عمران خان: یو این کے میدان میں بھی ورلڈ کپ جیت لیا‎ ——– عطا محمد تبسم

0

عمران خان نے یواین او کے میدان میں ایک مرتبہ پھر ورلڈ کپ جیت لیا۔ خان کی تقریر اب تک سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خطاب عمران خان کو ایک بار پھر دنیا بھر میں مقبولیت کی انتہا پر لے گیا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم کی تقریر ان سے پہلے ہوئی، لیکن 17 منٹ کی یہ تقریر نہ تو کہیں دیکھی گئی اور نہ ہی اس کی بازگشت سنائی دی۔

مودی کی تقریر کا کوئی موضوع نہیں تھا۔ ان کا ایک ہی جملہ ’’ہم اس دیس کے رہنے والے ہیں جس نے پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے‘‘ سنا گیا لیکن ان کے خطاب کے وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف نیو یارک میں بڑی تعداد میں مظاہرین ’مودی قاتل‘ اور ’مودی دہشت گرد‘ کے فلک شگاف نعرے لگ رہے تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں جبری پابندیاں اور کرفیو ختم کرنے کے مطالبات نیویارک میں لوگوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ عمران خان کی تقریر، مودی کی خطے میں امن، شدت پسندی اور ترقی کا دندان شکن جواب تھا۔ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ عمران خان کو جنرل اسمبلی میں بولنے کے لیے اتنا اچھا سلاٹ نہیں ملا۔ وہ لنچ ٹائم کے دوران بولیں گے جب ہال عام طور پر خالی ہو چکا ہوتا ہے لیکن عمران خان کی تقریر کے وقت ہال میں غیر معمولی حاضری تھی اور ان کی تقریر کے دوران تین بار تالیوں کی گونج بھی سنائی دی۔

عمران خان کی تقریباً 50 منٹ تقریر، ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈ تھا۔ رات گئے اور اگلے دن تک ان کی تقریر پر بحث و مباحثہ جاری رہا۔ خان نے اپنے خطاب میں دنیا پر واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی جنگ کا آغاز ہو گیا تو اس کے پوری دنیا پر بھیانک اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم دن بہ دن بڑھتے چلے جا رہے ہیں لیکن عالمی برادری مادیت پرستی کی وجہ سے خاموش ہے۔ دنیا کو بھارت کی بڑی آبادی والی مارکیٹ تو نظر آ رہی ہے لیکن وہ 80 لاکھ لوگ نظر نہیں آ رہے جنہیں گزشتہ53 روز سے کرفیو کے نام پر قید کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ظلم کے خلاف آخری سانس تک لڑیں گے، ہمارا ایمان’ لا الہ الا اللہ‘ ہے۔ انھوں نے مغربی ممالک کو مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام فوبیا کی وجہ سے دنیا میں تقسیم بڑھی۔ افسوس کی بات ہے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے اس بارے میں توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام صرف ایک ہے جو حضور ﷺ نے ہمیں سکھایا۔

انھوں نے عالمی برادری سے کہا کہ’ اقوام متحدہ دو نیوکلیئر طاقتوں‘ کے آمنے سامنے آنے سے پہلے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرے میں ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے، اقلیت سے اچھا سلوک نہ کرنا اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے۔ ہولوکاسٹ کے بارے میں احتیاط کی جاتی ہے کہ یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے، ہم چاہتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ کی عزت کی جائے۔ لہٰذا یواین او بھی اپنی مجرمانہ خاموشی کو توڑے ا ور کشمیر کی آزادی میں اپنا کردار ادا کرے۔

عمران خان کی تقریر متاثر کن تھی۔ ان کے مخالفین کے پاس اس پر تنقید کے لیے کچھ باقی نہ رہا تھا۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم بھی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ آج اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر نے کشمیر یوں کے دل جیت لیے ہیں۔ گو انھیں یہ شکوہ رہا کہ عمران خان نے ڈاکٹر عافیہ کا مسئلہ اس فورم پر نہیں اٹھایا ’امیر جماعت سراج الحق‘ نے اسے ایک مثبت خطاب کہا۔ ایک بچکانہ تبصرہ بلاول بھٹو کا تھا، انھوں نے وزیراعظم کے خطاب کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو 50 روز قبل دنیا بھر کے ممالک کا دورہ کر کے کشمیر کا مقدمہ لڑنا چاہیئے تھا۔

شائد ایسے ہی تبصروں پر جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آرنے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں آپ کو برنال کی ضرورت ہے اور امید ہے آپ کے پاس ہو گی اور اگر نہیں ہے تو میں بھجوا دیتا ہوں‘۔ عمران خان نے اس خطاب میں موسمی تبدیلی پر بھی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ، اقوام متحدہ کو موسمی تبدیلی پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ گلیشئرز پگھلتے رہے اور کچھ نہ کیا تو بڑی تباہی ہوگی۔ اقوام متحدہ کو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے بارے میں عمران خان کا یہ مشورہ سیاسی بصرت والوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ گلیشئرز پگھلتے رہے اور کچھ نہ کیا تو بڑی تباہی ہو گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: