کون جانے اِس زیاں خانے میں کون سچا ہے۔۔۔ فخرالدین کیفی 

0

ے بسی کا عالم ہے ذہن میں کالم کا خاکہ بنا تو لیپ ٹاپ کھول لیا۔فوراً۔۔۔کیونکہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر سوچا بعد میں لکھ لیں گے تو خاکہ خاک ہو چکا ہوتا ہے۔دماغ صاف سلیٹ کی طرح ہو جاتا ہے۔۔ پوائینٹس لکھنے کے عادی نہیں۔۔اس لیے لکھتے وقت ۔بس لکھتے چلے جاتے ہیں۔اور کرم فرمائوں کی یہ دعا ساتھ ہوتی ہے۔’’ اللہ کر ے زورِ قلم اور زیادہ‘‘۔۔اب زیادہ نہ کم۔ کوشش ہوتی ہے ایک صفحہ سے زیادہ نہ لگے۔کبھی کبھار کی خیر ہے۔(ویسے آجکل سیاستدان بھی ایک صفحے پر رہنے کی بات کرتے ہیں لیکن عمل ناممکن ہوتا ہے۔ آج بھی ناشتہ کرتے ہوئے فیس بک پر ایک کلپ دیکھی تو ایک کالم کی گنجائش نظر آئی۔ ناشتہ ختم کر کے لکھنے بیٹھے تومندجہ بالا الفاظ زور قلم کا نتیجہ بن گئے۔پھر کالم کے نفس مضمون پر غور کیا تو عنوان ’’بے بسی کا عالم ہے‘‘ بہتر لگا اس لیے’’آج یہ ہی ہمارا کالم ہے‘‘ جس کلپ کا ذکر کیا اس میں ایک مذہبی اسکالر جن کا لہجہ رندھی ہوئی آواز کے مماثل تھا ،اینکر خاتون کے سوال کی اہمیت کی تعریف کرتے کرتے اینکر کی بھی حوصلہ افزائی فرمانے لگے ۔ خاتون نے وقت کی کمی کی خاطر جلدی سے شکریہ ادا کیا تا کہ بات آگے بڑھ سکے۔سوال اور جواب پرلکھنے سے پہلے ہم اپنی خو کیوں بدلیں ( ہم موضوع سے ہٹنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور زیب داستاں کے لیے بھی کچھ نہ کچھ عرض کردیتے ہیں۔ ہم نے اسکالر کی رندھی ہوئی آواز کے بارے میں لکھا۔۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے درست لفظ لکھا۔ اس لیے سمجھانے کے لیے بتادیتے ہیں کہ ایک سابق وزیر خارجہ ،جو خیر سے اب دوسری سیاسی پارٹی کے (شائد ) نائب چیئرمین ہیں ، کچھ ایسے ہی دبے دبے یا دھیمے یا رندھی ہوئی آواز میں مدعا بیان کرتے ہیں۔ہوسکتا ہے یہ کوئی اسٹائل ہو یا یہ اسے پر تاثیر اندازسمجھتے ہوئے اسے اپنایا ہو۔ ہماراخیال بالکل مختلف ہے۔ یہ طرز برصغیر کے مایہ ناز ہیرو دلیپ کمار کا تھا لیکن پھر وہی ’’کہ وہ بات کہاں مولوی مدن والی۔‘‘۔دلیپ کی ڈائیلاگ ڈ لیوری کا یہ انداز فلم’’ دیو داس‘‘ میں اتنی انتہا پر پہنچا ہوا تھا کہ سینما ہال کے باہر یہ نوٹس لگا دیئے گئے تھے کہ ’’ برائے مہربانی دوران فلم مونگ پھلی یا پاپڑ کھانے سے احتراز برتیں ورنہ ڈائلاگ سمجھ نہیں آئیں گے‘‘ اب اینکر اور مذہبی اسکالر کی گفتگو کی طرف لوٹتے ہیں ۔ خاتون اینکر نے اسکالر صاحب کی توجہ دبئی کے اس غیر مسلم بزرگ کی طرف دلائی جو انگریزی، عربی فارسی، اردو اور پنجابی زبان مہارت سے بولتا تھا۔پھر بہت سے ناظرین کے (ہمارے نہیں )  ہوش اڑا دیے کہ وہ غیر مسلم پاکستان میں صوبہ سرحد(موجودہ خیبر پختونخواہ) میں ۱۹ سال تک مسجد میں امامت کرتا رہا۔۔ اب وہ ریٹائرڈ ہے۔ ۔یعنی وہ امامت ملازمت کے طور پر کرتا تھا۔ ہماری بے بسی کی وجہ اسکالر صاحب کا یہ بیان ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹر اسرار کے حوالے سے بتایا کہ بسلسلہ گھٹنے کے آپریشن ڈاکٹر صاحب لندن میں تھے۔ایک دن ایک حویلی سے خوش کن قرأت سُنی تو وہاں نماز کا ارادہ کیا لیکن معلوم ہوا وہ کوئی درس گاہ ہے جس میں غیر مسلموں کو عربی سکھائی جاتی ہے، قرأت کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ احادیث اور دیگر فقہئی مسائل کی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے دوسرے مضامین کی تعلیم دے کر انجینرنگ ، ڈاکٹری، یا بیرسٹر ی وغیرہ کی تعلیم دے کر ملازمت کے قابل بنایا جاتا ہے۔جسے کسی بھی مذہب کاماننے والا بلا تفریق حاصل کر سکتا ہے۔یہاں بھی یہ تعلیم دے کر مساجد کی ملازمت کے لیے تیار کرتے ہیں تا کہ دوران ملازمت اپنے خیالات کا پرچار بھی کر سکیں۔ ہم نے بتایا کہ بہت سے ناظرین کے ہوش اڑگئے لیکن ہمارے نہیں کیونکہ ہم یہ واقعہ مختلف انداز میں پہلے بھی کئی بار سن چکے ہیں لیکن تصدیق آج تک نہیں ہوئی۔سب سے پہلے نواب چھتاری کے حوالے سے سنا جنہیں ان کے ایک انگریز دوست لندن سے ۴۰ میل دور کسی حویلی میں لے گئے اس تلقین کے ساتھ کہ جو کچھ دیکھنا خاموشی سے دیکھنا۔انہوں نے وہا ں یہی دیکھا کہ کچھ انگریز قران سیکھ رہے ہیں کچھ احادیث کچھ دیگر شرعی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔بتایا گیا کہ یہ لوگ پاکستان کے علاوہ دیگر مسلم ممالک میں بھیجے جائیں گے جہاں یہ اپنی بود و باش، رنگت کی وجہ سے عرب ، ترک یا پٹھان لگیں گے۔ان کا کام ہو گا مسلمانوں میں رہ کر چھوٹے چھوٹے اختلافات کو ہوا دینا ( کسی بڑے مسئلے میں پڑے بغیر)۔پھر اس کہانی کو دوسرے حوالوں سے بھی سنا۔پھر دبئی میں ایسے لوگوں سے ملاقاتوں کا بھی پتہ چلا جو پاکستان کی مساجد میں کبھی ۴۰ تو کبھی ۲۰ تو کبھی ۱۹ سال امامت کرتے رہے۔ایک بار تو یہ بھی خبر سنی کہ ایسا ہی ایک غیر مسلم آئی ایس آئی کی گرفت میں بھی آگیا پھر کیا ہوا پتہ ہی نہیں چلا۔ نواب چھتاری کے حوالے سے خبر پڑھ کر ہم نے بھی ایک کالم لکھ مارا تھا۔لیکن جب یہ ہی کہانی کبھی لندن تو کبھی لندن کے مضافات کے حوالے سے سنی تو شک ہو نے لگا۔ پھر ایسے پیش اماموں کا ذکر ہونے لگا جو کئی کئی سالوں تک امامت کرتے رہے ۔آج پھر اس کلپ میں ڈاکٹر اسرار کے حوالے سے یہ سنا تو اپنی بے بسی کے اظہار میں یہ کالم لکھ رہے ہیں کہ کسی کو یہ توفیق نہیں کہ اس مسجد تک پہنچ سکیں جہاں ۱۹ سال امامت کے فرائض ایک کافر کرتا رہا۔نہ ہی کوئی ان واقعات کی تصدیق یا تردید کر رہا ہے۔بے بسی یہ ہے کہ ٹی وی کے مذہبی اسکالروں سے ہی یہ سنتے ہیں ۔ہمیں گمان ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں میں بد گمانیاں پیدا کر رہے ہیں۔اگر یہ کامیاب ہو گئے تو ہرمسلمان دوسرے کو شک کی نظروں سے دیکھے گا۔اس لیے پہلی فرصت میں اس علاقے سے تصدیق کی جائے جہاں مذکورہ شخص نے ۱۹ سال امامت کی۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: