وہ خوش کلام ہے ایسا ——– عزیز ابن الحسن

0

ذہانت اور ذوق لطیف کا کوئی لازمی تعلق ہے یا نہیں راقم اس میں سردست کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن نظر یہ آتا ہے کہ ذہانت اور ذکاوت و بذلہ سنجی کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ کند ذہنی اور لطفیے کا کوئی جوڑ نہیں۔

سراج منیر کے علم و فضل اور ذہانت و دانش کی دھوم چہار سو تھی۔ وہ دراک ذہن لے کے آئے تھے اور فہم و فراست ان کے واری ہو ہو جاتی تھی۔ ان کی زود فہمی کا عالم تو یہ تھا کہ ضخیم سے ضخیم کتاب، بشرطے کہ موضوع ان کی دلچسپی کا ہو پھر چاہے وہ کتنا ہی ادق ہو، اسے پڑھنے میں وہ دو تین دن سے زیادہ نہیں لگاتے تھے۔ ان کی آخری کتاب “ملت اسلامیہ تہذیب و تقدیر”، جون 1987 میں شائع ہوئی تھی جب ان کی عمر ابھی 35 برس کے قریب تھی۔ اس زمانے کے ہمارے ادبی حلقوں اور مباحث میں میشل فوکو اور ایڈورڈ سعید کا نام ابھی داخلِ فیشن نہیں ہوا تھا۔ مگر یہ دونوں نام ان کی زبان پر اکثر جاری رہتے تھے۔ فوکو کی دو کتابوں The Archaeology of knowledge اور The Order of Things کے حوالے تو ان کی مذکورہ بالا کتاب کے صفحات پر بکثرت دیکھے جاسکتے۔ فوکو کا موضوع اور اسلوب تحریر جتنا ادق ہے وہ پڑھنے والے جانتے ہی ہیں۔

1984 میں ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور کے ڈائریکٹر منتخب ہونے سے کہیں پہلے جب ابھی وہ سعودی عرب میں کسی ایڈورٹائزنگ ایجنسی، یا Arabia the Islamic world review نامی میگزین میں کام کرتے تھے انہوں نے ایڈورڈ سعید کے حوالے سے ایک مضمونچہ retelling the same story کے عنوان سے لکھا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ کہ وہ عمر کہ جس میں لوگ ہمارے ہاں آجکل مشکل موضوعات کی طرف بڑھنے کی ہمت بھی نہیں کرپاتے اس عمر میں سراج منیر ایسے ایسے سنگ ہائے میل طے کر رہے تھے جو ان کے شعور کی پختگی اور دانائی کی وسعت پر دال ہیں۔

اپنی شخصیت کے اس پہلو کے اعتبار سے ان کا شمار پختہ عمر کے اصحاب علم میں ہوتا تھا اور اسی وجہ سے، جیسا کہ میں پہلے بھی کہیں لکھ چکا ہوں کہ، میں نے ان کے پاس عاشق حسین بٹالوی، مختار مسعود اور ڈاکٹر اجمل جیسے لوگوں کو بکثرت اور بلاتکلف آتے اور انگشت بدنداں ہو کر ان کے تکلم پر فدا ہوتے دیکھا تھا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ عاشق حسین بٹالوی اور مختار مسعود تو اپنی زبان دانی اور خشک گفتاری کی وجہ سے خود مثال بن جانے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ ایک اور روایت، جس کا میں چشم دید گواہ تو نہیں لیکن جو میں نے لاہور کے پرانے احباب سے سنی تھی، یہ ہے کہ جب سراج بھائی گورنمنٹ کالج لاہور میں ابھی ایم اے کے طالب علم تھے اس زمانے میں بھی وہ حلقہ ارباب ذوق کی مجالس میں صفدر میر جیسے بابائے سوشلزم سے مچیٹا کر لینے میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے۔

یہ تو اہل علم اور فضل و دانش کی محفلوں میں ان کا طریقہ تھا جس میں رکھ رکھاؤ، وضع داری اور خوش اطواری کے جملہ آداب وہ خوب ملحوظ رکھتے تھے۔ لیکن جیسے ہی انہیں بے تکلف دوستوں اور احباب کی نجی محفل میسر آتی اس وقت ان کی چہک مہک کا ایک اور ہی رنگ ہوتا تھا۔ وہ ایک دم تکلف کی شیروانی اتار کر کسی کھلنڈرے لڑکے کے روپ میں آ جاتے۔ اس وقت ان کی ذہانت میں ذکاوت والا پہلو عود کر آتا تھا۔ فطانت بھرے علمی نکات کم ہوجاتے اور برجستہ اشعار، چٹکلے، جملے، ضلع جگت اور ذومعنی تلازمہ کاری کی گویا ایک آبشار بہنے لگتی تھی۔ ان کی شخصیت کے اس پہلو پر عموماً کم لکھا گیا ہے لہذا آج ان کی برسی کے موقع پر میں ان کے اسی پہلو کو موضوع بنا رہا ہوں۔

مجھے اس چیز کا پہلا تجربہ تب ہوا جب 1987 میں وہ سانگھڑ تشریف لائے اور غریب خانے میں رات بھر دوستوں کے درمیان ایک فرشی چٹائی پر بے تکلف لیٹے گاہے اقبال کی ریکنسٹرکشن کی معنویت پر باتیں کرتے، گاہے بیسویں صدی کے مغربی ادب، فکشن اور شاعری سے وہاں کے فلسفوں کے دعووں کی مخالف گواہیاں نکال نکال کے دکھاتے، کبھی حافظ و رومی اور میر و مصحفی سے لیکر فیض اور منیر نیازی تک کے اشعار سناتے اور کبھی لطائف ظرائف سے محفل کو زعفران زار کر دیتے۔

انکی اسی خوش فکری و خوش کلامی میں امس بھری اس گرم رات کا پتہ ہی نہ چلا اور صبح ہوگئی۔ انہیں سانگھڑ سے نوابشاہ گاڑی پر بٹھانا بھی ہماری ذمہ داری تھی کہ جہاں سے انہیں روھڑی جاکر لاہور کے لیے جہازمیں بیٹھنا تھا۔ ان کے پاس اپنا تو کوئی خاص سامان نہ تھا ایک شلوار قمیض میں آئے تھے اسی میں رات گزاری اور فجر کی نماز کے بعد اپنا کالا ویٹ کوٹ کندھے پر لٹکا کر چلنے کو تیار ہوگئے۔ غالباً اکبر معصوم نے انہیں اپنی بنائی ہوئی ایک پینٹگ تحفے کے طور پر پیش کی تھی جسکی پیکنگ کا معاملہ درپیش تھا۔ سراج بھائی چپکے سے یہ منظر دیکھتے رہے اور اچانک بولے ہاں بھئی پیکنگ ضروری ہے، پھر ہنستے ہوئے کہا وہ آپ نے دیکھا نا کہ پیک کرنے کی تاکید حافظ کی فال میں بھی آئی ہے۔

حافظ کی اس فال کا پس منظر یہ تھا کہ سراج بھائی سکھر میں کسی سیمینار کے سلسلے میں آئے تھے۔ وہاں سے کچھ وقت بچا یا چرا کر میں اور میرے دوست طاہر ادیب انھیں ایک آدھ دن کیلیے سانگھڑ لے آئے تھے۔ سانگھڑ جانے کا ان کا ارادہ اور وعدہ تو پہلے سے تھا مگر عین وقت پر سیمینار والوں نے کچھ رکاوٹ ڈال دی جس وجہ سے سراج بھائی ہمارے ساتھ سانگھڑ جانے کے معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوگئے۔ میں نے ان کے کان میں چپکے سے کہا کہ
“سراج بھائی میں نے آتے ہوئے حافظ سے فال نکالی تھی فال میں یہ شعر آیا ہے اب اگر آپ نہیں جاتے تو ہم تو یہی سمجھیں کہ حافظ کی فال بےاثر رہی ہے:

اے پیکِ پے خجستہ چہ نامی فدیتُ لَک
ہرگز سیاہ چردہ ندیدم بایں نمک۔

سراج بھائی نے شعر سنا تو ایک دم سنجیدہ ہو گئے۔ بولے نہیں نہیں حافظ کا اشارہ بہت واضح اور قوی ہے۔ ضرور چلیں گے اور پھر اصرار کر کے منتظمین سیمنار سے اگلے روز ہونے والی میٹنگ رات 12 بجے منعقد کروائی اور صبح چار بجے ہمارے ساتھ ہو لیے۔ تو حافظ کا یہ مصرع تھا جسکے ایک لفظ “پیک” کی ذومعنویت سے ہونے فائدہ اٹھا کر انہوں نے پنٹنگ پیک کرنے کی مناسبت سے برجستہ دہرایا اور زور سے قہقہہ لگایا جس کی طرف میں دو برس پہلے اپنے ایک شذرے میں اشارہ کر چکا ہوں۔ ملاحظہ ہو۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1505036342900734&id=100001831475599

اس واقعے کے کوئی دو تین برس بعد کی بات ہے کہ قائداعظم لائبریری لاہور میں خلیفہ عبدالحکیم، بانی ادارہ ثقافت اسلامیہ کی یاد میں ایک پروگرام ہو رہا تھا جس میں سراج بھائی نے بھی گفتگو کی۔ پروگرام ختم ہوا تو باہر نکلے اور پیدل ہی باغ جناح کے بڑے گیٹ کی طرف ہولئے۔ سامنے ایک گاڑی کے پاس بڑی عمر کی دو تین خواتین نظر آئیں جن میں سے ایک بہت باتونی تھی۔ وہ انہیں لفٹ دے کر ادارہ ثقافت اسلامیہ تک پہنچانے کے لیے کھڑی تھی۔ سراج بھائی نے، جو صبح سے ان کی باتیں سن سن کر پک چکے تھے تھے، انکا اردہ بھانپ لیا۔ فوراً ٹھٹکے اور باغ کی طرف پلٹتے ہوئے یہ جملہ کہا “ذرا ان ازکاررفتہ” خواتین کو رخصت ہو لینے دو پھر چلتے ہیں۔

انہی لفظوں سے کھیلنے اور ذومعنی فقرے بولنے پر ہی مہارت نہیں تھی بلکہ موقع پڑنے پر ایسی جملے بازی بھی کرتے تھے کہ لاہور کے بڑے بڑے جگت باز ان کے سامنے چپ ہو جاتے تھے۔ ایک دفعہ کسی ادبی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کچھ زیادہ وقت لے لیا۔ دلدار پرویزبھٹی جنہیں ان کے بعد بات کرنی تھی، ان کا وقت آیا تو جلسے کا ٹائم ختم ہوگیا۔ بعد میں چائے کی میز پر بیٹھے دلدار پرویزبھٹی نے انہیں دیکھا اور دور سے ہی ہنستے ہوئے پنجابی میں بولا:

’’اوئے سراج منیر تینوں شرم نہیں آندی۔۔‘‘

اس کی بات ابھی ادھوری تھی کہ سراج بھائی نے فورا جملہ لوٹا دیا:

’’شرم والی رسم تو تمہاری پیدائش کے بعد دنیا سے ختم ہی ہو گئی ہے۔۔۔!‘‘

سراج منیر جب ادارہ ثقافت اسلامیہ کے ڈائریکٹر بنے تو یہ ادارہ تباہی کی آخری کنارے پر تھا۔ اس وقت اس ادارے میں بمشکل تین چار پرانے ملازم رہ گئے تھے۔ میں جب ادارے میں آیا تو حاضری رجسٹر پر میرا نمبر گیارواں تھا۔ 25ستمبر 1990 میں جب سراج بھائی کا انتقال ہوا تو ادارے میں ملازمین کی تعداد 45 تھی۔ کتابوں کی طباعت و اشاعت اور سرور ورق کی دیدہ زیبی پر وہاں کوئی توجہ نہ دی جاتی تھی۔ سراج بھائی اور ان کے منتخب کردہ بندوں کی محنت سے ادارہ چند برسوں میں ہی لاہور میں خوبصورت ترین کتابیں چھاپنے والے اشاعت گھروں میں شمار ہونے لگا تھا۔ سراج بھائی کو جہاں بھی کوئی جوہرِقابل نظر آتا وہ اسے ہر قیمت پر ادارے میں لے آتے تھے۔ میرے وہاں آنے کے کچھ ہی دنوں بعد وہاں ایک ایسے ہی آدمی کا اضافہ ہوا۔ ان کا نام راجہ ف م ماجد تھا۔ یہ ن م راشد کے سگے چھوٹے بھائی تھے۔ مختلف شہروں میں پروفیسری اور بعد ازاں ناظم تعلیمات وغیرہ کے عہدے سے فراغت کے بعد لاہور میں فرصت کی زندگی گزار رہے تھے اور اردو ڈائجسٹ میں تدوین و تالیف کا کام کرتے تھے۔ سراج بھائی انہیں اپنے پاس لے آئے اور ناظمِ تحقیق مقرر کردیا۔ اب راجہ صاحب اپنی جگہ پر ایک داستان ہیں جو میں کسی فراغت کے وقت میں لکھوں گا۔ راجہ صاحب کی معیت میں، میں اور شعبۂ تحقیق کے چند ایک اور لوگوں کی نشست ادارے کی عمارت کی اوپر کی منزل میں تھی۔ انہی دنوں راجہ صاحب نے سامنے کے دانت گرجانے کی وجہ سے دو مصنوعی دانت لگوائے تھے جوصحیح ںہ بیٹھنے کے سبب ذرا باہر کو نکلے ہوئے تھے۔ ایک روز راجہ صاحب کسی کام سے نیچے سراج بھائی کے دفتر میں آئے۔ ان کے چہرے کا اوپرا پن محسوس کرتے ہی سراج بھائ بولے

’’آپ نے آج یہ دندانِ آز خوب نکالے ہیں!‘‘

راجہ صاحب ان کے ساتھ قہقہے میں شریک تو ہو گئے مگر میڈگل یونیورسٹی سے فارغ التحصیل عربی و مذہبیات کے پروفیسر راجہ ماجد کو ایک نوعمر کی یہ بے تکلفی کچھ پسند نہ آئی۔ ادھر سراج بھائی نے بھی ان کی چہرے پر خفگی کے آثار پڑھ لئے۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ چند روز بعد جب راجہ صاحب نے دانت درست کروا لیے تو ان کی شباہت اور بھی بھلی ہوگئ۔ اگلے ہی روز سراج بھائی صبح دفتر میں آئے مگر اپنے آفس میں اپنی کرسی پر بیٹھنے کے بجائے سیدھا اوپر راجہ صاحب کے کمرے میں گئے اور بے تکلفی سے ان کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے۔ اپنے خادم خاص شریف سے باآواز بلند کہا آج سب مل کے چائے پئیں گے اور کچھ پکوڑے بھی لے کے آؤ۔ چائے اور پکوڑوں کا لطف اپنی جگہ مگر اس روز کی اصل ضیافت وہ اشعار تھے جو سراج بھائی نے دانتوں کی مناسبت سے سنائے تھے۔ ان میں سے چند ایک جو میں نے نوٹ کر لیئے وہ یہ تھے۔

نظر کر کے وہ سلک دندان یار
ہوئے پانی پانی در شاہوار

ابرو و بینی جبیں نقش و نگار و خال و خط
لعل و مروارید سے بہتر لب و دندان تھے

ہمیشہ لکھے وصف دندان یار
قلم اپنا موتی پرویا کیا

اے میرے یاسمن ترے دندان آبدار
گلشن میں ہیں رلاتے گل یاسمن مجھے

اور آخر میں اس چھوٹی سی محفل ناؤنوش کی مناسبت سے چند اشعار خمسہ نظامی کے سنائے

آن باغ مرغان بہ جوش آمدہ
ز هر یک دگرگون خروش آمدہ

جگرھا بہ خون در نمک یافتہ
نمک را ز حسرت جگر تافتہ

شکر بوزہ با نوک دندان دراز
شکر خوارہ را کردہ دندان دراز

کباب تر و بوئے افزار خشک
اباہائے پروردہ با بوئے مشک

مغنی چو زہرہ بہ رامشگری
صراحی درخشندہ چو مشتری

بہ گلگون گلابی دلاویزتر
نشاندہ جہان از جہان درد سر

یہ ان کی دلداری اوردلجوئی کا خاص انداز تھا۔ اس فن کے وہ خاص ماہر تھے۔ اسی سے وہ دوسروں کے دل میں گھر کر جاتے تھے۔

برابر والوں سے بے تکلفی تو وہ برت ہی لیتے تھے مگر کبھی کبھی وہ بڑی عمر کے احباب کے سامنے بھی ہونٹوں پر آیا ہوا کوئی جملہ روک نہ پاتے تھے۔ ایک دفعہ ان کے پاس صلاح الدین محمود آئے۔ ایک تو انکا لحیم شحیم قدوقامت، اس پر ان دنوں وہ کسی بیماری کے سبب گردن پر کالر بھی چڑھائے ہوئے تھے جس کی وجہ سے ان کا چہرہ کچھ زیادہ ہی اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا۔ ان کے بولنے اور بات چیت کا ایک خاص ڈھنگ ہوتا تھا جس میں تلفظ کی ادائیگی اور لب و لہجے کے اتار چڑھاؤ پر وہ خاص توجہ دے کر بولا کر دیتے تھے اور پھر سننے والوں کی سماعتوں سے بھی وہ اسی توجہ اور رکھ رکھاؤ کے طالب ہوتے تھے۔

کالر کی وجہ سے سراج بھائی کے آنکھوں میں تجسس دیکھ کر خود ہی بولے کہ

’’ان دنوں سروائیکل درد کے سبب میں یہ چڑھائے رکھتا ہوں اگر نہ چڑھاؤں تو بولنے میں مجھے تکلیف ہوتی ہے‘‘۔

یہ بات سننی تھی کہ سراج بھائ کے منہ سے جھٹ سے نکلا

’’حالانکہ یہ تکلیف آپ کے سامعین پچاس ساٹھ سال سے برداشت کیے جارہے ہیں!‘‘

صلاح الدین محمود یہ جملہ سن کر نہ ضبط کرنے جیسے رہ گئے نہ ہنسنے جیسے کہ قہقہ لگانے کی اجازت کالر میں پھنسی ان کی گردن نہیں دے رہی تھی اور ضبط کی تاب سراج بھائی کا جملہ نہیں دے رہا تھا۔

منجملہ اور باتوں کے سراج بھائی کو فوٹوگرافی کا بھی بہت شوق تھا۔ کبھی کبھی ترنگ میں ہوتے تو اپنا کیمرا مع زوم لینس کے دفتر میں لے آتے تھے اور فوٹو بنایا کرتے تھے۔ فوٹو گرافی کے لئے فلیش لائٹ کے استعمال کو وہ اس فن کا گناہ جانتے تھے۔ کہتے تھے کہ صبح سورج نکلنے سے پہلے کے کچھ لمحات اور شام کو غروب آفتاب سے پہلے کا تھوڑا۔ سا وقت فوٹوگرافی کے لیے بہت خاص ہوتا ہے۔ ایک روز ان کا کیمرہ مع لمبے زوم لینس کے ان کی کرسی کے ساتھ والے ریک پہ رکھا تھا۔ باہر سے علی اکبر عباس آئے۔ سراج بھائی نے لڑکے کو آواز دی چائے لانے کا کہا۔ علی اکبر عباس لفافے میں پڑے کیمرے کی طرف اشارہ کرکے بولے

’’لاؤ بھائی کچھ تناول فرمانے کو ہے تو دو بہت بھوک لگی ہے۔‘‘

سراج بھائی نے لمبے سے زوم لینس لگے کیمرہ کا لفافہ اٹھا کر سامنے کرتے ہوئے کہا

’’اس میں تناول فرمانے کا تو کچھ نہیں البتہ تناسل فرمانے کا خاصہ سامان ہے۔‘‘

انکی جملے پر نہ پوچھیے کہ اہل مجلس کا کیا حال ہوا۔

ایک دفعہ شام دیر تک ہم دفتر میں بیٹھے رہ گئے کہ باہر بارش اور ژالہ باری ہو رہی تھی۔ مطلع کچھ صاف ہوا تو باہر نکلے برآمدے میں کھڑے ہوگئے جہاں سامنے موٹرسائیکلیں کھڑی رہتی تھیں۔ نیچے کی زمین گیلی ہوجانے کی وجہ سے ذوالفقار صاحب کا ویسپا اسکوٹر ملک فیض بخش کی موٹر سائیکل کے اوپر گرا ہوا تھا اور نیچے دبی موٹر سائیکل کی ٹینکی سے پٹرول بہ رہا تھا۔ سراج بھائی نے یہ منظر دیکھا تو ذوالفقار صاحب کو مخاطب کر کے بولے

’’میں بھی یہ سوچ کر آج حیران رہا کہ آج یہ کس گناہ کی سزا کے طور پر سنگساری ہورہی ہے!۔‘‘

ذوالفقار صاحب شرمیلے سے آدمی تھے یہ سنتے ہی ان کے چہرہ سرخ ہو گیا۔

سراج بھائی کی رگِ ظرافت تحسین فراقی کو دیکھ تو خوب پھڑکتی تھی۔ دونوں صاحب علم بھی تھے اور صاحب ذکاوت بھی۔ دونوں کی بذلہ سنجی بھی کمال کی تھی۔ سراج بھائی کے دفتر میں آنے کا ٹائم تو دس گیارہ بجے کے قریب تھا لیکن گھر جانے کا کوئی وقت مقرر نہ تھا۔ کبھی کبھی تو رات کے نو دس بھی بج جایا کرتے تھے۔ ادھر تحسین صاحب کی یونیورسٹی سے فراغت کا ٹائم تین بجے تھا۔ یونیورسٹی سے اٹھتے تو کبھی کبھار وہ ادارہ ثقافت اسلامیہ میں آجاتے۔ سراج بھائ کا دفتر اور ادارے کا خوبصورت سبزہ زار شہربھرکے اہل علم کی آماجگاہ تھا۔ ایک روز شام کو چار بجے کے قریب تحسین صاحب سراج بھائی کے آفس میں آئے۔ ان کے کمرے کی ترتیب یہ تھی کہ سامنے بڑا سا میز، اس کے سامنے چار پانچ کرسیاں اور پھر ذرا ہٹ کے دیواروں کے ساتھ صوفے لگے ہوئے تھے۔ سراج بھائی کی عادت تھی کہ کوئی بے تکلف دوست آتا تو وہ اپنی کرسی پر ہی بیٹھے رہتے اور بڑے میز کے سامنے کی کرسیوں پر دوست بیٹھ جاتے۔ البتہ کوئی تکلف کا مہمان آتا تو وہ اسے بالاہتمام صوفے پر بٹھاتے ایک چھوٹی سی کرسی خود اٹھا کر سامنے رکھتے اور بڑے مؤدبانہ انداز میں اس پر بیٹھ جاتے تھے۔ تحسین فراقی چونکہ ان کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے اس لیے وہ میز کے سامنے لگی کرسی پر ہی عام طور پر بیٹھا کرتے تھے۔ مگر اس روز وہ آئے اپنا بیگ کرسی پر رکھا اور خود پیچھے والے صوفے پر نیم دراز سے ہوگئے۔ سراج بھائی نے اشارہ کیا کہ

’’یہاں قریب آؤ۔‘‘

فراقی صاحب مسکراتی آنکھوں سے بولے:

’’نہیں! آپ نے خود ہی تو کتاب میں لکھا ہے کہ چیزیں دور سے صاف نظر آتی ہیں!‘‘

ان کا اشارہ سراج بھائی کی کتاب “ملت اسلامیہ تہذیب و تقدیر” کے دیباچے کی طرف تھا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ “عام زندگی کا تجربہ تو یہ ہے کہ جو چیز جتنی قریب ہو وہ اتنی صاف نظر آتی ہے لیکن اس کے برعکس تاریخ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جتنی دور ہو اتنی واضح نظر آتی ہے۔ تحسین صاحب کی اس بات پر سراج بھائی نے قہقہہ لگایا اور بولے

’’ہاں، مگر وہ تاریخ کا معاملہ ہے!‘‘

’’تحسین کا معاملہ بھی یہی ہے وہ بھی دور سے بہتر ہوتی ہے۔‘‘

فراقی صاحب نے انہی کی منطق انہی پہ لوٹا دی۔

سراج بھائی کے علم و فضل اور ذہانت و فطانت کے تذکرے تو بہت سے لکھے گئے اور لکھے جائیں گے مگر انکی بذلہ سنجی اور لطیفہ گوئی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مولانا جعفر قاسمی نے ان کے انتقال کے پر لکھتے ہوئے اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ وہ کارٹون بھی بہت اچھے بنایا کرتے تھے۔ میرے سامنے چونکہ ایسا کوئی نمونہ نہیں اس لئے میں اس بارے میں تو کچھ کہنے سے معذور ہوں لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ لاہور جوکہ اپنے چہل مزاجوں اور جگت بازوں کی وجہ سے بھی معروف ہے وہاں سراج منیر اس میدان میں بھی اپنے حلقہ یاراں میں کبھی ہیٹے نہ رہتے تھے وہ مقابل کو ہر طرح سے چپ کرانا اور چت کرنا خوب جانتے تھے۔ جہاں تک اُس بالی عمریا میں انکے علمی وفور اور دانش ایجادی کا معاملہ ہے تو اس بارے میں ہمارے سامنے زمانے کے ایک بہت بڑے صاحاب علم نقاد شمس الرحمن فاروقی کا سراج منیر کے بارے میں یہ جملہ معروف ہے کہ

اس زمانے میں اگر کسی نے اردو میں عالم نقاد کو دیکھنا ہو تو وہ نوجوان سراج منیر کو دیکھے!

اس میں تو کوئی شک نہیں ہیں کہ ذہانت اوردراکی ایک فطری صلاحیت ہوتی ہے جو کسی فرد کو جینز میں ملتی ہے مگر سراج منیر کے معاملے میں ان کے بچپن کا ایک واقعہ جو انہی کی زبانی سنا تھا وہ بہت اہم معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے ایک دفعہ بتایا کہ دس بارہ سال کی عمر رہی ہو گئی وہ اپنے بچپن کے شہر سید پور، سابقہ مشرقی پاکستان، میں کچھ دوستوں کے ساتھ شہد اتارنے کے لیے ایک درخت پر چڑھ گئے۔ چھتہ چونکہ بہت بڑا تھا اور وہ اس کے ساتھ ابھی گھتم گتھا ہونے ہی کو تھے کہ نیچے سے کسی لڑکے نے شرارت سے پتھر مار کر مکھیوں کو بپھرا دیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں مکھیاں یک بارگی مجھ پر حملہ آور ہوئیں اور اس کے بعد مجھے کچھ پتہ نہ چلا کہ شہد کہاں تھا اور میں کہاں۔ ہوش آنے پر میں نے خود کو ایک ایک حکیم کے دواخانے پایا۔ میرا جسم سوج کر ایسا ہو چکا تھا کہ دائیں بائیں اوپر نیچے اور آگے پیچھے میں کوئی فرق نہیں رہ گیا تھا۔ آنکھیں کھلتی نہ تھیں ہونٹ بند نہ ہوتے تھے۔ کئی دن ایسی حالت میں گزرے۔ میرے جینے کی امیدیں دم توڑتی گئیں اور والدین مایوس ہوتے گئے۔ پھر نجانے کس کرشمے کے زیراثر میں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنا شروع کییں، ہلکا ہلکا بڑبڑانے لگا، بولنا شروع کیا اور پھر جسم میں حرکت پیدا ہوئی تو چلنا پھرنا بھی شروع کیا۔

سراج بھائی ابھی اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ ہمہ تن گوش بنے ہم قریب بیٹھے ہووؤں میں سے راجہ ماجد صاحب بول اٹھے کہ

’’ذہین ہونے کا یہ نسخہ کچھ زیادہ ہی مہنگا ہے، ہم باز آئے ایسی ذہانت سے!‘‘

ہم سب یہ سن کر ہنس پڑے مگر ہمارے ایک دوست حسن وسان مرحوم جو ہومیوپیتھی سے بہت شغف رکھتے یکایک سنجیدہ ہوگئے اور بولے کہ یہ مذاق نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اس میٹھے زہر ہی کا یہ اثر ہو جس نے آپ کی زبان کو یہ شیریں سخنی عطا کی اور دماغ کو اس ذکاوتِ علمی سے مالا مال کر دیا!

سراج بھائی کی انتیسویں برسی پر آج ان کی شخصیت کا یہ مختلف پہلو میرے ذہن میں آیا جو پیش ہے۔ ان کی ذکاوت، بذلہ سنجی، جملے بازی، چٹکلوں اور لطیفوں کے بیسیوں اور واقعات ہیں جو آئندہ پھرکبھی سہی!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: