دیدہ عبرت بننے کے شوقین ——– خرم شہزاد

0

کتابوں سے جتنا علم ہمیں حاصل ہوا اس کے مطابق کسی بھی انسان میں یہ صلاحیت اور خوبی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو دیکھ کر سبق حاصل کرتا ہے۔ اپنی راہ سیدھی کرتا ہے اور خود کو اس مقام یا گڑھے تک پہنچنے سے بچا لیتا ہے جس میں اس کے سامنے کوئی دوسرا گرا ہو۔ کسی ایک کو راستے میں ٹھوکر لگتی ہے تو آس پاس کے پچاس اور لوگ بھی نیچے دیکھ لیتے ہیں۔ ہوتے ہیں ایسے بھی کچھ لوگ جو اپنے آپ کو صرف منفرد خیال نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو پہنچی ہوئی ہستی سمجھتے ہیں لیکن قدرت ایسے لوگوں کی لگام بھی جب کھینچتی ہے تو انہیں زمانے کے بہت سے اسباق نہ صرف یاد ہو جاتے ہیں بلکہ اگلے کسی بھی موڑ پر ان کے محتاط قدم قدرت کے دئیے سبق کی یاد دلاتے ہیں۔ کتابوں کے مطابق ایسے لوگ چراغ لے کر ڈھونڈنے پڑتے ہیں جو نہ کسی اور سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی خود ٹھوکر کھا کر سنبھلتے ہیں۔

ایسے لوگ آنے والے زمانوں کے لیے ایک مثال کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں، انہیں دیکھ کر بہت سے اپنی دنیا اور عاقبت سنوارنے کا کام کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کا ذکر بھی ایسی کتابوں کی زینت بن جاتا ہے جن پر زمانے کی گرد جلد سے زیادہ موٹی ہو جاتی ہے۔ افسوس کہوں یا خوشی کہ جن لوگوں کو مورخ ڈھونڈتے ڈھونڈتے اپنی عمرکا ایک بڑا حصہ ضائع کر بیٹھتے تھے وہ مجھے بیٹھے بیٹھے اپنے چاروں طرف میسر ہیں۔ آئیے ایسے لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں۔

کشمیر کے کچھ حصوں میں گزشتہ دنوں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے، یہ جھٹکے ملک کے بیشتر حصوں میں بھی لوگوں کو کلمہ طیبہ کا ورد کرنے پر مجبور کرتے رہے۔ کشمیر میں نقصان کچھ زیادہ ہوا کہ بہت سے مکانات گر گئے، بیشتر کو جزوی نقصان ہوا، سڑکوں کی حالت تو دیکھنے لائق تھی کہ کہیں کہیں تو سڑک ڈھونڈنے سے بھی نہ مل رہی تھی۔ راقم کو سن دو ہزار پانچ کے زلزلے کی تباہ کاریوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جبکہ سن دو ہزار دس کے سیلاب میں دو ماہ رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وہ نقصانات اس قدرے تھے کہ انہیں صرف زلزلے یا سیلاب کا نام دینا زیادتی ہو گی کہ سن دو ہزار پانچ کا زلزلہ باقاعدہ آفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ جانی نقصان کی تلافی تو کبھی ممکن نہیں ہوتی لیکن مالی نقصان بھی حد اور حساب سے باہر نکل گیا۔ کوٹھیوں والے سڑکوں پر آگئے تھے تو سوچیں کہ عام ایک دو کمرے میں رہنے والے کے کیا حالات رہے ہوں گے۔ زلزلے پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں کہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں کچھ سال بعد زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونا عام بات ہے۔ کوئٹہ میں سن انیس سو پینتیس کا زلزلہ مشہور ہے لیکن اب بھی وہاں کچھ سال بعد مختلف نوعیت کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں۔ میرا سوال بس اتنا سا ہے کہ جن علاقوں میں اکثر و بیشتر زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں، وہاں کے باسیوں کی زندگی میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے؟ کیا انہوں نے اپنے بچاو کے لیے اقدامات کئے ہیں یا ایسے ہر موقع پر اپنی غریبی کا رونا روتے ہوئے قدرت کو الزام دینا ہی پسندیدہ کام ہے؟

جاپان زلزلوں کی سرزمین کہلاتی ہے جہاں ایک سال میں دو ہزار سے زائد زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں لیکن ہم جاپان میں کسی بڑی آفت کے بارے کتنے با خبر ہیں؟ یقیناً ہماری یاداشت میں کوئی بہت پرانا اور شدید زلزلہ ہی محفوظ ہو گا جس کی بدولت جاپان میں شدید تباہی آئی ورنہ ایک بڑے عرصے سے ہم کسی حادثے سے لا علم ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ جاپان میں زلزلے آنا بند ہو گئے ہیں بلکہ جاپانیوں نے زلزلوں کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے اپنے آ پ کو محفوظ بنانے پر بہت کام کیا۔ انہوں نے اپنی عمارات کے ڈیزائن تبدیل کئے، زلزلہ پروف عمارات بنائی گئیں اور باقاعدہ ٹاون شپ پلاننگ کے تحت متاثرہ علاقوں کو بحال کیا جاتا رہا۔ عمارتوں سے ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کے کئی راستے رکھے گئے تاکہ لوگ زیادہ سہولت کے ساتھ اور جلدی باہر نکل سکیں۔ میڈیکل کی بنیادی تعلیم جسے ہم فرسٹ ایڈ کہتے ہیں اس کے بارے بہت زیادہ شعور اجاگر کیا گیا اور سکولوں میں باقاعدہ طالب علموں کو فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ دی جاتی ہیں، انہی اقدامات کی بدولت جاپان میں زلزلے تو کم نہیں ہوئے لیکن متاثرین کی تعداد کم سے کم تر بنانا ممکن ہو سکا ہے۔

اب پاکستان اور پاکستانیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ سن دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد تباہ ہونے والے شہروں کو کون سی ٹاون شپ پلاننگ کے تحت آباد کیا گیا؟ کتنے لوگوں نے اپنے گھروں کو باقاعدہ نقشے کے تحت بنوایا اور کتنے لوگوں نے زلزلہ پروف گھر بنوائے؟ زلزلے، آگ یا کسی اور ہنگامی صورت حال کے خیال سے ہماری کتنی عمارتوں میں دو یا اس سے زیادہ ہنگامی راستے موجود ہیں؟ چھے انچ بجری پر تارکول ڈالنے کے عمل کو سڑک کہنے والے کیا اب پرانی اور گمشدہ سڑک کی نشاندہی کرنے کے قابل بھی ہیں؟ ہمارے کتنے لوگوں کو فرسٹ ایڈ کا پتہ ہے؟ اور کتنے لوگوں نے اسے باقاعدہ سیکھنے کی کوشش کی ہے؟ کسی بھی حادثے یا ہنگامی صورت حال سے نبٹنے کے لیے ہمیں کس موقع پر کیا کرنا چاہیے۔ ۔ ۔ اس سب کی آگاہی ہمارے کتنے فیصد لوگوں کو ہے؟ افسوس کہ ہر سوال کا جواب نفی میں ہے اور یہ نفی ہماری نالائقی، بے حسی اور دوسروں کے لیے عبرت بننے کے شوق کی عکاس ہے۔

ایک زلزلے سے بچ جانے والے کسی دوسرے زلزلے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ یہ قدرت کے کام ہیں اور ہمارے گناہوں کی سزا ہے، کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے ہم زلزلے کے جھٹکوں میں ہی تصویریں بنانے لگ جاتے ہیں لیکن اپنے گھروں اور عمارتوں کو زلزلہ پروف بنانے کی سوچ ہمیں نہیں آتی۔ ہم ہر سال سیلاب کا سامنا کرتے ہیں لیکن نہ بند بناتے ہیں نہ ڈیم کی تعمیر میں سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ہمارے اردگرد روز کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی حادثہ ہو رہا ہوتا ہے لیکن ہم فرسٹ ایڈ کی تعلیم حاصل کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ہم عجب لوگ ہیں کہ دنیا میں شائد ہی کوئی ہم سے زیادہ قابل ہو، کم از کم ہماری باتوں اور خیالوں کی حد تک ہمارا یہی خیال ہے لیکن عملی زندگی میں ہم سے زیادہ بے عمل اور اپنا دشمن اس روئے زمین پر ملنا مشکل ہو گا۔ ۔ ۔ ہم وہ بننے کے خواہش مند رہتے ہیں جن کو دیکھ کر ملحدوں کو بھی خدا یاد آ جائے۔ ۔ ۔ دو لفظوں میں کہیں تو ہم دوسروں کے لیے عبرت بننے کے شوقین ہیںاور یقین مانیں کہ دنیا ہم سے عبرت حاصل کرتی ہے بس ہم ہی ہیں جو سبق حاصل نہیں کرتے۔ ۔ ۔ ایک آگ کے دریا کے پار ہمیں ایک اور دریا کا سامنا رہتا ہے اور ہم ساری عمر ڈوب کے جانا گوارا کر لیتے ہیں، قدرت کو الزام دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ۔ ۔ بس عقل کا استعمال نہیں کرتے۔ ۔ ۔ لیکن سوال تو یہی ہے کہ اگر ہم سلجھ گئے، سنبھل گئے تو عبرت حاصل کرنے والوں کو سامان عبرت کہاں سے حاصل ہو گا۔ ۔ ۔ اب دنیا میں ہر کوئی پاکستانی تو نہیں ہوتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: