انڈین بربریت اور پاکستان‎ ——– سردار جمیل خان

0

پاکستان کو بزدلی کے طعنے دینے والے ھٹ دھرم مولوی صاحبان کو سمجھانا خیر کسی انسان تو کیا فرشتے اور جن کے بس کا بھی روگ نہیں ہے مگر میرے مخاطب معقول و باشعور پاکستانی ہیں۔

انڈیا اس وقت یکطرفہ طور پر اپنے گراؤنڈ میں اپنی وکٹ پر کھیل رہا ہے جبکہ پاکستان کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ انڈیا ایک جانب کرفیو لگا کر کشمیریوں کو کچل رہا ہے تو دوسری طرف کنٹرول لائن پر گولہ باری کر کے پاکستان کو اشتعال دلا رہا ہے تا کہ پاکستان غلطی کرے اور تیسری جانب عالمی برادری بشمول ’’مسلم امہ‘‘ بھی انڈیا کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

ایسے میں پاکستان کے پاس تین آپشن ہیں۔

پہلا آپشن کے پاکستان ہر فورم پر آواز بلند کرے، عالمی ضمیر کو جنجھوڑے، دنیا بھر کی سول سوسائٹیز کو متحرک کرے، یو این اور او آئی سی کو اپیل کرے، انڈین بربریت کی مذمت کرے، فضائی حدود، افغان راہداری اور دو طرفہ ٹریڈ بند کرے۔

پاکستان اس حوالے سے بہت کچھ کر رہا ہے۔

دوسرا آپشن یہ ہے کہ پاکستان پہل کرتے ہوئے انڈیا پہ حملہ کرے اور مختلف محاذوں پر شروع ہونے والی روایتی جنگ غیر روایتی جنگ میں ڈھل جائے۔ سوال یہ ہے کہ افغان بارڈر پر الجھا ہوا پاکستان اگر روایتی جنگ لڑتا ہے تو کتنا عرصہ لڑے گا؟ صرف مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ بھارتی فوج کے مقابلے میں پاکستان کتنی فوج اتار سکے گا؟ اگر پاکستانی فوج کسی طرح کشمیر میں داخل ہو جاتی ہے تو اسے کسی نوعیت کی فضائی مدد حاصل گی؟ کیا ایسے حالات میں انڈیا کشمیریوں کا قتل عام کر کے پاکستان کے کھاتے میں نہیں ڈالے گا؟ دنیا کی نظروں میں پہل کرنے والے پاکستان کی کیا حیثیت ہو گی؟ اور اگر روایتی جنگ غیر روایتی جنگ میں ڈھل گئی تو پھر؟ مولوی رہیں گے تو جہاد ہو گا نا۔

تیسرا آپشن یہ ہے کہ دونوں اطراف کے کشمیری صرف و صرف کشمیری جہاد بشکل گوریلہ وار شروع کریں اور پاکستان مجاہدین کے راستے میں رخنہ نہ ڈالے۔ ایسی صورت میں اگر انڈیا زچ ہو کر پاکستان پر حملے میں پہل کرتا ہے تو پھر پاکستان حساب چکتا کرے مگر یہ بھی ایک پر خطر اور اعصاب شکن آپشن ہے کیونکہ بھلے کشمیری ہی گوریلہ وار کیوں نہ لڑیں مگر سرحد پار دھشت گردی کا الزام بلیک لسٹ کے متوقع امیدوار پاکستان کے سر ہی تھوپا جائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: