تعلیمی وظائف: مقصد اور حقائق ۔۔۔ سجاد خالد

1

تعلیمی اداروں کی جانب سے طالب علموں کو دئے جانے والے وظائف ہمیشہ لائق تعریف سمجھے جاتے ہیں لیکن اس معاملے پر کچھ توجہ دی جائے تو بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔ بہتر نتائج کے لئے اچھےمقاصد کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس لئے پہلے ہم تعلیمی وظائف دینے والے اداروں کے اُن مقاصد کی بات کریں گے جوعموماً  بیان کئے جاتے ہیں۔

پہلا مقصد: فروغِ تعلیم

دوسرا مقصد: حق دار کی مدد

تیسرا مقصد: اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کا حصول

پہلا مقصد: اس میں شک نہیں کہ وظائف فروغِ تعلیم میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کم از کم پاکستان کے بننے سے اب تک تعلیم کو کس حد تک فروغ حاصل ہوا، اس میں وظائف اپنا کتنا کردار ادا کر سکے۔

ہمارے ہاں تعلیم کے میدان میں تین دھارے موجود ہیں۔

  1. دینی تعلیم کے مدارس (100فیصدوظائف پر چل رہے ہیں)
  2. سرکاری سکول (تقریباً  90فیصد سرکاری خرچ پر چل رہے ہیں)
  3. نجی یا پرائیویٹ سکول (مکمل طور پر کاروباری بنیادوں پر چل رہے ہیں، یہ اداررے اپنے نفع میں سے کچھ حصہ وظائف کے لئے استعمال کرتے ہیں)

ایک تو خود تعلیمی نظام کا تین دھاروں میں ہونا طبقاتی سماج کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسرا اگر ان سب اداروں کی کارکردگی کو الگ الگ کر کے بھی دیکھا جائے تو نتائج مایوس کن ہیں۔ لیکن وظائف کے نقطۂ نظر سے سرکاری اور نجی تعلیم ادارے اس وقت میری دلچسپی کا موضوع ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں میں وظائف دینے کے لئے کچھ معیارات بنائے گئے ہیں، مثلاً

  1. غیر معمولی قابلیت
  2. غربت

جہاں تک غیر معمولی قابلیت رکھنے کی بنیاد پر وظائف دینے کی بات ہے تو یہ طالب علم کے لئے اعزاز کی حد تک  درست ہے کیونکہ مسئلہ غربت نہیں ہے۔  ایسے طالبِ علم کو اعزاز دینے کا کوئی اور طریقہ بھی تجویز کیا جا سکتا ہے-

اب غریب طالب علم کا مسئلہ الگ ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اس سلسلے میں ایسے غریب طالب علم کی مدد کرتے ہیں جو اپنی غربت کا اعتراف یا اعلان کرنے پر مجبور ہو۔ دوسرے وہ ایسے غریب کو محض غربت کی بنیاد پر وظیفہ نہیں دیتے بلکہ غیر معمولی قابلیت ثابت کرنے کی شرط لازم ہے۔ یہ الگ بحث ہے کی اس نظام تعلیم میں غیر معمولی صلاحیت سے مراد حافظےکی مدد سے بنے بنائے سبق کو بغیر سوال کئے رٹ لینے کی صلاحیت کے سوا  کچھ نہیں ہے۔

اگر مقصد فروغِ تعلیم ہو تو ہمارے سامنے وہ کروڑوں بچے ہونے چاہئیں جن کو بہتر تعلیمی ماحول کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی طالب علم غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ اپنا راستہ خود بنا لے گا، اُس کو آگے بڑھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ ایسے طالب علم کو پہچان کر اُس کے لئے  عمومی ماحول ہی میں اعزازات اور ترقی کے وسائل ہونے چاہئیں۔

اگر وظائف پر اٹھنے والے خرچ کو عام فیس میں کمی کے لئے یا بہتر تعلیمی ماحول کی دستیابی کے لئے استعمال کیا جائے تو فروغِ تعلیم کی جانب زیادہ سنجیدہ قدم اُٹھایا جا سکتا ہے۔ اوی اگر وظائف پر اُٹھنے والا خرچ اتنا معمولی ہے کہ اُس سے عمومی ماحول میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں لائے جا سکتی تو ثابت کیا جا سکتا ہے ایسا کرنے والے فروغِ تعلیم کو سے سے مقاصد میں شمار ہی نہیں کرتے۔

تعلیم کے لئے قومی بجٹ کے لئے 3 یا 4 فیصد رقم مختص کی جائے اور اُس کا بڑا حصہ کرپشن اور بد انتظامی کا شکار ہو جائے تو ہم ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ تعلیم ہمارا اہم  مسئلہ نہیں ہے۔

میرے خیال میں ایک طبقاتی معاشرے میں وظائف کے لئے وقف مٹھی بھر رقم جھوٹی عزت، شہرت اور نمائشی مقاصد میں استعمال ہو جاتی ہے۔ یہ تو اخبار کی سُرخی بن جاتی ہے کہ ایک غریب بچے کو ایک سال کے تعلیمی اخراجات دے دئے گئے لیکن  کانوں کان یہ خبر کسی کو نہیں ہوتی کہ کئی دہائیوں سے کروڑوں بچے جائز تعلیمی سہولتوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اسامہ بن ثالث on

    مجھے لگا کہ کوئی سنجیدہ تحریر ہو گی مگر یہ تو سطحی بھی نہیں ہے۔ اگر اسے تجزیہ کہتے ہیں تو یقینا تجزیہ بہت نکمی شئے ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: