تخلیقی و فکری یتیم نسلیں ——– عاطف جاوید

0

ہوا کے ہلکے سے جھونکے سے بھی جو چیز سب سے پہلے حرکت میں آتی ہے وہ درخت کے پتے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ رد عمل ان کی حساسیت کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ وہ ذرا سے ماحولیاتی تغیر کو بھی بھانپ لیتے ہیں۔

معاشرے میں سب سے حساس اور ذرا سی تبدیلی سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا طبقہ، ہر گھر میں ہنستا کھلکھلاتا بچپن ہوتا ہے۔۔۔

بچپن کے متعلق تمام قصے کہانیاں یہی بتاتے ہیں کہ اس سے زیادہ حسین وقت کسی انسان کی زندگی میں نہی آتا۔ پر رہتی دنیا میں اب تک جو دیکھا اور پڑھا اس سے دل دہل کر رہ جاتا ہے کہ یہ فلسفہ کتنا جھوٹا ہے۔۔۔

ٹراٹسکی نے اپنی کتاب میری زندگی میں لکھا تھا کہ ’’زندگی ہمیشہ کمزور کو نشانہ بناتی ہے اور ایک بچے سے زیادہ کمزور بھلا اور کون ہو سکتا ہے‘‘ یہ بات کتنی سچی ہے پر اس کے الٹ اگر تھوڑا سا اضافہ کروں تو یہ بات بھی درست ہے کہ سب سے زرخیز ترین دماغ بھی ایک بچے کا ہوتا ہے جس میں جیسا بیج بویا جائے ویسا ہی پھل حاصل کر لیا جاتا ہے۔۔۔

بچوں کے حوالے سے کئی چیزوں کو موضوع بنایا جا سکتا ہے مگر میں جس چیز پر لکھ رہا ہوں وہ اندر ہی اندر کافی عرصے سے مجھے ایک آسیبی کیفیت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔۔۔ اس میں بھی کئی ذیلی موضوع آسکتے ہیں پر میری بات فی الحال الیکٹرانک میڈیا کی حد تک محدود ہے۔

معاشرے کا ادب اور کلچر اس معاشرے کا چہرہ ہوتا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں ادب اور آرٹ شاہوں کے گھر کی باندی اور تاریخ کا کچرا سمیٹنے والوں کا کچرا دان تو ہے ہی پر پھر بھی کسی نہ کسی طور کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے۔۔۔ اگر کچھ نہیں ہو رہا تو وہ اس ادب میں ہماری گود میں پلنے والی نسل کی ترجمانی ہے۔۔۔ ہمارے آنگن میں کلکاریاں مارتے بچوں کے ساتھ ہونے والا جرم ہے جس پر ہماری ریاست ادبی حلقے اور پراگریسو سوچ رکھنے والے لوگ خاموش ہیں۔۔۔

اگر آپ کا پانچ چھ سال کا بیٹا یا بیٹی آپ سے اچانک یہ پوچھ بیٹھے کہ پاپا پائوں بھاری ہونا کیا ہوتا ہے۔۔۔ اگر آپ کا بچہ یا بچی جے ہنومان یا بھیم شکتی مان کہتا ہوا ادھر ادھر بھاگتا پھرے تو اس کو ڈانٹنے سے پہلے خود سے ایک سوال ضرور کریں۔۔۔

ہماری ٹی وی سکرین پر ہمارے بچوں کو کتنا وقت دیا جاتا ہے؟

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ دیہات پر مشتمل ہے اور بہت سے شہر بھی دیہاتوں سے مختلف نہیں۔۔۔ انٹرنیٹ ہر جگہ موجود نہیں۔ کیبل یا ڈش انٹینا پر لوگ ذاتی طور پر اپنی انٹرٹینمنٹ کا بندو بست کرتے ہیں اور یہ سب بھی جہاں ہے وہاں ہمارے نیشنل ٹیلی ویژن یا پرائیویٹ چینل پر بچوں کی ترجمانی کے لیے کوئی پروگرام موجود نہیں۔۔۔

پورا دن صبح سے شام تک ضمیر فروشوں کی چیخ و پکار سیاست سیاست کھیلتے چند قلم فروش اور ضمیر فروش ٹی وی کی سکرین کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر قبضہ کیے بیٹھے رہتے ہیں۔۔۔ نیوز چینل مالکان کا پورا فوکس خبر کی سنسنی، پروگرامز میں انہی گھسے پٹے چہروں کو لا کر بٹھانا، ان کو کسی جانوروں کے ہوتے ہوئے دنگل کی مانند آپس میں لڑوا کر لوگوں کے شعور کو اپاہج کرنا اور جھوٹی ریٹنگ حاصل کر کے مہنگے اشتہار لینا ہے۔۔۔

انٹرٹینمنٹ چینلز کی طرف بات کی جائے تو پورے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ساس نما ڈائن سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔۔۔ حقیقی زندگی میں محبت کو ایک گالی بنا دینے والے لوگ ٹی وی سکرین پر ہر ڈرامے میں یہی دکھاتے ہیں ایک حسینہ کے تین تین چاہنے والے ہیں یا ایک مجنوں تین تین حسینائوں کا مطلوب و مقصود ہے۔۔۔

کمرشلائز شو بز انڈسٹری اس حد تک منافع خور اور تخلیق سے دور ہو چکی ہے کہ کوئی نیا تجربہ کرتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے۔۔۔ اتنے بڑے بڑے رائٹر ز ڈائریکٹرز چینل مالکان فنکار تخلیقی طور پر اس قدر بانجھ ہیں کہ اپنی نسلوں کو ایک فرضی، ایک کارٹونک ہیرو دینے کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے۔۔۔ مغربیت کو کوستے دن رات مغربی تہذیب کو گالیاں دیتے یہ لوگ اس حقیقت سے بالکل نا آشنا ہیں کہ بچپن تجسس اور سوال کا گڑھ ہے۔۔۔ یہ بچے کی فطرت ہے اور فطرت خلا کو برداشت نہیں کرتی۔۔۔ وہ خلا پر کرتا ہے چھوٹا بھیم، شکتی مان، بیٹ میں، سپر مین، ونڈر وومین۔۔۔ اس خلا کو پر کرتی ہیں امریکی دفاعی ادارے کی فنڈنگ سے بننے والی وہ ویڈیو گیمز جن میں چن چن کر افغان اور عربی دہشتگردوں کو ویڈیو گیم کے مین پلیئر کے زریعے مارتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔۔۔ روز کوئی نہ کوئی نیا فکشنل کریکٹر سکرین پر ہوتا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی ہالی وڈ کا سپر ہیرو کارٹونز کی صورت میں ہمارے بچوں کی کمپیوٹر سکرین پر ہوتا ہے۔۔۔

اور ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ برقع اوینجرز؟ کمانڈر سیف گارڈ؟ اور بس؟ کارٹون میں بھی برقع اور دوسری طرف ایک کمرشلائزڈ ایڈور ٹائزمنٹ کمپین جس کا بنیادی مقصد اپنا صابن بیچنے سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔ اور اس کے علاوہ مدنی کارٹونز؟ جس میں دنیا جہان کے خود ساختہ فتووں کو مذہبی تعلیمات کا نام دے کر بچوں کے معصوم ذہنوں میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔۔۔

جس ملک میں فوج فلمیں بنائے، ڈرامے فنڈ کرے، دن رات سکرین پر بے ہودہ سیاست کی شعبدہ بازی کے علاوہ کچھ نہ ہو وہاں ایک صحتمند تخلیقی دماغ کی حامل نسل پیدا کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔۔۔

مندرجہ بالا حالات تو اس طبقے کے ہیں جس کی رسائی ان سب سہولیات تک ہے۔۔۔ اب ذرا اس نسل کا سوچیے جو جھونپڑیوں، گلیوں، فٹ پاتھوں دکانوں اور ورکشاپس پر پل رہی ہے۔۔۔ جن کے پاس یہ سب نہ ہونے کے برابر ہے۔۔۔ ان کے شعوری لیول کو اس مقابلہ بازی کی بےہودہ منڈی میں اپنے آپ کو ایک قابل فروخت یا قابل روزگار جنس بنانے میں کتنی صدیاں درکار ہوں گی۔۔۔ اس منافع خوری کی بے ہودہ منڈی نے جہاں بڑوں سے جینے کا حق چھینا ہے وہاں نئی نسلوں کے تازہ اور توانا پھیپھڑوں کو بھی جہالت کا کینسر لگا دیا ہے۔۔۔ اینیمیشن فلمز اول تو بنتی نہیں ہمارے ہاں اور اگر بنتی بھی ہیں تو سینما ہالز کی زینت ہوتی ہیں۔۔۔ پاکستان کے ایسے کتنے شہر ہیں جہاں اچھے سینما ہوں اور اگر ہوں بھی تو کتنا ایسا مواد بنتا ہے جو ایک فیملی اپنے بچوں کو لے جا کر دکھا سکے۔۔۔ اور اگر سینما بھی ہو اور بچوں سے متعلق فلم بھی ہو تو کتنے خوش نصیب ماں باپ ہیں اس ملک میں جو ہزار پندرہ سو روپے فی ٹکٹ کے حساب سے اپنے بچوں کو یہ تفریح مہیا کر سکیں؟ لے دے کر ایک ٹی وی سکرین بچتی ہے جس پر دن رات بے ہودہ ڈرامے اور گھٹیا سیاسی پروگرامز کے علاوہ کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔

مجھے اور کل کو چل کر شاید اس پل رہی یتیم نسل کو بھی اس ملک کے محققین ادیبوں چینل مالکان مصنفین اور پروڈیوسرز سے شدید اختلاف ہے اس بات پر کہ جس عمر میں جاگتی آنکھوں میں بھی خواب ہوتے ہیں ان آنکھوں میں ہم نے بے ہودگی منافرت اور من پسند پراپگنڈہ کی سلائیاں پرونے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔۔۔ ہم نے سائنسی علوم اور جغرافیائی حقیقتوں کو عام فہم بنا کر سکرین پر دکھانا تو دور کی بات صرف اے بی سی سکھانے کے لیے بھی جگہ نہیں چھوڑی۔۔۔ عینک والا جن جیسے شاہکار بنانا تو دور رہا۔۔۔ بچوں کی اخلاقی تدریسی اور ذہنی تربیت تو ایک طرف ہم ان کو ہنسنے کے لیے سکرین پر جوکر تک نہیں دے سکے۔۔۔

ذہنی اور نظریاتی طور پر یتیم کر دی جانے والی نسلوں سے کیا یہ امید لگائی جا سکتی ہے کہ یہ ریاست کبھی ایک ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گی۔۔۔ کیا ایک ایسی نسل سے یہ امید لگائی جا سکتی ہے جس کے ورثہ ان کو ایک فکشنل ہیرو دینے میں بھی ناکام رہے ہوں کہ کل کو وہ معاشرے میں کسی ہیرو اور ایک تخلیقی شہری کا رول پلے کر سکیں گے؟ ہم تخلیقی علمی اور نظریاتی طور پر ایک یتیم اور لا وارث نسل کو پروان چڑھا رہے ہیں۔۔۔ اور شعوری یتیمی مجرم بناتی ہے، دہشت گرد بناتی ہے، انتہا پسند بناتی ہے۔۔۔

(جاری ہے۔۔۔)

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: