بات میں اثر پیدا کرنے کا بنیادی اصول۔۔۔ خبیب کیانی

0

موجودہ دور کو اگر انفارمیشن یا معلومات کا دور کہاجائے تو یہ کسی طورپرغلط نہ ہو گا۔یہ معلومات کمیونیکیشن یا رابطہ کاری کے ذریعے کسی فرد یا گروپ تک پہنچائی جاتی ہیں۔ بطور ماہر نفسیات مجھے اکثر اس قسم کے سوالوں کا سامنا رہتاہے کہ ایک بہترین رابطہ کار کیسے بنا جائے؟ وہ بات کیسے کہی جائے کہ جس کو لوگ سنیں، اپنے اذہان میں جذب کر لیںاور پھر اپنی ذات کا حصہ بنا لیںیا پھر یہ کہ کامیابی کے لیے بہترین رابطہ کاری کیسے کی جا سکتی ہے؟۔ جواب میں سب سے پہلے تو یہ عرض کرتا ہوں کہ کسی بھی بات کو کرنے سے پہلے ہمیں رابطے کے مقاصد ، الفاظ کے چنائو، ادائیگی،مناسب وقت اور انداز جیسے بنیادی نکات کو تو بہر حال ذہن میں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ تمام اسباب نہ صرف ہمارے رابطے کی افادیت کوبڑھا دیتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیںزندگی میں ایک کامیاب فرد یا رابطہ کار بننے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ان تمام اسباب پر آئندہ کچھ نشستوں میں تفصیل سے لکھنے کی کوشش کروں گا۔

آج کا موضوع ان اسباب سے ہٹ کر اس بنیادی اصول سے متعلق ہے جو کسی بھی فرد کو ایک کامیاب رابطہ کار سے ایک کامیاب ترین رابطہ کار بنا دیتا ہے۔ یہ اصول رابطہ کاری کے علاوہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی کام آتا ہے اور کسی بھی فرد کو ان معاملات میں بہترین کی درجہ بندی میں شامل ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اب آپ یقینایہ سوچ رہے ہوں گے کے یہ نادر ونایاب اصول ہے کیا؟تو جناب عرض یہ ہے کہ آپ جب بھی رابطہ کریں یا زندگی میں کسی معاملے سے گزریں تو کوشش کریں کہ سامنے موجود فرد کو مکمل توجہ ، خلوص اور آپ کے ساتھ عزت پر مبنی ایک باہمی تعلق کا احساس ہو۔وہ تمام افراد جو اپنے رابطوں اور معاملات میں اس احساس کو پیداکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ دوسروں کی رائے میں قصداً یا غیر قصداً بہترین کی درجہ بندی حاصل کر لیتے ہیں۔

سٹیفن کووے (مرحوم) جن کو سیلف ڈویلیپمنٹ کی فیلڈ کے صوفی کے طور پر جانا جاتا ہے جب ایک لمبے تربیتی پروگرام میں کئی سو طلبا وطالبات کو پڑھا کر فارغ ہوئے تو حسب معمول بہت سے طلبا وطالبات نے فردا ًفردا ًآکر شکریہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ انہی میں سے ایک طالبہ نے جب سٹیفن کے پاس آکر یہ کہا کہ آپ نے ہمیں شاندار انداز میں پڑھایا،آپ سے پڑھنا زندگی کے بہترین موقعوں میں سے ایک موقع تھا لیکن مجھے آپ سے ایک شکایت بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ مجھے اتنا عرصہ پڑھانے کے باوجود میرا نام تک نہیں جانتے۔ یہ جملہ سٹیفن کے لیے ایک غیر معمولی جملہ تھا۔ سٹیفن کا کہنا تھا کہ اس جملے نے انہیں اس بات کا احساس دلایا کہ شاید وہ بہترین رابطہ کاری کے اس بنیادی اصول سے واقف ہی نہیں تھے کہ جس فرد سے رابطہ کیا جا رہا ہو اس کا یہ محسوس کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ رابطہ کار اُس رابطے کے ساتھ ساتھ اُس فرد کوبھی انتہائی اہمیت دیتا ہے۔سٹیفن نے بعد میں لکھا کہ ـ (People don’t care how much you know untill they know how much you care).آپ کس قدربھی علم رکھتے ہوںلو گ اُس علم کو اس وقت تک اہمیت نہیں دیں گے جب تک آپ رابطہ کاری کے دوران لوگوں کو اہمیت نہیںدیتے۔ اپنے ذہن کے پردے پر اپنی زندگی کی فلم چلا کر غور کیجیئے کہ کیا جن لوگوں نے آپ کی زندگی پر سب سے زیادہ مثبت اثر ڈالا وہ بہترین رابطہ کاری کی اس خوبی کے حامل تھے یا نہیں؟اپنی زندگی کی فلم کے تجزیے اور اس سے حاصل ہونے والے جوابات کی روشنی میں اپنی رابطہ کاری کی صلاحیت کو پرکھیے اور اپنے تمام رابطوں اور تعلقات میں اس بنیادی اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کا میابیاں سمیٹئے۔

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: