غفور شہزاد: مزاح نہ آئے تو قصے واپس ——– اظہر عزمی

0

میرا مدراسی بابو

(ایک اشتہاری کی باتیں)
میں اسے دیکھتا تو دل بلیوں اچھل پڑتا، مذاق کے لئے اندر کا بچہ باہر آ کر مچلنے لگتا۔ میں نے اس سے واقعی محبت کی ہے۔ بالکل ویسی محبت جو اسکول میں بچے اپنے سادہ مزاج دوست سے کرتے ہیں۔ جب بھی مذاق کیا تحریک اس کی سادگی نے دی اور ایسی سادگی وہ آئے دن کیا کرتا۔ میرا جو بھی وقت اس کے ساتھ گذرا وہ میرے اداس لمحات کا آج بھی بہترین ساتھی ہے۔ اس لئے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس عمر میں بھی میرا غم گسار ہے۔

اس کی کہانی بھی عجیب ہے والدین کسی وجہ سے اسے اوراس کے چھوٹے بھائی کو بچپن میں اپنے رشتے داروں کے پاس مدراس چھوڑ آئے۔ وہیں تعلیم حاصل کی۔ مختلف ملازمتیں کیں اور پھر کراچی آ گیا۔ شومئی قسمت پھر ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں آ ٹکرایا۔

یہ وہی زمانہ ہے جب فریڈرک صاحب، غفور شہزاد، انعام الرحیم اور میں ایک ساتھ ہوا کرتے تھے۔ کام اپنی جگہ مگر تفریح اپنی جگہ۔ جن لوگوں نے ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ملازمت کی ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر تفریح کا سامان نہ ہو تو اچھے کام کی توقع نہ کریں۔ میں نے اکثر اپنے دوستوں سے یہی کہا ہے کہ کمرشل کریٹیویٹی کے لئے جتنا نان سیریس ہو کر کام کریںگے اتنا ہی سیریس کام ہو گا۔اب آپ سوچیں جب یہ فلسفہ ہو تو چین سے کون بیٹھتا ہے۔

چلیں! ایجنسی چلتے ہیں۔ صبح کا وقت ہے۔ فریڈرک صاحب اپنے لنچ بکس اور کتاب کے ساتھ کرسی پر براجمان ہیں۔ میں بھی بسوں کے دھکے کھاتا آفس آچکا ہیں۔ غفور شہزاد اپنے تن و توش کے ساتھ سلام کر کے بیٹھے ہیں اور ماتھے سے اپنے V شیپ بالوں پر کنگھا کر تے ہوئے بولے “سنو! دعا کرو بس ہو جائے”. میں نے ذومعنیٰ میں کہا کہ کیا ہو جائے؟ بولا کہ میں نے خلیج ٹائمز میں جاب کے لئے اپلائی کیا ہے۔ عربی ایک دو دن میں انٹرویو لینے کراچی آ رہا ہے۔ لیں جناب صبح ہی صبح ہو گیا انتظام۔ ہم نے بظاہر مبارکباد دی اور لگ گئے اپنے مشن پر پہلے پہنچے بھاری بھر کم آواز کے مالک آرٹ ڈائریکٹر رفاقت منور کے پاس اور ان سے کہا کہ کچھ دیر بعد آپ دیر بعد غفور شہزاد سے خلیج ٹائمز کے عربی نمائندے کے طور پر بات کریں گے جس میں انگریزی برائے نام اور عربی زیادہ ہو گی۔ ریسیشنسٹ کو سمجھا دیا کہ وہ کچھ دیر بعد غفور شہزاد سے انٹرکام پر بات کرے اور کہے کہ کوئی عربی بات کرنا چاہ رہا ہے۔ میں خاموشی سے کمرے میں آ کر بیٹھ گیا اور فریڈرک صاحب کو اشارہ کر دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ فریڈرک صاحب اسٹیج کے اداکار ہیں۔ اس لئے بغیر کسی ریہرسل کے ہر کردار میں بہترین پرفارمنس دیا کرتے۔ کچھ دیر بعد پرگرام کے مطابق غفور عربی سے ہم کلام تھا اور میں فریڈرک صاحب انجان بنے بیٹھے تھے۔ بات ختم ہوئی تو غفور نے پہلے تو عربی کی انگریزی سے عدم واقفیت کا گلہ کیا اور پھر بتایا کہ اتنا سمجھ میں آیا ہے کہ ابھی دوپہر ایک بجے تک ہوٹل میٹرو پول کمرہ نمبر 901میں انٹرویو کے لئے پہنچنا ہے۔

اصل کہانی اب شرو ع ہوتی ہے۔ ہم اپنا معصومانہ چہرہ لے کر کریٹیو ہیڈ جو کہ ایک خاتون تھیں، ان کے پاس گئے اور کہا کہ غفور نے ابھی تک اپنا کام کر کے نہیں دیا ہے اور آپ مجھ سے ڈھائی بجے کام مانگ رہی ہیں۔ وہ دندناتی ہوئی کمرے میں آ گئیں اور غفور سے کہا کہ ابھی لنچ سے پہلے کام کر کے جائیں۔ فریڈرک صاحب نے کہا کہ یہ سراسر زیادتی ہے۔ انعام الرحیم نے اور آگ لگائی۔ اس سے یہی کہا ابھی ساڑھے بارہ بجے ہیں تم کام چھوڑو اور نکلو۔ غفور بولا “کچھ بھی ہو جائے جائوں گا تو ضرور”۔ میں پھر خاموشی سے خاتون کے کمرے میں گیا اور کہا کہ غفور کہہ رہے ہیں کہ کام تو میں لنچ کے بعد کروں گا، جس نے جو کرنا ہے وہ کر لے۔ میں نے خاتون سے کہا کہ میرا نام مت لیجئے گا۔ وہ پھر کمرے میں آدھمکیں اور کہا کہ اپنا کام مکمل کر کے اظہر کو دیکر جائیں۔ وہ چلی گئیں۔ میں ایک جان فدا کرنے والے دوست کی طرح آگے بڑھا اور غفور سے کہا “جتنا کام کیا ہے، دے جائو باقی میں دیکھ لوں گا”۔ فریڈرک صاحب اور انعام الرحیم نے میرے اس جذبہ قربانی کو سراھا اور غفور سے کہا ـ “دیکھو! اسے کہتے ہیں دوستی۔ اظہر جیسا دوست تمہیں ڈھونڈے سے نہیں ملے گا۔ یہ تمہارے لئے جان بھی دے سکتا ہے”۔ ہم بھی احمق دوستوں کی طرح سر ہلانے لگے۔ پونے ایک بجے غفور نکلا اس کی نظروں میں میرے لئے شکریہ تھا۔

ایک گھنٹے بعد وہ ہانپتا کانپتا واپس آیا اور اپنا ہاتھ میری گردن پر سختی سے رکھ کر “گُدی نشین “ہو گیا۔ کیا کچھ تھا جو اس نے نہیں کہا، باقاعدہ ہانپ رہا تھا۔ میں نے کہا “بھائی میں نے کیا کیا ہے”۔ “بولا ایک بات بتا، ہوٹل میٹرو پول میں 9 منزلیں ہی کب ہیں جو وہاں کمرہ نمبر 901 ہو گا”۔ میں نے کہا “تو میں 901 میں کہاں سے آ گیا”۔ بولا “تو کہاں سے آ گیا؟ ابے اس پوری کہانی میں تیرے علاوہ ہے کون؟۔ میں نے ریسیپشن سے سب معلوم کر لیا ہے”۔ فریڈرک صاحب اور انعام الرحیم سے کہنے لگا “آپ بولے یہ جان دے سکتا ہے میرے لئے۔۔۔ ارے بابا یہ میری جان لے سکتا ہے”۔

غفور شہزاد تند رفتار ہے لیکن تندخُو نہیں (مجھے پتہ ہے یہ سب اس کے سر سے گذر جائے گا)۔ بالکل فوجی انداز میں سیدھا سیدھا چلتا ہے۔ لگتا ہے پیروں میں پہیہ لگا ہے۔ کام کے علاوہ الیکٹرانکس کا شوقین ہے۔ ایک بار گھر پر دوپہر میں گھر پر جھنگا پلائو کی دعوت دی۔ مہمان نوازی میں جھکا جا رہا تھا۔ میں نے کہا “تو پہلے سے جھکا ہوا ہے، مزید جھک کر کیا کرے گا”۔ غفور شہزاد قد کے معاملے میں قدغن کا شکار ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ بہت DOWN TO EARTHہے۔ میں نے تو ایک بار کہا تھا کہ تجھے کسی گملے میں لگا کر کھاد پانی دیں گے تو کچھ نکل آئے گا۔ جل گیا بولا “لمبو تو نے کیا کر لیا اپنے اس قد ر

یکم اپریل کو سوٹ پہن کر آ گیا۔ آتے ہی بولا کہ آج مجھے کو ئیٖٖFool‘ بنا کر دکھائے۔ میں نے کہا “کیوں تو کیا ’ Fool proof‘ ہے؟ “فریڈرک صاحب نے کہا” یہ انسان ہے کوئی سسٹم نہیں، اگر سسٹم ہے تو بہتOutdated ہیـ”۔ اتفاق سے میں ریسیپشن پر گیا تو ایک انگریز MD سے ملنے آیا ہوا تھا۔ وہ تھے نہیں تو انگریز وہیں بیٹھ گیا۔ میں بھاگا بھاگا اوپر گیا اور کہا کہ غفور تجھ سے کوئی انگریز ملنے آیا ہے، ریسیپشنسٹ اس کا accent سمجھ نہیں پا رہی ہے۔ تیرا پوچھ رہا ہے۔ میںنے اتنی جلدی مچائی کہ غفور فوراً نیچے اتر گیا۔ میں پیچھے پیچھے اب صورتِ حال یہ ہے کہ غفور اپنا وزیٹنگ کارڈ دیتے ہوئے اپنا نام بتا رہا ہے۔ ابھی انگریز نے کارڈ کو انگلیاں لگائی تھیں لیکن نام سنتے ہی انگلیاں کھینچ لیں اور کہا Sorry I dont wanna meet you اب غفور حیران اسی دوران MD آ گئے، گورا ان کے ساتھ چلا گیا۔ غفور شہزاد بیچ میں اور میں ان کے گرد “رقص کناں”تھا۔ اپریل فول من چکا تھا۔

غفور شہزاد کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ کسی قسم کا اثاثہِ کمتری نہیں رکھتا اس لئے احساسِ کمتری کس چڑیا کا نام ہے وہ نہیں جانتا۔ غفور شہزاد کام میں آنا کانی نہیں کرتا لیکن تانکا جھانکی کرتا رہتا۔ ایک دن MD کے پاس ایک شخص کافی دیر سے بیٹھا تھا۔ انہیں کھد بُد ہوئی۔ پوچھنے لگے کہ کون بیٹھا ہے؟ ( دیکھ لیں میں نے کچھ نہیں کیا ۔ خود جگہ دی ہے)۔ میرے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی۔ بس کھیلنا شروع کر دیا۔ “بھائی کل کی بات بھول گئے۔ کل جو ایڈ میںgrammatical mistake گئی تھی اب وہ تمہارے لئے خاصی dramatical ہو گئی ہے۔ متبادل آ رہا ہے۔ غفور سمجھا کہ دل کا معاملہ ہے۔ بولا ۔۔۔نہیں میں کل ان کو بتا دیا تھا کہ mistake by chance ہوئی ہے۔by heart تو میں نے کہا ہی نہیں۔ خیر کھیل شروع تھا۔ میںنے بتایا بندہ ایک بڑی ایجنسی میں کریٹیو میں ہے اور تمھیں Replaceکرنے آیا ہے۔ کل سے جوائننگ دے رہا ہے۔ غفور نے قہقہہ مارا اور بولا “بیٹھے گا کہاں؟”۔ میں نے اس کی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ بولا “ایک مہینے کا نوٹس دیں گے۔ ایسے تو نہیں نکال دیں گے؟”۔ اب فریڈرک صاحب نے جاندار انٹری دی اور بولے “تم نہیں جانتے، یہاں بندہ فوراً فارغ ہوتا ہے”۔ انعام الرحیم نے کہا کہ میرے سامنے MDصاحب نے کریٹیو ہیڈ سے کہا ہے کہ انہیں کل سے کریٹیو کے کمرے میں بٹھا دیں۔ آخری کیل گڑھ چکی تھی۔ غفور اداس ہو گیا۔ میں نے موقع غنیمت جانا، اکائونٹس ڈیپارٹمنٹ میں پہنچ گیا۔ وہاں ایک لڑکے کو ساری اسٹوری سنائی۔ وہ خود ایک تفریح باز تھا۔ بولا آپ فکر ہی نہ کریں۔ بس پرفارمنس دیکھیں۔ پروگرام کے مطابق غفور کو کہا کہ تمھیں اکائونٹس میں بلوایا گیاہے۔ غفور ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا کہ لڑکے نے انٹرکام پر مجھ سے بات شروع کر دی ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہMD صاحب سے بات کر رہا ہے۔ ساتھ ساتھ غفور کو رحم بھری نظروں سے دیکھتا جاتا۔ جملے بھی حالات کے عین مطابق تھے۔” جی۔۔ سر سمجھ گیا آج ہی کرنا ہے۔ کل صبح فرسٹ ہاف تک فائنل سیٹلمینٹ ۔۔۔ جی سر میں کرتا ہوں”۔ غفور سیدھا آدمی خود ہی بول پڑا “آج ہی کہا ہے کیا؟”۔ لڑکے نے کہا کہ آپ کے سامنے ہی بات ہوئی ہے۔ ساتھ ہی اس نے افسوس کا اظہار بھی کیا۔ غفور کمرے میں سر جھکا کر بیٹھ گیا۔

شام ہو چلی تھی۔ گھر جانے کے لئے نکلا تھا تو سلام دعا بھی نہیں کی۔ جب وہ نیچے اترنے لگا تو فریڈرک صاحب نے کہا کہ اس کو بولو یہ مذاق ہے، کہیں موٹر سائیکل ہی کہیں نہ ٹکرا دے۔ میں بھاگا بھاگا نیچے پہنچا۔ آواز دی “کہاں جا رہا ہے”۔ کہنے لگا گھر جائوں گا۔ کل سے جاب بھی ڈھونڈوں گا”۔ میں نے کہا “ابے مذاق تھا۔ تیری جاب کہیں نہیں جا رہی”۔ اب کیا تھا، روڈ پر وہ میرے پیچھے اور میں اس کے آگے۔ جو دل میں آئے کہے جا رہا تھا۔ آس پاس گذرنے والے حیران کہ کیا ہو رہا ہے۔ جب پکڑ نہ پایا تو رک گیا اور جاب بچنے کی خوشی اور اس جاب شکن مذاق پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے بس اتنا کہا “تو ایک دن مجھے مار دے گا”۔ اس دن کے بعد پھر میں نے تمام موقعوں کو ضائع کیا اور غفور سے کبھی مذاق نہ کیا کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ وہ مجھے کل بھی پیارا تھا اور آج بھی پیارا ہے۔

غفور شہزاد سب کچھ بھول کر کھلے دل سے ملنے والا ہے لیکن اب بات کرو تو آواز میں پہلی جیسی لہک اور چہک نہیں ہے۔ دل کا روگ لگا بیٹھا ہے۔ میں اس کی صحت کے لئے دعاگو ہوں۔ آپ محض واقعات سے شخصیت کا مکمل احاطہ مت کر لیجئے گا۔ وہ ایک ذہین شخص ہے۔اپنا کام جانتا ہے، محنتی ہے۔ ہاںدکھاوا نام کی کوئی بیماری نہیں ہے اس میں، جسے انگریزی میں Show off کہا جاتا ہے۔ ایسے سادہ مزاج، سادہ لباس بقول شخصے ششکوں کے اس دور میںبکتے نہیں ہیں۔ پروڈکٹ اندر سے اچھی ہے بس مسئلہ پیکیجنگ کا ہے۔

مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 5 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: