عسکری نگر کا باشندہ: عزیز ابن الحسن —- قاضی حسین

0

ٍ۱۹۸۳ء میں الیکٹریکل انجینئرنگ کی طالب علم کے طور پر حیدرآباد میں محمد حسن عسکری کی تحریروں سے عزیز ابن الحسن کا تعارف بالکل اتفاقی تھا مگر عسکری اور شمس الرحمن فاروقی کے درمیان ہونے والی مکاتبت انہیں بالآخر سراج منیر کی تحریروں کی طرف لے گئی جو ہرگز ایک اتفاق نہ تھا۔ سراج منیر اس وقت ادارے ثقافت اسلامیہ، لاہور کے کم عمر ترین ڈائریکٹر تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب محمد حسن عسکری کی بعدازمرگ چھپنے والی ایک کتاب جدیدیت پر ادبی دنیا میں ایک غدر مچا ہوا تھا۔ اس ہنگام و کہرام کا میدان رسالہ فنون اور روایت کے صفحات تھے مگر برش قلم تھامے شہسواروں کے رہواروں کے قدموں کی دھمک کراچی تا لاھور اور وہاں سے ایبٹ آباد تک سنائی دیتی تھی مگر ان ہنگاموں کا باعث بننے والے محمد حسن عسکری ان مباحث سے پانچ چھ سال پہلے اپنی قبر میں بے نیاز پڑے سوتے تھے۔ ادھر ان مجلات کے صفحات پر یہ محشرِ تنقید بپا تھا اُدھر رسالہ فنون کے مدیر احمد ندیم قاسمی اور جریدہ روایت کے روح رواں سراج منیر دونوں نرسنگ داس کلب، لاہور کی ایک ہی عمارت میں پرامن بقاۓ باہمی کی بہترین مثال بنے ساتھ ساتھ ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ ان کا باہمی اکرام و مؤدت دیکھ کر کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کہ یہ دو متحاب ادبی گروہوں کے سرخیل ہیں۔

انجینئرنگ کے ایک نوعمر طالب علم کو رسالہ فنون اور روایت میں یہ سب مباحث پڑھتے اور ادبی، تنقیدی اور تہذیبی مسائل سے جھوجتے دیکھ کر سراج منیر نے طالبعلمِ مذکور کو برقی منہدسی چھڑوا کر ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر ادارہ ثقافت اسلامیہ میں ملازمت کی پیشکش کی جسے اسنے بصد شوق قبول کرلیا۔تب سے اب تک ۳۵ برس کا عرصہ ہوتا ہے کہ ایک دن کی بھی ایسا نہیں گزرا کہ اس طالبعلم کی دلچسپی عسکری سے کم ہوئی ہو۔

تب سے ابتک عزیز ابن الحسن وہی طالب علمِ ادب و زبانِ اردو ہے جس نے سرکار دربار میں ملازمت کا آغاز 1984 میں محمد خان جونیجو کے “نئی روشنی اسکول”، سانگھڑ میں مدرس کی حیثیت سے کیا اور پھر محکمۂ ڈاکخانہ جات میں ٹھپے لگاتے، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور اور پنجاب سول سیکریٹیریٹ، لاھور میں پرانے مسودات پھٹکتے ہوئے ایک روز گورڈن کالج، راولپنڈی میں بطور لیکچرر اردو جا پہنچا۔ ۲۰۰۷ء میں وہیں بیٹھ کر محمد حسن عسکری کے تنقیدی تصورات پر پی ایچ. ڈی کا مقالہ لکھا اور پھر اوریئنٹل کالج لاہور میں دو اڑھائی سال تدریسِ ادبِ اردو کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے انہی اساتذہ کی ہم نشینی پائی جنکی کلاسوں میں کبھی بطور طالبعلم شریک ہونے کی آرزو کیا کرتا تھا۔

سال۲۰۱۰ء سے اب تک وہ طالب علم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں پہلے بطور استاد اور سال ۲۰۱۶ء سے اس یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔

عزیز ابن الحسن کو ہم نے اس بات پر ہمیشہ اللہ کا شکر گزار پایا کہ جس طالبعلم کی ابتدائی تعلیم سندھ کے ایک دور افتادہ قصباتی شہر سانگھڑ میں ہوئی، جس نے ایم اے اور پی ایچ۔ ڈی تک کے تمام مراحل بطور نجی امیدوار کے طے کئے وہ آج ایک یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کا صدرنشین ہے۔ مگر وہ اس بات کا تمام تر کریڈٹ سراج منیر، تحسین فراقی اور احمد جاوید جیسے اپنے ان احباب کی زندہ صحبتوں اور محمد حسن عسکری اور سلیم احمد جیسے مہان اور زنندہ نقادوں کی ادبی و علمی معاونتوں کو دیتا ہے جنہوں نے اسے بااعتماد بنایا۔ عزیز ابن الحسن کا کہنا ہے کہ جب اس نے محمد حسن عسکری کو پڑھنا شروع کیا تو اسے اس بات کا بھی پتہ نہیں تھا کہ “تنقید” کس چڑیا کا نام ہے، اور یہ کہ عسکری کی تحریروں کے باہر بھی تنقید کی کوئی دنیا ہے۔ مگر “عسکری نگر” اسکے لیے حیرت و سرشاری ایک ایسا عجائب خانہ ثابت ہوا کہ گویا
؎ عالم کی سیر میر کی صحبت میں ہوگئی

اس کا کہنا ہے کہ عسکری کی تنقید پڑھ کر نہ صرف پوری جدید اردو تنقید سے بلکہ بیسویں صدی کے مغرب کے آتشیں شعور کے ظاہری و باطنی لمس سے آگاہی ہو جاتی ہے۔ اس تنقید کی ایک یہی خصوصیت بھی کافی ہے کہ وہ آج ان مسائل کے بارے میں بھی خاموش نہیں جس پر اب مابعد جدیدیت و پس نو آبادیات وغیرہ کے سرنامے لگے ہوئے ہیں ۔ اس لیے اردو تنقید میں میر کے اس مصرعے کا کامل مصداق اگر کوئی ہے تو صرف محمد حسن عسکری!

عزیز ابن الحسن کے پی ایچ۔ ڈی کے مقالے کے ایک بیرونی ممتحن اردو فکشن، شاعری اور تہذیب و ادب کے ممتاز ہندوستانی نقاد شمیم حنفی کے یہ الفاظ پی ایچ ڈی کے کسی بھی مقالے کے لئے ایک اعزاز ہو سکتے ہیں:

“… Going through this highly accomplished research work, has all along been a
rewarding exercise for me… I have viewed this…as an unorthodox piece of
research and have been greatly impressed by the scholar’s insights…It is, most definitely, a valuable addition to the existing material on Askari (the subject matter of thesis). I have pleasure in recommending this thesis for the award of a Ph.D. Degree”

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: