طالبات کا عبایا: ہمشہ عورت ہی کیوں؟ —– رقیہ اکبر

0

گذشتہ دنوں کے پی کے حکومت نے ایک نوٹفکیشن کے ذریعے پشاور کے سرکاری سکولوں میں طالبات کیلئے عبایا کو لازمی قرار دینے کا حکم صادر کر دیا جسے بعد میں شدید عوامی ردعمل کی وجہ سے واپس بھی لے لیا گیا۔

اگرچہ یہ سرکاری احکامات واپس لئے جا چکے ہیں مگراس کے ساتھ ہی ایک نئی بحث کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ اس قانون پر کئی اعتراضات اٹھائے گئے۔

سب سے پہلا اعتراض یہ کہ اس قانون کا اطلاق صرف کے پی کے کے سرکاری سکولوں پر ہی کیوں کیا گیا پورے پاکستان پر کیوں نہیں؟
اور یہ قانون صرف سرکاری سکولوں کیلئے ہی کیوں پرائیویٹ سکول اس سے مثتثنی کیوں قرار دئے گئے؟
اور پھر صرف سکول ہی کیوں،کالجز، یونیورسٹیز اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والی طالبات و خواتین کو کیوں نہ پابند کیا گیا؟
اور ان سکولوں میں غیر مسلم طالبات کی بھی ایک کثیر تعداد زیر تعلیم ہے جن کے مذہب کے حوالے سے ایسی کوئی پابندی نہیں ان کا کیا بنے گا،کیا یہ جبری پردہ ان کی شخصی آزادی پر قدغن نہیں تصور کیا جائے گا؟

یہ سب اعتراضات اپنی جگہ بہت اہم ہیں یقینا ان اعتراضات کا تسلی بخش جواب بھی ملنا چاہئے مگر مجھے جو سوالات سب سے زیادہ اہم لگے کہ کیا سرکار کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ مذہبی شعائر کی پابندی کروانے کیلئے قانون سازی کرے؟
اور اگر سرکار کو اجازت ہے تو کیا مذکورہ قانون کی کوئی خاص ضرورت تھی؟
اور کیا جبرا کسی سے شعائر اسلام پر پابندی کروانا کو مناسب عمل ہے؟

جہاں تک بات سرکار کے اختیارات کی ہے تو اس سے تو کسی کو اختلاف نہیں کہ حکومت وقت کو بالکل اجازت ہے کہ اپنے مذہبی، ثقافتی یا سماجی رسم رواج کے مطابق قوانین بنائے،سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں کام کرنے والوں کیلئے ڈریس کوڈ بھی طے کئے جا سکتے ہیں۔ بلکہ مختلف ادارے اپنی ضروریات اور ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئےاپنا ڈریس کوڈ طے کرتے ہیں۔
اس طرح تمام ممالک اپنے مذہبی یا ثقافتی رحجانات کو سامنے رکھ کرہی قانون بناتے ہیں۔

ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کیلئے تعلیم و تربیت کے ساتھ قانون سازی بھی بہت اہم ہے، یقینا قرآن وسنت کی تعلیمات کتابوں میں بند کر کے غلافوں میں لپیٹ کر رکھنے کیلئے نہیں ہیں، ان پر عمل درآمد کی سرکاری سطح پر کوششیں ہونی چاہئیں۔ اور ایک اسلامی مملکت کے قانون ساز اداروں کو بھی اس بات کی قانون سازی کرنی چاہیئے جس سے اس مملکت کی مذہبی پہچان نمایاں ہو یا جن معاملات سے نقص امن کا خطرہ ہو ان پہ قانون کے ذریعے روک لگائی جائے۔

تو اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حجاب سے متعلق یہ قانون کیا وقت کی ضرورت تھا؟ اور کیا اس سے معاشرے پر کچھ مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟
یہ سوال میں قارئین پہ چھوڑتی ہوں۔

جو بات میرے دل میں کھٹکتی ہے وہ یہ کہ ہمارے ہاں ان قوانین پر ہی فوکس کیوں کیا جاتا ہے جس میں خواتین کیلئے سختی ہے؟
قانون سازی کرتے ہوئے ہماری ترجیحات میں عورتوں سے متعلق فرائض اور سختیاں ہی کیوں پیش نظر ہوتی ہیں؟
اس مردانہ معاشرے میں ہمیشہ وہی احادیث و آیات اور احکامات خداوندی ہی کیوں یاد رہتے ہیں جس میں عورتوں کو وعید سنائی گئی ہویا سختی کی گئی ہو؟
ان معاملات اور احکامات کو کیوں نظرانداز کر دیا جاتا ہے جس میں مردوں کیلئے اپنے نفس کو قابو کرنے اور مارنے کے احکامات ہیں؟

تو کیا یہ مان لیا جائے کہ ہمارے معاشرے کے مرد کے ذہن پر بس عورت ہے سوار۔ اب چاہے وہ لبرل ہو یا مذہبی۔

لبرل جب بھی بات کرے گا عورت اور عورت سے متعلق معاملات کی بات کرے گا، اور معاملات بھی بس صرف وہی جس کا تعلق عورت کی جنسی آزادی سے ہو۔ میرا جسم میری مرضی سے آگے وہ بھی کوئی بات کم ہی کرتا ہے۔ عورت اورسیکس سے آگے اسے کچھ نہیں سوجھتا۔ کوئی مسئلہ مسئلہ نظر نہیں آتا۔ وہ اگر عورت کی آزادی کی بات بھی کریں گے تو مقصد جنسی آزادی ہی ہو گا۔ ان کے نزدیک دنیا کا سب سے مشکل، حل طلب، اور قابل بحث مسئلہ صرف یہی ہے باقی سارے مسئلے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

اور مذہبی سوچ کے مرد کی طرف دیکھو تو اس کے سر پر بھی عورت ہی سوار ہے۔

کثرت ازدواج، عورت کا لباس و پردہ ان کے نزدیک دنیا کے سب سے بڑے مسائل ہیں۔
قانون سازی کرنے بیٹھیں تو اول و آخر ترجیح وہ قوانین جس میں عورت کے حوالے سے سختی برتی گئی ہو۔ دوسری شادی کو لازم کر دو یا عورت کو عبایا اوڑھا دو،چادر پہنا دو، منہ ڈھک کے رکھے وغیرہ وغیرہ۔
کیا بس یہی ہیں پاکستانی عوام یا پاکستانی عورت کےسب سے بڑے مسئلے جس پہ قانون کو حرکت میں آنا چاہیئے؟
کیا واقعی عقل و خرد اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ احکامات الہی کو بزور قانون منوایا جانا کسی بھی صحت مند معاشرے کیلئے کوئی بہتر مشق ہو سکتی ہے؟

اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے آقائے دوجہان حضرت محمد مصطفیﷺ اپنے دور سے آغاز کرتے۔
نماز کی اہمیت پہ پیارے نبیﷺ نے جہاں بار بار تاکید کی وہاں نبی کریمﷺ کا یہ فرمانا کہ “جب نماز کھڑی ہو جاتی ہے تو میرا دل چاہتا ہے کہ کسی کو اپنی جگہ امامت کیلئے کھڑا کردوں اور خود جا کر ان گھروں کو آگ لگا دوں جن کے مرد نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد میں نہیں آتے”
اس بات کی دلیل ہے کہ باوجود خواہش کے اور باوجود اس کے کہ قرآن پاک میں سب سے زیادہ نماز کی پابندی پر زور دیا گیا پیارے نبیﷺ نے سرکاری طور پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی جس کی رو سے ہر مرد کا مسجد میں آ کر نماز ادا کرنا یا اپنے اپنے گھروں میں بھی نماز ادا کرنا لازم قرار دیا ہو۔

اور پھر جب پردے اور حجاب کے معاملات پر آیات نازل ہوئیں تو پیارے نبیﷺ نے اپنے گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا دیا اپنی ازواج کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا مگر مملکت کا قانون نہیں بنا دیا کہ اب کوئی عورت بنا پردے کے باہر نہیں نکلے گی۔ اس کا فیصلہ عورتوں پر چھوڑ دیا کہ اب چاہو تو اللہ کے احکامات پر عمل کر کے سرخرو ہو جاو چاہو تو نافرمانی کر کے اللہ کے عذاب کی مستحق بن جاو۔
دور محمدﷺ سے لیکر خلفائے راشدین کے دور تک کسی حکومت نے کبھی عورت کو پابند نہیں بنایا کہ وہ بنا حجاب گھر سے باہر نہیں جا سکتی۔

مانا کہ حکومت وقت اپنے حالات، مسائل اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے نئے نئے قوانین بنا سکتی ہے مگر معذرت کے ساتھ یہ قانون نہ وقت کی کوئی اہم ترین ضرورت ہے نہ بزور قانون آپ کو عمل کروانا چاہیئے۔ اس سے معاشرے پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

اور توجہ طلب بات یہ کہ بزور طاقت احکامات کی پابندی صرف عورتوں کیلئے ہی کیوں؟

جب آپ اپنی عبادات و معاملات کو اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ کہہ کر مارجن لیتے ہیں تو پھر عورتوں کے معاملے میں کیوں راہ کی دیوار بن جاتے ہیں؟
کیوں اللہ اور اس کی مخلوق کے راستے میں خدائی فوجداربن جاتے ہیں؟
کیوں عورتوں سے متعلق اللہ کے احکامات کو بزور طاقت منوانا اپنا حق سمجھتے ہیں؟
مرد و زن دونوں اللہ کی مخلوق ہیں دونوں اپنے اپنے اعمال کے خود جوابدہ ہیں، دونوں اپنے اپنے حصے کی جزا و سزا اللہ سے وصول کریں گے، کسی کے حصے کی نہ سزا دوسرے کو ملے گی نہ ہی جزا میں سے کچھ حصہ ہو گا پھر کیوں اللہ تک پہنچنے سے پہلے تم ان کے خدا بننے کی کوشش کرتے ہو؟
کیوں انہیں براہ راست اللہ سے تعلق نہیں بنانے دیتے؟
کیوں اس پر لازم کرتے ہو کہ اللہ سے پہلے وہ تمہارے سامنے حاضر ہو؟
پہلے تمہارا سجایا ہوا میدان حشر عبور کرے، تمہارے سوالوں کے جواب دے، تمہاری بنائی ہوئی پل صراط پر چل کر دکھائے۔

اپنے معاملات تو کیا فرائض کے حوالے سے بھی تم سمجھتے ہو کہ تم صرف اللہ کے آگے جوابدہ ہو تو پھر عورتوں کو کیوں پابند کرتے ہو کہ وہ اللہ کی بجائے تمہارے آگے جواب دہ ہوں؟
اس کے اعمال کی جانچ پڑتال تم کرو؟ سزا و جزا تم دو۔ ۔ کیوں؟
عورت کے لباس سے لیکر زندگی گزارنے کے تمام اصول و قوانین تم طئے کرو مگر اپنے فرائض سے لیکر معاملات تک تم کسی دنیاوی قانون کی پابندی برداشت نہیں کرتے۔ ۔ کیوں؟

اگرچہ حکومت وقت کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسی قانون سازی کرے جس سے کسی بھی فرد کیلئے نیکی اور اچھائی کے راستے پہ چلنا آسان اور برائی کے راستے پہ چلنا دشوار ہو جائے۔ آپ نماز کے اوقات میں کاروبار بند کرنے کا قانون نافذ کر سکتے ہیں اور بحیثیت اسلامی مملکت آپ کو کرنا بھی چاہیے مگر آپ پھر بھی قانونی طور پہ کسی کو نماز نہ پڑھنے پہ سزا نہیں دے سکتے۔

اسی طرح رمضان المبارک کے پورے مہینے آپ فوڈ سٹریٹس اور ہوٹلز پر قانونا پابندی عائد کر سکتے ہو مگر کسی کو بزور قانون اس بات پر پابند نہیں کر سکتے کہ وہ لازما روزے رکھے۔ کیونکہ باوجود فرائض کہ یہ خالص اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہے۔
اللہ نے واضح احکامات صادر کر دیئے کہ نماز، روزہ، زکوۃ تم پر فرض کئے گئے ہیں ان کی ادائیگی نہ کرنے پہ سخت وعید سنائی مگر جبرا اس پر عمل کروانے کی کوئی اجازت نہیں دی۔

ہاں جن معاملات کا تعلق سماج سے ہو اس پہ حکومت وقت قانون بنا سکتی ہے مگر قوانین بناتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا بھی ازحد ضروری ہے۔ اب ایسا تو نہیں کہ ایک فریق کو چونکہ وہ کمزور ہے تو اس کیلئے قوانین بنا کر اسے پابند کر دیا جائے اور دوسرا فریق چونکہ طاقتور ہے اس لئے اسے استثنی دے دیا جائے۔

اللہ نے ستر پوشی کا حکم دیا مردوزن کیلئے۔ سترپوشی کا خیال نہ رکھنے پربےحیائی اور عریانی پھیلتی ہے جس سے معاشرے میں انارکی پھیلنے کا اندیشہ بڑھتا ہے اب اگر کوئی حکومت چاہے تو قانون بنا سکتی ہے تاکہ معاشرے میں بےراہروی اور انارکی نہ پھیلے۔ خواتین کو اپنے لباس کے حوالے سے اسلامی شعائر کا پابند بناتے ہوئے مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم نامہ بھی اسی شدومد سے ہونا چاہیئے جس سختی سے خواتین کو پابند کیا جائے۔

مگر کیا واقعی حجاب نہ لینے یا عبایا نہ اوڑھنے سے معاشرے میں انارکی پھیلنے کا اندیشہ ہے؟

معاف کیجئے گا مجھے آپ کی اس سوچ سے اختلاف ہے۔ اب چاہے آپ اس کا اطلاق کے پی کے کے سرکاری سکولوں کی ان بچیوں پر کریں جن کا لباس پہلے ہی بہت ڈھیلا ڈھالا ہوتا ہے یا ان پرائیویٹ اداروں پہ کریں جن کا لباس اگرچہ مغربی نہیں ہوتا مگر بہرحال ڈھیلا ڈھالا بھی نہیں ہوتا آپ انہیں قانونا یا جبرا پردے کا پابند نہیں کر سکتے ہاں ستر پوشی کے اسلامی قوانین کا پابند کر سکتے ہیں،بے حیائی،عریانیت اور فحاشی کی روک تھام کیلئے قانون کا سہارا لیا جاسکتا بلکہ لیا جانا چاہیئے مگر انتہائی ادب سے عرض ہے کہ عبایا نہ اوڑھنا، حجاب نہ کرنا عریانیت اور فحاشی کے زمرے میں نہیں آتا۔

ادارے تربیت گاہیں بھی ہوتے ہیں اور معاشرے کی مذہبی اقدار کے نمائندے بھی،ڈریس کوڈ کے طور پر آپ ستر پوشی کے تقاضے پورے کرنے والا لباس تمام مردوزن کیلئے ضرور لازم قرار دیں مگر عبایا اوڑھنا نہ اوڑھنا، پردہ کرنا نہ کرنا ان کی اپنی چوائس پہ ہونا چاہیئے۔

ساری تعلیمات ساری پابندیاں صرف عورت ہی پہ کیوں؟ اور یہ پابندی میرے معاشرے کا وہ مرد لگائے جو اپنے فرائض تک نہ ادا کرتا ہو کیوں؟
حضور والا آپ مرد کو اسلامی شعائر پر پابندی کرنے والا بنا دیجئے تو یقین رکھئے اس کے گھر کی عورت خودبخود اسلامی سانچے میں ڈھلتی چلی جائے گی۔

آپ آخر معاشرے کے مرد کی تربیت کیوں نہیں کرتے؟ عورتوں کو تاڑنے پہ ان کو سزا کیوں نہیں دیتے کہ عورت کے حجاب کے ساتھ ہی مرد کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم بھی نازل ہوا تھا، مگر عورت کو کہتے ہو تم اپنا منہ ڈھانپو، اپنا جسم چھپاو۔

کیا اللہ نے اجازت دی ہے کہ عورت نے عبایا نہ لیا ہو یا اس کا لباس اس کی ستر پوشی نہ کرتا ہو تو تمہیں حق حاصل ہے کہ اس کو تاڑو، اپنی نظریں سینکو؟ تمہیں اس کی سزا نہیں ملے گی، تم پر کوئی پکڑ نہیں ہوگی؟

فورا ہی ریپر میں لپٹی ٹافیوں اور بنا ڈھکی ٹافیوں پہ مکھیوں کی بھرمار والی تصویروں کے ساتھ بودی دلیلیں لے آتے ہو کہ عورت کیوں نہ خود کو چھپائے، مرد کیلئے تو عورت میں کشش رکھ دی گئی سو وہ دیکھے گا، لپکے گا۔ کیوں دیکھے گا؟ کیوں لپکے گا؟ اس کے ایمان کا تقاضا کیا ہے؟ کیا یہ دلیل اللہ کے ہاں دے سکتے ہو؟ کیا اس سے تمہاری خلاصی ہو جائے گی؟

جناب اپنی بیٹی کی حفاظت ضرور کیجئے، اس کے لباس و معاملات پر بھی بیشک نظر رکھئیے مگر معاشرے میں جنسی بھوک سے بلبلاتے ان مریضوں کو لگام ڈالئے ورنہ بھول جایئے کہ یہ عبایا آپ کی بیٹی کی عزت کی حفاظت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیئے:
 شرعی پردہ اور غامدی صاحب : مجید گوندل
اور
ملازمت پیشہ عورت اور ہراسمنٹ کا آزار ----- فارینہ الماس
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: