میگا پکسل کا دھوکا: سجاد خالد

0
 
کیمروں بالخصوص ڈیجیٹل کیمروں کے بارے میں ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔ جب سے موبائل فون میں کیمرے آنے لگے ہیں میگا پکسل کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ پہلے پہلے تو ایک دو میگا پکسل سے کام چل جاتا تھا لیکن اب مہنگے موبائل کی ایک خاصیت یہ بن چکی ہے کہ اس میں کتنے میگا پکسل کا کیمرہ ہے۔ یہ موبائل فون ڈبہ کھلتے ہی اپنی قیمت کا پانچواں حصہ گنوا بیٹھتے ہیں اور 6 ماہ کے استعمال کے بعد آدھی قیمت پر مر مر کے بکتے ہیں وہ بھی اگر آپ کی قسمت مہربان ہو۔
موبائل فون کیوں کہ سوسائٹی میں سٹیٹس سمبل بھی بن چکے ہیں اس لئے یہ جاننے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے کہ اضافی قیمت دے کر ہم حقیقت میں کیا حاصل کر رہے ہیں۔ اپنے نام نہاد دوستوں کی محفل میں ایک دوسرے کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر دینے کے علاوہ موبائل فون سے آپ کبھی کبھار کال بھی کر سکتے ہیں۔اور ایسی تصویریں تو بیشمار کھینچی جاتی ہیں جن کے نصیب میں کبھی کارڈ یا کاغذ پر پرنٹ ہونا نہیں ہوتا۔
 
پہلے پہل اچھے موبائل بنانے والی کمپنیاں ایک مصروف اور پڑھے لکھے کاروباری شخص کو ذہن میں رکھ کر ماڈل بنایا کرتی تھیں لیکن جیسے جیسے اُن کے علم میں آیا کہ وہ موبائل فون تو گدھے بھی خرید سکتے ہیں تو انہوں نے مناسب سمجھا کہ مصروف اور پڑھے لکھے شخص کی بجائے گدھوں کے لئے پراڈکٹس بنائی جائیں جو تعداد میں زیادہ ہیں اور وسائل پر بھی کافی حد تک قابض ہیں۔ رہے مصروف کاروباری تو وہ اپنے لئے بہتر حل خود ڈھونڈ لیں گے۔
ہمارا مقصد نہ تو گدھوں سے گھوڑے بنانا ہے اور نہ مصروف کاروباری شخص کے لئے گیجٹ تلاش کرنا۔ ہم تو محض یہ چاہتے ہیں کہ ایسے دوستوں کی کچھ خدمت کریں جو ان موبائل کمپنیوں کے مضر اثرات سے بچنا تو چاہتے ہیں لیکن معلومات کی کمی کے باعث اِن کا شکار ہو جاتے ہیں پھر بھی اس کوشش میں انجانے سے اگر کوئی گدھا دو پیروں پر کھڑا ہو گیا تو ہم بری الذمہ ہوں گے۔

اس سلسلے میں ہم آپ کو کیمرے کے بارے میں کچھ معلوت دیں گے تاکہ آپ جان سکیں کہ اچھے کیمرے کی کیا خوبیاں ہوتی ہیں۔
 
  1. کم روشنی میں بہتر تصویر (آئی ایس او کے ساتھ ساتھ لینز کے اپرچر کی بنیاد پر)
  2. تیز حرکت کرتے ہوئے اجسام کی تصویر (شٹر سپیڈ، آئی ایس او او ر لینز کے اپرچر کی بنیاد پر)
  3. پرنٹنگ میں اچھا رزلٹ (کیمرے کے فوٹو سینسر اور لینز کے سائز/ معیار کی بنیاد پر)
     
میگا پکسل کسی کیمرے کو جانچنے کا معیا ر نہیں ہے۔ بلکہ اچھی تصویر کے لئے اچھا لینز اور اچھا سینسر ضروری ہوتے ہیں۔ لینز اور سینسر مل کر تصویر بناتے ہیں۔ لینز کا کام روشنی کو کیمرے میں داخل کرنا ہے اور سینسر کا کام اُسے کیمرے میں محفوظ کرنا ہے۔ اگر لینز تو صاف ستھرا، معیاری اور بڑا ہو لیکن سینسر میلا، غیرمعیاری اور چھوٹا ہو تو کیمرہ ایک اچھی تصویر کو محفوظ کرنے میں ناکام رہے گا۔ جس قدر لینز کا سائز بڑا ہو، اسی قدر سینسر کا سائز بھی بڑا ہونا چاہئے۔

موبائل فون میں لگایا جانے والا سینسر سائز میں عام کیمرے کے سینسر کا 30٪ بھی نہیں ہوتا۔ اسی لئے موبائل فون میں لگایا جانے والا لینز بھی چھوٹا ہوتا ہے۔ سینسر کا سائز بڑا ہو تو وہ تصویر کی باریکیوں کو محفوظ کر سکتا ہے۔ چھوٹے سینسر سے بننے والی دھندلی تصویر کو آپ خواہ ہزاروں خانوں یا پکسلز میں تقسیم کر دیں اُس سے معیار میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکتا۔ موبائل فون میں آٹھ یا دس میگا پکسل کا کیمرہ وہ تصویر ہرگز نہیں کھینچ سکتا جو6 میگا پکسل کا ایک عام ڈیجیٹل کیمرہ کھینچ سکتا ہے۔ اس لئے کہ اُس کا لینز بھی بڑا ہے اور سینسر بھی۔ اس کے علاوہ ایک عام ڈیچیٹل کیمرے میں تصویر کھینچنے کی ایسی سہولتیں بھی رکھی جاتی ہیں جو موبائل فون کے کیمرے میں نہیں دی جا تیں۔
 
ہمارا مشورہ یہ ہے کہ موبائل فون کے انتخاب کے وقت آپ کیمرے کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں اور کوشش کریں کہ اچھا موبائل فون لیا جاےت جس سے فون اور میسیجنگ کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار انٹرنیٹ پر ای میل چیک کی جا سکے۔ رہی بات میڈیا پلیئر کی تو مارکیٹ میں اچھی کمپنیوں کے جیبی میڈیا پلیئرز دستیاب ہیں جو آپ کے نئے فون سے بہتر یہ کام کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک اچھا موبائل فون 3 سے 15 ہزار روپے کی قیمت میں آسانی کے ساتھ خریدا جا سکتا ہے۔
 
کیمرے کی خریداری کرتے ہوئے آپ 10 سے 15 ہزار روپے میں 5 سے 10 گنا بڑا دکھانے والے لینز( جنہیں5x یا 10x آپٹیکل زوم بھی کہا جاتا ہے اور یہ سہولت موبائل فون کے کیمرے میں نہیں ملتی) کے ساتھ 10 سے 16 میگا پکسل کیمرہ خرید سکتے ہیں۔ جب کہ اس سے کہیں کم صلاحیت والا موبائل فون آج کل 35 سے 65 ہزار روپے میں بیچا جا رہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس قیمت میں ڈیجیٹل ایس ایل آر کیمرہ خریدا جا سکتا ہے جس سے ایک پیشہ ور فوٹوگرافر اپنی روزگار کما سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: