اسکندر مرزا کی یادداشتیں ——– نعیم الرحمٰن

0

قیام ِ پاکستان کو ابھی صرف بہتر سال ہوئے ہیں تا ہم اس ملک کی مختصر تاریخ بھی واضح نہیں۔ پاکستان کی تاریخ کے مختلف پہلو اسرار کے پردے میں چھپے ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم کی گیارہ اگست کی تقریر ہو، قائدکی بہن فاطمہ جناح کی تحریر کردہ ’’میرا بھائی‘‘ کے چند صفحات کا آج تک جاری سنسر، قائدکے ذاتی معالج کرنل الہٰی بخش کی کتاب کی عدم دست یابی، قائداعظم کے پاکستان کے پہلے یوم آزادی چودہ اگست پر پیغام کے ساتھ سلوک، بانی پاکستان کو ڈاکٹروں کے مشورے پر نواب بہاولپور کے ملیر باغات میں واقع بنگلے میں منتقلی کے لیے نواب صاحب کی اجازت کئی روز تک نہ ملنا یا ان کی کوئٹہ سے کراچی آمد پر بغیر کسی نرس کے خراب ایمبولیس کا کراچی ایئر پورٹ پر آنا، ایسے بہت سے پراسرار واقعات میں سے محض چند ہیں۔ پھر لیاقت علی خان کے قتل پر چیف سیکریٹری چودھری محمد علی کے بنگلے پر بلایا کابینہ کا اجلاس جہاں گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین سے کہا گیا کہ گورنر جنرل تو صرف علامتی عہدہ ہے۔ حکومت تو وزیراعظم چلاتا ہے۔ اس لیے آپ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیں اور بیمار غلام محمد کو گورنر جنرل بنا دیا جائے۔ وہی بیمار غلام محمد وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت اور اسمبلیاں برطرف کر دیتا ہے۔

پاکستانی سیاست کا ایسا ہی پراسرار اور بااختیار کردار اسکندر مرزا ہے۔ جس نے سنڈھرسٹ کالج لندن سے کنگز کمیشن حاصل کیا۔ اس نے عملی زندگی بطور ڈپٹی کمشنر شروع کی اور پاکستان کا آخری گورنر جنرل اور 1956ء کا آئین بننے کے بعد پہلا صدر مملکت بھی رہا۔ ہماری تاریخ اور صحافت نے اسکندر مرزا کو پاکستانی سیاست کے ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کیا ہے جس کے اشارے پر ایوب خان نے ملک سے جمہوریت کی بساط لپیٹی، جس کے نتیجے میں آج نصف صدی بعد بھی ملک چار بار مارشل لاء کا شکار بنا اور آج بھی جمہوریت پٹری پر نہ چڑھ سکی۔ تمام الزامات اور منفی باتوں کے باوجود اسکندر مرزا نے اپنی خاموشی نہیں توڑی اور ان کا نقطہ نظر کبھی عوام کے سامنے نہ آ سکا۔ بہتر سال بعد ’’اسکندر مرزا کی یادداشتیں‘‘ عقیل عباس جعفری کی کوششوں سے ان کے ادارے ورثہ پبلشرز کے تحت شائع ہوئی ہے۔ جس سے قارئین کو تصویر کا دوسرا رُخ بھی جاننے اور تاریخ کے کچھ گمشدہ اوراق پڑھنے کا موقع ملا ہے۔

پاکستان کے نامور صحافی اور معیار کے مدیر محمود شام صاحب اسکندر مرزا کی خود نوشت کی اشاعت کا ذریعہ تھے۔ محمود شام کی مرزا صاحب کے خاندانی ذرائع تک رسائی بھی تھی۔ شام صاحب کے مطابق اسکندر مرزا اپنی یادداشتوں کو ’’میرا وطن، صحیح یا غلط‘‘ کے نام سے شائع کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان کے آخری گورنر جنرل، پہلے منتخب صدر، پاکستان کا پہلا آئین نافذ کرنے اور پھر اسے توڑنے، پاکستان کا پہلا انقلاب لانے اور پہلا مارشل لاء لگانے والے شخص کی یہ خودنوشت ایک اہم دستاویز ہے۔ جس میں ملک کے ابتدائی برسوں کے ان اہم واقعات کو بیان کیا گیا ہے جن کی بنیاد پر پاکستان کا سیاسی اور فوجی ڈھانچا کھڑا ہوا اور جن کا سایہ شاید کبھی دور نہ ہو سکا۔

ایک سو اٹھائیس صفحات پر مبنی اس مختصر آپ بیتی کا ترجمہ پاکستان کے نامور صحافی، منفرد ناول و افسانہ نگار اشرف شاد نے تقریباً بیالیس تینتالیس سال قبل 1976ء میں کی تھی۔ جو محمود شام کے سیاسی ہفت روزہ ’معیار‘ میں قسط وار شائع ہوئی۔ قسطیں مکمل ہونے کے بعد اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تا ہم اس وقت لندن سے اسکندر مرزا کی بیگم ناہید مرزا کے وکیلوں کا نوٹس ملاکہ وہ اسکندر مرزا کی اس ذاتی تحریر کے مالک ہیں اور ادارہ ان کی جازت کے بغیر اسے شائع نہیں کر سکتا۔ شاید یہ قانونی معاملات طے ہو جاتے مگر اسی زمانے میں ضیاء الحق کا مارشل لاء لگ گیا اور اس کتاب کی اشاعت معرض التوا میں چلی گئی۔

اشرف شاد معروف سیاسی ہفت روزہ ’الفتح‘ کے مدیر اور ناشر تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کا نشانہ صحافت، اخبار و رسائل سب سے زیادہ بنے۔ رسائل کی بندش پر اس جبر کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ کارکن صحافیوں کو گرفتاری اور کوڑوں کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ان حالات میں اشرف شاد صاحب نے ملک سے رختِ سفر باندھا تا ہم ملک سے ان کی رخصتی اردو ادب کے لیے بہت سازگار ثابت ہوئی۔ انہوں نے اس دوران ’’جلاوطن‘‘، ’’وزیراعظم‘‘، ’’صدر محترم‘‘، ’’جج صاحب‘‘ اور ’’بی اے رستم اینکر پرسن‘‘ جیسے منفرد اور بے مثال ناول اردو ادب کو دیے اور ان کا قلم ابھی رواں دواں ہے اور اس سے مزید ناولوں کی اشاعت متوقع ہے۔

اشرف شاد اسکندر مرزا کی یادداشتیں کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔

’’جنرل اسکندر مرزا کے انتقال کے پچاس سال بعد ان یادداشتوں کی اشاعت کا سہرا اردو لغت بورڈ کے سربراہ اور معروف محقق اور شاعر عقیل عباس جعفری کے سر ہے۔ میں جب پاکستان آتا تھا وہ مجھے اس کی اشاعت کی یاددہانی کرواتے تھے۔ میرے پاس وقت نہیں تھا۔ یہ انہیں کا کمال ہے کہ انہوں نے معیار کی پرانی فائلوں سے قسط وار شائع ہونے والی یادداشتیں جمع کیں۔ کہیں کہیں جو صفحات غائب تھے ان کے لیے ڈاکٹر جعفر احمد کی مدد حاصل کی۔ ان کا بھی شکریہ۔ عقیل عباس جعفری نے کتاب مدون کرنے اور پروف ریڈنگ تک تمام اشاعتی مراحل میں مدد کی ہے۔ جس کے بغیر اس کتاب کی اشاعت ممکن نہیں تھی۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان کے ابتدائی برسوں کی تاریخ کے انتہائی اہم کردار کی یادداشتیں تاریخ کے طلبا اور پاکستان کی تاریخ مدون کرنے والوں کو اہم حوالہ جات فراہم کریں گے۔ ‘‘

کتاب کے مرتب اور ناشر عقیل عباس جعفری بھی ملک کی انتہائی قابل احترام شخصیت ہیں۔ انہوں نے ’’پاکستان کرانیکل‘‘ کے نام سے پاکستان کی بہتر سالہ تاریخ کے تمام اہم واقعات یکجا کر دیے ہیں۔ یہ انتہائی کار آمد کتاب ہے۔ اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے اردو کی بائیس جلدوں پر مبنی لغت نا صرف مکمل شائع کر دی بلکہ دو سی ڈیز میں بھی یہ لغت دستیاب ہے۔ قائد اعظم کی بیوی رتی جناح اور پاکستان کے قومی ترانے کے بارے میں مستند کتب بھی شائع کیں۔ جون ایلیا کی بھتیجی کی ’’میرے چچا‘‘ اور حال ہی میں جون ایلیا پر ڈاکٹر نیہا اقبال کی کتب بھی شائع کر چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ملک کی ہر اہم شخصیت کی پیدائش اور وفات عقیل عباس جعفری ہی یاد دلاتے ہیں۔

اسکندر مرزا کی آپ بیتی ان خود نوشتوں سے مختلف ہے جن کی بازار میں بھرمار ہے اور آئے دن کوئی نئی آپ بیتی منظر عام پر آ جاتی ہے۔ جو سیاست دانوں، فوج، نوکر شاہی اور عدلیہ کے ریٹائرڈ ججز، جنرلوں اور افسروں کا عذرِ گناہ قرار دی جا سکتی ہیں۔ جن کے بارے میں معروف مورخ مبارک علی کا کہتے ہیں کہ

’’آپ بیتیاں انفرادی طور پر لکھنے والوں نے جو غلطیاں کی ہیں، جن سازشوں میں شریک رہے ہیں، جوڑ توڑ کیا ہے، دھوکا دہی، فریب اور بدعنوانیاں کیا ہیں، سب ان داغوں کو دھو کر اپنی بے گناہی اور معصومیت ثابت کرنے کے لیے لکھی گئی ہیں‘‘

اشرف شاد اس آپ بیتی کے بارے میں لکھتے ہیں

’’پاکستان کے ماضی کی تشکیل کے لیے اسکندر مرزا کی زیر نظر خود نوشت ایک اہم شہادت کی حیثیت سے جانی جائے گی۔ اس لیے بھی کہ اس میں جو واقعات بیان کیے گئے ہیں ان کی صحت پر کبھی شبہے کا اظہار نہیں کیا گیا۔ ان یاد داشتوں میں قیام ِپاکستان کی تحریک میں شریک اور بعد میں کاروبارِ سیاست چلانے والے تمام اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کا احوال اور ان کے ساتھ کام کرنے کے تجربات بیان کیے گئے ہیں۔ ان رہنماؤں میں قائداعظم، لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، غلام محمد، سردار عبد الرب نشتر، عبد الغفار خان، ڈاکٹر خان صاحب، چودھری محمد علی، سہروردی، دولتانہ اور اس دور کے تمام وزرائے اعظم اور دیگر رہنما شامل ہیں۔ اسکندر مرزا نے اپنے تجربات کی روشنی میں ان رہنماؤں کی شخصیتوں کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ صحیح یا غلط ہو سکتا ہے تا ہم واقعاتی تفصیلات غلط قرار نہیں دی جا سکتیں۔‘‘

اسکندر مرزا کی سوچ اور اس کی بنیاد پر ان کے فیصلوں کے صحیح یا غلط ہونے پر بحث ہو سکتی ہے۔ ریاستی اُمور میں مذہب کی مداخلت اور پارلیمانی نظام بارے میں ان کے خیالات درست بھی مان لیے جائیں تو اب بہت دیر ہو چکی ہے اور واپسی کے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ سیاست میں مذہب کی مداخلت تمام حدیں عبور کر چکی ہے اور پارلیمانی نظام کو آسمان سے اترا ہوا مقدس آئین سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں ہیں انہیں ملک بری طرح بھگت رہا ہے۔

اکتوبر 1958ء کے انقلاب کے وقت ملک فیروز خان نون پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ 1956ء کا آئین ختم اور اسمبلیاں توڑ کر انہیں معزول کیا گیا۔ فیروز خان نون نے اپنی برطرفی کے بعد اپنی یادداشتیں تحریر کی تھیں جو نظرثانی کے بعد 1966ء میں From Memory کے نام سے اسکندر مرزا کی وفات سے کئی سال قبل شائع ہوئی تھیں۔ اس آپ بیتی کا ترجمہ ستر کی دہائی میں ’’چشم دید‘‘ کے نام سے کیا گیا تھا۔ یہ ترجمہ 2005ء میں بھی شائع ہوا تا ہم اب پھر کئی سال سے نایاب ہے۔ فیروز خان نون کی خود نوشت کو اسکندر مرزا کی یاداشتوں سے ملا کر پڑھا جائے تو بڑی حد تک دونوں کتابیں ایک دوسرے کی تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ ساتھ ہی ان میں کئی باتوں کی پردہ کشائی بھی ہوتی ہے۔ فیروز خان کے مطابق اسکندر مرزا پابند جمہوریت کے حامی تھے اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے۔ فیروز خان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اسکندر مرزا آئین توڑنے اور مارشل لاء لگانے کا فیصلہ کئی ماہ پہلے کر چکے تھے۔ اسکندر مرزا نے اپنی یادداشتوں میں پابند جمہوریت کے بارے میں اپنے عزائم پوشیدہ نہیں رکھے اور پارلیمانی جمہوریت کے خلاف کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیاہے۔

سر فیروز خان نون بہت محتاط انسان تھے اور انہوں نے حقائق لکھتے ہوئے بھی لوگوں کی دل آزاری کا خیال رکھا۔ اس کے برعکس اسکندر مرزا نے تمام حقائق بلاکم و کاست بیان کیے ہیں اور ان سے کئی نئے حقائق سامنے آتے ہیں۔

اسکندر مرزا 13 نومبر 1899ء کو بمبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد بنگال، اڑیسہ اور بہار کے نواب ناظم کے عہدے پر فائز تھے اور مرشد آباد میں ان کا دربار تھا۔ 1918ء میں ہندوستان کے شہری کنگز کمیشن حاصل کرنے کے حقدار بنے تو اسکندر مرزا نے بھی درخواست دی اور انٹرویو کے لیے شملہ گئے۔ زیادہ تر ہندوستانی کیڈٹ، اندور کے کیڈٹ کالج بھیج دیے گئے۔ اسکندر مرزا سمیت پانچ افراد اس پہلے گروپ میں شامل تھے۔ جنہیں سینڈھرسٹ لندن کے لیے چنا گیا۔ لندن میں دو انڈین کیڈٹوں کا انتقال ہو گیا اور دو کو خارج کر دیا گیا۔ اس طرح اسکندر مرزا پہلے بیچ میں سینڈھرسٹ سے کامیاب واحد ہندوستانی کیڈٹ بنے۔ جولائی 1920ء میں انہیں کمیشن ملا اور وہ کیمرونیز سیکنڈ بٹالین سے کئی سال وابستہ رہے۔ وہ ایک اسکواڈرن کی کمانڈ کے لیے بنوں اور میراں شاہ کے درمیان واقع قلعہ میں متعین رہے جو شمالی وزیرستان میں پولیٹیکل ایجنٹ کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اس علاقے میں اسکندر مرزا نے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر بھی کئی برس کام کیا۔ اگست 1946ء میں ا ن کا تقرر آئی پی ایس میں ہوا اور وہ یوپی کے ضلع علی گڑھ میں مجسٹریٹ کی تربیت کے لیے بھیج دیے گئے۔ اس حیثیت میں ان کی پہلی تقرری سپر نیومریری اسسٹنٹ کمشنر ہزارہ میں کی گئی۔ یہیں محمد زئی قبیلہ کے ڈاکٹر خان صاحب اور ان کے بھائی عبد الغفار خان سے ان کی شناسائی ہوئی۔ پہلی بار آزادانہ حیثیت سے ٹانک کے اسسٹنٹ کمشنر کا چارج ملا۔ بطور اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ ان کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اس دور میں ضلع پشاور تشدد آمیز تصادم کا مرکز تھا، باچا خان کے سرخ پوش یہاں سرگرم تھے اور پھر قبائلی لشکر تھے جو قریبی پہاڑیوں سے کارروائی کرتے تھے۔ دسمبر 1930ء میں حکومت نے انڈین نیشنل کانگریس کو غیر قانونی تنظیم قرار دیدیا، جس کے ساتھ سرخ پوش بھی زد میں آئے۔ حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز نوشہرہ سب ڈویژن کا ایک گاؤں تھا جو پبی کہلاتا تھا۔ اسکندر مرزا نے برٹش پیدل دستوں کی بٹالین پولیس کی نفری کے ذریعے کس طرح ان پر قابو پایا یہ بھی دلچسپ کہانی ہے۔ ایک ہزار سرخ پوشوں کے منتشر ہونے کا حکم نہ ماننے پر لاٹھی چارج کروایا۔ سرخ پوش اس موقع کو یادگار بنانا چاہتے تھے، لہٰذا خود کو زخمی ظاہر کرتے ہوئے ان کی اکثریت زمین پر لیٹ گئی۔ اس روز گرمی بہت تھی۔ انہیں پانی کی فراہمی بند کر دی گئی۔ گرمی کی شدت سے یہ سب لوگ خود ہی ایک ایک کر کے چلے گئے۔

1940ء میں پشاور کا ڈپٹی کمشنربننے کے بعد اسکندر مرزا کو ڈاکٹر خان اور ان کے بھائی باچا خان کے حوالے سے یقین تھا کہ کانگریس جنگ کے دنوں میں ہندوستان میں امن برقرار نہ رہنے دے گی۔ ایجنٹوں کے ذریعے دو سرخ پوش جنرل مستقل اسکندر مرزا سے رابطے میں رہے۔ دو سال بعد جب صورتحال خطرناک ہونے لگی تو ان سے کہا کہ کسی طرح وہ سرخ پوشوں کے کیمپ میں خوراک کا انتظام سنبھال لیں۔ جب وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو انہیں بوتلوں میں جمال گوٹہ بھر کے دیا اور ہدایت کی صبح کی چائے میں اسے ملا دیں۔ ہزاروں سرخ پوش جب یہ چائے پینے کے بعد پریڈ کے لیے اپنے کمانڈر کے سامنے پہنچے تو جلد ہی ان کی صفیں ٹوٹنے لگیں۔ زیادہ تر کا رخ نہر کی جانب تھا لیکن جب تک وہ شلواریں اتارتے انہیں پولیس کے ڈنڈوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بیشتر کی شلواریں خراب ہوئیں جو کہ پٹھانوں کے لیے سخت شرم کی بات تھی۔ اس دن کے بعد سے حکومت کے خلاف سرخ پوشوں کی تحریک ختم ہو گئی۔

مارچ 1943ء میں پشاور واپس جاتے ہوئے اسکندر مرزا دہلی میں ٹھہرے اور پرانے دوست لیاقت علی خان سے ملاقات کی۔ وہیں انہیں قائد اعظم کی جانب سے ملاقات کا پیغام ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ

’’مجھے کوئی علم نہیں تھا کہ وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں تا ہم میں گیا۔ جناح صاحب مجھے اپنی اسٹڈی روم لے گئے اور یہ کہہ کر بات چیت کا آغاز کیا کہ وہ میری والدہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ بلقان کی جنگ کے دوران ترکی کو امدادی سامان بھیجنے کے سلسلے میں انہوں نے میری والدہ کے ساتھ کام کیا تھا۔ انہوں نے بڑا حیرت انگیز سوال کیا ’’کیا تم مسلمان ہو‘‘ میں نے انہیں جواب دیا ’’ہم حضورﷺ کے زمانے سے مسلمان ہیں۔ پھر جناح صاحب نے کہا ’’تم مجھے مسلمانوں کا سربراہ تسلیم کرتے ہو۔‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں آپ کو ہندوستان کے مسلمانوں کا سیاسی سربراہ تسلیم کرتا ہوں‘‘ انہوں نے مجھ سے مزید کہا کہ انہیں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر میں کوشش کروں تو صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کی حکومت قائم کرا سکتا ہوں۔ میں نے کہا میں محض پشاور کا ڈپٹی کمشنر ہوں اور یہ کام صرف سر جارج کننگھم ہی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجھ سے صرف وعدہ لینا چاہتے ہیں کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا۔ ‘‘

یہ ایک حیرت ناک انکشاف ہے۔ قانون کی باریکیوں کو سمجھنے والے قائداعظم نے ایک ڈپٹی کمشنر سے ایسا وعدہ کیوں لیا۔

’’برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے دار العوام میں ہندوستان سے جون 1948ء تک برطانوی راج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس صورتحال میں فروری 1947ء میں مجھے فون پر ملاقات کے لیے گھر طلب کیا۔ وہ کسی بھی پیچیدہ مسئلے سے بڑی ذہانت کے ساتھ نمٹ سکتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ اس وقت تک وہ پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کوئی سنگین قسم کا ہنگامہ نہ کھڑا کیا جائے اور ایسا کرنے کے لیے بہترین جگہ صوبہ سرحد ہے جہاں قبائلیوں کے ذریعے یہ کام کرایا جا سکتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں، میں اپنی ملازمت سے مستعفی ہو جاؤں اور قبائلی علاقے میں جا کر جہاد شروع کر دوں۔ تمام تر تحفظات کے باوجود میں قائداعظم کے منصوبے پر عمل کرنے کے لیے تیار تھا میں اپنے اوپر کسی ایسے آدمی کا ٹھپہ نہیں لگوانا چاہتا تھا جو عمل کے وقت خاموش کھڑا رہے۔ تھوڑے اخراجات کے بعدمیں تراہ اور مہمند قبائل میں کچھ ہنگامے کرا سکتا تھا۔ اس سلسلے میں رقم کا تخمینہ ایک کروڑ روپے تھا جو میں نے انہیں بتا دیا۔ جناح صاحب کو ان تمام ضروریات کا پہلے سے اندازہ تھا۔ پیسے تیار تھے۔ کہانی یہ تھی کہ خان آف قلات سے میری ملاقات طے تھی اور رقم نواب بھوپال نے فراہم کی تھی۔ مجھے اسی روز خط مل گیا اور ابتدائی سرگرمیوں کے لیے بیس ہزار روپے میری صوابدید پر تھے۔ قائد اعظم نے مجھے یہ بھی یقین دہانی کرائی اگر مجھے کچھ ہوا تو میرے خاندان کی پوری طرح دیکھ بھال کی جائے گی۔ میں نے کام شروع کر دیا لیکن مئی کے اوائل میں قائد اعظم نے مجھے بتایا کہ پاکستان بننا منظور ہو گیا ہے لہٰذا یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا ہے۔‘‘

ایسے بہت سے انکشافات ’’اسکندر مرزا کی یادداشتوں‘‘ میں موجود ہیں۔ آزادی کے بعد ایک مرتبہ جب اسکندر مرزا کی ملاقات گورنر جنرل قائد اعظم سے ہوئی تو وہ بتاتے ہیں کہ

’’گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا کہ مسلم لیگیوں کے بارے میں ہمیں سوچنا چاہیے کیونکہ کچھ بھی ہو انہوں نے پاکستان بنایا ہے، جناح صاحب نے فوراً جواب دیا۔ کون کہتاہے کہ پاکستان مسلم لیگ نے بنایا ہے، پاکستان اپنے اسٹینو گرافر کے ساتھ میں نے بنایا ہے۔‘‘

یہ اعلان ہو چکا تھا کہ برطانیہ 15 اگست 1947ء کو اقتدار چھوڑ دے گا۔ بطور جوائنٹ سیکریٹری حصوں کی تقسیم کے سلسلے میں پاکستان کے مفادات کی نگرانی اسکندر مرزا کو سونپی گئی۔ فیروز پور میں ضروری اسلحہ جات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کیے۔ اس وقت یقین تھا کہ فیروز پور پاکستان کے پاس آئے گا کیونکہ یہ پنجاب کی اس تقسیم کے کام میں جو ریڈکلف کمیشن کے ذمے تھی، مسلم اکثریت کے ضلعوں میں آتا تھا لیکن ریڈ کلف ایوارڈ میں فیروز پور بھارت کو دیدیا گیا۔

اسکندر مرزا کے مطابق دونوں جانب آبادیوں کی وسیع پیمانے پر ہجرت کا قائد اعظم کو اندازہ نہیں تھا۔ شمال مغربی سرحدی صوبے سے ہندوؤں کا انخلا نہ ہندو چاہتے تھے نہ ہی پٹھانوں کی اکثریت اس کی خواہاں تھی۔ اس کا باعث صرف سرحد کے کشمیری وزیر اعلیٰ عبد القیوم خان تھے۔ صوبہ سندھ میں کوئی بدامنی نہ تھی اور مسلمان اور ہندوؤں کے برادرانہ تعلقات تھے لیکن کانگریسی رہنما اچاریہ کرپلانی کے دورے کے بعد یہاں سے بھی بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلا شروع ہو گیا۔

ستمبر کے پہلے ہفتے تک وزارت دفاع نے کراچی اور راولپنڈی میں کام شروع کر دیا تھا۔ ایک دن وزارت خارجہ میں اسکندر مرزا کو طلب کیا گیا جہاں وزیر اعظم لیاقت علی خان، نائب وزیر خارجہ اور سیکریٹری وزارت خارجہ ایک خاص اجلاس میں تھے جس میں کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ وزیر اعظم نے مجھ سے کہا

’’کرنل اسکندر مرزا، جونا گڑھ نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور حکومت نے یہ الحاق منظور کر لیاہے، نواب جونا گڑھ نے فوجی امداد مانگی ہے جو انہیں فوری طور پر بھیجی جانی ہے۔ میں حیران و پریشان ہو کر رہ گیا اور مجھے اپنے اوپنر قابو رکھنا پڑا کہ کہیں میں پھٹ نہ پڑوں۔ میں نے بڑی عزت کے ساتھ ان کے گوش گزار کیا کہ عملی طور پر ہم اس حالت میں نہیں ہیں۔ جونا گڑھ سے مواصلاتی سلسلہ صرف سمندر کے ذریعے قائم تھا اور اس وقت بحریہ کا ایک یونٹ، فریگیٹ گورداواڑی، استعمال کے قابل تھا۔ باقی بیڑہ بمبئی کی بھارتی بندرگاہ پر زیر مرمت تھا۔ میں نے انہیں خبردار کیا کہ اگر خارجہ پالیسی دفاعی تیاریوں سے الگ چلنے کی کوشش کرے گی تو ہم ایک بڑی تباہی کو دعوت دیں گے۔‘‘

ان کے لیے یہ درخواست اس لیے بھی باعث حیرت تھی کہ وزیراعظم لیاقت علی خان کے پاس دفاع اور خارجہ دونوں قلم دان تھے۔ ہمارے رہنما پالیسی طے کرتے ہوئے جغرافیہ اور دوسری تفصیلات میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ بہر حال کوئی فوج جونا گڑھ نہ بھیجی جا سکی کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں تھا۔

کشمیر جو آج بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا تنازع ہے۔ اس کے بارے میں ان یادداشتوں میں ایک حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے اسکندر مرزا لکھتے ہیں

’’جونا گڑھ میں ناکامی کے بعد سردار پٹیل جو اس وقت بھارتی حکومت میں مرد آہن کا درجہ رکھتے تھے اور ریاستوں کے ادغام کے انچارچ تھے، ایک پیغامبر کراچی آیا۔ پٹیل نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ اگر ہم حیدر آباد سے دست بردار ہو جائیں تو ہم کشمیر لے سکتے ہیں۔ یہ ایک بڑی منصفانہ پیشکش تھی لیکن حکومت نے اسے قبول نہیں کیا۔ 1949ء کی جنگ بندی سے قبل جنرل گریسی ایک منصوبہ لیکر میرے پاس آئے، جس میں اکھنورکی سرحد پر مجتمع کرنے کے لیے پاکستان کی اسٹرائیکنگ فورس قائم کرنے کی تجویز تھی تا کہ پونچھ میں نقل و حرکت کرنے والی بھارتی فوجوں کی مواصلاتی لائن منقطع کی جا سکتی، اس طرح ہم اکھنور پر قبضہ بھی کر لیتے اور بھارتی چھ ڈویژن فوج کو محصور بھی کر لیتے۔ ان کے پاس ایک منصوبہ یہ بھی تھا جس کے ذریعے ہمارے پاس اتنی فوجیں ہوتیں جو لاہور اور سیالکوٹ کی سرحدوں کی حفاظت بھی کر سکتی تھیں۔ ان دنوں بھارتی فوج اتنی طاقتور نہ تھی۔ اگر حکومت ہمیں حملہ کرنے کی اجازت دے دیتی تو میں بلاشبہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم اکھنور پرقبضہ کر کے بھارت کی پانچ ڈویژنوں کا صفایا کر سکتے تھے۔‘‘

اسکندر مرزا یہ بھی کہتے ہیں کہ

’’میں اگرچہ وزیر اعظم کی حیثیت سے لیاقت علی خان کا معترف ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں کہ وہ بے غرض اور محب وطن تھے لیکن ایک سلسلے میں مجھے ان پر کچھ شک سا رہا کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کا مطالبہ کرنے والوں کو خوش کرنے کے لیے انہوں نے قراردادِ مقاصد پیش کی تھی (جو یہاں سے شروع ہوئی تھی ’ہرگاہ کہ پوری کائنات پر اقتدار اعلیٰ صرف اللہ کی ذات کو ہی حاصل ہے) اس قرارداد سے میری رائے میں پاکستان کو بہت نقصان پہنچا۔ یہ قرارداد ملاؤں کے لیے ایک تحفہ تھی جس نے مذہبی جنون کو ہوا دی، میں نے جب قائد ملت سے پوچھا کہ انہوں نے یہ قرارداد پیش کرنا کیوں ضروری سمجھا، ان کا جواب سن کر میں حیران رہ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے انہیں اس کی ضرورت تھی۔ ‘‘

اسکندر مرزا کا کہنا ہے کہ 1958ء میں ان پر فوج کی طرف سے مارشل لاء کے اعلان کا کوئی دباؤ نہ تھا۔ فرمان جو میری اپنی تحریر میں تھا کسی کی مدد کے بغیر میں نے خود تیار کیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر ان کا تحریر کردہ یہ اعلامیہ اگلے ہر مارشل کا بھی کم و بیش یہی رہا۔ آئین منسوخ، مرکزی اور صوبائی حکومتیں برطرف کر دی گئیں۔ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد ہوئی تا ہم انہوں نے مارشل کے تمام اختیارات جنرل ایوب خان کوسونپ دیے لیکن جنرل ایوب کو اسکندر مرزا کا آٹھ نومبر تک مارشل لاء اٹھانے کا اعلان پسند نہیں آیا۔ اسکندر مرزا کی یہ بات درست ثابت ہوئی کہ پاکستان کو سب سے زیادہ خطرہ مذہبی تعصب سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وزارت دفاع کے ساتھ ہی ان کا کیریئر ختم ہو جاتا تو وہ زیادہ خوش قسمت ہوتے لیکن قسمت میں کچھ اور لکھاتھا۔ وہ آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر بنے جبکہ سیاستدان ملک کی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات پر کام کر رہے تھے۔ اگر میں صدر رہنا چاہتا تو خاموش بیٹھ جاتا اور کچھ نہ کرتا۔

اسکندر مرزا اسسٹنٹ کمشنر کے معمولی عہدے سے ترقی کر کے گورنر جنرل اور پاکستان کی پہلی صدارت ان کا مقدر ٹھہری۔ ان کے بیس سال پرانے دوست ایوب خان نے بیس دن بعد ان کا تختہ الٹ دیا تو انہوں نے اس شکست کو خاموشی سے تسلیم کر لیا۔ کبھی پاکستانی سیاست میں واپسی کی کوشش نہیں کی نہ کسی بحث میں الجھے۔ وہ بہت ہی مختلف اور بااصول انسان تھے۔ طویل سرکاری ملازمت میں انہوں نے کوئی جائیداد نہیں بنائی بلکہ بھارت میں جو جائیداد چھوڑ کر آئے تھے اس کا کلیم تک داخل نہ کیا، جب بطور صدر مملکت انہیں اور دوسرے ممتاز افراد کو جو زمین غلام محمد بیراج کے پاس ملی تھی، وہ واپس کر دی، اس میں سے دو سو ایکٹر ایوب خان اور باقی جنرل موسیٰ نے لے لی۔ لندن میں وہ سخت عسرت کی زندگی بسر کرتے رہے۔ انہیں دوپنشنیں ملنا چاہئے تھیں۔ ایک سرکاری ملازم کی اور ایک صدر مملکت کی۔ مگر انہیں ڈھائی سو پونڈ کی ایک پینشن ملتی تھی۔ ان کی بیٹی نے ایوب خان سے اس بارے میں بات کرنا چاہی تو انہیں نے منع کر دیا۔ کبھی اس مسئلہ کو نہیں اٹھایا۔

’’اسکندر مرزا کی یادداشتیں‘‘ ایک چشم کشا اور عبرت انگیز آپ بیتی ہے۔ جس میں سیاہ و سفید کے مالک شخص کا خاتمہ تنہائی میں اس طرح ہوا کہ آخری وقت میں صرف ان کا کتا ساتھ تھا۔ کاش ہم اس سے کچھ سبق لے سکیں۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: