اب تم سے نہیں ملنا —— سعدیہ کیانی کا افسانہ

0

“بس اب تم سے نہیں ملنا۔”
“کیوں بھئی اب کیا مسئلہ ہے ؟”
“اچھا اب یہ بھی میں بتاوں گی کہ مسئلہ کیا ہے ۔”
وہ بچوں کی طرح منہ پھلا کر اسے دیکھنے لگی ۔ پھر سر جھٹکا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“بس اب مر بھی جاوں تو ملنے نہیں آوں گی ۔”

اس سے پہلے کہ وہ کمرے سے نکل جاتی ۔ وہ اٹھا اور اس کا بازو پکڑ لیا۔ اگلے ہی لمحے ایک زوردار تھپڑ اس کے گالوں پہ جڑ دیا۔
وہ لڑکھڑائی اور اس سے پہلے کے چکرا کر زمین پہ گرتی ۔ شجاع کی مضبوط بانہیں اسے تھام چکی تھیں۔ وہ حواس کھو بیٹھی۔ بہت دیر تک بے حس اس کی بانہوں میں اس کے سینے سے لگی پڑی رہی ۔ چند منٹ گزر گئے تو اسے گالوں پہ جلن کا احساس ہوا۔حواس بحال ہونے لگے تو اسے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آہنی ہاتھ کا تھپڑ اس کے گال پر زخم بنا چکا تھا۔ چہرے کی نازک جلد پھٹ گئی تھی اور انگلیوں کے نشان ابھر آئے تھے۔ نمکین آنسو اس کے دل کی طرح اس کے چہرے کو بھی جلانے لگے ۔
وہ سمجھ نہیں پائی کہ آخر شجاع نے اسے تھپڑ کیوں مارا؟
وہ جو محبت کا اظہار ناراضگی کی صورت کررہی تھی ۔ شجاع کو انتظار کے کرب اور اس سے ملنے کی چاہت میں انتظار کا احوال سنا رہی تھی ۔ شجاع کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ کوئی اسے اتنا ٹوٹ کے چاہتا ہے۔ اس کی راہیں تکتاہے اس کے انتظار میں لمحے گنتا ہے۔

شجاع نے ماہم کےچہرے پہ تھپڑ نہیں مارا تھا بلکہ ماہم کو جیتے جی مار ڈالا تھا۔ وہ اب صرف یہ سوچ رہی تھی کہ ایسا کیا ہو جو وہ ایک لمحے میں شجاع کی بانہوں سے غائب ہوجائے اس طرح کہ شجاع سے آنکھ بھی نہ ملائے۔ وہ اب اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ چند لمحے پہلے جو دل میں محبت کی شمع جلائے اپنے دیوتا کی آرتی اتارتی تھی اب وہی دیوتا اسے جلاد نظر آتا تھا۔
شجاع ہمیشہ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے لوگوں سے معذرت کرلیا کرتا تھا لیکن اس نے ماہم سے کبھی معذرت نہیں کی تھی ۔ وہ ندامت محسوس کرتا تو تحفے تحائف اور کبھی ڈنر پہ لے جا کر اپنی غلطی کا کفارہ ادا کردیا کرتا تھا جبکہ ماہم ہمیشہ اس کے منہ سے دو لفظ احساس کے سننا چاہتی تھی ۔ اسے ہمیشہ شجاع سے یہی گلہ رہا کہ وہ اپنی محبت کے اظہار میں کنجوس تھا۔

شجاع فوج میں تھا اور تین دن کی چھٹی پہ اپنے والدین سے ملنے آیا ہوا تھا ۔ دو بار ماہم سے ملنے کا وعدہ کرکے بھی وہ نہ مل سکا تھا۔ اب دو دن گزر چکے تھے اور اگلے روز واپسی تھی جب ماہم خود دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس کے گھر آگئی ۔ وہ بولتی جارہی تھی اور شجاع بیگ پیک کرنے میں مصروف تھا۔وہ ماہم کی بیقراری کو نظر انداز کررہا تھا یہ بات ماہم کے دل کو تڑپا رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ وہ ناراضگی کا اظہار کرے گی تو شجاع اسے توجہ دے گا اور پھر منانے کے لئے اسے باہر لے جائے گا۔ وہ بچاری تو محبت کے چند لمحے مانگتی تھی لیکن اسے محبت کی بجائے تھپڑ سے جواب ملا۔ اب وہ شجاع کی بانہوں میں بے حس و حرکت پڑی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی رواں تھی۔ چہرے پہ جلن اس کے ارمانوں کا مذاق اڑا رہی تھی۔اب دل کے یہ ٹکڑے اس کی زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔

ایک دبی دبی سی ہچکی ابھری اور ماہم نے منہ پھیر لیا ۔ وہ شجاع کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ خود کو سہارا دے کراس نے شجاع کی بانہوں سے آزادی حاصل کی اور دھیرے دھیرے خود کو سنبھالتی ہوئی کمرے سے نکل گئی ۔ شجاع بت بنا کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔ ایک بار پھر وہ ماہم سے معافی مانگنے میں ناکام ہوگیا تھا ۔
اوہ مائی گاڈ ۔۔  ماہم اپنے گھر میں داخل ہوئی تو اس کی بھابھی اسے دیکھ کو چلائی۔
یہ تمہارے چہرے پہ نشان کیسا ہے ماہم ؟ بھابھی بیقراری سے آگے بڑھیں تو ماہم جو اب تک اپنا رونا روکے ہوئے تھی ۔ زور زور سے رونے لگی اور بھابھی کے گلے جالگی۔
” اف میرے اللہ ” ماہم کی امی نے اس کے چہرے پہ انگلیوں کے نشان دیکھے تو وہ چند لمحے سکتے میں آگئیں۔
یہ کس نے کیا؟ کس نے مارا ہے تھپڑ میری بچی کو ؟ وہ پریشانی میں چلانے لگیں ۔ کچھ ہی دیر میں سارا گھر جمع ہوگیا اور ماہم جسے اب بخار چڑھ گیا تھا، اسے بستر پہ لٹا دیا گیا۔ وہ اب بھی رو رہی تھی لیکن بھابھی نے اسے زبردستی پانی پلا کر اس کے گالوں پہ زخم مندمل کرنے کی دوا لگائی۔ شجاع کا ہاتھ پورے کا پورا اس کے گال پر چھپ گیا تھا۔
“سنیں وہ تو رونا بند ہی نہیں کررہی اور بخار بھی تیز ہوگیا ہے۔” بھابھی اب ماہم کے بھائی یعنی اپنے شوہر سے ماہم کی کیفیت کا ذکر کررہی تھی۔
دوا دی ہے اسے؟ جمال بھائی نے سوال کیا۔
“بخار کی دوا تو دے دی لیکن میرا خیال ہے کہ اسے صدمہ پہنچا ہے ۔ معصوم سی بچی کو ایسی بری طرح تھپڑ جڑ دیا شجاع نے ۔۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ؟ بھابھی اب ہاتھ ملتے ہوئے غصے میں نظر آرہی تھی۔
“میں تو پہلےہی کہتی تھی کہ نازک سی بچی ہماری اتنے غصیلے لڑکے کے ساتھ کیسے گزارہ کرے گی۔ اب دیکھ لیں ۔۔ ابھی تو منگنی ہوئی ہے تو اس کا ہاتھ چل رہا ہے شادی کے بعد پتا نہیں کیا کرے گا” بھابھی نے جمال بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔

جمال بھائی پہلے ہی بہت پریشان نظر آرہے تھے اب مزید فکر مند ہوگئے۔
رات بہت مشکل تھی۔ ماہم نے ایک عذاب سے گزر گئی اسے نیند نہ آئی وہ حیران تھی کہ اس کی ہر سانس جس مرد کی چاہت اور خیال میں گزرتی رہی اس کا دل کیسا سفاک نکلا۔ وہ تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی کسی بھی بات سے شجاع کو کبھی کوئی تکلیف ہو۔ وہ تو بس اسے پیار کرنا چاہتی ہے۔ وہ اس کو اپنی چاہت سے سکون اور راحت دینا چاہتی تھی. وہ سوچ رہی تھی کہ کیسے وہ اس کی راہیں تکتی رہی کس طرح لمحے گنتی رہی اور جب وہ ملا۔۔۔ تو ایسے جیسے وہ اس کی زندگی میں رکھے کسی گلدان کی مانند تھی وہ اس کو ایسے نظر انداز کرتا رہا جیسے اس کی زندگی مکمل ہے اور ماہم ایک اضافی کردار ہے۔
کیسا دردناک خیال تھا کہ جس کو ہر لمحہ سوچا وہ اپنے فرصت کے لمحات بھی اسے سوچتا نہ تھا۔
وہ سو نہ سکی۔ بھابھی اس کے کرب کو سمجھتی تھی اسی لئے رات کے آخری پہر جب وہ اسے دیکھنے آئیں تو اس کی سسکیوں نے انہیں مجبور کردیا کہ وہ اسے نیند کی گولی دے سلا دیں۔ بھابھی نے اسے پیار کیا زبردستی کھانا کھلانا چاہا لیکن اس کا تو دل ہی بند تھا بھوک کہاں تھی ۔ اس کا تو ہر انگ درد سے بھر گیا تھا۔ بھابھی نے اسے نیند کی گولی کھلا کر سلا دیا۔

صبح جب وہ غم سے نڈھال سو رہی تھی تو سارا گھر ڈرائنگ روم میں جمع رات والے واقعہ پر سوچ بچار اور گفتگو میں مصروف تھا۔ طے ہوا کہ براہ راست شجاع سے پوچھا جائے البتہ جمال بھائی اور بھابھی دونوں اس حق میں تھے کہ اس گھر سے کوئی ادھر کوئی نہیں جائے گا۔لیکن پتا چلا کہ شجاع صبح سویرے واپس ڈیوٹی پہ چلا گیا۔ بات بیچ میں رہ گئی ۔ شجاع کے گھر والوں سے کسی نے کوئی بات نہ کی کیونکہ مناسب یہی تھا کہ پہلے شجاع کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی اس حماقت کا دفاع کرے اور اگر دانستہ اس نے ماہم کے ساتھ زیادتی کی تھی تو اس بات پر سب نے اتفاق کر لیا تھا کہ یہ رشتہ  یہیں ختم کردیا جائے گا۔
اگلے روز ماہم سارا دن بستر پہ پڑی رہی کچھ خمار تھا اور کچھ بخار کے سبب۔ سارا گھرانہ پریشان تھا۔ ہنستی کھیلتی ماہم کو چپ لگ گئی تھی۔اس کے چہرے پہ زخم بہت برا نظر آرہا تھا کچھ اس سبب بھی وہ باہر نہیں جانا چاہتی تھی۔
چند دن گزر گئے۔

جمال بھائی کو ایک خط موصول ہوا۔ یہ شجاع کی طرف سے تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ بارڈر پہ جنگی حالات کے سبب اسے جوانوں کے ساتھ آگے جانا ہے ۔ وہ شہید بھی ہوسکتا ہے اور غاذی بن کر بھی لوٹ سکتا ہے۔ اس نے خط میں کچھ ایسی باتیں لکھیں کہ جمال بھائی بہت دیر تک خاموش رہے۔بھابھی نے بارہا پوچھا کہ ایسا کیا لکھا ہے جو آپ بتانا نہیں چاہتے لیکن جمال بھائی کو جیسے کسی نے پابند کردیا تھا۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکے کہ شجاع کے لئے دعا کریں وہ وطن کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ۔
دن گزرنے لگے ماہم کا زخم ٹھیک ہوگیا۔ اس کی سہیلیوں نے زبردستی اسے گھر سے نکالا ۔ پارٹی کی لیکن ماہم اب پہلے ہم جیسی ماہم نہ رہی تھی ۔ وہ بالکل بجھ سی گئی تھی۔ سب اس کے آگے ہار گئے تھے ۔ کہاں تو وہ شوخ و چنچل ماہم جو ہر کسی سے چھیڑ چھاڑ کرتی ۔پیار جتاتی پھرتی تھی۔ وہ جب شجاع سے ملتی تھی تو اس کو آنکھوں ہی آنکھوں میں دیوانہ بنا دیا کرتی تھی وہ اس کی آنکھوں میں ڈوب کر خود کو بے بس محسوس کرتا تھا۔ وہ چند لمحے کا قرب ماہم کی زندگی کا چراغ بنا رہتا وہ اس کی جدائی میں اس دئیے سے محبت کو حرارت دیتی تھی۔

 وہ ماہم اب سب بھول گئی تھی ۔ ایک تھپڑ کی آواز میں وہ سارے لمحات دم توڑ گئے ۔ وہ اب چاہتی بھی تو وہ لمحات اسے واپس نہ ملتے کیونکہ شجاع نے آخری یاد بہت تلخ چھوڑی تھی۔
جمال بھائی کمرے میں اندھیرا کئے بیٹھے تھے ۔بھابھی نے لائٹ آن کی تو جمیل بھائی نے فورا کہا کہ بجھا دو ۔۔  لائٹ بجھا دو ۔
بھابھی نے دیکھ لیا تھا کہ جمال بھائی کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا ۔ وہ گھبرا گئیں ۔
کیا ہوا جمال ؟ سب خیر تو ہے نا ؟ وہ کمرے میں باہر سے آتی ہلکی روشنی میں جمال بھائی کے چمکتے آنسو پونچھنےلگیں۔
میرا دل گھبرانے لگا ہے جمال۔ پلیز بتائیں مجھے کیا ہوا ہے؟ بھابھی نے بے تابی سے بار بار اصرار کیا تو جمال بھائی نے دھیرے سے کہا۔
شجاع کا ایک اور خط آیا ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں ؟ یہ کہہ کر جمال بھائی بے اختیار رونے لگے۔
کچھ دیر اس کشمکش میں گزر گئے تو بھابھی کے اصرار پر جمال بھائی نے بولنا شروع کردیا ۔
وہ بولتے جاتے اور بھابھی کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی جاتیں۔ کچھ ہی دیر میں وہ بھی رونے لگیں ۔
شجاع کا خط ماہم سے متعلق تھا۔ اس نے جمال بھائی سے معذرت کی تھی اور وعدہ لیا تھا کہ وہ کبھی بھی ماہم کو یہ نہیں بتائیں گے شجاع نے ایسا کیوں کیا ۔
جمال بھائی نے بھابھی کو بتایا کہ شجاع نے انہیں تین خط لکھے جن میں اس نے ماہم سے محبت کو زندگی قرار دیا تھا۔ لیکن اسے کچھ عرصے سے ایسا لگنے لگا تھا کہ شاید ایک روز اس کی جان وطن کے کام آجائے گی اور ایسی صورت میں ماہم جو دیوانوں کی طرح اس سے پیار کرتی ہے اس کی زندگی برباد ہوجائے گی۔ وہ کبھی بھی کسی اور سے شادی نہیں کرے گی ۔ اسی لئے جب وہ چھٹی آیا تو جان بوجھ کر ماہم کو نہ ملا۔ اور جب وہ آگئی تو اسے تھپڑ مار کر اس کے دل میں نفرت کا بیج بو دیا۔
بھابھی کےآنسو کے ساتھ سسکیاں بھی شامل ہوگئیں۔

آج جو خط آیا تھا وہ شجاع نے بارڈر پر لڑائی کے دوران لکھا تھا اور اس نے وعدہ لیا تھا کہ ماہم کو کبھی نہیں بتایا جائے گا کہ شجاع نے اس سے معافی مانگی تھی۔ اس کے بھائی کے ذریعے وہ اپنی ندامت کا اظہار کردیا تھا ۔
جمال بھائی کے لئے یہ ایسی شرط تھی کہ جسے پورا کرنا ان کے لئے کسی عذاب سے کم نہ تھا ۔
شجاع کی شہادت کی خبر پھیل چکی تھی۔ وہ جھنڈے میں لپٹا بہادر جوان اس وقت والدین کا سر بلند کرچکا تھا۔
ماہم کو کسی نے نہ بتایا کہ شجاع نے تھپڑ تو مارا تھا لیکن پھر اسی ہاتھ کو شجاع نے پتھر سے کچل بھی دیا تھا۔ ماہم کے چہرے کے زخم کے ساتھ ساتھ شجاع کا ہاتھ بھی زخمی رہا۔ وہ جس محبت کا اظہار کھل کر نہ کرسکتا تھا ماہم نے اس کو زندگی کی کسک بنا لیا تھا۔
شجاع ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوگیا تھا اور آج جب اس کا جنازہ پڑھایا جارہا تھا تب کسی نے ماہم کے کمرے سے چلانا شروع کر دیا ۔
ایک کہرام مچ گیا۔ ماہم سانس نہیں لے رہی تھی۔ وہ شجاع کی شہادت کی خبر سننے سے پہلے رخصت ہوگئی تھی۔ اس سے شجاع کی شہادت کو چھپایا گیا تھا لیکن روحوں کے بندھن ایک تھپڑ سے کب ٹوٹتے ہیں۔ ادھر شجاع کا جنازہ پڑھایا جارہا تھا اور ادھر ماہم کو ڈاکٹرز نے مردہ قرار دے دیا۔ شجاع کی کوشش کہ ماہم کے دل سے پیار نکال دوں، کام نہ آئی۔ وہ اس تھپڑ کی حرارت سے دل جلا بیٹھی تھی ۔لیکن جلے ہوئے دل سے شجاع کو نہ نکال سکی۔ وہ اسی روگ میں دل ہار گئی ۔
ایک گھرانے سے دو جوان لاشے اٹھے ۔

 ایک وطن کی راہ کا شہید اور دوسری طرف شہید عشق ، ماہم نے آخری بات جو شجاع سے کہی تھی وہ سچ کر دکھائی “بس اب مر بھی جاوں تو ملنے نہیں آوں گی۔”

(Visited 1 times, 7 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: