گجرے —— غزالہ خالد

0

نو عمری کے کچھ خواب ایسےبھی ہوتے ہیں کہ عمر پختہ میں پہنچ کر کبھی کبھی ان پر بے اختیار ہنسی آجاتی ہے چونکہ اب زمانہ بدل گیا ہے تو نوجوانوں کے انداز بھی بدلے ہیں اور یقیناً خواب بھی بدلے ہوں گے جو شاید آج سے چند دہائیوں پہلے والے نوجوانوں سے مختلف ہوں۔

میں اپنی تحریر چند دہائیوں پہلے کے دور سے شروع کرنا چاہوں گی۔

مجھے بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا اسکول کالج میں بہترین نمبر لینے کی سر توڑ کوشش کرتی اور جو وقت ملتا اس میں مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتی جس میں خواتین کے ڈائیجسٹ بھی شامل تھے۔ کم عمر لڑکیاں جب ان ڈأیجسٹوں کی کہانیاں پڑھ لیتی ہیں تو خودبخود چوڑی۔ بندیا، کنگنا۔پایل، گجرے بھی خوابوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔اس زمانے کی ہر دوسری فلم اور ڈرامے میں یہ سین ضرورہوتا تھا کہ سگنل پر گاڑی رکی ہےاور ہیرو ہیروئن کو گجرے دلوا رہا ہے اور ہیروئن شرما شرما کر ان گجروں کو وصول کر رہی ہے۔

مجھے سائنس کی طالبہ ہونے اور پڑھائی کا شوق ہونے کے سبب زیادہ خواب دیکھنے کا تو وقت نہیں ملا لیکن یہ “گجرے” والا سین ہمیشہ رومانوی لگتا اور ایسا پسند آیا کہ کہیں لاشعور میں چپک سا گیا اور پھر ہوا یوں کہ ادھر بی ایس سی کا امتحان دیا ادھر شادی ہوگئی۔ رزلٹ بھی شادی کے بعد آیا اور میں اپنے ننھے منے معصوم سے خوابوں کی چھوٹی سی پوٹلی تھامے پیا گھرسدھاری اور پیا ملے ایک ذہین فطین سمجھدار انسان اوپر سے انجینئر بھی، جنہوں نے ہمیشہ خوابوں پر نہیں بلکہ عمل پر یقین رکھا ان کی نظر میں شاعری دنیا کا فضول ترین کام بلکہ فالتو لوگوں کا مشغلہ اور رومانوی افسانے وقت کا زیاں۔

اگر ان کے معیار پر کوئی شاعر پورا اترتا تو وہ صرف اور صرف غالب یااقبال باقی سب بےکار۔ اب آپ لوگ خود سوچیں کہ غالب و اقبال روز روز تو پیدا ہوتے نہیں۔

خیر تو بات ہورہی تھی میرے اس وقت کے معصوم خوابوں کی جس میں “گجرے” سر فہرست تھے، شادی کے وقت اتفاق سے موتیا کا موسم عروج پر تھا شادی کے بعد دعوتیں بھی بہت ہوئیں جب بھی تیار ہوکر دعوت میں جانے کے لئے گھر سے نکلتے جگہ جگہ پھولوں کے گجرے بیچتے لڑکے نظر آتے لیکن مجال ہے کہ ہمارے دولہا میاں ان گجروں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ لیں، میں للچائی ہوئی نظروں سے ان گجروں کو دیکھتی تو وہ گجرے بیچنے والے لڑکے میری نظروں کی نیت کی خرابی بھانپ لیتے اور پیچھے لگ جاتے، “صاحب باجی کے لئے لے لیں” لیکن صاحب کو باجی کی وہ للچائی ہوئی نظریں نہ جانے کیوں نظر نہیں آتیں۔ میں اپنے دل کو سمجھاتی، “کوئی بات نہیں لڑکوں کو ان باتوں کی کم ہی سمجھ ہوتی ہے یا کیا پتہ شرماتے ہوں کیونکہ ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے”۔

لیکن نہیں جناب سال پہ سال گذر تے چلے گئے لیکن ہمارے صاحب کو کبھی گجرے لینے کا خیال ہی نہیں آیا اگر کبھی میری نظریں سمجھ بھی جاتے تو کہتے، “ابھی لینے وینےکا بالکل وقت نہیں ہے سگنل کھل جائے گا پیچھے پورا ٹریفک جام ہوجاےگا” اور میں اپنی گردن ایسے ہلاتی رہتی جیسے انہوں نے بڑی عقل کی کوئی بات کی ہو۔

صرف یہی نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ گجروں کے بارے میں ان کے ایسے ایسے سنہرے خیالات سننے کو ملے جو کبھی ہمارے بھوسہ بھرے دماغ میں آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

اللہ نے ہمیں اپنی گاڑی سے بھی جلد ہی نواز دیا تھا اس لئے میری یہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران “گجرے” کیسے خریدے جا سکتے ہیں۔ اکثر جیسے ہی سگنل پر گاڑی رکتی گجرے والا بھاگ کر آتا اور میرے میاں جو ریڈ سگنل پر رکے ہوئے ہوتے گجرے والے کو دور سے ہی گرین سگنل دے دیتے کہ “بھاگو قریب نہیں آنا” یا پھر گجروں کو دیکھ دیکھ کر غصہ کرتے رہتے کہ “دیکھو پیسہ کمانے کے چکر میں کتنی کتنی سی کلیوں کو توڑ کر گجرے بنالیے ہیں” ایک آدھ مرتبہ تو گجرے بیچنے والے سے بھی کہہ دیا کہ “ارے انہیں تھوڑا بڑا تو ہونے دیتا پھر توڑتا، چل پھوٹ یہاں سے” اور میں دل مسوس کر رہ جاتی۔

فرمائشیں کرنے کی عادت نہیں تھی لیکن شادی جیسے جیسے پرانی ہوتی گئی بولنے کی ہمت بھی آتی گئی مثلاً آٹھ دس سال بعد اگر سگنل پر گاڑی رکی ہوئی ہوتی اور گجرے والا قریب ہی ہوتا تو کبھی تو میں اسے دیکھ کر بڑے درد بھرے لہجے میں کہتی “غریب ہیں بے چارے” کہ شاید میاں کے دل میں کچھ عفو و رحم پیدا ہوجاے لیکن توبہ کریں جی، موصوف کو معلومات بھی تو اتنی کہ بات موتیا کے فی کلو تھوک کے بھاؤ سے شروع ہوتی اور ایک گجرے میں کتنے پھول اور پھر ایک گجرا کتنے میں پڑا پر ختم ہوجاتی اور میں دل ہی دل میں مرعوب ہوتی رہتی۔

کبھی میں لمبی لمبی سانسیں کھینچ کر کہتی “واہ کتنی اچھی خوشبو آرہی ہے” تو فوراً میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے فرماتے، “ہنہہ پھولوں پر نقلی خوشبو کے اسپرے کرتے ہیں یہ لوگ صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہیں”۔
ایک آدھ مرتبہ ساری مروت بالائے طاق رکھ کر میں نے ڈھیٹ بن کر کہا کہ “لے لیں ناں” تو نہایت ناگواری سے گجرے والے کو بلایا اور غریب سے بحث کرکے پیسے کم کروانے کے بعد دو گجرے خرید کر مجھے ایسے دیے جیسے احسان کیا ہو اور ساتھ ہی آرڈر جاری ہوا، “انہیں بچوں سے دور رکھنا الرجی ہوجاتی ہے، ویسے ہی بچے بیمار ہوتے رہتے ہیں” چلو بھئی سارے ارمان ہی ختم ہوگئے، مجھےکونسا ان گجروں کو پہننا تھا یہی سوچا تھا کہ کمرے میں رکھ لیں گے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں اچھی سی خوشبو ہوجائے گی، ٹھنڈی سانس بھر کر سوچا چلو خود ہی سونگھ کر خوشبو سے لطف اندوز ہو جاتی ہوں یہ سوچ کر جیسے ہی گجروں کو ناک کے قریب لیجانا چاہا میاں صاحب کی آواز آئی،
“ہیں ہیں! یہ کیا کر رہی ہو ناک کے پاس نہیں لیجانا چھوٹے چھوٹے کیڑے ہوتے ہیں ان میں۔ ناک میں گھس جائیں گے”
یہ ایک نیا دل لرزا دینے والا انکشاف تھا سو گھر لاکر گجروں کو خاموشی سے فرج میں رکھا دو دن تک فرج کھولتے بند کرتے ان کے درشن کیے اور پھر کچرے دان میں پھینک دیئے۔۔

پھر جناب اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ ہم اپنے میاں کی کمپنی سے ملے ہوئے گھر میں شفٹ ہوگئے جس کے سامنے ایک بڑا لان بھی تھا اور اس لان میں موتیے کے پھولوں کے درجنوں پودے تھے جس میں ٹوکری بھر بھر کر خوشبو دار پھول آتےتھے۔
وہاں شفٹ ہونے کے بعد سے سولہ سال (کیونکہ ہم اس گھر میں سولہ سال رہے) تک ہمارے میاں نے ایک نئی بات شروع کردی یعنی اگر ہم کہیں جاتے اور کوئی گجرے والا پاس بھی آجاتا تو اس سے بڑے فخر سے فرماتے “ہمارے ہاں تو خود بہت پھول ہیں,چلو بھاگو یہاں سے” ایک آدھ مرتبہ تو گجرے والے کے پاس گاڑی روک روک کر بھی بتایا کہ” ہمارے ہاں تو خود بہت پھول لگے ہوئے ہیں”
میں نے کہا بھی کہ یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے اسےاس سے کیا فرق پڑے گا لیکن بس کیا کریں؟

اس گھر میں سولہ سال گذرے عمر میں بھی سولہ سال اضافہ ہوا اور سیانے صحیح کہتے ہیں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی اضافہ ہوتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں پر یہ اصول صادق نہیں آتا لیکن شکر ہے کہ مجھے عقل آتی رہی۔
اب جب زندگی مزید آگے بڑھ چکی ہے تو کچھ مشاہدات اور کچھ تلخ تجربات نے یہ سمجھا دیا کہ “پھول دلوانا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ پھولوں کی طرح رکھنا اہم ہے”

الحمداللہ کہ میرے میاں نے اسی بات پر عمل کیا انہوں نے مجھے پھول تو نہیں دلواۓ لیکن مجھے مرجھانے کمہلانے سے بچائے رکھا میرا دھوپ میں کھڑا ہونا یا باورچی خانے کی گرمی برداشت کرنا مجھ سے زیادہ انہیں تکلیف دیتا رہا اور یہی زندگی کی خوبصورتی ہے اور اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہےماشاءاللہ لا قوۃ آلا بااللہ۔

جیسا کہ میں نے ابتداء میں کہا تھا کہ نوعمری کے خواب الگ ہی ہوتے ہیں ہم نے بھی دیکھے اور ہمارے چھوٹے بھی دیکھ رہے ہیں انداز ضرور بدلے ہیں ترجیحات بھی بدلی ہونگی لیکن میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد اپنی نئی نسل خصوصاً لڑکیوں کو یہی بات سمجھانا ہے کہ ہمیشہ اس بات کو یاد رکھنا کہ مادی چیزیں اتنی اہم نہیں جتنا اہم ایک دوسرے سے محبت، عزت اور خیال ہے۔ یہ اگر نہیں ہوگا تو پھول تو کیا ہیرے جواہرات بھی بےکار ہیں اور لڑکے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بیوی کا خیال رکھ لیں انہیں عزت اور محبت دےدیں تو زندگی اچھی گذر جائے۔

اللہ ہم سب کی بیٹیوں کا واسطہ ایسے لوگوں سے ہی ڈالے جو چاہے پھول نہ دلوائیں بس انہیں پھولوں کی طرح رکھ لیں۔ آمین۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20