جدید علمِ عمرانیات: اینتھونی گڈنز ۔۔۔ حصہ سوم — اسامہ ثالث/ ارم صغیر

0

گزستہ اقساط میں ہم نے عمرانیات کی تعریف پرکلاسیکل مفکرین کے افکارات کی روشنی میں کچھ بنیادی باتیں کی تھیں۔ اب ہم اس پر حتمی رائے قائم کرنے کے لئے عصر حاضر کے مفکر سے رجوع کرتے ہیں۔ اینتھونی گڈنز (1938ء) لندن میں پیدا ہوا۔ اس کا والد ایک کلرک تھا۔ متوسط ست طبقہ سے تعلق رکھنے والے اس ذہین طالب علم نے لندن اسکول آف اکنامکس سے ماسٹرزاور کنگز کالج لندن سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ تین درجن کے قریب کتب اور بیسیوں تحقیقی مقالات کا مصنف گڈنز متعدد علمی اعزازات حاصل کرنےوالا معروف برطانوی دانش ورہے۔ 70 کی دہائی سےلیکر آج تک گڈنز عمرانیات کے نظری مباحث میں سرگرمِ عمل ہے۔ ان کے خیالات مختلف کتب میں منتشر نظر آتے ہیں تاہم ان کی معروف کتاب The Constitution of Society 1984
اس حوالہ سے ممتاز ہے کہ ان کی فکر کا نچوڑ مذکورہ کتاب سمائے ہوئے ہے۔

اپنے پیش رووں کے برعکس گڈنز علی الاعلان عمرانیات کو سرمایہ دارانہ معاشرے کی پیداوار کہتا ہے۔ گڈنز عمرانیات کی تعریف بتائے ہوئے کہتا ہے کہ ’’عمرانیات جدید صنعتی معاشرے کے مطالعہ کا نام ہے’’ یہ تو ہوا عصرِ حاضر کے معروف دانشور کا عقیدہ اور ہمارا دعویٰ کہ عمرانیات کا بنیادی وظیفہ سرمایہ دارانہ معاشرت کا مطالعہ ہے ہر دو یعنی کلاسیکل و جدید مفکرینِ عمرانیات کی سند سے حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ گڈنز جدید سرمایہ دارانہ عمرانیات پر طرح طرح کے اعتراضات کے باوجود بھی اس کا ہی پجاری ہے۔ اس کے خیال میں عمرانیات ابھی تک سرمایہ دارانہ جدید معاشرے کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکی اور گڈنز کی تھویری آف اسٹرکچریشن اسی کی ایک کاوش ہے جس پر ہم نظری عمرانیات میں بات کریں گے۔

گڈنز اپنے پیش رووں میں سے ڈرکہائیم، پارسن اور سپینسر کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور مگر پارسن کے خیالات کو عمرانیات میں کلیدی حیثیت بھی دیتا ہے۔ گڈنز اپنے طریقہ کار میں میکس ویبر سے کافی مناسبت رکھتا ہے لیکن مکمل طور پر ویبر سے بھی متفق نہیں۔ عمرانیات کی تعریف وضع کرنے کے بعد اب ہم عمرانیات کے نفس ِ مضمون کی طرف چلتے ہیں۔

عمرانیات کا نفس مضمون کیا ہے؟
معاشرہ کیا ہے؟ یہ کیسے منصہ شہود میں آتا ہے؟ یہ کیسے عمل کرتا ہے؟ اس کے بنیادی خدوخال کیا ہوتے ہیں؟ اور یہ کن عناصر سے مل کر تشکیل پاتا ہے؟ یہ اور اس جیسے دیگر سوالات کا جواب ایک ماہر عمرانیات کا بنیادی وظیفہ ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ تمام سوالات صرف جدید معاشرے، جسے ہم سرمایہ دارانہ معاشرہ ے کہتے ہیں، کو سمجھنے کے لئے ہی ہیں۔ نیز یہ کہ مذکورہ بالا سوالات جتنے سادہ ہیں اپنی فطرت میں یہ اتنے ہی پیچیدہ اور مشکل ہیں۔ کسی مفکر کے ہاں ان سوالات پر وسیع پس منظر و پیش منظر میں بات ہوتی ہے تو کوئی ان پر نسبتاً کم گہری اور سادہ سطح پر بات کرتا ہے۔ یہاں ہم ایک بات واضح کرنا چاہیں گے۔

سماجی علوم بھی سائنسی علوم کی طرح چند فرضیوں کا مجموعہ ہوتے ہیں جو معاشروں میں حتمی سچائیاں بنا کر پیش کئے جاتے ہیں۔ ایسے ہی قضیات پر مشتمل (جو لازمی طور پر غلط نہیں ہوتے اور نہ نا ہی مصنفین تمام سائنسی مفروضات کو غلط سمجھتے ہیں) عمرانیات کا نفس مضمون دراصل ایک طویل افسانوی داستان جیسے الف لیلہ کی طرح پیچیدہ ہے۔ معاشرے کے متعلق اس کے خیالات داستان کے کرداروں کی طرح ہیں جن میں کبھی تو گہرا ربط ہوتا ہے اور کبھی واجبی سا یا نا ہونے کے برابر لیکن ان سب کرداروں کے بغیر یہ داستان نامکمل ہے اور الف لیلہ کی طرح ہی اس میں ہر نیا کردار کہانی کے تسلسل کو جاری رکھتا ہے۔ یہ کرادار مختلف زمان و مکاں میں جنم لیتے رہتے ہیں اور جنم لیتے رہیں گے۔ یوں یہ داستان نامکمل ہو کر بھی تکمیل کا التباس پیدا کرتی ہے اور ہر لمحے مکمل ہونے کی صلاحیت کی خصوصیت رکھتی ہے۔

یہ کہانی اس خیال سے شروع ہوتی ہے کہ معاشرہ افراد کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس خیال سے تو تقریباً سب ہی دانشور متفق ہیں کہ ’’معاشرہ افراد کے باضابطہ مجموعہ کا نام ہے‘‘ نیز یہ سب افراد نہ نا آسمان سے ٹپکے ہیں نہ نا زمین سے اگے ہیں بلکہ یہ ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہوئے اور امیبا، پیراسائیٹس سے ہوتے ہوئے مکھی و بندر کی منازل طے کر کےانسان بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کئی سو سال پہلے جب ان انسانوں نے ترقی وغیرہ نہیں کی تھی تب یہ سب غاروں میں ننگے رہتے تھے اور گھاس پھوس کھا کر گزارہ کرتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ ان کو شعور آیا۔ انہوں نے جانوروں کا شکار کرنے کے لئے اوزار/ ہتھیار بنائے۔ یوں ایک عرصہ تک انسانوں کی حیاتِ ارضی کا مقصد جانوروں کا شکار ٹھرا۔ شعور نے ذرا انگڑائی لی تو انسان نے سبزیاں اگانے کا فن سیکھا۔ جو بعد میں مستقل کھیتی باڑی کی شکل اختیار کر گیا۔ بابائے عمرانیات اگسٹ کامٹے ان ہی لوگوں کی بابت فرماتے تھے کہ یہ فرسودہ مذہبی لوگ تھے جو کئی کئی سو خداؤں کی پوجا کرتے تھے۔ پھر کچھ ذہین لوگ آئے جو کئی سو خداؤں کے بجائے دو ایک خداؤں کی عبادت کرنے لگے اور قدرے عقلی زندگی گزارنے لگے۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا حتیٰ کہ اٹھارویں صدی میں آکر سا ئنس کا دور دورہ ا ہوا اور انسان بالکل عقل مند، ذہین و فطین ہو گیا۔ یہ ساری رام لیلا سنانے کا کشٹ عموماً بشریات والے یا حیاتیات والے ہی اٹھاتے ہیں۔

اس داستان میں رنگ بھرنے کے لئے اب دوسرا کردار سماجی اداروں کا آتا ہے۔ انسانوں کا ارتقاء بس یوں ہی نہیں ہو گیا۔ انہوں نے انسان بنتے ہی اکھٹے رہنے کے لئے شادیاں کرنےکے رواج کو اپنایا۔ اب وہ شادی کیسی تھی یعنی ایک مرد ایک عورت، ایک مرد زیادہ عورتیں یا ایک عورت زیادہ مرد وغیرہ تو اس پر کوئی حتمی تحقیقی رائے نہیں پائی جاتی۔ البتہ یہ حقیقت مسلم ہے کہ ان میں شادی کرنے/ خاندان بنانے کا کوئی ضابطہ موجود تھا۔ یوں خاندان کا ادارہ وجود میں آیا جو ہر طرح کے معاشرے بلا امتیاز رنگ و نسل سب میں موجود رہاہے۔ اب ایک نیا کردار نمودار ہوتا ہے اور گویا ہوتا ہے کہ ہر قسم کے معاشروں میں ایک خاص قسم کا سیاسی نظام بھی موجود رہا ورنہ یہ ممکن نہیں کہ اتنے سارے افراد بغیر کسی سیاسی نظام کے اکھٹے رہ سکیں۔ یہاں پر بھی مفکرین کے کی خیالات میں تنوع پایا جاتا ہے کچھ کے خیال میں انسان بنیادی طور پر خبیث النفس طبیعت کا مالک ہے جو ہروقت طاقت کے نشے میں مست رہتا ہے یا پھر طاقت کے حصول کے نشے میں مزید یہ کہ انسان کسی مرکزی حکومت کے بغیر امن و سکون سے نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا نسانوں نے آپس کے کشت و خون سے تنگ آ کر ایک سیاسی نظام وضع کیا گیا ہو گا۔ دیگر کے بقول انسان ذہانت، تحمل اور عقل کا حسین امتزاج ہے۔ اس حیوان عاقل نے اپنی جان، مال اور آزادی کی حفاظت کے لئے سیاسی نظام وضع کیا ہو گا جسے معاہدہ عمرانی کہتے ہیں۔ نیز یہ کہ محض سیاسی نظام ہی کسی معاشرے کے وجود کو دوام نہیں بخشتا۔ انسانوں کے ہاں تعلیم و تعلم کا بھی ایک خاص ادارہ وجود رکھتا رہا ہے گو کہ ہر معاشرے میں اس کے قواعد و ضوابط مختلف رہے ہیں۔

مفکرین خاندان، سیاست اور تعلیم و تعلم کی سرگزشت کے ساتھ ساتھ زرگزشتی کے لئے ایک عدد معاشیات کے ادارے پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ مفکرین بتاتے ہیں کہ ابتدائی قسم کے معاشروں سے لیکر جدید معاشروں تک میں کوئی نا کوئی معاشی نظام وجود رکھتا رہا ہے (مصنفین اس الف لیلہ میں گھاس پھوس کھانے والے ابتدائی انسانوں کے لیے لے معاشی نظام کی کھوج لگا رہے ہیں)۔ ان سب سماجی اداروں کے ساتھ ساتھ ایک اہم ادارہ ’’مذہب‘‘ کا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب سے انسان کرہ ارض پر پایا جاتا ہے تب سے ہی مذہب کا وجود ہے۔ یعنی مذہب خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو ہر طرح کے معاشروں میں پایا جاتا تھا۔ یہاں یہ بات سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ عمرانیات کی رو سے مذہب معاشرے کا حصہ ہوتا ہے۔ یعنی معاشرہ محض مذہب سے بڑی اور اہم شئے ہے۔ معاشرہ تو ہوتا ہی ہے ساتھ میں اک عدد (یا ایک سے زائد مذاہب بھی ہوتے ہیں)۔ ایمائیل ڈرکہائیم تو یہاں تک کہتا ہے کہ مذہب معاشرے کی پیداوار ہوتا ہے۔ یعنی معاشرہ مذہب کا خالق ہوتا ہے (ان خالص مغربی عمرانیاتی خیالات کا معمولی فہم بھی بتاتا ہے کہ اسلامی عمرانیات یا مذہبی عمرانیات کوئی شئے نہیں ہوتی لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ہمارے کالجوں اور بالخصوص بلخصوص نصابی کتب میں امام غزالی، شاہ ولی اللہ اور علامہ اقبال کو عمرانی مفکر بتایا جاتا ہے)۔

ماہرین عمرانیات فرماتے ہیں کہ یہ پانچ سماجی ادارے معاشرے کے ارتقائی اور حرکی پہلوؤں کو سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں یہ پانچ سماجی ادارے اپنی کسی نہ نا کسی شکل (سادہ یا پیچیدہ) میں لازماً موجود ہوتے ہیں۔ انسان ان اداروں کی حدود کے اندر رہتے ہوئے آپس میں سماجی عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ معاشرہ اپنی سادہ شکل میں افراد کا مجموعہ ہوتا ہے اور یہ افراد آپس میں ایک دوسرے سے سماجی عمل اور سماجی تعامل (ایکشن اینڈ سوشل انٹرایکشن) کے ذریعےجڑتے ہیں۔ معاشرے میں ایک فرد جب کوئی کام کرتا ہے تو اسے سماجی عمل کہتے ہیں۔ اسی طرح افراد کے سماجی عوامل سے ملکر معاشرہ مجموعی طور پر کام کرتا ہے۔ افراد کے باضابطہ مجموعے کی بہتر تفہیم کے لئے مفکرین لوگوں کو دو دو، تین تین کے گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ہر معاشرے کا اپنا الگ کلچر ہوتا ہے۔ اس کی اپنی الگ رسومات ہوتی ہیں۔ معاشرہ مجموعی طور پر نئے پیدا ہونے والے افراد کو اپنا کلچر منتقل کرتا رہتاہے۔ افراد کی اس بنیادی تربیت سازی اس کا خاندان، تعلیمی نظام، فرد کے دیگر ہم عمر دوست اور میڈیا ملکر کرتے ہیں کلچر کی منتقلی کے اس عمل کو افراد کی سماجی تربیت سازی (سوشلائزیشن) کہتے ہیں (مصنفین اس حقیقت کا بھی بس سراغ ہی لگا رہے ہیں کہ جب میڈیا نہیں ہوتا تھا تو معاشرے کے افراد کی سماجی تربیت کا عمل کیسے مکمل ہوتا تھا)۔ معاشرہ طرح طرح کے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ عمرانیات اس پروسث کو سمجھنے کے لئے افراد کی معاشرتی درجہ بندی کرتی ہے۔ یعنی معاشرے میں مختلف قومیں، ذاتیں اور پیشے کے اعتبار سے لوگ ہوتے ہیں۔ کوئی فرد اپنے معاشرتی مقام و مرتبہ میں اہم ہوتا ہے تو کوئی غیر اہم۔ معاشرے کے ہر فر کا کوئی نہ نا کوئی بنیادی وظیفہ ہوتا ہے جو اس کا معاشرتی مقام متعین کرتا ہے۔ مثلاَ اگر ایک فرد استاد ہے تو استاد ہونا اس کا مقام جبکہ پڑھانا اس کا منصب ہے۔

اس سلسلہ کا پچھلا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: