کشمیر کے مسئلہ پہ قرارداد: حقیقت کیا ہے؟ —- عمیر فاروق

0

پاکستان نے کشمیر کے مسئلہ پہ قرارداد پیش کرنے کا رسک ہی نہیں لیا کیونکہ مطلوبہ حمایت ہی نہ مل سکی۔ اور امکان بھی اسی کا تھا لیکن ہمارے ہاں یوں ہاہاکار مچ گئی جیسے کوئی انہونی ہوگئی ہو۔ سادہ لوحوں کی دنیا میں رہنے کی بجائے حقائق کا سامنا کریں۔ عالمی ضمیر نام کی کوئی شئے موجود ہی نہیں جو جاگے، ہاں میڈیا کی طاقت ہے۔

کوئی منڈی کی طاقت کی نام کی شئے موجود نہیں اور نہ ہی منڈی کی نام نہاد طاقت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاسکتا ہے ورنہ امریکہ یہ ہتھیار کب کا چین کے خلاف استعمال کرجاتا۔ ہاں معاشی طاقت ضرور موجود ہے لیکن بغیر فوجی طاقت کے ملاپ کے وہ بھی بیکار ہے ورنہ کل تک چین کی بجائے جاپان اور جرمنی دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہوا کرتے تھے لیکن کبھی عالمی سیاست میں انکا دو ٹکے کا بھی کردار دیکھا؟ برطانیہ کا کردار نسبتاً چھوٹی معیشت ہونے کے باوجود جرمنی اور جاپان سے کہیں زیادہ رہا اور ہے۔

دلچسپ مثال آج کا چین اور امریکہ ہے چین اس لئے بھی بڑی معاشی طاقت ہے کہ امریکہ چین سے قرضہ پہ انحصار کرتا ہے لیکن امریکہ اپنی فوجی اور میڈیا کی طاقت کے ملاپ کی وجہ سے نسبتاً بڑی سیاسی طاقت ہے۔

اس واہمہ سے بھی باہر نکلیں کہ امریکہ کشمیر کا مسئلہ حل کرانا چاہتا ہے اور اسی لئے ثالثی کی پیشکش کی، ایسا کچھ بھی نہیں تھا اور نہ ہے۔ وہ کل بھی اس مسئلہ کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا اور آج بھی یہی چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ دونوں پارٹیوں پہ بیک وقت دباؤ بھی بڑھائے گا اور انکو اپنے اعتماد میں بھی لئے رکھنے کی کوشش کرے گا تاکہ اپنی مرضی کا حل مسلط کر سکے۔

اُمّہ، عالمی ضمیر اور منڈی کی طاقت دلکش نعرے اور واہمے ہی ہیں جبکہ زمینی سطح پہ ننگی طاقت کا کھیل ہے جو ان نعروں کی آڑ میں خود کو چھپائے رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ میں ہمیں مطلوبہ حمایت صرف اس وجہ سے نہ مل سکی کہ ہمارا جھکاؤ عالمی سطح پہ چینی اور روسی گروپ کے ساتھ تھا اور امریکی گروپ سے ہمیں حمایت حاصل نہ ہوئی۔ امریکی گروپ میں فی الوقت زیادہ ممالک شامل ہیں۔

لیکن یہ سوچنا بھی غلط ہوگا کہ ہم اس کے حل کے لئے چینی گروپ کو چھوڑ کر امریکی گروپ کی راہ پکڑیں جیسا کہ ہمارے دانشور بالواسطہ یا بلاواسطہ ہمیں یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کسی بھی فوری حل کی امید میں اتنا بڑا ایڈونچر بھی حماقت ہے کیونکہ امریکی گروپ کا سائز اور طاقت دن بدن کم ہوتا جارہا ہے اور آنے والے دنوں میں بہت سکڑے گا تو اس صورت میں ہم پسپا ہوتی پارٹی کے ساتھ کھڑے ہونے کا جوا کھیل کے خود کو مزید مشکلات کا شکار کیوں کریں؟

حقیقتاً کشمیر کا کوئی بھی فوری حل موجود نہیں اور فوری حل کی کوئی کوشش نقصان اور دھوکہ ہی دے گی۔ یہ کوئی سپرنٹ دوڑ یا ٹوئنٹی ٹوئنٹی نہیں ہورہا بلکہ یہ ایک میراتھن یا ٹیسٹ میچ ہے لمبے عرصہ تک صبر آزما جدوجہد ہی بہترین راستہ ہے جو ایڈونچرزم کے خطرات سے مبرا ہے۔

لیکن قنوطیت کا شکار ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں کچھ نہ کچھ مثبت بہرحال ہورہا ہے گوکہ اس کی رفتار سست ہے لیکن سست رفتار تبدیلی دیرپا اثرات بھی رکھتی ہے۔ فی الحال یہ بھی کم نہیں کہ ہمیں بالاخر ایران کی حمایت ملنا شروع ہوگئی۔ سعودیہ کی اپنی مجبوریوں کے باعث اس سے فوری حمایت کی توقع بھی غلط تھی البتہ آگے جاکر مل جائے گی۔ امارات سے حمایت کی توقع کا امکان دور دور تک نہیں لیکن قطر کی حمایت مل سکی۔

مودی کا سٹانس وقتی طور پہ سخت سہی لیکن دوسری طرف چین مسئلہ کشمیر میں باقاعدہ طور پہ فریق بھی بن چکا ہے جو اسکی علامت ہے کہ پاکستان کو خاموش کراکے بھی مسئلہ کشمیر کو ٹھپ نہیں کیا جا سکتا۔

تیسری طرف امریکہ کی اپنی مجبوریاں ہیں نائن الیون کے بعد جو عالمی ماحول اس نے خود تخلیق کیا تھا آج اسی کے راستے میں پتھر بن چکا ہے اسے یہ ماحول بدلنا ہی پڑے گا بلکہ بدلنے کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے وہ افغانستان سے بھی نکلے گا عالمی سیاست نیا رخ اختیار کرنے والی ہے۔ بقول شخصے پارٹی تو اب شروع ہونے والی ہے ماضی اور حال کے ماحول کو ذہن میں رکھ کر ردعمل دینے کی بجائے آنے والے ماحول کو سمجھ کر اسکی تیاری اور مطابقت سے اپنا ردعمل دینے کی ضرورت ہے۔ کھیل کا ابھی آغاز ہی ہوا ہے انجام بہت دور ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20