکہ زمین کے اوپر فضا کی تیسری لیئر جس کو سٹریٹو سفیئر کہتے ہیں اس میں پائی جاتی ہے جو کہ تقریباً زمین سے 50 کلومیٹر بلندی پر ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ تیسری لیئر سے دوسری لیئر یا پہلی لئیرمیں آ جائے تو یہ گیس خطرناک ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس سے آنکھوں اور گلے کی انفیکشن پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر بات کرتے ہیں پین مرکب کی۔ پین ’’پرآکسی ایسی ٹائل نائٹرئٹ‘‘ کہلاتا ہے اور کینسر پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

سموگ کو بنانے میں دھواں، درجہ حرارت اور بادل حصہ لیتے ہیں۔ یہ ایک ری ایکشن ہوتا ہے جس کو ایک خاص درجہ حرارت چاہیئے ہوتا ہے۔ اور اس کو جتنا درجہ حرارت چاہیئے ہوتا ہے وہ آجکل کے موسم میں یعنی اکتوبر نومبر فیورایبل ہوتا ہے۔ اور پھر چونکہ اس موسم میں ہوا کی سپیڈ بھی آہستہ ہوجاتی ہے لہٰذا درجہ حرارت کی وجہ سے دھواں اور دھند مل کر سموگ بناتے ہیں۔ ہوا کی کم سپیڈ اس سموگ کو حرکت دینے میں رکاوٹ پیش کرتی ہے اور بادلوں کی موجودگی ایک دباؤ بناتی ہے جوکہ اس گچھے (کلسٹر) کو اوپر جانے سے روکتی ہے۔ اور یہ ساکن حالت میں اس شہر یا جگہ کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے۔ اور یوں اسے سموگ کہتے ہیں۔

سموگ پیدا کی چند وجوہات مندرجہ ذیل ہیں
(1)۔ گاڑیوں کا زیادہ تعداد میں چلنا۔ کیونکہ ان سے نکلنا والا دھواں اس سموگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

(2)۔ گاڑیوں میں دھویں نکلنے کی جگہ ایک کیٹالیٹک کنورٹر لگا ہوتا ہے جو کہ دھویں کو کم نقصان دہ چیزوں میں تبدیل کرکے خارج کرتا ہے۔ لیکن اس کی مناسب حفاظت نہ کرنے سے وہ اکثر کام کرنا چھوڑ جاتا ہے۔ اور یوں پی ایم2.5 ہوا میں زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے۔ چائنہ کے موٹر سائیکل میں یہ شائد ہوتا ہی نہیں۔ ہماری 70 فیصد گاڑیاں بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے چلتی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا انکو۔

(3)۔ کوئلے کے پلانٹ۔ ان سے زیادہ مقدار میں خارج ہونے والا دھواں اور کاربن ڈائی آکسائڈ۔

(4)۔ درختوں کی کمی ہونا۔

(5)۔ اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنا والا دھواں۔ غرض دھواں وہ کسی بھی وجہ سے پیدا ہورہا ہے۔ چاہے وہ فیکٹریوں سے نکل رہا ہے کسی اور جگہ سے وہ سموگ کی وجہ بنتے ہیں۔

جب سموگ شروع ہو جائے تو اس کو ختم صرف بارش ہی کر سکتی ہے۔ بارش ہو گی تو فضا کی خود ہی صفائی ہو جائے گی۔ یا دوسرا حل یہ ہے کہ تیز ہوا چلے جو کہ اس سموگ کو جس نے شہر کو گھیراو کیا ہوا کو آزاد کرادے۔ ۔ لیکن اگر سموگ کسی جگہ کو گھیر لے تو اس سے بچاؤ کے لیئے ہم انسانوں کو ماسک استعمال کرنے چاہیئے۔ اور سموگ کے لیئے ہم عام ہلکا سبز رنگ والا ماسک استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ سموگ میں موجود پی ایم 2.5 کے ذرات اس ماسک کے سوراخوں میں سے گزر جاتے ہیں۔ سموگ کے لیئے ماسک سپیشل قسم کے ہوتے ہیں۔ جن کو ہم 3 ایم۔ 95 این، یا 99 این ماسک کہتے ہیں۔ اور ان ماسک کے متعلق صرف آپکو کوئی مستند فارمسٹ ہی بتا سکتا ہے نہ کہ عام میڈیکل سٹور والا۔ اگر آپ کو سموگ ماسک میسر نہیں ہیں تو باہر نکلتے ہوئے 2 سے 3 ہلکے سبز رنگ والے ماسک ایک دوسرے کے اوپر چڑھا کر پہنیں۔ اور سموگ میں موجود اوزون سے آنکھوں کی حفاظت کے لیئے سیفٹی گوگلز استعمال کریں۔ سموگ والے عرصے میں زیادہ محنت مشقت، بھاگنے دوڑنے اور کھیلنے والا کام کم سے کم کریں۔ کیونکہ ان دنوں سموگ اور بادلوں کے فضا کو گھیرے ہونے کی وجہ سے ہوا کا پریشر زمین پر کم ہوجاتا ہے لہٰذا سانس پھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور اگر سانس اکھڑ جائے تو سانس بحال ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ خصوصاً جن کو سانس یا دمہ کی بیماری ہو وہ اس موسم میں مکمل احتیاط کریں۔

دہلی ان چند بڑے شہروں میں شامل تھا جو کہ سموگ کی وجہ سے سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا تھا۔ اس وقت سموگ کے لحاظ سے دہلی تیسرے نمبر پر اور لاہور دوسرے نمبر پر آچکا ہے۔ اور پہلے نمبر پر منگولیا کا شہر ہے۔ دہلی میں انڈین گورنمنٹ سموگ پر قابو پانے کے لیئے کچھ اس طرح کے اقدامات کرتی ہے کہ وہ سب سے پہلے شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تعداد کو کم کردیتی ہے۔ اور اس کے لیئے وہ یہ لائحہ عمل بناتی ہے جس کے مطابق ایک دن طاق اعداد والی گاڑیاں شہر میں داخل ہونگی تو اس سے اگلے صرف جفت اعداد والی۔ یوں ایک دن میں دہلی میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تعداد آدھی رہ جاتی ہے۔ پھر انڈین گورنمنٹ کاروں اور گاڑیوں کا استعمال کرنے کے لیئے پارکنگ فیسوں اور چالان میں اضافہ کردیتی ہے تا کہ لوگ پبلک بسوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ کیونکہ عام طور پر گورنمنٹ کی بسوں میں دھویں سے بچاؤ کے لیئے سارے انتظامات کیئے جاتے ہیں مثلاً بس کا پراپر چیک اپ، فٹنس سرٹیفکیٹ اور کیٹالیٹک کنورٹر کام کر رہے ہوتے ہیں یوں کاروں اور گاڑیوں کے مقابلے میں بسوں کے چلنے سے نکلنے والا دھواں کم خطرناک ہوتا ہے۔ جبکہ لاہور میں شہباز شریف نے میٹرو چلانے کے لیئے لاہور کی ساری پبلک ٹراسپورٹ جو مشرف اور پرویز الہٰی کے دور میں پورے لاہور کو کور کرتی تھی۔ اس برباد کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاہور میں موٹر سائیکلوں، چنگ چی اور کاروں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ ۔ اور پھر پچھلے 5 سالوں میں لاہور دنیا کا سموگ کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر خطرناک شہر بن گیا۔ میٹرو بس اچھا منصوبہ تھا لیکن اس وقت میٹرو بس منصوبہ بہترین ہوتا جب لاہور کی پبلک ٹرانسپورٹ کو اسی طرح برقرار رکھا جاتا تاکہ میٹرو کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ متاثر نہ ہوتی۔ تو لاہور میں ٹریفک کا لوڈ اتنا نہ بڑھتا۔ منیجمنٹ اور گھٹیا پلاننگ کی سب سے اعلیٰ ترین مثال احسن اقبال کی نااہلیت اور نالائقی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔

سائنس سموگ کے مستقل حل کے لیئے بہت سے منصوبوں پر کام کر رہی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

(1)۔ سائنس پیٹروکمیکل کے متبادل فیول بنانے کی کوشش کر رہی ہے جن میں بایئو فیول اور فیول سیلز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کاروں کو الیکٹرک پر شفٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور عنقریب دنیا میں بایئو فیول اور فیول سیلز پر چلنے والی بسز لانچ ہوجائیں گی۔ جو کہ کاربن ڈائی آکسائڈ کی خطرناک حد تک بڑھتی مقدار کو کم کرنے میں مدد دیگا۔ جو کہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

(2)۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھرپور منیجمنٹ اور پلاننگ کے ساتھ موثر بنایا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی گاڑیوں کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ ورنہ ہمارے لاہوریئے اتنے شہزادے ہیں صبح دہی لینے بھی سٹی یا سوک سے کم گاڑی میں نہیں جاتے۔

(3)۔ جب ٹرانسپورٹ سسٹم بہتر ہو جائے تو چالان اور پارکنگ کی فیسیں زیادہ کردی جائیں تا کہ شہزادے قسم کے لوگ پبلک ٹرانسپورٹ یا پیدل یا پھر سائیکلز کو استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

(4)۔ پچھلے 4 سے 5 سالوں میں ممبرین ٹیکنالوجی اور میٹریل سینتھیسز کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے بہت سی اہم ریسرچ ہوئی ہے جس میں ہمارے پاس کچھ ایسے میٹریل بنائے گئے جن کو ہم استعمال کر کے ایسی ممبرین بنا سکتے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائڈ کو دوسری گیسز سے روایتی طریقوں کی بجائے ممبرین کی مدد سے علیحدہ کر سکتے ہیں اور پھر ایک دوسرے میٹریل جس کا نام ’’موف‘‘ ہے اس کی مدد سے کاربن ڈائی آکسائڈ کو ہم فضا میں خارج کروانے کی بجائے جذب کروا سکتے ہیں اور اس کو کسی اور چیز میں تبدیل کر کے کوئی اور کارآمد چیز بنا سکتے ہیں۔ اور اس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ میری ریسرچ کا ٹاپک بھی یہ ہے اور فی الحال اس میں جنوبی کوریا اور ملائیشیا میں سب سے زیادہ کام ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں کامسیٹس میں اس پر پورے زور و شور سے کام جاری ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: