قصہ ایک سیاسی پوسٹر کا جس نے ہمیں ’’شہر بدر‘‘ کر دیا ——– اظہر عزمی

0

ایک اشتہاری کی باتیں
ہمارے کالج کے دن تھے اور دن رات ملک میں جنرل ضیا الحق کی حکمرانی تھی۔ سیاست پر پابندی اور “میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند” والے سیاست دان اور ورکرز پابند سلاسل تھے۔ پیپلز پارٹی حکومت کی خاص “مصلوب نظر ” تھی۔ ملک میں جو اصل جیالے تھے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے۔ باقی خاموش تھے یا اندرون خانہ جنرل ضیا کے پیچھے تھے۔ ان میں کچھ اپنی حلف برداری کی شیروانیاں سلوانے کے لئے درزی ڈھونڈتے پھر رہے تھے۔ یہ درزی اقتدار کی غلام گردشوں میں ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔

ابتلا کے اس دور میں بھٹو کے اصل جیالے جانوں کی پروا کئے بغیر حکومت کے سامنے سینہ سپر تھے۔ ان میں ایک نام کراچی کے مسرور احسن کا تھا۔ ہماری ان سے واقفیت تو دور کی بات کبھی دور کی سلام دعا بھی نہ رہی البتہ ان کے ایک رفیق اور پارٹی ورکر اسد نقوی ہمارے چھوٹے بھائی وجاہت عباس (بزمی) کے قریبی دوست تھے۔ اسد کو ہم بچپن سے دیکھ رہے تھے۔ سیدھا سادا لڑکا، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے سیاست آ لپٹے گی۔

مسرور احسن جیل چلے گئے۔ اسد ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مسرور بھائی کی رہائی کے لئے ایک پوسٹر لکھنا ہے۔ خیال رہے کہ ابھی ہم خود کالج میں پڑھ رہے ہیں۔ ۔ سیاست کا ہمیں بچپن سے شوق تھا مگر سیاست دانوں سے قربت یا سیاست میں عملی طور پر حصہ کبھی نہیں لیا۔ اسد نے کہا اور ہم نے پوسٹر لکھ دیا۔ ہمارا خیال تھا کہ اسد کا یہ جذباتی رویہ ہے جو کہ وقتی ہے اور نہ ہی پوسٹر نے چھپنا ہے۔ پوسٹر کے لئے پہلے رہا کرو کا روایتی نعرہ لکھا اور اس کے بعد دو شعر داغ دیئے جو اللہ جانے کس کے تھے:

جذبات کے اظہار پہ پہرے نہ بٹھاو
خاموش رہو گے تو گھٹن اور پڑھے گی

گو منزل مقصود ابھی دور ہے لیکن
رک جائے مسافر تو تھکن اور بڑھے گی

ایک دن کیا دیکھتے ہیں کہ یہ پوسٹر دیواروں پر چسپاں ہو چکا ہے۔ ہم تو ڈر گئے کہ یہ کیا ہوگیا ؟ والد صاحب کے علم میں اگر ہماری یہ کارروائی آگئی تو پہلے “چھترول” یہیں ہوجائے گی۔ وہ تو خیر جو ہونی تھی سو ہونی تھی (یہ بات کبھی والد صاحب کے علم میں ہی نہیں آئی)۔ اصل جان یہ نکلی جارہی تھی کہ اگر پوسٹر کی چھان بین ہوئی تو صاحب السطور کا نام بھی آئے گا۔ ہم کوئی حبیب جالب تو نہ تھے جو کہہ اٹھتے:

ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

سوچا کیا کریں؟ پہلے اپنے آپ کو خوب ہی برا بھلا کہا کہ ضرورت کیا تھی یہ سب کرنے کی۔ محلے میں تعزیتی اشتہارات لکھ کر اپنا شوق پورا کر لیا کرو۔ علاقہ میں مختلف تنظیموں کے مجلے چھپتے رہتے ہیں وہاں اپنے فن کے جوہر دکھا دیا کرو۔ اتنا ڈرتے ہو تو پھر یہ سب لکھتے کیوں ہو۔ بڑا دماغ لڑایا۔ دوستوں نے بھی مشورہ دیا کہ کارزار سیاست کی تم دھوپ بھی نہیں سہہ سکتے چے جائیکہ کہ قید و بند۔ جن سے مشورہ لیا وہ ہم سے چار ہاتھ زیادہ ڈرپوک نکلے۔

ذہن میں میں آیا کہ خیر چاھتے ہو تو خیرپور چلو۔ والدہ کو کہا کہ بہت دنوں سے ماموں سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔ والدہ خوش ہوگئیں کہ پہلی دفعہ بھانجے کو ماموں کی یاد ستائی اور یوں ہمیں خیرپور میرس جانے کے لئے کرایہ و دیگر اخراجات کی مد میں چند روپے دے دیئے گئے۔ اب ہماری منزل مقصود ہمارے ماموں کا گھر خیرپور میرس تھا۔

کچھ دن وہاں رہے لیکن چھوٹے شہر میں تو دن کاٹے نہیں کٹتا۔ طبیعت بھر گئی۔ کراچی کا خیرپور میرس سے کوئی موازنہ ہی نہیں گو کہ یہاں کہ لوگ بہت مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ ماموں کا گھر شہر کے بیچوں بیچ شاھئ بازار میں تھا۔ دو قدم بھرے اور شہر کے مرکز اور سب سے با رونق مقام پنج گلہ پہنچ گئے۔ بس یہی وجہ ہے کہ چھوٹے شہروں میں کوئی فاصلہ فاصلہ ہی نہیں ہوتا اسی لئے وقت رکا رہتا ہے۔ کراچی میں ہوں اور ایک چکر ٹاور کا بس میں لگا لیں۔ پھر دیکھیں وقت کیسے پر لگا کر اڑتا ہے اور آپ کہیں آنے جانے کے قابل نہیں رہتے۔

چلیں واپس چلتے ہیں اپنے مسئلے کی طرف، کراچی سے باہر نکلے تو ڈر کم ہوا اور یہ احساس ہوا کہ جتنا ڈر رہے ہیں۔ اس ڈر کے ساتھ کراچی میں بہ حفاظت رہ سکتے ہیں۔ اب خیرپور کاٹنے کو دوڑنے لگا۔ ہم پندرہ دن رہنے کے لئے گئے تھے جب ہم نے پانچویں دن صبح ناشتے پر رات سکھر ایکسپریس سے واپس کراچی جانے کا مژدہ سنایا تو ماموں ممانی منہ دیکھتے رہ گئے۔ ماموں کم گو تھے۔ بس اتنا ہی بولے:
’’کچھ دن اور رک جاتے تو اچھا تھا‘‘

ممانی بولیں:
’’اے بھیا، ہم نے تو سنا تھا ماموں کی محبت میں تڑپے جا رہے تھے۔ یہ پانچواں سورج کیا چڑھا۔ ماموں کی ساری محبت دھری کی دھری رہ گئی۔‘‘

اب کسی جذباتی تقریر کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ رات افضال رکشہ والے کے ساتھ اسٹیشن آئے اور اگلی صبح کراچی پہنچ کر اپنی خود ساختہ “شہر بدری” کے خاتمے کا اعلان کردیا۔


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 6 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: