دنیا کی قدیم ترین کمپنی تھامس کک دوسری صدی پوری نہ کرسکی‎ ——– عطا محمد تبسم

0

دنیا سیاحت اور سفر کی تاریخ میں تھامس کک ہمیشہ یاد رہے گی۔ دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے اس کمپنی کی معرفت سیاحت کے جو خوبصورت لمحات گزارے ہیں وہ انھیں ہمیشہ یاد رہیں گے۔

دنیا کی قدیم ترین برطانوی سفری کمپنی تھامس کک دوسری صدی پوری نہ کر سکی۔ پونے دو صدی یعنی 178 سال کا سفر 200 ملین پونڈ نہ ہونے سے اختتام پذیر ہوا۔ تھامس کک دیوالیہ ہو گئی اور اس کمپنی سے سیر و سیاحت کرنے والے ہزاروں افراد دنیا بھر کے ممالک میں پھنس کر رہ گئے۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے پھنسے ہوئے برطانوی مسافروں کو گھروں تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔ حکومت نے تھامس کک کی طرف سے تقریباً پندرہ کروڑ پاونڈز امداد کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جس سے دنیا کی سب سے پرانی اور برطانیہ کی سب سے بڑی ٹریول فرم ’’Thomas Cook‘‘  نے 178 سال بعد ایک قصہ پارینہ بن گئی ہے۔ 23 ستمبر پیر کی صبح کمپنی کے دیوالیہ ہو جانے کا اعلان ہونے سے تمام پروازیں، تعطیلات، منسوخ ہوئیں اور 22 ہزار افراد ملازمت سے محروم ہو گئے، کمپنی نے برطانیہ میں عدالت عظمی سے “جبریہ تحیل” کی درخواست کی ہے، تھامس کُک گروپ نے آخری لمحات میں ایک چینی کمپنی سے معاملات کرنے کی کوشش کی لیکن انتہائی کوششوں کے باوجود شیئر ہولڈرز اور فنڈنگ کرنے والوں کے درمیان بات چیت کا نتیجہ کسی معاہدے کی صورت میں سامنے نہیں آ سکا۔ ایک لاکھ 60 ہزار برطانوی مسافر جو آن بورڈ تھے مشکلات کا شکا ر ہو گئے اور دنیا بھر کے ممالک میں تھامس کک کے مسافر ائیر پورٹ اور ہوٹلوں میں پھنس کر رہ گئے۔ کمپنی نے 6 لاکھ سے زائد سیاحتی منصوبے منسوخ کر دئیے۔ ایک اندازے کے مطابق ایسے مسافروں کی تعداد 6 لاکھ سے زائد ہے۔

اس اعلان سے بھارت میں بھی کھلبلی تو مچ گئی لیکن تھامس کک انڈیا نے فوراً ہی ایک پریس ریلیز جاری کر دیا۔ جس میں بتایا کہ وہ برطانوی کمپنی سے بالکل الگ ہے۔ برطانوی کمپنی کی اس میں 77 فیصد حصہ داری تھی جو اس نے اگست 2012 میں کناڈا کی کمپنی فیئر فیکس فائنشیل ہولڈنگس کو بیج دی تھی۔ اس کے بعد حقیقی کمپنی کی تھامس کک انڈیا میں کوئی حصہ داری نہیں رہ گئی۔

تھامس کک انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر مادھون مینن کا کہنا ہے کہ تھامس کک انڈیا بالکل الگ کمپنی ہے اور اس کا کام کاج معمول کے مطابق چل رہا ہے اور تھامس کک انڈیا کے پاس 30 جون 2019 کو 1389 کروڑ روپے کی نقدی اور بینک بیلنس ہے اور اس پر کوئی قرض نہیں ہے۔

برطانوی ٹریول کمپنی تھامس کک ماضی کی شاندار عظمت کھو چکی ہے۔ کمپنی کو گذشتہ کچھ عرصہ سے شدید آن لائن مسابقت کا سامنا تھا اور بکنگ میں تشویشناک حد تک کمی کیلئے اس نے برطانیہ کی بریگزیٹ سے متعلق غیر یقینی کیفیت کو ذمہ دار قرار دیا تھا اور کمپنی خانگی سرمایہ کاری کے ذریعہ کئے جانے والے 200 ملین پاؤنڈ کا تحفظ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی جو بالآخر دیوالیہ کی صورت میں سامنے آیا۔ تھامس کک برطانیہ کی سب سے پرانی کمپنیوں میں شامل ہے جس کا آغاز 1841 میں ہوا۔ تھامس کک کے دیوالیہ ہونے سے اس کمپنی کے ذریعے بیرون گئے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی تازہ مثال ترکی میں ایک برطانوی خاندان کی پیش کی جا سکتی ہے جسے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے مالکان نے روک لیا ہے اور ان سے تاوان کی مد میں بھاری رقم طلب کی گئی۔ ترکی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں رہائش پزیر برطانوی کنبے کو ہوٹل کے منیجر نے اس وقت حیرت میں مبتلا کر دیا جب اس نے انہیں تاوان کے طور پر بہت بڑی رقم ادا کرنے کو کہا۔ مینجر نے کہا کہ انہیں ہوٹل چھوڑنے یا یہاں قیام کرنے دونوں صورت میں تاوان کی رقم ادا کرنا ہو گی۔

برطانوی خاندان کی طرف سے اس کی وجہ پوچھنے پر پتا چلا کہ یہ اقدام اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ لوگ برطانیہ کی حال ہی میں دیوالیہ ہونے والی کمپنی ‘تھامس کک کے ذریعے ترکی آئے تھے۔ اب انہیں کمپنی کی طرف سے نہیں بلکہ خود ہی اپنے تمام اخراجات برداشت کرنا ہو گے۔ تھامس کک کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے گاہکوں اور صارفین کی طرف سے مالی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتی۔ کئی ماہ سے بگڑتی صورت حال کا شکار تھامس کک کے حصص لندن اسٹاک ایکسچینج میں مزید مندی کا سامنا کرنا پڑا۔ کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں %20 کی کمی واقع ہوئی۔

برطانوی حکومت اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے لیز پر طیارے حاصل کرنے پر مجبور ہو گی اور دنیا بھر میں 6 لاکھ سیاحوں کے پروگرام کو از سر نو منظم کرنا ہو گا۔ ان میں 1.5 لاکھ برطانوی سیاح بھی ہیں۔ اسی طرح مذکورہ اعلان نے دنیا بھر میں کمپنی کے 22 ہزار ملازمین کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جن میں 9 ہزار برطانوی ہیں۔ تھامس کُک کمپنی 1841 میں برطانیہ میں قائم کی گئی تھی۔ اس زمانے میں وہ ملک میں ایک دن ٹرین کے سفر کا انتظام کرتی تھی۔ کمپنی کو مختلف وجوہات کی بنا پر گذشتہ چند برسوں میں شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا رہا۔ رواں سال مئی میں کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ اس کے خالص قرضوں کا حجم بڑھ کر 1.25 ارب پاؤنڈز تک پہنچ گیا ہے۔ مشکلات کا شکار ایک برطانوی خاندان نے بتایا کہ انہوں نے ترکی میں اپنی تعطیلات میں قیام و طعام کی پوری قیمت “تھامس کک” کو ادا کر دی ہے، جس میں ہوٹل کے میں قیام، تین کھانے شامل ہیں اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ شامل ہے تا ہم ہوٹل کے عہدیدار نے بتایا کہ انہیں کمپنی کی طرف سے کسی قسم کی رقم ادا نہیں کی گئی ہے۔ ایک برطانوی خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ترکی کے ایک ہوٹل میں یرغمال بنایا گیا۔ ہوٹل کی انتظامیہ نے انھیں اپنے کمروں میں رہنے کی اجازت دینے کے لیے 1600 ڈالر اضافی ادا کرنے کو کہا ہے۔ دنیا سیاحت اور سفر کی تاریخ میں تھامس کک ہمیشہ یاد رہے گی۔ دنیا بھر کے کروڑوں افراد نے اس کمپنی کی معرفت سیاحت کے جو خوبصورت لمحات گزارے ہیں وہ انھیں ہمیشہ یاد رہیں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: