انفرادیت کا جدید بخار اور ہمارے نوجوان ۔۔۔۔۔۔۔۔ خبیب کیانی

0

فیشن کا لباس ، یعنی انسان کی ذات سے باہر ،تک محدود رہنے کا دور اب شاید گزر چکا ہے۔ لباس کے معاملے میں فیشن اب پرانی بات ہو چکی ، آج کا فیشن ہمارے دور کے انسان کے اندرونی معاملات میں بھی در آیا ہے جیسا کہ رویو ں کا فیشن، سوچنے کے انداز کا فیشن یا پھرتیزی سے پھیلتا ہوا خود کو منفرد سمجھنے کا فیشن۔اس فیشن نے ہمیں اپنے ذہن کے اندر اکیلے پن کا شکار کر دیا ہے ، نتیجے میں آجکا انسان فیملی، احباب معاشرے سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ معاشرے کے اجتماعی ذہنی ارتقاء اور رجحانات پربطور معاشرتی سائنسدا ن نظرر کھنے والے تمام اذہان ہمارے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہونے والے انفرادیت کے اس بخار میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔ انفرادیت کی خواہش کو کسی طور بھی غلط نہیں کہا جا سکتا لیکن اگر یہ انفرادیت صرف فیشن کے طور پر اپنا ئی جا رہی ہو اور اس کے پسِ پردہ مطالعے، ذاتی تجربات یا کسی خاص شعبہ ہائے زندگی میں بہترین مہارت جیسے عوامل شامل نہ ہوں تو یہ نہ صرف فرد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے بلکہ کسی بھی خاندان یا معاشرے کے اجتماعی وجود کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

مثال کے طور پر آج کل ہمارے نوجوان اکثر اس طرح کے جملے استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کے میری مرضی میں جو مرضی کروں،میں اپنا اچھا برا بہتر سمجھتا ہوں، کسی کو میری زندگی میں دخل (چاہے جائز ہو یا نا جا ئز) دینے کا کوئی حق نہیں وغیرہ۔اس رجحان میں سوشل میڈیا نے بہت مستحکم کیا ہے، جہاں نوجوانوں کی پوسٹس کا ایک بڑا حصہ یہ بتانے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ منفرد ہیں یا منفرد ہونے کا ،سوچنے کا،کرنے کا اور دِکھنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ حق تو بہر حال ملنے چائیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ فرائض کو بھی ایسی ہی شد و مد سے ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ فرائض کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اور معاشرے کے ارتقاء سے کلی طور پر لا تعلق ہو کر خود کو منفرد سمجھنے کی اس روش نے ہما رے نوجوانوں کی نفسیا ت پر گہرا ا ثر ڈالا ہے۔آج ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کے ذہن سے اجتماعی زندگی اور اس سے جڑی ذمہ داریوں کا شعور تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ روز بروز ہمارے نوجوانوں کے اندر سے اجتماعی زندگی کو جذب کرنے اور اس میں جذب ہونے کی صلاحیت گھٹتی جا رہی ہے۔ یہ ایک توجہ طلب معاملہ ہے اور اس پر بات کیا جانا اور لکھا جانا ضروری ہے۔ میرے ایک بہت محترم اور عزیز دوست جنا ب علی زریون نے ایک گفتگو کے دوران اس سارے معاملے کو انتہائی خوبصورتی سے ایک جملے میں پرو دیا تھا اور وہ جملہ یوں تھا کہ،ــ یہ جانتے ہوئے کہ ہم سب ایک ہیں اپنی انفرادیت پر کام کرنا ہی اصل انفرادیت ہے۔

تعارف: خبیب کیانی ایک ماہرنفسّیات ہیں جو اپنی پریکٹس کے ساتھ ساتھ مختلف تعلیمی و غیر تعلیمی اداروں میں بطور سیلف ڈویلیپمنٹ ٹرینر کے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: