صلاح الدین کیس سے پرے کچھ باتیں ——– خرم شہزاد

0

میرے ایڈیٹرز نے کہیں پڑھا کہ دو بچے گلی کے درمیان کھڑے کسی بات پر جھگڑ رہے تھے کہ ایک بچے نے کہا ’دیکھئے، اگر اس کے بعد آپ ہمارے راستے میں حائل ہوئے تو ہم آپ کے ابا حضور کی شان میں گستاخی کر دیں گے‘۔ دوسرا بچہ فوراً بولا کہ ’اجی آپ یہ ہمت کر کے تو دیکھیں، ہم آپ کے گالوں پر ایک ایسا چانٹا رسید کریں گے کہ آپ کے گال گلنار ہو جائیں گے‘۔۔۔ ہم ان بچوں کی گفتگو پڑھ کر سوچتے ہیں کہ وہ آپس میں لڑ رہے تھے کہ فرہنگ آصفیہ کا دیباچہ لکھنے میں مصروف تھے لیکن میرے ایڈیٹرز کا کہنا ہے کہ آپ بھی اصلاح معاشرہ کے لیے ایسی ہی زبان استعمال کیا کریں اور میں سوچتا ہوں کہ بعض باتوں پر جس طرح کا عوامی ردعمل ہوتا ہے، گالی بھی بہت چھوٹی لگتی ہے کوئی اس سے بڑا عمل ہو جس سے اندر کی بھڑاس نکل سکے۔ ہمارے لوگ بعض معاملات پر جس بے حسی اور جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں حیرت ہوتی ہے کہ جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے اور پندرہ بیس آئی ڈیز یا پیجز ہیں، اسی کا کتا ہی کیوں ٹامی صاحب ہوتا ہے، باقی تو یہاں انسان بھی کتوں کی برابری کے قابل نہیں سمجھے جاتے۔

صلاح الدین کا کیس آج کل مجاہدین فیس بک میں کافی مقبولیت اور ریٹنگ لے رہا ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ تم نے مارنا کہاں سے سیکھا۔۔۔ جیسے جذباتی جملوں کے ساتھ صلاح الدین کی زبان نکالی ہوئی تصویر ہماری سوچ اور سسٹم کا تمسخر اڑا رہی ہوتی ہے اور ہمارے مجاہدین اس ہیش ٹیگ کو ثواب سمجھ کر پھیلانے میں مصروف ہیں، یعنی بیوقوفی میں ہم اس شخص سے بھی گئے گزرے ہیں جو دوسرے شہر تھا تو بیگم کا میسج آیا، مبارک ہو آپ باپ بن گئے ہیں۔۔۔ اور اس شخص نے وہی میسج اپنے سب دوستوں کو سینڈ ٹو آل کر دیا۔۔۔ میں ایک عام آدمی ہوں جس کی ساری سمجھ اور مت مہنگائی اور فیس بک کے اٹھارویں گریڈکے دانشوروں نے مار دی ہے تو جناب مجھے کچھ باتیں سمجھا دیں۔ صلاح الدین پاگل تھا مگر یہ کیسا پاگل تھا کہ جسے اے ٹی ایم مشین کا نہ صرف پتہ تھا بلکہ اس کو توڑنا اور کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے منہ بنانا بھی آتا تھا۔ اگر وہ پاگل ہی تھا تو کسی پٹرول پمپ پر جاتا اور وہاں کی مشینوں کو توڑنے کی کوشش کرتا لیکن جس طرح اور جس آسانی سے صلاح الدین نے اے ٹی ایم کو توڑا ہے، مجھے مجاہدین سوشل میڈیا میں سے کم از کم تین بندے چاہیے جو اے ٹی ایم کو اتنی آسانی سے توڑ کر دیکھا دیں۔ میرے خیال سے اے ٹی ایم کاکو مراثی کا اپنے پوتے کے لیے لایا ہوا کھلونا نہیں ہوتا کہ بچے نے دو بار زمین پر مارا اور توڑ دیا۔چلیں اے ٹی ایم ٹوٹ گئی کہ کمپنی نے اسے بنایا ہی کمزور تھا لیکن دوسرا اور اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس شخص کی ذہنی حالت درست نہیں تو اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کس کی تھی۔ کیا یہاں ہر ذہنی مریض اور پاگل کو اجازت ہے کہ کسی کی ملکیت میں موجود چیزوں کا نقصان کرتا پھرے اور اسے اس لیے کچھ نہ کہا جائے کہ جی اس کی ذہنی حالت درست نہیں۔ پہلے ہی پڑھے لکھے نالائقوں اور ذہنی مریضوں کی فوج ظفر موج ہمارے اوپر کسی نہ کسی انداز میں مسلط ہے کہ اب گھر گھر کے ذہنی مریض بھی میدان عمل میں کھل کھیلنا چاہتے ہیں۔

چلیں آگے بڑھتے ہیں کہ ایک شخص نے اے ٹی ایم توڑ دی، پولیس اسے گرفتار کرتی ہے اور پوچھ گچھ کے لیے دو چار جما دیتی ہے کہ ان کے خیال میں یہ شخص ذہنی مریض نہیں بلکہ کوئی ڈرامہ باز ہے۔ یوں تو ہمیں بھی اپنی روزمرہ زندگی میں کئی ڈرامے باز ملتے ہیں لیکن ہم سر جھٹک کر گزر جاتے ہیں لیکن پولیس سر جھٹک کر ملزم چھوڑنے کا رسک تو نہیں لے سکتی۔ انہوں نے شک کی بنیاد پر تفتیش شروع کی، مار پیٹ ہوئی اور بندہ مر گیا۔ ہر اسمارٹ فون والا جاہل ہالیو ہالیو کرتا پولیس پر چڑھ دوڑا لیکن کوئی مجھے یہ تو بتائے کہ جس پولیس کو ہم حرام خور، رشوت خور اور نجانے کیا کیا سمجھتے ہیں، کیا اسے اتنی فرصت میسر ہے کہ ایک مفت کے کیس میں بندہ مار دے جس کے بدلے نہ کسی نے رقم دی ہو اور نہ کچھ ملنے کی امید ہو۔ میں تو یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ پولیس کو بندے مارنے پر ڈی ایچ اے میں کتنے پلاٹ الاٹ ہوتے ہیں؟ اور کتنے پولیس والوں کو زمینیں دی گئیں یا بیرون ملک کے دورے کروائے گئے؟ ذاتی طور پر مجھے پولیس والوں کے مارنے سے اختلاف نہیں ہاں لیکن اتنا بھی نہیں مارنا چاہیے کہ بندہ ہی مر جائے۔۔۔ لیکن ایسے کسی بندے کی موت پر پولیس کے اندر ایک نظام ہے جس میں باقاعدہ تفتیش اور سزا سب موجود ہے، سوال یہ ہے کہ آپ صلاح الدین کے مامے لگتے ہو جو بوریوں بستروں کے ساتھ پولیس کو الزام دیتے ہوئے صلاح الدین کی آڑ میں پولیس کو گالیاں دینے کا موقع چاہتے ہو۔ اس سے پہلے آپ کی پرجوش پوسٹوں نے کتنے لوگوں کو انصاف دلایا ہے ذرا یہ تو بتائیں ۔۔۔ کہ کراچی کے ریحان کا لاشہ اب بھی تم لوگوں کو بد دعائیں دیتا ہو گا۔ پوسٹ مارٹم کی جس رپورٹ کو لہرا لہرا کر اور لہک لہک کر ظلم اور انصاف کے لیے آوازیں بلند کر رہے ہو، اس کی صداقت میں کیسے مان لوں کہ کچھ دن پہلے انہی ہسپتالوں سے تشدد نہ ہونے کی رپورٹ بھی میرے سامنے ہے۔ موجودہ پوسٹ مارٹم بتاتی ہے کہ اس کے گردوں میں کوئی ایسا کیمیکل پایا گیا جس سے گردے سکڑ گئے اور موت واقع ہوئی۔۔۔ اتنا سائنٹیفک تشدد پاکستان کے کس تھانے میں ہوتا ہے اور تھانے کی سطح پر ایم ایس کمیسٹری کون کون ہیں، کس کس نے کیمیکل کے شعبے میں مہارت کا کورس کیا ہوا ہے ان تمام پولیس والوں کی فہرستیں تو بنانی ضروری ہو گئی ہیں کہ یہ وہ عظیم لوگ ہوں گے جنہوں نے پنجاب پولیس میں ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے۔۔۔ یعنی کہ ایک بار پھر کہوں گا کہ حد نہیں بے حد ہے۔ پاکستان پولیس عموماً اور پنجاب پولیس خصوصاً تشدد میں جس جگہ کو لالو لال کر دینے میں مہارت رکھتی ہے اس کا تو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے تو میں کیسے مان جائوں کہ کیا جانے والا تشدد واقعی پنجاب پویس کا ہے؟

ہاں یہ بھی ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہم نے اکثر ایسے پڑھے لکھے لوگ دیکھے جو کسی نہ کسی وجہ سے ذہنی توازن کھو بیٹھے، ایسے لوگ جب بات کرتے ہیں تو دوسرا انگلی منہ میں دبا لیتا ہے، کسی کو اداکاری کا شوق ہوتا ہے تو پاگل پن میں بھی اس کی اداکاری کی خواہش نہیں جاتی اور گلیوں بازاروں میں وہ اپنی پرفارمنس دیتا نظر آتا ہے۔۔۔ یہیں ایک چھوٹا سا سین دیکھیں کہ ایک ذہنی مریض شخص پر تھانے میں تشدد ہو رہا ہوتا ہے اور وہ تھانے دار سے پوچھتا ہے کہ ایک بات پوچھوں، بتاو گے۔۔۔ تم نے مارنا کہاں سے سیکھا؟ افففف۔۔۔ ظالمو اس وقت کم ازکم پچاس کے قریب ڈرامے ایک ہفتے میں ہمارے چینلز دکھا رہے ہیں لیکن کسی ایک میں بھی ایسا کوئی سین اور جملوں کا استعمال ہے تو بتاو۔۔۔ یعنی کیا ہی کمال کی صورت حال اور اس سے بہترین الفاظ کا چناو اور استعمال۔۔۔ لکھاریو۔۔۔ ڈب مرو کہ تم سے ایک ایسا سین نہ لکھا گیا اور صلاح الدین، ایک ذہنی مریض شخص اتنا زبردست سین بنا کر چلا گیا۔۔۔ مجھے پوچھنا ہے کہ کیا واقعی صلاح الدین وہی ہے جو آپ لوگ اور میڈیا دیکھا رہا ہے اور مجھے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے یا پھر صلاح الدین کے اس روپ اور کردار کے پیچھے کچھ اور بھی تھا، جو اس کی اچانک موت کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔ میں آپ کے مستعار خیالات سے نہیں سوچتا، اس لیے مجھے جواب چاہیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: