فوج اب اور کیا کرے؟ ——– محمد خان قلندر

0

دنیا بھر میں افواج اپنے ملک کے دفاع اور سیکیورٹی کی ذمہ دار ہوتی ہیں، عام فہم میں ان کی ڈیوٹی جنگ لڑنا تصور کی جاتی ہے، زمانہ قدیم میں اپنے ملک پے حملہ آور لشکر سے جنگ کرنا اور بطور حملہ آور علاقے فتح کرنا ان پے قبضہ کرنا، انہی سلطنت میں شامل کرنا بنیادی فرض ہوتا، لیکن ریاست کا نظم و نسق چلانا کبھی کسی سپہ سالار کا مستقل ذمہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سپاہ گری اور جہانبانی کے فن میں فرق تھا، فنون حرب اور تھے اور رعایا کا نظم و نسق مختلف مہارت تھی، کتنے بادشاہوں سلاطین اور حکمرانوں نے جنگوں میں کمان کی لیکن مفتوحہ علاقوں میں ریاست کے امور منظم کرنا سپہ کا دائرہ کار نہیں رہا۔

دوسرا اہم پہلو یہ بھی کہ وار ٹیکنالوجی ایجادات کی ماں نہیں نانی ہے، تلوار ڈھال، تیر کمان، رتھ منجنیق سے موجودہ ڈیفنس پروڈکشن، مواصلات رسل و رسائل ہر فیلڈ میں ترقی جنگی تیاری کی مرہون منت ہے، جب حساس تنصیبات وجود میں آئیں تو دفاعی حساس ادارے بھی بننے لگے، آج بھی ممنوعہ منشیات کے ساتھ ناجائز اسلحہ سمگلنگ میں سرفہرست ہے۔ دنیا کی تجارت میں جنگی سازو سامان اور اسلحہ سازی، بحری جنگی بیڑے، جنگی جہاز ، سے ڈرون تک کی انڈسٹری کی پیداوار سب سے زیادہ ہے۔ ہر ملک میں فوج سب سے بڑی صارف بھی ہوتی ہے پیداواری عامل بھی۔

اتنی اہمیت کا حامل ادارہ جو ہر قدرتی آفت سے تخریب کاری اور جنگ سمیت ہر بحران سے نپٹنے کے لئے بازوئے شمشیر زن ہو، ملکی سلامتی کا نگہبان ہو، کیا وہ بحران پیدا کر سکتا ہے؟ یہ ہے اصل سوال جس کے جواب سے ہمارے ہاں فوج کا کردار زیر بحث رہتا ہے اور متنازعہ ہے۔

دنیا میں عام طور پر دفاعی اداروں اور ان سے منسلک حساس ایجنسیوں بارے معلومات قومی راز اور مخفی ہوتی ہیں۔ ہمارے سمیت جن ممالک میں مارشل لا لگتے رہے ہوں اور فوج براہ راست اقتدار میں رہی ہو وہاں عام پبلک سے ڈائریکٹ روابط کی وجہ سے یہ سیکریٹ انفارمیشن بھی کافی حد تک ایکسپوز ہو جاتی ہے، ادارہ جاتی نظام و انصرام سے لوگ آگاہ ہوں تو رازداری کمزور ہوتی ہے۔

جس صورت حال سے ہم آج دوچار ہیں یہ نئی بھی ہے اور گھمبیر بھی، پرانے بیان اُلٹ رہے ہیں، لگتا ہے گزشتہ ساٹھ ستر سال کی ہر پالیسی سے، کم از کم بیانات کی حد تک جان چھڑائی جارہی ہے۔ تو کیا یہ سارا ملبہ فوج اور اداروں پے ڈالا جائے گا؟

اس صورت حال کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ گزشتہ سات عشروں کے واقعات کی حقیقت کھنگالی جائے، مسئلے کی جڑ تلاش کی جائے، اسے تلف کیا جائے، تاکہ مستقبل میں صحیح سمت کا تعین ہو، ہم جس ایڈ ہاک اور ڈنگ ٹپاؤ طریقے سے ہر بدلتی صورت حال میں وقتی تقاضے پورے کرتے آئے ہیں۔

اب اتنے تجربے کرنے کے بعد، کم از کم بنیادی ٹارگٹ تو متعین کر لیں، ہر دس سال بعد خط مستقیم پے یو ٹرن لینا چھوڑ کے اپنے قومی مقاصد طے کر لیں، آئین کی حدود و قیود وضاحت کے ساتھ متعین ہوں، بدلتی دنیا کے ساتھ چلنے کی گنجائش رکھتے کم ازکم قومی ایجنڈا ترتیب دیں، تاکہ معیشت کسی سمت میں بحال ہو کر چل پڑے، زراعت سے صنعت، پھر صنعت سے درآمد پر۔ پھر زراعت پر رجوع۔ کل ملک کو قرضہ ملنا کامیابی کی ضمانت اور آج قرض لینا لعنت کے مصداق، اس جھنجھٹ سے نکلنے کے لئے ضروری ہے کہ کلیدی ادارے اپنے اختیارات کی حد میں رہیں۔ تو آئیے مستقبل کی رہنمائی کے لئے ماضی کی جھلکیاں دیکھتے ہیں کہ گورنر جنرل سپہ سالار اعظم، سُپر وزیراعظم، صدر عالی مرتبت، قاضی القضات، جیسے اعلی مناسب پے فائز ارباب اختیار نے کیا غلط کیا، اور کیسے غلط ہوا۔

پہلا مارشل لا فوج نے نہیں لگایا تھا !

مفلوج گورنر جنرل مسٹر غلام محمد نے اپنی سیاسی بساط مضبوط کرنے کے لئے باوردی کمانڈر انچیف کو کابینہ میں وزیر بنایا، اقتدار کی میوزیکل چیئرز کے کھیل میں اس کے جانشین سکندر میرزا نے جنرل ایوب خان کو دو سال کی ایکسٹنشن دی۔ اسمبلی برخواست کی ، مولوی تمیزالدین کیس میں ہائ کورٹ آرڈر کے خلاف وہ فیڈرل کورٹ گئے، نظریہ ضرورت بھی ان کی دین تھی، مارشل لا بھی انکے حکم پے لگا، اور جنرل ایوب کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اس نے لگایا آئین کی معطلی سے جب انکے اختیارت ہی سلب ہوئے توان کو اقتدار سے ہٹایا گیا۔ دوسرا مارشل لا بھی بطور سویلین صدر ایوب خان کے حکم پے لگا، اسی مارشل لا میں مسٹر بھٹو سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ جنرل ضیا کو چار سینیئر جنرلز پے فوقیت دے کے بھٹو صاحب نے آرمی چیف لگایا، اسی دور میں ملک میں آرمی کو ہر مسئلے کا بشمول ڈھاکہ فال ذمہ دار ٹھہرانے کی مہم شروع ہوئی، جب کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی سیاسی پارٹیاں ملکی یکجہتی پامال کرنے کی برابر کی حصہ دار ہیں، طُرفہ تماشہ یہ ہے کہ پاکستان میں دو لا ہی لگتے ہیں مارشل لا یا، تھلے لا، جمہوریت نام کی کوئی شے آج تک یہاں نافذ نہ کبھی ہوئی اور نہ ہی ہوتی نظر آتی ہے، جنرل ضیا والے مارشل کی وجہ بھٹو صاحب اور اپوزیشن اتحاد مذاکرات میں غیر ضروری طوالت تھی، سمجھوتہ ہونے کی بات نکلی تو بھٹو صاحب بیرونی دورے پر چلے گئے، وضاحت لازم ہے کہ ضیا کے پاس مارشل لگانے کا جواز نہیں تھا لیکن بین الاقوامی رسہ گیری اور سیاست دانوں کی سیاسی سے زیادہ ذاتی مفاد اور مخاصمت نے اسے موقع فراہم کیا۔ فوج تو چیفس سے رینک اور فائل تک انتہائی منظم اور ڈسپلن کا پابند محکمہ ہے، کور کمانڈر کانفرنس باقاعدگی سے ہوتی ہے لیکن وہاں اسمبلی اور سینٹ جیسا ماحول نہی ہوتا، نازک اور حساس معاملات پر ڈسکشن کے بعد فیصلے ہوتے ہیں، اختلاف کو اعتراض نہیں بنایا جاتا، اتفاق رائے میں ضم کیا جاتا ہے۔جمہوریت نام کی کوئی شے آج تک یہاں نافذ نہ کبھی ہوئی اور نہ ہی ہوتی نظر آتی ہے

جنرل پرویز مشرف کا مارشل لا تو لگتا ہے میاں نواز شریف نے زبردستی لگوایا، دنیا میں کسی بھی اتنے اہم ادارے کے سربراہ کو اس طرح بازاری اور بچگانہ طریقے سے ہٹایا جاتا ہے نہ تبدیل کیا جا سکتا ہے فوج کا المیہ یہ ہے کہ کسی طرح بھی اقتدار سنبھال لے تو اسے چھوڑنے کا راستہ موجود نہی ہوتا، تین چار سال کے اندر اسے سیاسی معاونت ملنے لگتی ہے، حکومت کی شکل بھی منتخب ادارے سے ملنے لگتی ہے، چیف کو صدر بنا لیا جاتا ہے ساتھ سویلین سیاسی رہنما گٹھ جوڑ سے اسے جمہوری حکومت مان لیتے ہیں۔

جنرل ضیا کی ہلاکت اور جنرل پرویز مشرف کی رخصتی سنگ میل ہیں، سول سُپرمیسی کے نام پر ملکی حالات کی دگرگوں حالت کی ذمہ داری کافی حد تک ان پہ آتی ہے لیکن اس دوران چھ سویلین ادوار بھی آتے ہیں، افغان کی دونوں جنگوں میں شرکت فوجی کاروائ ہے، اس سے جڑی دہشت گردی سے جنگ بھی فوج نے لڑی ہے اور لڑنی ہے، لیکن اس میں سویلین کولیڑل نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ اس ماحول میں گزشتہ سویلین ادوار میں ملک کو درپیش ہر مسئلے کی ذمہ داری فوج پے ڈالنے کی دانستہ مہم اس لئے بھی شدت سے چلائی گئی کہ فوجی ادوار کے مقابل ان سویلین حکومتوں کی پرفارمنس بہت خراب رہی، سو انہوں نے اپنی ہر ناکامی فوجی مداخلت پر ڈال کے جان چھڑانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ جنرل مشرف کے امن و امان کے بدترین دور کے بعد جنرل اشفاق پرویز کو سیکیورٹی کی صورت حال سنبھالنے کو چھ سال ملے،توسیع پر کافی لے دے ہوئ، لیکن فوج کا مورال کافی حد تک بحال ہو گیا، سوات آپریشن اہم موڑ تھا۔

ججز بحالی تحریک کے حقیقی مقاصد منظر عام پر نہیں آئے، میمو گیٹ اور این آر او کیس کی منطق بھی غیر واضح ہے یوسف رضا گیلانی برطرف ہوئے، سول ملٹری بد گمانی بڑھی، ذرائع ابلاغ کے انقلاب کے بعد ہر شعبہ زندگی کے کام میڈیا میں مشہوری یا بدنامی سے مشروط ہو گئے۔ دفاعی اداروں کی پبلسٹی حساسیت بڑھ گئی، جنرل راحیل شریف چیف بنے، ضرب عضب شروع ہوئ، الیکشن سخت تناؤ کے ماحول میں ہوئے نواز شریف وزیراعظم بن گئے، شہباز پنجاب میں رہے، عمران خان کی سیاسی منظر نامے میں شمولیت، دھرنا، پنامہ کیس شریف فیملی ہینڈل نہ کر سکی۔ پیپلز پارٹی سندھ تک سُکڑ گئی اور گو مگو میں پھنس گئی۔ یہ پانچ سال ہماری سیاسی اشرافیہ کے امتحان کے سال تھے، جس میں کوئی بھی رہنما پاس نہ ہو سکا۔

پولورائیزیشن اتنی شدید بڑھ گئی کہ صورت حال مخدوش ہو گئی، نواز شریف اور زرداری کے لئے اپنی اپنی پارٹی قابو رکھنے کے ساتھ اسے جانشین کے حوالے کرنا اہم ترین تھا عمران کے پاس ان کے خلاف فوج کی طرفداری کے سوا چارہ نہی تھا۔ اس تقسیم نے میڈیا پر طوفان اٹھائے رکھا نُون لیگ نے براہ راست اپنے جملہ مسائل کی وجہ فوجی مداخلت کو قرار دیا، نواز نااہل ہوئے لیکن شاہد خاقان سے پانچ سال کی حکومتی مدت پوری کر لی، الیکشن میں پی ٹی آئ سوائے کے پی کے حتمی اکثریت تو نہ لے پائ لیکن جُگاڑ سے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنا دی گئی، پی پی سندھ میں برقرار رہی، اب ملک میں مہایدھ جاری ہے۔ عمران خان کے پاس اپنی ٹیم نہی بن سکی، معیشت وینٹی لیٹر پر ہے اور علاج کے لئے آئ ایم ایف کے سپرد ہے پنجاب میں پنجابی فلم چلائ جا رہی ہے، کے پی، بلوچستان اور سندھ میں ڈنگ ٹپاؤ بندوبست چل رہا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری نواز شریف نے کی اور اب عمران نے توسیع دی ہے، نُون لیگ اپنی ہر ناکامی میں اپنی نااہلی ماننے کی بجائے اسے خلائ مخلوق کی کارروائ کہتی ہے۔

اب جواب میں موجودہ حکومت نے آج تک ہوئ ہر خرابی سابقہ حکمرانوں کی کرپشن سے جوڑ کے انہیں ہر بُرائی کا ذمہ دار قرار دے کر دنیا میں ان کو چور ڈاکو مشہور کر دیا ہے اور یہ ڈھول یہاں رات دن پیٹا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی سخت بے سمتی کی شکار ہے، مذہبی سیاسی جماعتیں غیر فعال ہیں سوائے جی یو آئی کے جو وقفے وقفے سے شُوں شاں کرتی رہتی ہے، اوپر سے کشمیر کا معاملہ وہاں کرفیو اور آئینی پوزیشن بدلنے سے ایک آتش فشاں پہاڑ بن رہا ہے۔ افغان وار کا خاتمہ بالخیر ہوتا نظر نہی آتا، تو سوال وہی اٹھتا ہے کہ ان سب ایشوز میں فوج کا قصور کیا ہے؟ اس کا کردار کیا ہونا چاہیئے؟ یا زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تمام سیاسی عناصر مل کر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دے کر فوج کے ذمہ اس کے کام لگائیں کیونکہ اس وقت تو کوئی بھی اچھی پیش رفت ہو تو اس کا سہرا موجودہ حکومت نہی صرف عمران خان کے سر باندھا جاتا ہے، کچھ غلط ہو جو بہت کچھ روز ہوتا ہے اس کے ذمہ دار سابق حکمران اور وہ بدلے میں اداروں کی ملی بھگت کی قوالی سناتے ہیں، حکومت میں غیر منتخب افراد کی تعداد زیادہ ہے، کیا ہم قوم کے منتخب کردہ عوامی نمائندوں کی، اجتماعی دانش سے کوئی مشترکہ کمیٹی نہی بنا سکتے جو اتفاق رائے سے موجودہ بحران کا قابل عمل حل نکال کے دے، یہ کام تو سویلین نے کرنا ہے!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: