عمران خان کا خطاب: ٹھنڈ پڑ گئی —- شازیہ ظفر

0

میرے عزیز ھم وطنو۔۔۔۔!!!!

کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی وزیراعظم کو تقریر کرنا تھی میڈیا حسب معمول کئی روز سے چلا چلا کر اس موقعے کی اہمیت اجاگر کر رہا تھا۔۔ گرچہ ٹی وی کھلا ہوا تھا اور یہ تقریر شروع ہوچکی تھی ہم نے اسے کوئی خاص اہمیت نہ دی اور عدم دلچسپی کے ساتھ اپنے رات کے کھانے کی تیاری کی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھیں۔۔۔۔چلتے پھرتے تقریر کے الفاظ کان میں پڑتے رھے۔۔۔ پہلے تھوڑا اچھنبا ہوا یہ کیسا انداز ہے۔۔۔ وہ بھی ایک پاکستانی وزیراعظم کا۔۔۔ تھوڑی تقریر مزید آگے بڑھی ہماری حیرت میں اور اضافہ ہوا۔۔ اسی حیرت اور استعجاب نے رکنے پر اور پھر بتدریج بیٹھ کر پورے انہماک سے یہ خطاب سننے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔ کیا واقعی یہ سب کچھ ھم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں؟ کیا واقعی ہم سب کے دل کی آواز جنرل اسمبلی میں کھڑے اس شخص کی زبان سے ادا ہو رہی ہے؟

دیکھنا تقریر کی لذت کے جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ھے

ایک بھرپور مدلل اور جامع تقریر جو نہ صرف پوری قوم کے دل کی آواز تھی بلکہ پوری مسلمہ امہ کی ترجمانی کر رہی تھی۔۔۔بلاشبہ یہ ایک تاریخی خطاب تھا جو تاریخ میں سنہرے الفاظ کے ساتھ لکھا جائے گا۔۔۔۔ یہ اس تقریر پر فوری تبصرہ تھا اور یہ ھمارے دل کی آواز تھی۔۔۔

تقریر سننے کے بعد جہاں دل میں جوش، ولولہ اور اطمینان در آیا وھیں ھمیں عوام الناس کا ردعمل جاننے کی بھی بہت دلچسپی تھی۔۔۔ ہم جو ہر حکومتی عمل پر کڑی نظر رکھتے ھیں اور اس پر لعنت ملامت کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔۔۔ اب اس تقریر پر ردعمل کیسا ھوگا۔۔۔ لہذا ڈنر ٹیبل پراھل خانہ سے اسی موضوع پر تبادلہ خیال کرتے ھوئے ہم نے جلدی جلدی ساری مصروفیات لپیٹیں اور اپنا جام جم کھول کر بیٹھ گئے۔۔۔۔ انڈین میڈیا کی بلبلاہٹ اور بوکھلاہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔۔۔ “پردھان منتری عمران خان کشمیر کے مدعے پر چھبیس منٹ لگاتار بولے یدھ کی دھمکی بھی دے ڈالی” یقین کیجیئے یہ سارا واویلا سن کر دل میں ٹھنڈ پڑ گئی۔۔۔۔ اپنے ملک کے مقتدرہ حلقوں کے ردعمل کا جائزہ لیا۔۔۔سب خوش تھے۔۔ بڑے بڑے جید علماء اکرام اسلاموفوبیا، ناموس رسالت، جہاد، اور کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم کی فصاحت اور بلاغت کو خراج تحسین پیش کر رھے تھے۔۔۔کھلے دل سے سراہ رھے تھے۔۔۔۔ سنجیدہ حلقوں کے حساب سے یہ بہت عمدہ خطاب تھا وزیر اعظم نے بہت پر اعتمادی سے اپنے نپے تلے اور ٹھوس لہجے میں پوری قوم کا موقف بڑے احسن طریقے سے پیش کیا۔

جب عوامی ردعمل جاننے کی کوشش کی تو دیکھا کے پی ٹی آئی کے سپورٹر خوشی سے شادیانے بجا رھے ھیں، فرط مسرت سے رو رھے ھیں، سجدہ شکر بجا لا رھے ھیں۔۔ھونا بھی یہی چاھیئے تھا۔۔۔ انکے منتخب وزیر اعظم نے آج انکے قیمتی ووٹوں کی لاج رکھ لی تھی۔۔۔۔وہ جو کل تک غلط پالیسیوں پر حکومت سے نالاں تھے اور حلقہ احباب کے درمیان شرمندہ شرمندہ سے اس حکومت کو ووٹ دینے پر طنزیہ جملے طعنے سن رھے تھے انکے لیڈر نے یک لخت انھیں معتبر کر دیا تھا۔۔۔ انکا مان بڑھا دیا تھا یوں کہیئے کہ ایک قائد نے اپنی جماعت میں ایک نئی روح پھونک دی۔۔۔ یہ یقیناً مقام شکر ھے۔۔۔ بلاشبہ خوشی منانے کا موقعہ ھے۔۔۔۔

دوسری جانب عمران مخالف یا پی ٹی آئی مخالف یا یوں کہیئے حکومت مخالف عوامی ردعمل تھا۔۔۔۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ یہ ردعمل انتہائی عامیانہ، اور تنگ نظری پر مشتمل رہا ۔۔۔۔انتہائی افسوسناک۔۔۔ انتہائی مایوس کن۔۔۔۔ھم کیسے لوگ ھیں آخر؟ عجیب ھیں ھمارے یہ غیر سنجیدہ رویئے بھی مینڈکوں سے متعلق ایک غلط خبر چل جائے تو ھر طرف اسی سے متعلق ردعمل، لطیفے اور جگتیں شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ ہم بریانیوں کی پلیٹ سامنے رکھ کے کشمیریوں کے غم میں دکھی اسٹیٹس لگاتے ہیں۔۔۔ باربی کیو پارٹیاں کرتے ہوئے جہاد کی اہمیت پر روشنی بھی ڈالتے جاتے ہیں۔۔ فوج کو کشمیر پہ یلغار کے مشورے بڑے دھڑلے سے دے ڈالتے ہیں، حکومت کی پالیسیوں پر اسکے بخیے ادھیڑتے ہیں۔۔۔۔ مشکوک مشیر یا وزیر کی نامزدگی پر یہودی ایجنٹ اور قادیانیت کے فتوی لگاتے ہیں۔۔۔ سکھوں کو راھداری دینے کا سلسلہ قادیان سے جا ملاتے ہیں۔۔۔ منتخب وزیر اعظم سے کوئی بھی غلطی سرذد ہوجائے تو کوکین خان کہہ کے مدھوشی کے چخارےدار قصے مزے لے کر سناتے ہیں۔۔۔ اس بات پر شرمندہ ہوتے ہیں کہ یہ پلانٹڈ پرائم منسٹر اپنے غلط حکومتی اقدامات کے باعث عالمی سطح پہ پوری قوم کے لیے جگ ہنسائی کا باعث ھے۔۔۔۔ مگر جب وہی شخص سب سے بڑے عالمی فورم پر قوم کی بلکہ پوری مسلمہ امہ کی ترجمانی بہت بہترین انداز میں کرتا ھے تو ہم بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔۔۔ جب ھم بے محابا تنقید کرسکتے ھیں تو برملا تعریف کیوں نہیں کرسکتے؟ جب ھم وزیراعظم کے کسی بھی رویئے پر بحیثیت قوم تذلیل محسوس کر لیتے ھیں تو دوسری جانب اس عمدہ کاوش پر بححیت قوم ھی سر فخر سے بلند کیوں نہیں کرسکتے۔۔۔ دل میں گنجائش اور حوصلہ پیدا کیوں نہیں کرسکتے۔۔۔ کیوں کھلے دل سے یہ اعتراف نہیں کرتے کہ آج اسی کپتان خان نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ھے۔۔۔ ھمیں یہ تسلیم کرنے میں کیا جھجھک ہے کہ اسلام، ناموس رسالت، جہاد، حجاب، کشمیر اور عمران خان نے بہت دلیری اور مضبوطی سے اپنا موقف پیش کیا ہے جو بلاتخصیص پوری قوم کی امنگوں کا ترجمان ھے۔۔۔۔ بلاوجہ کی اعتراضات اٹھا کر خوامخواہ کے کھسیانی جملے بازی کرکے اپنی شخصیت داغدار مت کجیئے۔۔۔یہ حب علی نہیں ھے بلکہ بغض معاویہ ھے۔ اس وقت آپ دوسرے کا مذاق نہیں بنا رھے بلکہ اپنا مضحکہ اڑوا رھے ھیں۔۔۔

دنیا کو بتایئے کہ اعلی ظرف قومیں جب غلط فیصلوں پر اپنے حمکران پہ تنقید کرنے سے نہیں چوکتیں تو اسکے اچھے عمل پر پوری دیانتداری سے اسکے ساتھ کھڑی ھوتی ھیں۔۔ ھر خرابی کی جڑ اگر حکومت قرار پاتی ھے تو ھر احسن اقدام کا کریڈٹ بھی حکومت کو دینا سیکھئے۔

اپنا ظرف بڑا کجیئے اور قوم بن کے دکھایئے اور ھم آواز ھو کر کہئے۔۔۔۔۔ ایاک نعبدو و ایاک نستعین۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: