کراچی کا کچرہ : مسئلہ نہیں لائف سٹائل ہے ——– خرم شہزاد

0

کراچی میں جب کسی سیاست دان کو سیاست کرنے اور بیان دینے کو کچھ نہ ملے تو وہ کراچی کے کچرے کا ذکر لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ لوگ تو اپنے سیاستدانوں سے بھی دو تین ہاتھ آگے ہیں کہ دوسرے لوگوں، اداروں اور سیاست دانوں کو گالیاں دینے، تنقید کرنے کے لیے کراچی کے کچرے کا ذکر کرتے ہیں لیکن اتنی سمجھداری نہیں دیکھا سکتے کہ کچرے کو کچرے دان میں ہی ڈال دیں۔ اہلیان کراچی کے پاس تو بہت سے علاقوں اور گلیوں کا تعارف بھی کچرے کے ڈھیر سے شروع ہو تا ہے کہ بھئی وہ جہاں کے ایم سی کی چار ٹرالیاں خالی نظر آئیں اور سارا کچرہ باہر پڑا ہو وہاں سے دائیں ہاتھ نالی کا پانی سڑک تک آیا ہو گا وہیں سامنے پہنچ جانا۔

مجھے کچرے کو کراچی کا مسئلہ سمجھنے میں اس لیے بھی ایک مسئلہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ ہوتا تو پچھلے تیس چالیس سال میں اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا لیکن یہ معاملہ تو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے بالکل جیسے ہمارا لائف اسٹائل ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اہل کراچی کی کچرے سے محبت کا ہمیں بھی پچھلے دنوں پتہ چلا جب اپنے ایک دوست سے ملنے پہنچے۔ وہ بتانے لگے کہ ان کی گلی کا نام ہی بدبو والی گلی ہے کیونکہ وہاں اتنا کچرہ موجود ہوتا ہے کہ اب گلی کا نام ہی بد بو والی گلی مشہور ہو گیاہے۔ ایک صاحب نے ہمت کی اور اپنے ذاتی جیب خرچ سے کچھ لوگ بلائے اور گلی صاف کروائی۔ اس کے بعد گلی کے دونوں طرف موجود پلازوں میں رہنے والوں سے ملنے کو پہنچے اور پہلی ملاقات ہی ہمارے دوست سے ہوئی۔ وہ صاحب بولے کہ جناب گلی میں نے صاف کروا دی ہے اور کسی سے بھی ایک روپے کا تقاضہ نہیں بس اتنی مہربانی چاہتا ہوں کہ اب کوئی گندگی اور شاپر اس گلی میں نہ پھینکا جائے۔۔۔ ابھی یہ الفاظ ان صاحب کے منہ سے ادا ہو ہی رہے تھے کہ کسی فلیٹ سے کچرے کا ایک شاپر ان کے سر پر آگرا، جس میں آم کے چھلکے اور بچوں کے گندے پیمپر اکٹھے موجود تھے یعنی کہ حد نہیں بے حد ہے کہ لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ کچرہ کس طرح سے رکھنا ہے اور کون سا کچرہ الگ شاپر میں ہونا چاہیے۔ تمام تر غصے کو پی جانے کے بعد کیونکہ یہ تو پتہ نہیں چل سکتا تھا کہ شاپر کون سے فلیٹ والوں نے پھینکا ہے، دونوں صاحبان نے تمام فلیٹ والوں کو جمع کیا اور درخواست کی کہ گلی صاف کروادی ہے اور آپ سے کسی رقم کا تقاضہ بھی نہیں بس اتنی مہربانی کریں کہ کچرہ گلی کے کونے میں رکھے کچرہ دان میں ڈالیں۔ اس پر کچھ لوگ جزبز ہوئے تو انہیں یہ آپشن بھی دیا کہ ایسا کرتے ہیں کہ ایک کوڑے والے سے بات کرتے ہیں اور آپ لوگ ایک وقت بتا دیں اس وقت وہ آ کر سب گھروں سے کچرہ لے جایا کرے گا، بس آپ لوگوں نے کچرہ شاپر میں کر دینا ہے اور وقت پر نیچے آکر اس کوڑے والے کے حوالے کر دینا ہے۔ کوڑے والے کو پیسے بھی کسی نے نہیں دینے بلکہ یہ بھی ہم اپنی جیب سے دیں گے۔ خواتین یہ سن کر ایسے پریشان ہوئیں کہ جیسے انہیں ساس اور نندوں کی آمد کی خبر دے دی ہو، سبھی ایک دوسرے سے پوچھنے لگیں کہ کیسے وہ روز تین چار منزلیں اتر کر آئیں گی اور کچرہ حوالے کریں گی۔ خواتین سے دو ہاتھ بڑھے کچھ صاحبان پان چباتے ہوئے بولے کہ ابے اب تم لوگ ہمیں بتاو گے کہ ہمیں اپنے گھروں میں کیسے رہنا ہے۔۔۔ جاو نہیں مانتے تمہاری بات، کر لو جو کرنا ہے ہمارے اپنے گھر ہیں ہماری اپنی مرضی ہے۔۔۔

یہ کراچی کے کسی ایک پلازے اور گلی کی داستان نہیں بلکہ یہ کراچی کے ہر پلازے اور گلی کی داستان ہے جو کسی عام آبادی والے علاقے میں ہے۔ یہی لوگ جس وقت ڈیفینس، بحریہ یا کسی اور پوش علاقے میں جاتے ہیں تو پان کی پیک بھی اپنے اندر اتار لیتے ہیں مگر عام آبادی میں جہاں ان سے کوئی پوچھنے والا نہ ہو، عام آدمی کا انداز ہی الگ ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کچرے کے اس حد تک عادی ہیں کہ اگر کسی گلی سے کچرہ صاف کروا دیا جائے تو میں شرط لگا سکتا ہوں کہ اس گلی کے لوگ اپنا گھر بھول جائیں۔ لوگ بدبو کے عادی ہو چکے ہیں اور یہ بدبو ان کی زندگیوں کا حصہ بن چکی ہے۔ ذرا سی بارش ہو گی اور نالے نالیاں بند ہو جائیں گی، پانی سڑکوں پر دریا کی صورت نظر آئے گا لیکن کوئی یہ نہیں سوچے گا کہ یہ پانی سڑک پر کیوں آیا۔۔۔ ابے جب سے پیدا ہوئے ہیں، یہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔ کہتے ہوئے ساتھ والے کو بھی پینٹ یا شلوار کے پائنچے چڑھانے کو کہیں گے اور اسی گندے دریا سے گزر جائیں گے مگر پانی نکالنے کے لیے کچھ نہ سوچیں گے کیونکہ یہ ان کا نہیں بلکہ کے ایم سی یا حکومت کا کام ہے۔ پڑھے لکھے اتنے کہ ایک پی ایچ ڈی کو بھی دوبارہ بی اے میں داخلہ لینے پر مجبور کر دیں لیکن نہیں جانتے کہ کچرے سے کتنی جلدی بیماریاں پھیلتی ہیں، سانس کی بہت سی بیماریوں کی وجہ بھی کچرہ ہی ہوتا ہے۔۔۔ لیکن کیسے یہ سب جانیں گے بھلا کیونکہ جس سکول سے یہ سب پڑھنا تھا وہ سکول بھی کسی کچرہ کنڈی کے میدان کے پیچھے ہی بنایا گیا تھا۔ یقین مانیں، کچرہ کراچی کا مسئلہ نہیں لائف اسٹائل ہے اسی لیے دن بدن ترقی کرتا جا رہا ہے اور اس کے بنا زندگی کی تصویر میں رنگ اور بو ممکن ہی نہیں۔۔۔ کوئی ہمارے کراچی والے کو اس کے کچرے سے دور نہیں کر سکتا بھلے وہ کوئی بھی ہو۔۔۔ اگر یقین نہیں تو ہر دور حکومت میں کی جانے والی کوششوں کو دیکھ لیں۔ معاملہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جاتا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ کراچی میں کچرہ کتنا بڑا مسئلہ ہے؟ سوال یہ بھی نہیں کہ کچرہ اٹھانے کا کام کس کا ہے؟ سوال تو یہ بھی نہیں کہ اہل کراچی کے ایم سی اور دوسرے بلدیاتی اداروں کو کتنا ٹیکس دیتے ہیں کہ وہ اپنی کام کرنے کی استعداد کو بڑھاتے ہوئے کچرہ اٹھانے سمیت دوسرے بہت سے مسائل پر کام کر سکیں؟ سوال تو یہ ہے کہ جیسے ایک گوالے کی زندگی سے بھینس نکال دی جائے، ایکٹریس کی زندگی سے کیمرہ نکال دیا جائے اور کراچی والے کی زندگی سے کچرہ نکال دیا جائے تو وہ جئے گا کیسے؟ آپ بھی سوچیں، ہم بھی سوچتے ہیں اور کوشش کیجئے گا کہ کسی تبدیلی یا بدلاو کے بارے نہ سوچا جائے تو بہتر ہے کہ باپ دادا بھی تو ایسے ہی اس دنیا سے گزر گئے تھے اب صاف کراچی دیکھ کر کہیں ان کی روحیں نہ تڑپ جائیں کہ ہماری وراثت میں ایک کچرہ ہی تھا وہ بھی تم لوگ نہ سنبھال سکے نالائقو۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: 2D آئی لو یو: کراچی کی بس کا تذکرہ -------- اظہر عزمی

 

کراچی کا نیا سفرنامہ: خوابوں کا شہر —- عابد آفریدی کی کھٹی میٹھی تحریر

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20