پولیس کی کہانی بدل بھی سکتی ہے ——– خرم شہزاد

0

کئی سال پہلے ایک کہانی پڑھی تھی، کچھ کچھ یاد ہے، وہی آج آپ سب کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک لکھاری اپنے ایک پولیس والے دوست سے ملنے تھانے جاتا ہے، ابھی گپ شپ لگائی جا رہی ہوتی ہے کہ ایک بندے کو چند پولیس والے پکڑ کر لاتے ہیں اور صاحب کے سامنے پیش کرتے ہیں، صاحب کو جب اس بندے کے جرائم کی تفصیل پتہ چلتی ہے تو وہ غصے میں اٹھ کر اس ملزم کو مارنا شروع ہو کر دیتا ہے۔ لکھاری دور بیٹھا یہ سب دیکھتے ہوئے اپنے دوست سے اس بارے پوچھتا ہے تو وہ کہتا ہے چھوڑو اس بات کو کہ یہ یہاں کا روز کا معمول ہے۔ تم بڑی کہانیاں لکھتے ہو چلو آج میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں۔ یہ کہانی ہے ایک عام آدمی کی جو ایک دن اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ کہیں پارک میں جاتا ہے ۔ جہاں اس وقت کسی بڑے آدمی کے لڑکے کے ساتھ چند اوباش نوجوان بھی موجود ہوتے ہیں اور پارک میں آئے جوڑوں کو چھیڑنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ وہ اوباش اس شخص کی بیوی کو بھی چھیڑتے ہیں، یہ انہیں روکنے کی کوشش کرتا ہے جس کے جواب میں وہ اسے اچھا خاصا مارتے ہیں۔ یہ شخص قریبی سڑک پر موجود پولیس والے کو صورت حال سے آگاہ کرتا ہے، وہ پولیس والا پارک میں آتا ہے لیکن اوباش نوجوان اس سے بھی بد تمیزی کرتے ہیں اور بات بڑھنے پر اس پولیس والے کو گھیر لیتے ہیں۔ ہاتھا پائی ہوتی ہے اور پولیس والے کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں۔ غصے میں وہ اوباش اس پہلے شخص کو بھی مرغا بننے پر مجبور کردیتے ہیں۔ بچہ جو کہ ساتھ ساتھ ہوتا ہے اس سارے واقعے پر سہما سہما سا نظر آتا ہے۔ ذلت کا گہرا احساس لیے وہ شخص گھر واپس جاتا ہے اور پھر کچھ دنوں کے بعد شہر چھوڑ کر چلا جاتا ہے کیونکہ ہر شخص جو پارک میں یا آس پاس موجود تھا اب اس کی طرف تمسخر بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے اور یہ اس سے برداشت نہیں ہوتا۔ پولیس والے کا کوئی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں گیا اور پھر اس بات کو بیس سال گزر جاتے ہیں۔ پولیس والے کا بیٹا جوان ہو تا ہے اور ابھی تھوڑی دیر پہلے تم نے اسے دیکھا ہے۔ لکھاری ساری بات سمجھتے ہوئے سر ہلاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اچھا تو اب یہ نوجوان کس جرم میں گرفتار ہوا ہے؟ پولیس والا ایک زور دار قہقہہ لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ دوست تمہارا سارا علم و ہنر دھرے کا دھرا رہ گیا۔ تم غلط سمجھے ہو، جس لڑکے کو مار پڑ رہی تھی وہ نہیں بلکہ جس پولیس والے نے مارا ہے وہ اس پولیس والے کا بیٹا ہے۔ لکھاری حیرت اور نہ سمجھنے والے انداز میں اپنے دوست کی طرف دیکھتا ہے اور وضاحت طلب کرتا ہے جس کے جواب میں وہ پولیس والا بتاتا ہے کہ ذلت آمیز سلوک کے بعدجب وہ پولیس والا گھر جاتا ہے تو اس سے اپنے گھر والوں کا سامنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک ہی بیٹا ہوتا ہے جو اس واقعے کا گہرا اثر لیتا ہے اور بڑے ہو کر وہ بھی پولیس میں بھرتی ہوتا ہے لیکن اب جب بھی کہیں کوئی اوباش نوجوان کسی جوڑے کو چھیڑتا ہے یا کسی پولیس والے سے بد تمیزی کرتا ہے تو اس سے برداشت نہیں ہوتا اور پھر اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لکھاری جو کہانی کو اپنے انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے، ایسے انجام پر حیران رہ جاتا ہے۔

یہ ایک عام سی کہانی ہے اور ہمارے معاشرے میں ہمارے ارد گرد بکھری ہزاروں لاکھوں کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے۔ نجانے ایسی کتنی کہانیاں اور ہیں جو کبھی لکھی نہیں جاتیں اور نہ ہی ہم ان پر نظر کرتے ہیں لیکن یہ کہانی ہمارے معاشرتی رویے میں موجود ایک بہت بڑے بگاڑ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف ہم ایسے روشن خیال اور لبرل بننے کے شوقین لوگ ہیں جنہوں نے معاشرے کے ایک بڑے مذہبی حصے کو اپنے سے الگ کر رکھا ہے بلکہ معاشرے کی اپنی تعریف سے ہی کاٹ رکھا ہے وہیں ہم ایسے قانون پسند، امن پسند، اخلاقیات کے درس دیتے لوگ ہیں جو پولیس والے کو ’ٹلا‘ کہہ کر دانت نکالنا ایسے ہی ضروری خیال کرتے ہیں جیسے مولیوں والے پراٹھے کھا کر ماحول خراب کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے کے لوگ ہیں جو کسی پولیس والے کی تب تک عزت نہیں کرتا جب تک کسی جرم میں پولیس والے اسے گھسیٹتے ہوئے نہ لے جائیں، ورنہ تو پولیس والے متفقہ طور پر حرام خور ہوتے ہیں اور کمینگی میں کوئی ان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ ہم کسی بھی ٹریفک والے کے اشارے کو نظر انداز کرتے، سڑک پر اس سے بدتمیزی کرتے یہ نہیں سوچتے کہ ابھی پاس سے اس پولیس والے کا بھائی، باپ، بہن بیٹی گزری رہی ہو گی تو وہ کیا سوچتی ہو گی۔ ہمارے بچے بھی ہمارے نقش قدم سے چار پاوں آگے چلتے ہوئے زیبراکر اسنگ اور وارڈن کی سیٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے جہاں سے چاہیں سڑک پار کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی بچے کسی پھٹے جوتے اور پرانی یونیفارم پہنے بچے سے بھی یہ پوچھنے میں عار محسوس نہیں کرتے کہ ’اوئے تیرا باپ پولیس میں ہے روز کے کتنے کما لاتا ہے‘۔ اپنے بھائی یا بیٹے کے قتل کے جرم میں گرفتاری پر سب سے پہلے تھانے پہنچنے والے ہم ہی ہوتے ہیں جو دو ٹفن اور پچاس ہزار ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ ایک ٹفن اور پچاس ہزار محرر کو پیس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مارنا نہیں، بچہ بڑا معصوم ہے۔۔۔ لیکن اس کے باوجود رشوت خور پولیس والے ہوتے ہیں۔ گھر سے نکلتے ہوئے گاڑی یا موٹر سائیکل کے کاغذات لے جانے کے بجائے بٹوہ ساتھ لے کر نکلتے ہیں کہ بیس پچاس دے دیں گے، اور گالیاں پولیس والوں کو دیتے ہیں کہ وہ رشوت کے لیے خوامخواہ لوگوں کو روکتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ پولیس والے کتنے ظالم ہیں؟ سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم اس معاشرے میں مولوی کی طرح پولیس والوں کو بھی انسان سمجھتے ہیں؟ قانون اپنی عزت کروانا خوب جانتا ہے لیکن کیا ہم کسی پولیس والے کی عزت کرتے ہیں؟ کیا ہم کسی پولیس والے کے گھر والوں کو بھی عزت دینا گوارہ کرتے ہیں؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو پولیس والوں کی عزت کرنا کبھی بتاتا ہے اور کیا کبھی زندگی میں کوئی عملی مثال بھی دی ہے؟ کیا ہم پولیس والے کے روز کی تذلیل پر ہونے والے لاشعوری غصے اور بے بسی سے واقف ہیں؟ ایک پولیس والا تیس سال روز سڑک پر کھڑا ہو کر ذلیل ہوتا ہے آپ کے تمسخر کا نشانہ بنتا ہے وہ کیسے آپ کو پھول پیش کرئے گا؟ ہمیں فلم سٹاروں کے کتوں کا نام بھی پتہ ہوتا ہے لیکن کیا ہمیں اپنے تھانے کے ایس ایچ او کا نام جاننے کی کبھی خواہش ہوئی ہے؟ ہمارے اس پورے معاشرے میں اس دوسرے شخص کا نام بتا دیں جو تھانے پولیس والے کا شکریہ ادا کرنے گیا ہو کہ آپ کی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں اور ہمیں چوروں کا ڈر نہیں ہوتا۔۔۔ پہلے شخص جناب اشفاق احمد صاحب تھے جو اپنے تھانے دار کو عید ملنے گئے تو وہ بے چارہ رو پڑا کہ ہمارے پاس کبھی کوئی نہیں آیا۔ کیا کبھی ہم نے اپنی عید گاہوں کے باہر ڈیوٹیاں دینے والے پولیس والوں کو گلے ملنے کا سوچا ہے ؟ کسی بھی پولیس مقابلے میں زخمی یا شہید ہوجانے والے پولیس اہلکار کے گھر والوں سے کوئی ملنے کو کبھی گیا ہے؟ سوال ہیں کہ سوالوں کے انبار ہیں اور سارے جواب ہمارے معاشرے کی بے حسی کی گواہی دیتے ہیں۔ کوئی پولیس والا شاہ جی، سرکار اور جناب تب بنتا ہے جب ہمارے یا ہمارے کسی جاننے والے کے ہاتھ اور پاوں باندھ دئیے جاتے ہیں ورنہ تو یہ حرام خور ٹلے ہی ہوتے ہیں ۔ ہم تو وہ بے حس لوگ ہیں جن کے لیے اصلی پولیس مقابلے کی سند ہی ایک آدھ پولیس والے کی لاش ہوتی ہے ، ورنہ تو ہمیں ڈرامہ ہی لگتا ہے۔

خدارا پولیس والوں اور ان کے گھر والوں کو بھی انسان سمجھیں اور ان کو بھی اپنے برابر کے انسانی اور معاشرتی حقوق دیں۔ انہیں ذہنی اور نفسیاتی طور پر ٹارچر کرنا بند کر دیں کیونکہ پھر جب وہ ٹارچر شروع کرتے ہیں تو آپ کی چیخیں ساتویں آسمان سے نیچے رکنے کا نام نہیں لیتیں۔ اچھا نہیں کہ انہیں آج گلے لگائیں، اپنے جیسا انسان سمجھیں اور ان کے فرائض کی بجا آوری میں ان کی مدد کریں تاکہ یہ معاشرہ کسی طور تو رہنے کے قابل ہو سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: