کچھ فضول باتیں ——– خرم شہزاد

0

امریکہ میں ایک کار حادثے کے مقدمے کی کاروائی پڑھ کر کافی حیرت ہوئی جہاں معزز جج نے لاکھوں ڈالر جرمانہ مدعی کو ادا کرنے کا حکم دیا۔ وجہ صرف یہ کہ مدعی کے وکیل نے حادثے میں ٹوٹنے والی ٹانگ اور تباہ ہونے والی گاڑی کا جرمانہ نہیں مانگا بلکہ اس نے عدالت کو یہ باور کروایا کہ اگر اس کے موکل کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہ آتا تو جس کمپنی میں وہ کام کرتا ہے وہاں اس کی ترقی کے خاصے روشن امکانات تھے جو کہ اب معدوم ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے اسکا مدعی جو سائیڈ بزنس شروع کرنے کا سوچ رہا تھا وہ بھی اب ممکن نہیں رہا۔ بچوں کو اچھے سکولوں میں پڑھائی جاری رکھوانے میں مشکلات، پڑھائی میں مدد، بچوں کو سکول سے گھر لانے لے جانے سے لے کر روزمرہ کے دوسرے چھوٹے چھوٹے کاموں کی مدد سے لے کر علاج کے لیے اٹھائی جانے والی کوفت، پریشانی اور اخراجات اس کے علاوہ ہیں اور کام کا ایک بڑا بوجھ بیوی پر پڑنے سے گھر کا نظا م جس طرح متاثر ہو گا اس کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔ جج نے ان سب باتوں کو مانتے ہوئے بھاری جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا تاکہ حادثے کے متاثرہ فرد کی مستقبل کی ممکنہ کامیابیوں اور متوقع پریشانیوں کا کچھ ازالہ ہو سکے۔

یہ بات ایک مقدمے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ ایک قوم کی مجموعی سوچ کے ارتقاء کا عکاس ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب جرمنی کے گھٹنے لگوائے گئے تو اس پر بدنام زمانہ تاوان جنگ عائد کیا گیا۔ یہ تاوان اتحادیوں کی طرف سے جنگ کا جرمانہ، اتحادیوں کے جنگی اخراجات اور بعد ازجنگ بحالی کے کاموں کے اخراجات تھے۔ یہ تاوان جنگ اتنا زیادہ تھا کہ جرمنی تو درکنار بیشتر اتحادی ممالک نے اسے ظلم قرار دیا مگر اتحادیوں کی طرف سے نہ صرف یہ تاوان عائد کیا گیا بلکہ وصول بھی کیا گیا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ آج زمین کے سینے پر اتحادی ممالک جس شان سے کھڑے ہیں جرمنی بھی اسی شان سے سر اٹھائے ان کے ساتھ کھڑا ہے اور آج کے جرمنی میں گھومتے پھرتے آپ کو کسی طور نہیں لگے گا کہ یہ جرمنی دو عالمگیر جنگیں نہ صرف لڑ چکا ہے بلکہ ہار بھی چکا ہے۔ آج کا جرمنی ایک فاتح جرمنی ہے۔

یہ واقعات یاد آنے کی کا سبب کچھ سال پہلے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائیدے بین ایمرسن کی طرف سے اقوام متحدہ میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ ہے جس میں بین ایمرسن نے ڈرون حملوں کی ہلاکتوں کو موضوع بنایا اور حکومت پاکستان اور امریکہ سے لئے گئے اعدادوشمار کا حوالہ دیا۔ امریکی ان حملوں کو نہ صرف جائز اور ضروری قرار دیتے رہے بلکہ چند بڑے طالبان لیڈرز کی ہلاکتوں کو اپنی کامیابیوں کے طور پر پیش بھی کرتے رہے ہیں۔ اس وجہ سے امریکیوں کی طرف سے فراہم کئے گئے اعدادوشمار ان کے موقف کی حمایت ہی کرتے تھے مگر حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کئے گئے اعدادوشمارخاصے افسوسناک تھے۔ حکومت پاکستا ن جو شروع ہی سے ڈرون حملوں کی مخالف رہی اور اس مخالفت میں پی پی اور مسلم لیگ کی حکومتوں نے بڑھ چڑھ کر بیانات دئے تھے اور ان حملوں کو پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ بھی قرار دیا ، ملک میں امریکہ مخالف جذبات کے بڑھنے کی ایک وجہ بھی ان ڈرون حملوں کو بھی قرار دیا (یہ الگ بات ہے کہ وکی لیکس کی وجہ سے بہت سے بیانات کی صداقت بعد میں مشکوک ہوگئی) مگر بین ایمرسن کی رپورٹ کے مطابق نو سالوں میں صرف تین سو تیس بار ڈرون طیاروں نے پاکستان کی سلامتی، خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے غبارے میں سے ہوا نکالی ۔ بائیس سو سے زائد دہشت گرد مارے گئے اور صرف چار سو عام شہری ان حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ چھے سو زخمی ان کے علاوہ تھے۔

دہشت گردی کے خلاف ہونے والی عالمگیر جنگ کے نو سال میں صرف چار سو سول افراد کی ہلاکت اور چھے سو زخمیوں کے ساتھ اس طرح کا واویلا کہ ڈرون حملوں سے پتہ نہیں ملک کو کیا ہو گیا اور کیا کچھ ہوجائے گاایک اچنبھے کی بات ہے۔ وہ دہشت گردی جس نے زمین کے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں باسیوں کی چین کی نیند کو بے سکونی میں بدل دیا اور عدم تحفظ کا احساس اس قدر بڑھ گیا کہ بعض جگہوں پر لوگ اپنے سائے پر بھی اعتبار کرنے سے قاصر ہو گئے وہاں اس مہلک جنگ کی قیمت صرف چار سو لوگ رہے مگر صلے میں ڈھائی ہزار دہشت گردوں کی ہلاکت بھی ہوئی توجنگوں کی تاریخ میں یہ بات افسوس ناک تو کہی جا سکتی ہے مگر کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاسکتی ۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ تب کچھ چاپلوس میڈیا ہاوسز نے اس طرح کی رپورٹوں پر چھاتی پھلاتے ہوئے عوام کو بتانے کی کوشش کی ہے اب امریکہ کو جھکانے کا وقت آیا ہی چاہتا ہے جبکہ عین انہی دنوں میں امریکی ایک بہت بڑی تقریب میں ان چند بڑے طالبان رہنماوں کی تصاویر کی نمائش کرنے کے بعد کہ جنہیں انہوں نے ڈرون حملوں میں ماراتھا پوری دنیا کو بتا رہے تھے کہ جو کام پاکستا ن اور اس کی افواج خطے میں موجود ہو کر بھی نہیں کر سکی تھیںوہ کام ہم نے ہزاروں میل دور سے کر دیکھایا۔ ساتھ ہی بڑے فخر سے ہمارے اپنے جاری کئے اعداد و شمار کو بطور ثبوت دیکھایا۔ معصوم شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار ایک رسمی کاروائی ہوتی ہے لیکن ایسی تقریبات بعد میں امریکی آپشنز کو بڑھانے کا سبب ہی بنتی تھیں اور ایسا ہی ہوا کہ پھر ہر جگہ ڈرون حملوں پر گفتگو غیر ضروری ہو گئی۔ اس تصویر کا سیاہ رخ یہ رہا کہ امریکی اپنی ہر بات بزور منوانے کی پوزیشن میں آ گئے اور ہم اپنوں کے جنازے اٹھانے کے بعد بھی گناہگار ہی رہ گئے اور یہ سب کچھ صرف ان چند اعدادوشمار کی وجہ سے ہو اجو نہایت بے وقوفی اور غیر ذمہ داری سے فراہم کر دئے گئے۔ ہماری میڈیا سکرینوں پر چند جذباتی اینکروں کے ہاتھوں کھیلتی یا کھیلاتی حکومت کے کپڑے اتارتی اپوزیشن اور “وسیع تر قومی اور ملکی مفاد کے لیے چند مشکل فیصلے” کرتی حکومتوں کے پاس کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں تھاجو کہ ڈرون حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں سے آگے بھی دیکھ سکتا۔ نفرت کی اٹھتی ہوئی لہروں، قانون کا عدم احترام اور نتیجہ میں جرائم کی بڑھتی شرح، عدم تحفظ کا بڑھتا احساس ، معیشت کی ہوتی تباہی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں آئی رکاوٹوں کا صرف ذکر کر کے سیاپا نہ ڈالاجاتا بلکہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کو بھی یہ سب بتایا اور سمجھایا جاتالیکن یہاں ہمارے پاس کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جو عالمی میڈیا کو بتا سکتا کہ ایک ڈرون حملے کے بعد کتنے لوگ حکومت کو کمزور سمجھ کر اس کی رٹ کو چیلنج کرنے میدان میں آجاتے ہیں، ہر نئی اٹھائی جانے والی کلاشنکوف کتنوں کو عدم تحفظ میں مبتلا کر دیتی ہے اور کتنے ملکی سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا باعث بھی ہوتی ہے۔ دہشت گردوں کے بڑھتے نیٹ ورک اور ان کی طرف سے ملتی دھمکیوں کے بعد پروٹوکول اور سیکورٹی ڈیوٹیوں پر جوان پورے کرتی ضلعی پولیس کس طرح معمولی نوعیت کے جرائم کو نظرانداز کرنے پر مجبور ہوتی ہے اور یہی معمولی جرائم والے مجرم کیونکر اور کس طرح مستقبل کے ڈان بننے کی سیڑھی پر زینے چڑھتے نہیں بلکہ پھلانگتے نظر آتے ہیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی کو ان معاملات کا ادراک نہیں تھامگر اصل میں میڈیا پر ہونے والے سیاپے پارلیمنٹ میں کاغذی کاروائی سے آگے نہیں بڑھ پاتے جس کی وجہ سے میدان عمل میں ایک عام شہری، ایک پاکستانی شہری ڈرون حملوں اور بم دھماکوں کے بعد بھی صرف اپنوں کے لاشے اٹھاتا نظرآتا تھا بلکہ ایک جھوپڑی میں رہنے والے خاندان کے عمر بھر کے مسائل محلوں تک جاتے جاتے رپورٹ کی صرف ایک لائن بن کر رہ جاتے اور بڑے لوگ اتنی چھوٹی اور فضول باتوں پر توجہ نہیں دیتے۔ قوموں کی ترقی پر بحث کرنے والے آپ کو ثابت کرسکتے ہیں کہ جب جرمنی اور جاپان تباہ ہو رہے تھے اور ہو چکے تھے تو بھی وہاں پر لوگ ایسی فضول باتیں نہیں کرتے تھے بلکہ وہ مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہوتے تھے اور اسی وجہ سے آج دونوں ملک سپر پاورز کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ مگر ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ دو عشرے سے زائد خانہ جنگی کا شکار رہنے کے باوجود بھی سری لنکا پر کبھی مشکل وقت نہیں آیا۔ مجھے کسی اخبار یا میڈیا رپورٹ میں کسی سری لنکن رہنما کا ایسا کوئی بیان نظر نہیں آیا جس میں وہ اپنی قوم کو قائل کر رہا ہو کہ یہ وقت سری لنکا کا مشکل ترین وقت ہے۔

بات یہ ہے کہ ہماری نظر اپنی ناک سے آگے کچھ دیکھنے کی قائل ہی نہیں اور ہم اس کے دیکھے پر پوری طرح قائل ہیں۔ ڈرون حملوں کا وقت گزر چکا لیکن ملک کو درپیش خطرات اور مشکلات تو جوں کی توں ہیں لیکن آج بھی ہر شخص صرف اپنی چارپائی کے نیچے جھاڑو پھیرنے میں مصروف ہے، صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے لگا ہوا ہے اور ملک کی بات کرنا یعنی یہاں ایک فضول بات سمجھی جاتی ہے، ملک کی بات کرنے والے بیوقوف سمجھے جاتے ہیں ۔۔۔ اگر یہی زیست کی روش ہے تو پھر ہم بھی معمول کی فضول باتیں کرتے ہیں تو صاحب بتائیے کہ کل شیخ رشید نے کس کس چینل پر دھواں دھار تقریر کی ہے۔۔۔۔ اور ہاں آپکا اگلا فارن ٹور کب تک پلان ہے، مجھے بھی بتائیے گا میں بھی کافی دنوں سے آوٹنگ کا سوچ رہا ہوں۔۔۔ ایک دوست بتا رہا تھا کہ لندن کے سکولوں میں اب پڑھائی کے ساتھ ساتھ کوکنگ بھی سکھائی جاتی ہے ، کمال ہے یار یہ گورے بھی ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: