عظیم آرٹ کا راز : نامکمل کتھارسس —– نعمان علی خان

0

اپنے مخصوص معنی میں کتھارسس کی اصطلاح ارسطو نے اختراع کی تھی۔ اس کی پوری طرح تو ارسطو سمیت کوئی بھی تشریح نہیں کرسکا ہے گو اس کی تشریح میں کتابوں میں بہت بحث ہوئی ہے۔ پچھلی چند صدیوں میں کتھارسس کو ری۔ڈیفائن بھی کیا گیا ہے لیکن اس کا جو مروج مفہوم آج بھی ہے وہ یہی ہے کہ کوئی فن پارہ جب انسانی جزبات کو وفور کی اس بلندی پر لے جاتا ہے کہ جہاں پر جزبات ہیجان کی بجائے فرحت انگیز سکون پر آجائیں تو اس کیفیت کو اس فن پارے سے ملنے والا کتھارسس کہا جاتا ہے۔ فرائڈ اور ٹی ایس ایلیٹ نے اسے سبلیمیشن بھی کہا ہے۔

میں کافی حد تک کتھارسس کا قائل ہوں لیکن اسے سبلیمیشن کی حد تک، جنسی انزال سے مشابہ نہیں سمجھتا۔ میری نظر میں کوئی فن پارہ اگر مکمل کتھارسس کردے تو وہ اعلیٰ و ارفع لیول کی تخلیق نہیں۔ کیونکہ وہ مکمل Purgation کرکے اپنے اندر کشش کھو دیتا ہے۔ کوئی بھی اعلیٰ تخلیق کتھارسس بس ایک حد تک کرتی ہے لیکن اس کے اعلیٰ ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جتنا کتھارسس کرتی ہے اس سے زیادہ تشنگی اور کبھی کبھی ہیجان کی کیفیت سے دوچار کرتی ہے۔ اعلیٰ ذوق کو اٹریکٹ کرنے والے زیادہ تر فن پارے اسی بنا پر ابسٹریکٹ ہوتے ہیں۔

ایبسٹریکٹ کبھی بھی پورا کتھارسس نہیں ہونے دیتا۔ جمالیات کے نظریات میں کچھ مفکر تو اس حد تک گئے ہیں کہ وہ فن کار کو تاکید کرتے ہیں کہ پورا کتھارسس نہ ہونے دو۔ مزیدار بات یہ ہے کہ تخلیق میں پورا کتھارسس ڈالنا زیادہ آسان ہے بنسبت کہ کتھارسس کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ اس نامکمل کتھارسس کے پریچرز کے مطابق جو لوگ قلمکار ہیں انہیں اپنی تحریروں میں ابہام سے کام لینا چاہئیے، پلاٹ میں یا شعر میں تشنگی رکھنا چاہئیے، کلیشیز استعمال کرنا چاہئیں وغیرہ۔ مصور کو حسین چہرے اور جسم آئیڈیل سیمِٹری میں نہیں پیش کرنا چاہئیں بلکہ کہیں کہیں حسن میں قباحت بھی پیدا کرنا چاہئیے (مثلاً حسین چہرے پر تل اسے زیادہ پرکشش بنا دیتا ہے۔ بعض لوگوں کو گورے وجود کی بجائے سانولے پسند ہوتے ہیں، وغیرہ)۔ اور یہ بھی کہ کا نکریٹ اور ایبسٹرکٹ کی ایملگمیشن چیزوں کو پرکشش بناتے ہیں کیونکہ یہ مکمل کتھارسس نہیں ہونے دیتے۔

جمالیات میں ہی ایک اور نظریہ بھی ہے جس کے مطابق جمال اس وقت تک جمال نہیں جب تک کہ اس میں جلال نہ ہو۔ یہ لوگ حسین قدرتی مناظر کی مثال دیتے ہیں کہ ان میں زیادہ تر وہ مناظر ہوتے ہیں جن میں بلند و بالا پہاڑ، وسیع و عریض میدان اور دریا نہریں ہوتی ہیں اور یہ سب مل کر اس لیئے حسین ہوجاتے ہیں کہ ان کی وسعتیں دل میں ہیبت اور جلال بھی پیدا کرتی ہیں۔ بیرونی خلا اور کائنات کے مناظر بھی اسی ذیل میں آتے ہیں۔ جو پینٹر اپنے ایبسٹرکٹ ورک میں جلال کی کیفیت بھی پیدا کرتے ہیں وہ نہائت اعلیٰ شہہ پارے تخلیق کرتے ہیں۔ جلال سے لبریز یہ فن پارے بھی مکمل کتھارسس نہیں ہونے دیتے کیونکہ یہ جزبات کے ہیجان کو ابھارے رکھتے ہیں۔

میری رائے میں، مشرق کے فنون میں مکمل کتھارسس ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ مشرق کا رئیلزم اور راگ راگنیوں اور میلوڈی پر مبنی موسیقی اس کی مثال ہے۔ جبکہ مغرب کے فنون میں انتہائی بعید امکان ہوتا ہے کہ مکمل کتھارسس ہوجائے گا۔ ایبسٹرکٹ آرٹ مغرب کی ہی انتہائی اعلیٰ صنفِ فن ہے۔ مغربی موسیقی میں کورس، کوائرز، سمفنیز میں میلوڈی کے ساتھ ساتھ بلکہ کہیں کہیں میلوڈی سے زیادہ جلال اور ہیجان، گونجدار اور وسیع و عریض آرکسٹرا کے ذریعئیے پیدا کیا جاتا ہے۔ موزارٹ، باخ، بیتھووین وغیرہ کی سمفنیز میں انتہائی مسحورکن جلال کی کیفیات ہیں۔ اور چونکہ انہیں سننے کے بعد مکمل کتھارسس نہیں ہوتا اس لیئے اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ آج بھی مقبول ہیں اور حد یہ ہے کہ جدید پاپ موسیقی میں ان کلاسیکس کے ٹکڑے شامل کرکے اسے قابلِ برداشت بنایا جاتا ہے۔

دنیا کے دیگر شعرا کی طرح اردو کے تمام بڑے شعرا اپنے ان اشعار اور نظموں کی بنا پر عظیم ہیں جن کو پڑھنے کے بعد ایک خفیف سی تشنگی باقی رہتی ہے اور مکمل کتھارسس نہیں ہونے پاتا۔

غالب کا شعر ہے:

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا

یہ غالب کے چند بہترین اشعار میں شمار ہوتا ہے اور جب بھی پڑھا جائے دل کو لگتا ہے لیکن آج تک کوئی بھی اس کی سیر حاصل تشریح نہیں کرسکا۔

اسی طرح ذیل میں ایک ایک مثال دوسرے بڑے شعرا کی ہے.

میر کا شعر:

یہ تواہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے، جو اعتبار کیا

علامہ اقبال:

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو ہی فاش کردیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینہؑ کائنات میں

فیض احمد فیض کی نظم، مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ۔ فیض کی ایک اور نظم، دشتِ تنہائی میں اور کئی دوسرے اشعار اور نظمیں۔

ناصر کاظمی:

دل تو اپنا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

اور ن۔م۔ راشد کی تقریباً تمام نظمیں۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: