کتاب ’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش‘‘ ایک نظر میں (1) ——–‎ قاسم محمود

0

’’اسلام اور جدیدیت کی کشمکش” محمد ظفر اقبال صاحب کی ایک بہت اہم کتاب ہے۔ یہ کتاب ویسے تو ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے افکار پر نقد ہے مگر یہ مجموعی طور پر روایتی اسلامی فکر پر سیکولر اور جدیدیت زدہ ذہن کے اعتراضات کا تحقیقی جواب ہے۔ اس لیے اسے فقط ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے اعتراضات تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ اور بھی دیگر حضرات جو کہ روایتی اسلامی فکر سے ہٹ کر جدیدیت کے وکیل ہیں کے دلائل کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی کمزوری کو واضح کیا گیا ہے۔ اس بات کا اظہار ظفر اقبال صاحب نے بھی کتاب کے مقدمہ میں میں کر دیا ہے ہے یہ تنقید اس پورے طبقے پر ہے جو اجتہاد کے نام پر امت مسلمہ کو الحاد و انحراف کی منظوری دینے پر تلا ہوا ہے۔

مقدمے میں ہی ظفر اقبال صاحب ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جدیدیت پسند اور سیکولر طبقے ان کے مداح ہیں اور ان کو اسلامی علوم پر ایک اتھارٹی سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ عربی زبان و ادب سے ضروری واقفیت بھی نہیں رکھتے جس کے باعث وہ علوم اسلامی کے اصل مآخذ سے براہ راست استفادہ کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔

جدیدیت پسند طبقے کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ یہ اسلامی اصطلاحات کو ان کے خاص علمیاتی و مابعد الطبیعیاتی پس منظر سے الگ کر کے اس کو محض لفظی یا معنوی اشتراک کے باعث مغربی اصطلاحات میں سمجھتے ہیں۔ اس کی مثال مصنف نے یوں دی ہے یہ لوگ ‘’جمہوریت‘ جو کہ خالص مغربی تصور ہے کو اسلام کے تصور شورائیت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان دونوں تصورات میں جزوی مماثلت کا پایا جانا ان کے ایک ہونے کی دلیل نہیں۔ ان دونوں کو فقط وہی ایک سمجھ سکتا ہے جو جمہوریت کی مغربی تصورات، تاریخ اور مابعد الطبیعیات کو نہ جانتا ہو۔ اس ہی بنیادی غلطی کے باعث جدیدیت پسند کو اسلام کا تصور ‘’فلاح‘ (welfare) ‘’افادیت پسندی‘ (utility) کے مماثل نظر آتا ہے ’اجماع‘ کو وہ عوامی رائے (public opinion) کے مترادف سمجھتے ہیں اور مشاورت کے ذریعے حکومت کو ‘جمہوریت’ Democracy قرار دیتے ہیں۔ ایسے ہی دیگر اسلامی اصطلاحات مثلاً سنت، اجماع، اجتہاد، مقاصد شرعیہ، معیار حقانیت، فتوی، تقلید، علت وغیرہ ان کو فقط مغربی زبان میں ترجمہ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان اصطلاحات کی تشکیل خاص علمیاتی و مابعد الطبیعیاتی پس منظر میں ہوئی ہے اور ان کا ترجمہ دوسری زبان میں ممکن نہیں۔ ظفر اقبال صاحب کہتے ہیں کہ ڈاکٹر منظور احمد صاحب کی اور دیگر جدیدیت پسندوں کی بنیادی غلطی ہی یہ ہے کہ خالص مذہبی عربی اصطلاحات کا انگریزی ترجمہ کر کے اس کا مفہوم متعین کرتے ہیں۔ اس طرح اصطلاح تو اسلامی ہوتی ہے مگر مفہوم مغربی بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے جو کہ اسلام کی چودہ سو سالہ علمی و مابعد الطبیعی روایت کے منافی ہوتا ہے۔

مقدمے میں ظفر صاحب اس تصنیف کا کریڈٹ ڈاکٹر منظور صاحب کو دیتے ہیں کہ ان کے نقطہء نظر پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد ان کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔

پہلے باب میں ظفر اقبال صاحب منہاج علم اور مآخذ استدلال پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں

’’کسی بھی تہذیب کا تصور علم اس کے اہداف و مقاصد کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ جس کی اساس پر اس تہذیب کے علمی، نظری اور فکری مقاصد متعین ہوتے ہیں۔ یہ تصور ہر تہذیب کی مابعد الطبیعی ایمانیات کا رہین ہوتا ہے‘‘

یہ تصور علم کے بارے میں روایتی بیانیہ ہے جبکہ جدیدیت پسندوں کے طریقے پر ظفر صاحب لکھتے ہیں

’’جدیدیت پسند وحی اور اس کی اساس پر تشکیل و ترتیب پانے والی علمیات اور تاریخ کو اپنے ساختہ تجربی منہاج پر یقین و اذان کے باعث پورے طور پر قبول بھی نہیں کرتے اور زمان و مکاں کی حد بندیوں، خوف، مجبوری یا تاریخی جبر کی وجہ سے رد بھی نہیں کر پاتے‘‘

اس پر ظفر صاحب آگے بات بڑھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں نظر آتا ہے کہ جدیدیت پسندوں کا منہاج علم اور مآخذ استدلال بہت مبہم نظر آتا ہے بالخصوص ڈاکٹر منظور احمد صاحب کی تحریریں اس کی گواہ ہیں۔

مصنف کہتے ہیں کہ جدیدیت پسند مفکرین اسلام اور مغربی تہذیب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں جو کہ ناممکن ہے کیونکہ دونوں کا منہاج، علمیات (epistemology) اور مقصد ہی الگ الگ ہے۔

مغرب کا تصور آزادی (freedom) جو کہ فضیلت اصلی ہے، مغرب کا تصور مساوات (equality) جو کہ بنیادی قدر ہے، جہاں رد و قبول پر حکم لگانے کا معیار ہی عقلیت (reason) ہے اور حصول آزادی جو کہ اصل فضیلت ہے کا واحد راستہ ترقی (progress) ہے۔

اب اس مقصدیت کے تحت پیدا ہونے والا انسان چار چیزوں کا حریص ہو گا۔ آمدنی (income) قوت (power) حاکمیت (authority) اور دولت (wealth) جب یہ چار عناصر خیر کسی فرد کو حاصل ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں سے پانچواں خیر تکریم ذاتی self) respect) خود بخود حاصل ہو جاتا ہے۔

اس نظام کے اعتبار سے نمازی اور زانی برابر ہیں، جو شخص ان چار عناصر سے محروم ہے اس کی آزادی سلب ہو جاتی ہے۔ یہاں علم سے مراد لذت اور خواہشات میں اضافے در اضافے کے ذریعے دنیا کو جنت بنانے کے آثار و مظاہر شامل ہیں۔ یہی علمیت سرمایہ دارانہ علمیت کہلاتی ہے اور یہ علم جس مقصدیت کا مرہون کرم ہے وہاں بندگی رب، اطاعت وحی اور رضائے الٰہی لایعنی و بے معانی باتیں ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ایک مسلمان کی مقصدیت بندگی رب، اطاعت انبیاء اس کے نتیجے میں دارالآخرۃ نے خوشنودی الہی اور اس کی بارگاہ میں سرخ روئی ہے۔

ظفر صاحب اس پر مزید لکھتے ہیں

’’اصول کی سطح پر آدمی ایک ہی سے متعلق ہو سکتا ہے خدا سے یا دنیا سے اس “یا” کو قیامت تک “اور” نہیں بنایا جا سکتا۔ پھر حیات اپنے مظاہر اور نسبتوں کے ساتھ اُن قواعد و شرائط کی پابندی و پاسداری کرے گی جس کے بغیر حصول مقصد کی تعیین ترجیح کی ہر کوشش بے کار ہے‘‘

مطلب یہ کہ فکر جدید اور اسلامی فکر میں مفاہمت ناممکن ہے۔ فکر جدید کا مطمح نظر دنیا جبکہ اسلامی فکر کی مقصدیت خدا اور آخرت سے متعلق ہے۔

مصنف کہتے ہیں کہ جدید مغربی فکر اپنے افکار و اقدار کے حوالے سے مذہب کے خلاف ہے یہ کسی غیب اور مطلق مقتدرہ کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس فکر سے متاثرہ نظام تعلیم نے ہمارے ہاں ایک محکوم نسل کو وجود بخشا ہے جس نے مغربی اخلاقیات کو آسمانی صحیفہ سمجھ کر قبول کیا ہے۔ یہاں حرص و حسد کا نام مسابقت (competition) رکھ کر طلباء اور دوستوں کو ایک دوسرے کا مخفی دشمن (potential enemy) کے طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں عروج کا منتہا صرف مادی ترقی اور سرمائے کی ریل پیل ہے، زندگی کا مقصد نیکی نہیں بلکہ دولت کا حصول ہے۔ جبکہ اس کے برعکس اسلامی علمیت و تاریخ میں معاشی سر گرمی بھی ایک دینی اور اخروی جذبے سے سے مملو ہے۔ اس کا مقصد تمام مالی عبادات کو ممکن العمل بنا کر اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کو حاصل کرنا ہے اس کا مقصد ہرگز نفع کا حصول نہیں۔

عصر حاضر میں جدیدیت پسند مغربی علمیت کو من و عن تسلیم کر کے اس ہی کی روشنی میں حل کرتے نظر آتے ہیں جس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا “اجتہاد” سراسر مغرب کی تقلید کے سوا کچھ بھی نہیں۔

مقاصد شریعت جیسے اہم موضوع پر بھی جب متجددین بات کرتے ہیں تو اس کو الوہی دانش سے آزاد کر کے دیکھتے ہیں جس کا نتیجہ بڑا تباہ کن اور مضحکہ خیز نکلتا ہے۔ اس پر مصنف لکھتے ہیں.

’’کسی فرد کو دنیا میں اچھا انسان بننے کے لئے معیاری اخلاقی زندگی بسر کرنے کے لیے مذہب پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر ایک انسان اپنے درون اور ضمیر کے پیش نظر سچ بولتا ہے, ایماندار ہے, کسی کو دھوکا نہیں دیتا, اذیت اور تکلیف نہیں پہنچاتا, عزیزوں سے محبت کرتا ہے, اپنی روزی دیانت سے کماتا ہے تو ان اخلاق کے ہوتے ہوئے مذہب پر ایمان لانے کا کیا عقلی جواز ہے؟ آخر مذہب بھی تو انسان میں انہیں حسنات کے پیدا کرنے کا داعی ہے جو اس انسان نے اپنی ذاتی آواز پر کسی خوشی ہے لالچ یا ناراضگی کے خوف سے بے پرواہ ہو کر از خود اختیار کر لیا ہے۔ تو اب انسان کے لئے مذہب کے ‘گورکھ دھندوں’ میں الجھنے کا عقلی طور پر کیا جواب ہے؟‘‘

یہ ہے وہ ذہنیت جو تقلید مغرب کی صورت میں سامنے آتی ہے، جب اخلاقیات سے الوہی دانش کو نکال دیا جاتا ہے تو مقاصدِ شریعہ کا سنجیدہ موضوع اپنی وقعت کھو دیتا ہے۔

یوں ہی ظفر اقبال صاحب کہتے ہیں کہ جدید فکر کی روشنی میں ترقی کا مقصد آزادی کا حصول ہے جس سے ہر طرح کی قدغنوں سے آزادی ہے اور یہ آزادی دینی روایت میں تغیر اور روایتی تہذیب میں تبدیلی کو ناگزیر قرار دیتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی بھی تسلط کے جذبے سے ظہور پذیر ہوئی ہے۔ قبل از جدید معاشروں میں فطرت ایک مقدس شے تھی کار الہی (Work of God) تھی جبکہ جدید معاشروں میں فطرت کی حیثیت استعمال کی جانے والی شے (commodity) سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اب سائنس اور ٹیکنالوجی محض تدبیر کا نام نہیں بلکہ سرمائے کی بڑھوتری کی جدید سرمایہ دارانہ تدبیر ہے۔ اس کا مقصد انسان کی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ خواہشات کی تکمیل ہے۔ یہ ہی جدید سرمایہ دارانہ نظام معیشت جہاں معاشی ترقی کے تمام محرکات لالچ اور خود غرضی سے عبارت ہیں جو مذاہب خصوصاً اسلام کی بنیادی تعلیمات صبر و شکر، فقر و توکل اور جود و سخا سے براہ راست متصادم ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام مقابلہ بہترین معاشی و تکنیکی ترقی اور تصوراتی ارتقاء کے حاملین عاد و ثمود اور فرعون و نمرود سے رہا۔ ایسے ہی مصنف کا کہنا ہے کہ

’’قرآن کریم میں درج انبیائے کرام علیہم السلام کی دعاؤں کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں کوئی دعا بھی ایسی نہیں ملتی جس میں عرض مدعا معاشی ترقی، تصوراتی ارتقاء اور تکنیکی ترقی کے لئے کیا گیا ہو ہر دعا آخرت کی ترقی جنت کی طلب اور اخروی کامیابی کی درخواست و عرض گزاری سے مملو ملتی ہے‘‘

اس لیے جب جدیدیت پسند مفکرین قرآن و سنت پر از سر نو نظر ڈالنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب اسلام کی ایسی تعبیر و تشریح ہوتا ہے جو تواتر اور روایت سے کاٹ کر اس کو غالب تہذیب و فکر کے مطابق کی جائے۔ اپنی تاریخ کو یکسر رد کر کے اور تواتر سے رشتہ منقطع کرنے کا مذہبی معاشرہ کسی طور پر متحمل نہیں ہو سکتا جبکہ جدیدیت کا بنیادی مقدمہ ہی یہ ہے کہ یہ تاریخ ماسبق کے انکار سے عبارت ہے۔ سو روایت سے تعلق کو ختم کرنا کوئی معمولی بات نہیں جیسا کہ جدیدیت پسندوں کا خیال ہے۔

مذہب اور جدیدیت کے درمیان مصالحت ایک مغالطے سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ جدیدیت کی بنیاد ہی مذہب سے بغاوت اور عقل کی خدائی پر ہے۔ اس لیے مغرب میں اس جدید دور جہاں عقل حاکم ہے کو Renaissance اور Enlightenment کہا جاتا اس پہلے کے دور کو وہ Dark Age کہتے ہیں کیونکہ علمیت مذہب یعنی عیسائیت سے آ رہی جس کا دعویٰ تھا کہ انسان سچائی تخلیق نہیں کر سکتا صرف وحی کے ذریعے دریافت کر سکتا ہے۔ جدیدیت کی دو بنیادی قدریں ہیں حاکمیت عقل اور آزادی یعنی کہ انسان قائم بالذات (self-determined) اور فاعل خود مختار (autonomous) ہے اور وہ اپنے خیر و شر کے پیمانے خود متعین کرتا ہے۔ یہ تمام چیزیں جن پر جدیدیت کی بنیاد ہے مذہب اور بالخصوص اسلام کی بنیادوں سے متصادم ہیں۔ یہ اپنی اصل اور مقصدیت کے لحاظ سے متصادم اور متغائر ہیں۔ ان کے درمیان مفاہمت ممکن نہیں۔

اسلام میں حاکمیت وحی کی ہے عقل اس کے تابع ہے۔ رب کریم نے جہاں عقل کے ٹھوکر کھانے کا خدشہ تھا وحی کے ذریعے سے اس کا پیمانہ متعین کر دیا ہے، عقل اس مقررہ حدود میں تشریح و توضیح کا حق رکھتی ہے اگر وہ ان بنیادی احکامات کے موافق ہے تو ٹھیک اگر ان کے معارض ہے تو مردود۔

ایسے ہی اسلام میں احکام شریعت کے استنباط و استخراج کے بالترتیب چار ماخذ ہیں

۱۔ کتاب اللہ یعنی کہ قرآن
۲۔ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
۳۔ اجماع امت
۴۔ قیاس یا اجتہاد

اس بارے میں کتاب اللہ پر بات کرتے ہوئے ظفر صاحب کہتے ہیں کہ ڈاکٹر منظور صاحب کھل کر نیاز فتحپوری کی طرح اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے مگر ان کی تحریروں سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو منزل من اللہ ماننے کے عقیدے کو غیر علمی قضیہ کہتے ہیں اور اس بارے میں انھوں نے جو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں استدلال کیا کہ قرآن کے معاشرتی مسائل کے بارے میں احکامات کو جزی سمجھتے تھے اور اس کو شریعت کا کوئی ابدی قانون نہیں سمجھتے تھے سراسر باطل اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فتاوی اور فیصلوں سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر منظور احمد صاحب اور دیگر متجددین قرآنی سزاؤں کے حوالے سے بھی عجیب مخمصے کا شکار ہیں یہاں مقاصد شریعت کی اصطلاح میں چھپ کر یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا مقصد چوری روکنا ہے اگر ہاتھ کاٹنے کے متبادل کسی دوسری سزا سے یہ مقصد پورا ہوتا ہے تو یہ بھی عین اسلامی ہے۔ اس طرح قرآن کی دی گئی سزاؤں کے بارے میں ان کا نظریہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اس کے عطا کردہ قوانین کو ابدی قانون نہیں مانتے اس میں عقل کو ہی حتمی اور حاکم مانتے ہیں۔ اب قرآن کا کون سا حکم زمانی اور کون سا دائمی۔ اس کا تعین عقل نہیں کر سکتی یہ صرف حکم الٰہی یا حکم رسول علیہ السلام سے ہی ثابت ہو گا۔

قرآنی سزاؤں کے علاوہ دیگر قرآنی احکامات کے بارے میں بھی یہ طبقہ ایسی ہی رائے رکھتا ہے۔ جیسے کہ ڈاکٹر منظور حرمت سود کو خاص حالات کے تحت ایک اخلاقی حکم کہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول اس کا تعلق عرب قبائلیت سے تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ قول کتاب و سنت اور صحائف ماسبق سے ناواقفیت پر مبنی ہے کیونکہ یہودیت اور عیسائیت میں بھی سود بالاتفاق حرام تھا۔

اس طرح کی فاسد تاویلات کرکے متجددین کا یہ طبقہ قرآن مجید کی تحریف معنوی کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ قرآن کریم کو فقط ترغیب و ترہیب اور مواعظ کی کتاب سمجھتے ہیں جبکہ دیگر معاشی، معاشرتی و سماجی احکامات کے حوالے سے یہ قرآن کو اہمیت دینے کے قائل نہیں یہ بات کبھی یہ کھل کر نہیں کرتے مگر ان کی تاویل و تشریح سے یہ سب واضح ہو جاتا ہے۔

قرآن مجید کے بعد دوسرا ماخذ علم سنت ہے کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام شارح کے ساتھ ساتھ شارع بھی ہیں۔ امت شروع سے ہی سنت کو قرآن کے بعد ماخذ قانون تسلیم کرتی رہی ہے۔ سنت اس راہ کا نام ہے جس پر جس پر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع میں خلفائے راشدین عامل تھے۔ اس میں اعتقادات کے اعمال و اقوال بھی شامل ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر منظور صاحب سنت کی ایک نئی تعریف کرتے ہیں اور اس کو آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے اقوال و اعمال تک محدود رکھنے کی بجائے اسے پیٹرن (pattern) قرار دیتے ہیں جس کا تعلق کسی بھی فرد یا قوم کے طور طریقوں سے ہو سکتا ہے۔ متجددین کا یہ طبقہ لوتھر کی اتباع میں اس نظریے کا قائل ہے کہ اجتہاد کے نام پر ہر کسی کو قرآن و سنت کی تشریح کا حق ہے اور پھر ان کو یہ اعتراض ہے کہ اجتہاد کرتے ہوئے روایتی علماء آگے کی بجائے پیچھے کی طرف کیوں دیکھتے ہیں؟ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طریقے سے بھی ماضی سے رشتہ توڑا جائے۔ سرسید احمد خان سے لیکر موجودہ دور کے متجددین کا یہی مسئلہ رہا ہے۔

ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے اس تصور سنت کے بعد حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فیصلے محض اجتہاد قرار پاتے ہیں، چونکہ اجتہاد زمانے کے تغیر سے متغیر ہو جاتا ہے اس لیے موجودہ زمانے میں ان کی حیثیت ویسے ہی irrelevant ہو جاتی ہے۔

ہم حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فیصلوں کو ‘اجتہاد’ اس لیے بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس میں خطا و صواب دونوں کا امکان ہوتا ہے جبکہ سیدالعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم معصوم عن الخطاء ہیں۔ لہذا ڈاکٹر منظور اور دیگر جدیدیت پسندوں کا یہ نظریہ کس قدر باطل و نادرست ہے اور یہ نظریہ شان رسالت کے بھی منافی ہے۔

قانون شریعت کا تیسرا ماخذ اجماع ہے جس پر جدیدیت سب سے پہلے حملہ آور ہوتی ہے کیونکہ جدیدیت کی اصل روح انفرادیت پسندی ہے۔ یہاں انفرادیت پسند سے مراد مختلف ہونا نہیں بلکہ زیادہ تغیر پسند ہونا ہے۔ ماضی میں بھی مسیحیت کے حوالے سے اصلاح مذہب کی تحریک جس کو Protestant Reformation کہا جاتا ہے انجیل مقدس کی اجماعی تفہیم کے خلاف ایک مزاحمت تھی۔ یہی کچھ متجددین اسلام کے حوالے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر منظور احمد صاحب بھی اسلام کی اس متواتر اور روایتی تفہیم کو ‘فقہی اسلام’ کہہ کر اس پر تنقید کرتے ہیں۔

شریعت اسلامی کا چوتھا مآخذ قیاس اور اجتہاد ہے۔ تو اس کا اصول بھی یہ ہے کہ یہ قرآن و سنت اور اجماع کے تابع ہے اور ان کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ اس اصول کو جدیدیت پسند تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور مطلق آزادی کے قائل ہیں۔ اجتہاد کے ضمن میں ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے نزدیک علامہ اقبال رح کا principle of movement ایک کارگر ہتھیار ہے جس سے ان عوامل تک پہنچنے کا جواز ملتا ہے جو کہ غالب تہذیبوں کا خاصا رہا ہے۔ ظفر صاحب اس بات کو مسترد کرتے ہیں ان کے نزدیک یہ تصور اجتہاد اسلام کے ہر اس اعتقاد اور مابعدالطبیعی حقیقت کو تبدیل یا تنسیخ کرتا ہے جو تعقل غالب اور عصر جدید سے متصادم ہو۔ حرکی اجتہاد میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ ہر ترقی، تبدیلی اور تخلیق ارتقائی نوعیت کی ہوتی ہے۔ یہ مفروضہ مذاہب خصوصاً اسلام سے براہ راست متصادم ہے جہاں ثبات کو تغیر پر فوقیت حاصل ہے۔

اجتہاد کے لیے اہلیت، صلاحیت اور لیاقت کو دیکھا جانا ضروری ہے اس کے لیے ہر خاص و عام کو اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں بھی اہل علم و فقہاء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس قائم تھی جہاں پیش آمدہ مسائل پر غور وفکر کرکے مسائل کا حل نکالا جاتا تھا۔

اجتہاد کے ضمن میں ایک اور بات کی طرف ظفر اقبال صاحب نے توجہ دلائی ہے کہ اس کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں اسلامی قانون نافذ ہوں یہ ہمارے معاشرے سے غیر متعلق ہے کیونکہ یہاں اینگلو سیکسن قانون نافذ ہے۔

دوسری قسط اس لنک پر ملا حظہ کیجئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: