متوازی افسانہ ——–‎ علی عمر عمیر‎

0

’’کیوں رُلاتی ہو؟‘‘ پہلی بار اُس نے سنجیدہ لہجے میں بات کی اور میری آنکھیں بھر آئِیں۔ وہ بہت بولتی ہے۔ چڑیا ہے۔ چہکتی رہتی ہے۔ شاید خاموش رہنا اس کی تربیت میں ہی نہیں ہے۔ کتنی خوبصورت ڈریسنگ، انگلش پر کمال گرفت، جینز اور ماڈرن شرٹ، نئے نئے قیمتی شوز اور بہترین میک اپ۔۔ یعنی خوبصورتی اور ماڈرن ازم کا بہترین پیکیج۔ خوبصورت تو خیر ہے ہی۔ لیکن اچھی بھی ہے۔ اچھی کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اچھی سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے۔ یا یہ بھی کہ بہت ہی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ کیفیات کی شدت آپ خود ہی محسوس کر لیں۔ یونیورسٹی کا پہلا دن تھا اور اب مہینے سے زیادہ وقت ہو چلا، اُسے مجھے چھیڑنے اور نیچا دکھانے سے فرصت نہیں اور میرا مقصد بھی ہر جگہ اُس کا مذاق اڑانا، اسے تنگ کرنا ہے۔ “میم! نوریہ کلاس میں بیٹھی لیز کھا رہی ہے”۔ میم نے اُسے گھورا۔ “میم! یہ لڑکا ہو کر میرے کھانے کی طرف کیوں دیکھتا ہے؟”۔ اب میم نے مجھے گھورا ہے۔ وہ گزر رہی ہے اور کُرسی کو دھکا دے کر اُس کے آگے کر دیا اور میں گزر رہا ہوں تو وہ دبی سی آواز میں اپنی سہیلی کو کہہ رہی ہے “دیکھو! فلاسفر جا رہا ہے”۔

سچ یہ ہے کہ ان چھیڑ خانیوں سے بڑھ کر ہم نے آپس میں بات ہی نہیں کی تھی۔ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ ہم خوش تھے۔ میر اپنا سرکل تھا۔ تین چار لڑکے، ایک دو لڑکیاں جن سے میں ہر طرح کی گفتگو کرتا تھا۔ اور اُس کا اپنا سرکل تھا، ایک سہیلی اور ایک اُس سہیلی کا دوست۔ یونیورسٹیوں میں مڈٹرمز سے پہلے پہلے ہی بننے والے گروپ اگلے چار سال تک تو چلتے ہی ہیں۔ سو ہمارے گروپ بن چکے تھے۔

مگر اس دن، جب اسے سکالرشپ کے فارم فِل کرنے کے لیے نزدیک سے دیکھا اور بات چیت کی تو میرے سب اندازے غلط نکلے۔ چہچہانے والی بولڈ چڑیا بات کرتے ہوئے اتنی معصوم لگتی کہ دل ڈھے سا جانے لگتا۔ اتنا دھیمی بولتی کہ وہ کلاس والی شوخیاں مصنوعی اور غیر حقیقی لگنے لگتیں۔ سامنے طوفان نظر آنے والی لڑکی اندر سے کتنی گہری اور خاموش تھی، یہ بات میں ہی محسوس کر سکتا ہوں، جو خود بھی ایسا ہوں۔۔

’’سہیل! میری دعا ہے کہ مجھے ملے نہ ملے، آپ کو شکالرشپ مل جائے” اس نے کہا تو میں حیران رہ گیا۔ یہ وہی تنگ کرنے، مذاق اور ٹھٹھا اڑانے والی نوریہ تھی؟

مجھے معلوم ہے نوریہ میری دسترس میں نہیں ہے۔ میں “فلاسفر” ہوں، جو دنیا سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ سوچوں کی دنیا میں بسنے والا، جو اگر چاہے بھی تو عام لوگوں میں گھل مل نہیں سکتا۔ غربت کا مارا۔۔۔ جو ایچ 9 سے فیض آباد تک روزانہ چار کلومیٹر پیدل سفر صرف اس لیے کرتا ہے کہ میٹرو کا 30 روپے کرایہ بچ سکے۔ ایسے میں، جب میرے اختیار میں اچھی گاڑی میں سفر کرنا بھی نہ ہو تو میں کسی اچھی لڑکی کے ساتھ چلنے کے قابل کیسے ہو سکتا ہوں؟

خاموشی پر تان ٹوٹ چکی ہے۔ پسندیدگیاں بڑھ چکی ہیں، لیکن ڈر ہے کہ امیدیں ختم نہ ہو جائیں۔ دنیا کے شوکیس میں سے کتنی ہی چیزیں دیکھتے ہی حاصل کر لینے کا دل کرتا ہے، لیکن کتنے ہی دل کتنی ہی کسک لیے دھڑکنا بند کر کے مٹی میں تحلیل ہو جاتے ہیں اور کائنات کا نظم جاری رہتا ہے۔

یہاں معاملہ یہ ہے کہ یہ افسانہ جاری ہے۔ اور میرے مرنے تک جاری رہے گا، یا شاید نوریہ کی زندگی تک۔۔۔۔۔ متوازی کائناتوں کو اگر زیرِ نظر رکھا جائے تو یہ افسانہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ کبھی نہیں۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: