حاجی لق لقؔ : ایک فراموش کردار —– شاہین اختر

0

حاجی لق لقؔ ضلع لاہور کی تحصیل قصور کے قصبہ پتے میں ۱۸۹۷ء میں پیدا ہوئے۔ اصل نام عطا محمد ہے۔ جوانی میں بابو عطا محمد چشتی کے نام سے معروف ہوئے۔ پھر ابو العلائے چشتی کا قلمی نام اختیار کیا۔ پھر حاجی لق لقؔ ہوگئے۔ حاجی لق لق ؔ اپنے قلمی نام ’’لق لق‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

بعض حضرات خطوں کے ذریعے میرے قلمی نام ’’لق لقؔ‘‘ کی وجہ تسمیہ پوچھا کرتے ہیں اس لیے میں بازیابی چاہتا ہوں کہ اپنے ’’اسم گرامی‘‘ یا یوں کہیے کہ اسم ’’طیوری‘‘ کی تشریح کردوں۔

میں تقریباً پانچ (۵)سال تک عراق میں رہا ہوں۔ وہاں لم ڈھینگ قسم کا ایک پرندہ ہوتا ہے جسے حاجی لق لقؔ کہتے ہیں۔ حاجی اس لیے کہ ایک خاص موسم میں یہ ہجرت کرکے کہیں دوسرے ملکوں میں چلا جاتا ہے۔ اور کچھ عرصہ کے بعد پھر واپس آجاتا ہے عراق والوں کا خیال ہے کہ حج کرنے کے لیے جایا کرتا ہے۔ میری ٹانگیں ذرا لمبی ہیں اور حاجی لق لق ؔ پرندے کی ٹانگیں بھی طویل ہوتی ہیں۔ اس لیے میرے عرب دوست اس رعایت سے حاجی لق لق ؔ کہا کرتے تھے۔ جب میں نے ہندوستان آکر دنیائے صحافت میں قدم رکھا تو مجھے ظریفانہ رنگ میں لکھنے کا خیال بھی آیا۔ اس کے ساتھ یہ فکر ہوئی کہ اس رنگ میں لکھنے کے لیے کوئی قلمی نام بھی ہونا چاہیے مجھے فوراً اس نام کا خیال آیا جس سے میرے عرب دوست مجھے یاد کرتے تھے یعنی حاجی لق لقؔ۔

حاجی لق لق ؔ نے ابتدائی تعلیم پٹی سے حاصل کی اور پھر لاہور آگئے اور باقی تعلیم لاہور میں مکمل کی۔ حاجی لق لقؔ کی تعلیم انٹرنس تھی۔ ۔ اپنی کتاب ’’درانتی اور دوسرے مضامین ‘‘میں لکھتے ہیں۔ ​

’’جرمنی والے کی بڑی لڑائی کے ابتدائی ایام کا ذکر ہے کہ جب ہم انٹرنس فیل ہونے میں دوسری دفعہ کامیاب ہوئے تو خدا بہشت نصیب کرے ہمارے والد بزرگوار کو فرمانے لگے یہ تمہارے بس کا روگ نہیں بھلا ہم زمینداروں کو انگریزی سکولوں سے کیا واسطہ؟ اور یہ بھی تمہاری والدہ کی ضدتھی کہ وہ تمہیں ٹکٹ کلکٹر بنانا چاہتی تھی۔ ورنہ میں تو شروع ہی سے انگریزی تعلیم کو مسلمانوں کے لیے اور خصوصاً زمینداروں کے لیے حرام سمجھتا ہوں۔‘‘ ٓٓٓ​

اسی مضمون ’’درانتی‘‘ میں لکھتے ہیں: ​

’’شام کے وقت ہم لاہور اسٹیشن کے باہر والے میدان میں پہنچے۔ وہاں سب سے پہلے جس شخص نے ہمارے ساتھ گفتگو کی وہ ایک فوجی جوان تھا اور اس کے ہاتھ میں قد ناپنے کی ایک لاٹھی تھی۔ ہم نے جب اسے بتایا کہ ہم بھرتی ہونا چاہتے ہیں اور ہم انٹرنس تک پڑھے ہوئے ہیں تو ان کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ اس نے کہا موج ہوگئی۔ جوان بابو ہوجائیں گا۔ بابو‘​

پھر حاجی لق لق نے امرتسر کے چونگی خانہ میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ لیکن وہاں سے انہیں پندرہ روپے ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔ اس سے ان کی اپنی گزر اوقات بمشکل ہوتی تھی۔ بلکہ اپنی ضرورت کوپورا کرنے کے لیے انہیں مزید رقم گھر سے منگوانا پڑتی تھی۔ لہذا اس سروس سے دست برداری اختیار کی۔ پھر نائب تحصیلدار بھی ہوئے۔ لیکن وہاں سے لق لقؔ کو برخاست کردیا گیا۔ اسی عرصہ میں پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا اور ۱۹۱۴ء میں لق لق ؔ بطور کلرک فوج میں بھرتی ہوگئے۔ فوج میں اپنی سروس کے آغاز کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ​

’’کچھ عرصہ کے ہم سچ مچ فوجی بابو تھے۔ ہمارے عہدے کا نام ’’انٹر پریٹر‘‘ یعنی مترجم تھا۔ ہم فوجی جہاز پر سوار تھے اور اپنی فوج کے ہمراہ فرانس جارہے تھے۔‘​

۱۹۲۴ء میں وہ ہیڈ کلرک تھے اور ۱۹۳۱ء کے اوائل میں انھیں کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی اور پھر ریٹائرڈ ہوگئے۔ ​

لق لقؔ کی سیاحت کا بیان ہمیں ان کے مختلف مضامین میں بھی ملتا ہے۔ اپنے مضمون ’’درانتی‘‘ میں لکھتے ہیں: ​

’’بائیسویں روز ہم مارسیلزکی بندرگاہ پر جہاز سے اترے تو بقول اڈ جوٹنٹ صاحب ہم فی الحقیقت کھو بصورت اور بہٹ اچھا صفائی والا تھے۔‘‘(۱۲)​

’’درانتی پھر درانتی‘‘ میں فرانس میں قیام کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ​

’’ہمیں فرانس میں رہتے ہوئے تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر گیا تھا۔ جس فوج کے ساتھ ہم ہندوستان سے آئے تھے اس کا زیادہ حصہ ’’جرمن والے ‘‘کی توپ بازی، بندوق بازی، مشین گن بازی، بم بازی، گیس بازی اور کئی بازیوں کی نذر ہوچکا تھا۔‘‘​

لق لقؔ کا پیرس کے قیام کا ذکر ان کے مضمون ’’درانتی ڈانس‘‘ میں ملتا ہے۔ ​

’’ہماری درانتی کو جوسب سے زیادہ اعزاز ملا وہ یہ تھا کہ پیرس کی مشہور رقاصہ پتریکا نے اسٹیج پر ہماری درانتی ہاتھ میں لے کر ’’درانتی ڈانس ‘‘کیا اور اسی ہفتے اس ڈانس کی تصویر پیرس کے مصور اخبار ’’لاپریزین‘‘ میں شائع ہوئی۔‘‘​

اسی طرح انگلستان کی سیاحت سے متعلق لکھتے ہیں۔ ​

’’اور انگلستان پہنچ کر سب سے پہلے ایڈمرلئی (امارت بحریہ) نے ہماری ٹی پارٹی کی۔ یہ جنگی جہازوں کا بڑا دفتر ہے۔‘​

عراق اور بغداد کی سیاحت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ لکھتے ہیں ​

ہندوستانیوں کے لیے عراق میں شادی کرنا فیشن میں داخل ہوگیا تھا۔ آدمی کنوارا ہو یا رنڈوا یا شادی شدہ پہلی بیوی ہندوستان میں زندہ ہو یا مارے فاقوں کےقریب المرگ، بچے یتیم خانہ میں ہوں یا ہسپتال میں ہر صورت عراقی عورت سے شادی ضرور ہونا چاہیے۔‘​

ان کی صحافتی زندگی کے آغاز سے متعلق شفیق جالندھری لکھتے ہیں۔ ​

’’۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران میں فوج میں کلرک بھرتی ہوکر مشرق وسطیٰ میں چلے گئے۔ پندرہ سولہ برس فوج کی ملازمت میں ملک سے باہر رہے۔ شعر وادب کا ذوق تھا۔ واپس آئے تو ادارہ ’’زمیندار‘‘ سے منسلک ہوگئے۔ ابتداء میں ابو العلا چشتی کا قلمی نام اختیار کیا۔ پھر حاجی لق لقؔ ہوگئے۔ ایک روایت کے مطابق انھوں نے اپنی صحافت کا آغاز۱۹۳۲ء میں مولانا عبدالمجید سالک کے رسالہ ’’فانوس خیال‘‘ سے کیا۔ ان کا قلم روزنامہ ’’شہباز‘‘ روزنامہ ’’انقلاب‘‘ روزنامہ ’’مغربی پاکستان‘‘ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘روزنامہ ’’احسان‘‘ اور ’’ناقوس‘‘ میں بھی جولانیِ طبع کے رنگ دکھاتا رہا۔ ’’لقلقہ‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ بھی جاری کیا۔ جو زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا۔ ’’زمیندار‘‘ کے علاوہ آپ ’’نوائے پاکستان‘‘، ’’احسان‘‘، ’’شہباز‘‘ اور ’’مغربی پاکستان‘‘ میں بھی کالم نویسی کرتے رہے زندگی کے آخری ایام میں ’’زمیندار‘‘ میں ’’فکاہات‘‘ کا کالم لکھ رہے تھے۔ ادب کثیف، اردو کی پہلی کتاب، آدم اللغات، بوتل، پروازِ لق لق ؔ، تقدیر کشمیر، جناح اور پاکستان، حاجی لق لق ؔ کے افسانے، حیدر آباد دکن کے دو ہیرو، درانتی، رفتارِ پاکستان، مضامین لق لقؔ اور عالمی معلومات کے نام سے ان کی کتب شائع ہوچکی ہیں۔‘‘​

عمر کے آخری ایاّ م میں حاجی لق لقؔ کی صحت جہاں جواب دے گئی تھی وہاں مالی پریشانیاں بھی ان کا مقدر ٹھہریں۔ جون ۱۹۴۰ء کے تقریباً وسط میں حاجی لق لق ؔ بیمار ہوئے اور آہستہ آہستہ ان کی بیماری شدت اختیار کرتی گئی۔ اور بالآخرجان لیوا ثابت ہوئی۔ جون ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۱ء تک حکومتِ پاکستان نے آپ کو ایک سوروپیہ ماہوار کے حساب سے وظیفہ دیا۔ ​

بیماری کے ایاّ م میں رائٹر گلڈکی جانب سے آپ کو امداد کے طور پرپانچ سو روپے کی رقم دی گئی اور اس ادارہ کی جانب سے مرحوم کی تجہیز وتکفین کے لیے ورثاء کو دو سوروپے بھی دئیے گئے۔ ​

عمرکے آخری حصہ میں حاجی لق لقؔ انتہائی مالی پریشانیوں کا شکارہوئے۔ اس سلسلہ میں ۲۸فروری ۲۰۰۱ء کو اردو ادب کے نامورافسانہ نگار شاعر اور نقاد احمد ندیم قاسمی نے محترمہ شاہین اختر صاحبہ کے نام اپنے خط میں لکھا۔ ​

’’۔ ۔ ۔ جب روزنامہ ’’زمیندار‘‘ بند ہوا تو حاجی صاحب پر نہایت برا وقت آیا۔ ایک روزمیرے گھر کی گھنٹی بجی اورمیں نے دورا کھولا تو حاجی صاحب کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے انہیں بیٹھک میں بٹھایا اور تشریف لانے کا سبب پوچھا تو وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگے۔ بڑی مشکل سے یہ الفاظ ان کی زبان سے نکلے کہ ان کے ہاں آٹے تک کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اس زمانے میں میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کا ایڈیٹر تھا۔ چنانچہ میرے پاس کچھ رقم موجود تھی جومیں نے پیش کردی اور وہ اسی طرح آبدیدہ حالت میں تشریف لے گئے۔ چند روزکے بعد وہ پھر اسی حالت میں تشریف لائے اور میں نے ان کی خدمت کردی۔ وہ میرے بے حد ممنون تھے اور کہتے تھے میں نے عمر بھرتم لوگوں کے خلاف لکھا۔ مگر میری آخری ضرورتیں بھی تم ہی نے پوری کیں۔ افسوس کہ چند روز کے بعد ان کا انتقال ہوگیا اورمجھے ان کی موت کے دکھ کے علاوہ اس وجہ سے بھی دکھی رہنا پڑا کہ ہمارے اس دور میں اتنی اہم شخصیات گمنامی میں رخصت ہوجاتی ہیں اور ان کی خدمات کوپُرکاہ کی حیثیت بھی نہیں دی جاتی۔‘‘​

لق لقؔ یقیناً ان نامور شخصیات میں سے ایک تھے۔ جنھوں نے نہ صرف ادب کے میدان میں اضافے کیے۔ بلکہ کالم نویسی کے ذریعے عوام کی جو خدمات سرانجام دیں۔ وہ انہی کاحصہ تھیں۔ ملک وقوم کی خدمت کی، نام کمایا اور خود کسمپرسی کی حالت میں زندگی تمام کی۔ علالت کا طویل دورانیہ گزارنے کے بعد بالآخر وہ دن بھی آگیا۔ جب قوم ایک مشہور ومعروف طنز نگار شاعر، ادیب اور کالم نویس سے محروم ہوگئی۔ ۲۷ستمبر کی شب لق لقؔ موت کی آغوش میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گئے۔ بعض خبریں ایسی ہوتی ہیں جنھیں سننے کے لیے کان، ماننے کے لیے دل تیار نہیں ہوتے۔ تاہم بوجھل دماغ، بھاری دل اور اشک بار آنکھوں سے سننا اورماننا پڑتا ہے۔ حاجی لق لقؔ کی وفات کی خبر بھی ایسی ہی تکلیف دہ، پریشان کن اور دل دہلا دینے والی تھی۔ جب لق لق ؔ کی وفات کی خبر عوام تک پہنچی تو کسی کو ان کی وفات کا یقین نہ آتا تھا​۔

شورش کاشمیری ؔ، حاجی لق لقؔ کی کسمپرسی بیان کرتے ہوئے یوں راقم طرازہیں۔ ​

’’لق لقؔ کا گھرکہا ں ہے؟ موت کی خبر سن کر راقم التحریر اور حمید نظامی ڈھونڈتے پھرے۔ بڑی مشکل سے پتہ چلا کہ مصری شاہ کے آخری حصہ میں رہتے ہیں۔ پہنچ کر دیکھا تو بول وبراز کی ڈھیریوں کے ایک طرف ان کا مکان تھا۔ حمید نظامی اہل قلم کے جنازے میں دوست ہو یا دشمن ضرور شریک ہوتے تھے۔ لق لقؔ کے مکان پر پہنچے تو بول وبراز سے دماغ پھٹا جارہا تھا۔ الٹے پاؤں واپس آگئے۔ آس پاس کِسی کو خبر تک نہ تھی۔ کہ یہاں کوئی لق لقؔ رہتا تھا اور آج مرگیاہے۔ نہ کوئی نالہ ماتمی اٹھ رہا تھا۔ ایک صاحب اندر سے نکلے علیک سلیک ہوئی دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مرحوم کے بھائی عبداللہ اثری کفنانے دفنانے کی فکرمیں بازار گئے ہیں۔ بعض عزیزوں کے باہر سے آنے کا امکان ہے۔ پانچ بجے شام جنازہ اٹھے گا۔ ۔ ۔ اگلی صبح اخبارات کے ایک کونے میں خبر چھپی ہوئی تھی کہ حاجی لق لقؔ کو کل چھ بجے شام’’بدھو کے آوا‘‘میں دفنا دیا گیا۔ ‘‘​

مرنے سے تقریباً آٹھ گھنٹے قبل حاجی لق لقؔ کو خود اپنی موت کا یقین ہوگیا تھا۔ جس کی تصدیق ان کا اپنا یہ شعر کرتا ہے۔ ​
دار فانی سے چل دیا لق لقؔ​
لو یہ قصہ بھی آج تمام ہوا​

اردو ادب کے اس نابغہ روزگار ظرافت نگار کی وفات پر ملک کے تمام اردو، انگریزی اخبارات ورسائل نے تعزیتی پیغامات شائع کیے ادبی انجمنوں نے تعزیتی پروگرام کیے۔ ملک کی نامورشخصیات نے ان کی وفات پر گہرے رنج اور دُکھ کا اظہار کیا۔ ​

ادبی شخصیات اور اخبارات نے حاجی لق لقؔ کی وفات کو شعر وادب کا گرانقدر نقصان قرار دیا اور کہا کہ اردو ظریفانہ نظم ونثر کا ایک روشن ستارہ بجھ گیا۔ یونیورسٹی پریس کلب لاہور کے زیر اہتمام ایک تعزیتی جلسہ ہوا۔ جس میں لق لق ؔ کی وفات پر گہرے رنج والم کااظہار کرتے ہوئے یہ کہا گیا۔ ​

’’حاجی لق لق ؔ (مرحوم )نے اپنے مزاحیہ کالم ’’پولیٹیکل غزلوں اور ہفت روزہ ’’لقلقہ ‘‘کے ذریعے اردو صحافت میں رونق اور قوم کے ذہن میں شگفتگی پیدا کی۔ آپ کے انتقال سے اردو صحافت کے مزاح نگاروں کا وہ پہلا دور ختم ہوگیا ہے۔ جس میں طنز اور ظرافت کے علاوہ ادبیت کا عنصر بھی نمایاں تھا۔ ‘‘​

پنجاب مسلم ٹریڈرز فیڈریشن کے آنریری سیکرٹری مسٹر کے۔ ایم۔ کے منیر نے کہا۔ ​

’’حاجی صاحب کی موت سے اردو صحافت میں جو خلا پیدا ہوگیاہے اس کا مستقبل قریب میں پُر ہوناممکن نظر نہیں آتا۔ وہ مزاح کے امام ​تھے اور مرتے دم تک اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتے رہے۔‘‘​

ادب شناسوں کی شاید ہی کوئی چشم ہوگی جو نم نہ ہوئی ہو۔ کیوں نہ ہوتی؟ لوگوں میں خوشیاں بانٹنے والا غموں کو مسرتوں میں تبدیل کرنے والا آج منوں مٹی تلے دفن ہو گیا۔ ​

حاحاجی عبدالسلام نے حاجی لق لقؔ کے بارے میں لکھا۔ ​

’’حاجی لق لقؔ شاعر تھے۔ لیکن نام پایا تو مزاحیہ کالم نویسی میں۔ یہ مسلمہ بات ہے کہ سالکؔ اور حسرتؔ کے بعد قیام پاکستان سے پہلے اگر کسی نے جاندار مزاحیہ کالم لکھے تو حاجی لق لق ؔ تھے۔ انھوں نے مختلف اخباروں میں کام کیا۔ لیکن زیادہ عرصہ زمیندار میں گزارا۔ ان کے مزاح میں ادبی رنگ نمایاں تھا۔ اس چیز کوبعد میں مجید لاہوری نے بھرپور انداز میں اختیار کیا۔ اس کا آغاز حاجی لق لقؔ کے ہاتھوں ہوا۔‘‘​

مخلوقِ خدا کو ہنسانے والا یہ ظریف عوامی ادیب وشاعر جب ۲۷ستمبر ۱۹۶۱ء کو راہِ عدم کو چلا تو لق لق ؔ کے شاگرداسیرنے قطعۂ تاریخ وفات لکھا​

؂استاد طنز خسروِ اقلیم علم و فن​
خوشیوں کو تیری موت نے رنج و الم دیا​
حزن و ملالِ مرگ بلا امتیازِ غیر​
اک سا دیا سبھی کو کسی کو نہ کم دیا​
سونا اسیر ہو گیا مے خانۂ مزاح​
اس بزم کو ہے شاعرِ لق لقؔ نے غم دیا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20