کتاب ’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘ ایک نظر میں (2) ——–‎ قاسم محمود

0

بالعموم روایت پسندوں پر عقل دشمنی کا الزام لگایا جاتا ہے، حالانکہ یہ لوگ عقل کے دشمن نہیں بلکہ اس کی محدودیت کے قائل ہیں اور خود مغرب میں کئی مفکرین نے اس پر بحث کی ہے کہ خیر و شر کو متعین کرنے میں عقل کا کردار کہاں تک ہے۔ ظفر صاحب نے متعدد اہم مغربی فلسفیوں کے اس حوالے سے اقتباسات درج کیے ہیں جو کہ عقل کے دائرہ کار کو متعین کرنے کے بارے میں ہیں۔ اسلام کے حوالے سے ہم جانتے ہیں ایمانیات کو صاحبان فہم و عقل کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس ایمانیات کے بعد جو تعقل و تدبر، غور وفکر پیدا ہوگا اس میں خشیت الٰہی کا ہونا لازم ہے۔ اس سے رومی و غزالی جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں، مادہ پرستی اور مطلق آزادی اس کا نتیجہ کبھی نہیں ہو سکتی۔ جدیدیت پسندوں کے تصور عقل اور قرآن کے تصور عقل میں بعد المشرقین ہیں۔ جدیدیت پسندوں کے ہاں عقل حاکم، حجت، معیار، کسوٹی اور مقصد ہے جب کہ قرآن جس عقل کو لائق تعریف بتاتا ہے وہ عقل سلیم اور عقل ساجد ہے جو وحی کے آگے محکوم عقل ہے۔ مسلمانوں پر عقل دشمنی کے الزام کو غلط ثابت کرنے کے لیے وہ فقہ و کلام کے وہ دفاتر ہی کافی ہیں، جو تعقل وتفہم کے نتیجے میں مدون ہوئے۔

مذہب کی اپنی الگ سے علمیت، مابعدالطبیعیات اور علمی منہاج ہوتا اس کو اسی ہی کے اندر رہ کر ہی صیح طرح سمجھا جا سکتا ہے ایسے ہی فلسفہ اور سائنس کا اپنا الگ سے علمیاتی و مابعدالطبیعی دائرہ ہے۔ اس لیے جب جدیدیت پسند مذہب کا یا بالخصوص اسلام کے سائنٹفک مطالعے کی بات کرتے ہیں تو یہ بات سائنس و اسلام دونوں کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتی۔اس حوالے سے مصنف کے یہ الفاظ بہت اہمیت کے حامل ہیں:

“ہر علم کا اپنا منہاج و مابعدالطبیعیات اور علمیاتی دائرہ ہوتا ہے اس دائرے میں اس کا طاہر تعقل پرواز کرتا ہے۔ اس حصار سے باہر ہو اپنا جواز تعقل کھو دیتا ہے ۔جس طرح نیوٹن کی طبیعیات کے مسئلے آئن سٹائن کی طبیعیات سے حل نہیں ہوسکتے اسی طرح اسلامی علمیات کو غیر اسلامی منہاج میں کھڑے ہوکر پرکھنا نادانی ہے اسلامی منہاج علم میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات اسلامی علمیت اور اس کا تعقل فراہم کرے گا مذہب فلسفہ اور سائنس تینوں کے اصول الگ الگ ہیں۔مذہب کا اصول ایمان و ایقان اور اعمال صالحہ ہیں, سائنس کا اصول مابعدالطبیعیات اور تجربات و مشاہدات ہیں جبکہ فلسفے کا اصول تشکیک و ارتیاب ہے ان تینوں اقالیم کی مابعدالطبیعیات، ان کو سمجھنے کی علمیت اور نتائج اخذ کرنے کے طریقے بالکل مختلف ہیں اس لیے ہر دعوے کو اس کی اپنی مسلمہ علمیت کی بنیاد پر اس کے اپنے منہاج علم میں پرکھا جاسکتا ہے”

اپنی اس بات کو مزید بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں

“کوئی سائنسدان پیغمبرانہ دعوی رسالت کو سائنسی منہاج میں موجود رہ کر تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ وہ علمیت اور دعوی سائنسی منہاج میں ثابت کیا ہی نہیں جاسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طریقہ سے وحی کا علم حاصل ہوا غیر نبی نہ وحی کا تجربہ و مشاہدہ کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ علم پا سکتا ہے کیونکہ یہ تجربات وارادات صرف انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہیں اس میں کسی کذب کا امکان اور تردید کا کوئی احتمال موجود نہیں لہذا سائنس اپنے منہاج علم کے مطابق اس علم کو علم تسلیم نہیں کرے گی بلکہ اسے ایک موضوعی معاملہ (subjective matter) قرار دے کر اپنی دانست میں اقلیم علم سے خارج کر دے گی لہذا علم کی سائنسی تعریف کا اطلاق و انطباق مذہبی علمیت پر کرنا مذہب اور سائنس دونوں سے ناواقفیت پر مبنی رویہ ہے”

یہ دونوں اقتباسات سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ “اسلام کا سائنٹفک مطالعہ” کے عنوان سے جو مغربیت زدہ ذہنیت کا مطالبہ ہے وہ درحقیقت کسی لیے ناممکن اور غیر حقیقت پسندانہ ہے اور یہ اسلامی علمیات کو مشکوک بنانے کی ایک مہم سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔

ڈاکٹر منظور صاحب نے روایت پسندوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ اگر ہم روایتی تفہیم سے الگ راہ اختیار کریں تو یہ ہماری تکفیر کرکے اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔اس کے جواب میں ظفر صاحب کہتے ہیں کہ یہ الزام بھی بے دلیل اور غلط ہے۔ مجموعی اسلامی فکر تکفیر کے معاملے پر بہت محتاط رہی ہے اور کتب فقہ میں یہ اصول ہے کسی مسئلے میں کئی وجوہات سے کفر ثابت ہو رہا اور فقط ایک وجہ سے اسلام تو مفتی کو چاہیے کہ وہ مسلمان ہونے کا فتویٰ دے۔ جہاں اس قدر احتیاط اور سخت شرائط ہوں وہاں ڈاکٹر صاحب کا الزام ہرگز درست نہیں۔خوارج نے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ کی بھی تکفیر کردی مگر امت نے اس کے باوجود علی الاطلاق خوارج کی تکفیر نہیں کی حالانکہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما عشرہ مبشرہ میں شامل یقینی جنتی ہیں۔

مگر ایک بات ان متجددین کو یاد رکھنا ہو گی کہ اسلام اور کفر کے مابین حد فاصل ہے۔اگر ایک مسلمان کو کافر کہنا جرم ہے تو ایک کافر کو مسلمان گرداننا بھی جرم ہے۔اس کے اوپر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹر منظور احمد صاحب نے نیاز فتحپوری کے افکار کی ناصرف تعریف و تحسین کی ہے بلکہ ان کی بھرپور وکالت کی ہے۔ تو کہا جا سکتا ہے کہ افکار نیاز دراصل ڈاکٹر منظور صاحب کے ہی خیالات ہیں۔ ظفر اقبال صاحب نے نیاز فتحپوری کے افکار کا بھی تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ حالانکہ نیاز فتحپوری کو امت ان کی زندگی میں ہی رد کر چکی تھی اور موت کے بعد ویسے ہی بھول گئی اس لیے ان کے افکار پر بات کرنا دانش مندی ہرگز نہیں مگر چونکہ ڈاکٹر منظور صاحب نے ان کی وکالت کی تو نیاز کے افکار کا بھی تحقیقی جائزہ اس کتاب میں لیا گیا ہے۔ نیاز نے سرسید احمد خان کی تقلید میں حدیث کا بھی انکار کیا، چونکہ نیاز کی فکر پر سرسید کی گہری چھاپ ہے اس لیے سرسید احمد خان کا۔منہج تفسیر بھی اس باب میں زیر بحث آیا ہے۔

حجیت حدیث کو یہ لوگ مختلف حیلوں بہانوں سے چیلنج کرتے ہیں اور ان کے زیادہ تر اعتراضات دراصل مستشرقین کے اعتراضات ہیں جن کو یہ دوبارہ نقل کرتے رہتے ہیں۔

مستشرقین کے اعتراضات میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ احادیث زبانی روایت پر مبنی ہیں جو ایک صدی سے زیادہ اسی زبانی روایت سے منتقل ہوتی رہی ہے۔اس طرح متن اور سند کے حوالے سے اعتراض کرتے ہیں۔اس کے جواب میں مصنف کہتے ہیں کہ جیسے قرآن کی حفاظت تکوینی و غیبی ذریعہ اور سبب تعامل امت ہے۔ احادیث مبارکہ کی حفاظت کے یہی اسباب ہیں۔جن ہاتھوں سے امت کو قرآن ملا ان ہی ہاتھوں سے سے امت کو احادیث بھی ملی ہیں۔ مذاہب عالم میں مسلمانوں اور اسلام کا امتیاز ہیں یہ ہے کہ یہ دیگر مذاہب کے مقابل علم حدیث میں ممتاز ہیں دیگر مذاہب کے پاس ان کی الہامی کتابیں تھیں لیکن ان کے گرد قولی و عملی روایات کا پہرہ نہ تھا۔علم حدیث کے سائے میں قرآن مجید لفظاً، معناً، تعبیراً ہر اس طرح کی تحریف اور تدلیس سے محفوظ رہا۔

اس کے بعد ظفر صاحب نے سرسید احمد خان کے تفسیری منہاج پر گفتگو کی ہے بالخصوص اس میں ان کے تصور فطرت کا جائزہ لیا۔ مصنف کہتے ہیں کہ سرسید از خود حساس طبیعت کے مالک تھے اور مسلمانوں کی زبوں حالی ان کے لیے ناقابل برداشت تھی۔

سرسید نے قرآن کو فطرت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی اور اس کے نتیجے میں انھوں نے عملاً اسلام کو غلط تسلیم کر لیا مگر مشاہدے کو غلط کہنے پر راضی نہ ہوئے۔اس لیے انھوں نے جنات و ملائکہ کے وجود، حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی بن باپ پیدائش، معجزات انبیاء اور دیگر کئی مسلمات کا انکار کر دیا کیونکہ یہ باتیں ان کے تصور فطرت سے میل نہیں کھاتی تھیں۔

ظفر اقبال صاحب کہتے ہیں کہ سرسید انگریزی زبان سے ناواقف تھے جس کی وجہ سے وہ مغربی فکروفلسفہ تہذیب و اقدار کی تاریخ سے بے خبر تھے اور اس کی ہلاکت آفرینیوں کو نہ جان سکے وہ مغربی علوم خصوصاً سائنسی اکتشافات سے مغلوبیت کی حد تک مرعوب تھے۔ اسے حرف آخر اور کسی بھی چیز کے ردوقبول کی کسوٹی یا سقم و صحت کا معیار سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک سائنس میں خطا اور غلطی امکان ہی نہیں بھلے وحی اسے غلط کہے۔ انگریزی زبان وادب پر عبور نہ رکھنے کے باعث انھوں نے Nature کا ترجمہ فطرت کیا اور اس پر ڈٹ گئے اور خود فخریہ نیچری کہنے لگے۔

نیاز فتحپوری کی شخصیت اور ان کے افکار پر بھی ظفر اقبال صاحب نے خوب محاسبہ کیا ہے۔ نیاز کی شخصیت کے بارے میں وہ لکھتے ہیں

“اس میں شک نہیں کہ نیاز فتح پوری اردو ادب کے ایک مشہور ادیب ومصنف افسانہ نگار اور صاحب طرز انشا پرداز اور نقاد تھے لیکن جہاں تک دینی و مذہبی معاملات میں مداخلت اور خامہ فرسائی کا تعلق ہے ان کی علمی سطح ہرگز ایسی نہ تھی کہ وہ دین و مذہب کے اساسی و قانونی حیثیت پر کلام کریں۔ وہ مذہب اور مغرب دونوں سے کلی طور پر ناواقف تھے وہ محض ایک صحافی تھے جو لکھتا زیادہ ہے پڑھتا کم ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک مادہ پرست اور عقلیت زدہ انسان تھے ماورائے مادہ و طبیعیات انکی نگاہ میں کوئی چیز ہی نہ تھی”

نیاز فتحپوری کی شخصیت کا یہ تعارف و تبصرہ اتنا جامع ہے جس سے ان کے لکھے ہوئے مضامین کی حیثیت واضح ہو جاتی ہے۔ نیاز فتحپوری پر ان کی زندگی میں ہی دوسروں کا کام اپنے نام سے چھپوانے کا الزام رہا جس انھوں نے یا ان کے معتقدین نے کبھی تردید نہیں کی۔اس حوالے سے ظفر اقبال صاحب نے نیاز فتحپوری کے ایک معاصر مجنوں گورکھپوری کی شہادت بھی نقل کی ہے جس میں ان کے لکھے مضامین کو نیاز نے اپنے نام سے شائع کیا۔ سید خالد جامعی صاحب نے نیاز کی سرقہ نگاری کا ذکر کیا ہے۔یہاں تک کہ انھوں نے مولانا مودودی کے کئی مضامین اپنے نام سے شائع کیے جس پر مولانا مودودی نے احتجاج کیا تو نیاز فتحپوری باز آئے۔

نیاز فتحپوری کے مذہب کے بابت نظریات ان کی کتاب “من و یزداں” میں جانے جا سکتے ہیں جن میں کھلم کھلا مذہب بیزاری ظاہر ہوتی ہے۔مصنف نے نیاز کی کتاب سے متعدد اقتباسات نقل کرکے ان کی مذہب بیزاری کو واضح کیا ہے۔ مثلاً

انھوں نےمذہب کے وجود کو دنیا کے امن و سکون کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
قرآن مجید کو انھوں نے کلام الہی کی کلام رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کہا۔ یہی دعویٰ تو مشرکین کا بھی تھا وہ کہتے تھے کہ قرآن کلام ربانی نہیں بلکہ معاذ اللہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے سے گھڑ کر پیش کر رہے ہیں۔

نیاز فتحپوری نے اپنے ایک اور مضمون میں مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو مجاہد اسلام اور عاشق رسول لکھا۔ مرزا صاحب جیسے شخص جن کا کفر تمام مسلم مکاتب کے مابین اتفاقی و اجماعی ہے کہ بارے میں ایسے الفاظ کسی اہل ایمان کا شیوہ نہیں۔

نیاز فتحپوری کے بارے میں مولانا عتیق الرحمن سنبھلی اور عبد المجید سالک کے مضامین کو بطور ضمیمہ جات اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر منظور صاحب نے اپنی کتاب میں کہا تھا کہ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ مذہب کو سیکولرزم میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

ظفر صاحب کہتے ہیں کہ ڈاکٹر منظور صاحب پر یہ الزام نہیں بلکہ حقیقت ہے کیونکہ وہ سیکولر نظریات کے حامل ہیں وہ مذہب کو ہر شخص کا انفرادی معاملہ سمجھتے ہیں، اجتماعی زندگی میں شریعت کی مداخلت کے قائل نہیں۔تمام اجتماعی معاملات میں الوہی دانش کو نکال دینا ہی سیکولرزم ہے جس کے ڈاکٹر صاحب وکیل ہیں۔

جدیدیت کے مطالعے کے لیے بہت ہی اہم کتاب ہے، نیز روایتی اسلامی تعبیر کے دفاع کا مقدمہ بہت خوبصورتی سے لڑا گیا ہے۔ ممکن ہیں کہ کئی جگہ مصنف نے غلط نتائج اخذ کیے ہو۔ مگر یہ کتاب مصنف کے وسعت مطالعہ کی گواہ ہے ناصرف وہ اسلامی علمیت پر بہترین دسترس رکھتے ہیں بلکہ مغربی ماخذ کا بھی وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔ مغربی تہذیب اور اس کے فکر و فلسفے کو جاننے کے لیے ایک معاون کتاب ہے۔اور مجھ جیسے ابتدائی طالب علم تو اس سے خوب مستفید ہو سکیں گے۔

پہلی قسط اس لنک پر ملا حظہ کیجئے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: