ریل کی سیٹی از محمد حسن معراج: تبصرہ ——- علی عبد اللہ

0

میں ریلوے سٹیشن سے صرف اتنا دور ہوں کہ جب جب حکومت انگلشیہ کے دور میں تعمیر ہوئے اس بوڑھے سٹیشن پر ریل، گھڑی بھر سستا کر کوچ کرنے کا اعلان کرتی ہے، تو اس کی سیٹی کانوں میں اس درویش کی مانند صدا لگاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جو اس عالم رنگ و بو کی بے ثباتی اور مخلوق کی عدم توجہی سے بیگانہ ہو کر بس منزل در منزل محو سفر ہی رہتا ہے۔ ریل اب ماضی اور حال کے بیچ ایک ایسی پگڈنڈی ہے، جہاں ناسٹیلجیا کے مریض کچھ وقت گزرے زمانوں کی خاک چھانتے ہیں، ماضی کی چھاؤں میں سستاتے ہیں اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کبھی کوئی ناسٹیلجیا کا مریض ان پگڈنڈیوں پر بکھرے بیتے پلوں کے خشک پتوں اور یادوں کے تاریخی پیڑوں کے بارے لوگوں کو آگاہ کرنے لگے تو یقین کیجیے کہ سننے والے مبہوت ہو جاتے ہیں، ایک سحر سامری ان پر چھا کر انہیں بھی اس پگڈنڈی پر جانے کو اکساتا ہے۔

راول پنڈی سے اچ شریف تک ریل کے ذریعے کیے جانے والے غیر روایتی اور غیر معمولی سفر کے دوران پٹری کے ساتھ ساتھ موجود دریا، قصبے اور شہر “محمد حسن معراج” کی آنکھ اور قلم سے، پڑھنے والوں کو ان خطوں کی صدیوں پرانی تہذیب اور تاریخ سے آشنا کرواتے ہیں۔ “ریل کی سیٹی” ایک کتاب نہیں بلکہ ماضی کا ایک پورا عہد محسوس ہوتا ہے جس سے نوجوان نسل شاید ابھی تک آشنا نہ تھی۔ مصنف نے نہایت خوبصورت پیرائے میں مختصر لیکن پر اثر طریقے سے ان علاقوں کے بارے بیان کیا ہے جہاں ماضی کی ڈوریوں پر اب تک کئی یادیں ٹنگی ہوئی ہیں۔ کتاب کے بارے ڈاکٹر ناصر عباس نیر لکھتے ہیں

“چھوٹی چھوٹی آبادیوں سے لے کر، قصبوں اور شہروں کی تاریخ کے قدیم، وسطی اور معاصر زمانے سے متعلق ہر طرح کی معلومات حیرت انگیز تو ہیں ہی، لیکن اتنی ہی اہم اس کتاب کی نثر ہے۔ ایسی زندہ، رواں، ولولہ خیز، اختصار پسند، کہیں آئرنی، کہیں طنز، کہیں چٹکی بھرنے کا انداز، کہیں کہاوت مگر ہر جگہ معنی و بصیرت سے مالامال نثر اردو میں کم کم ملتی ہے”۔

کتاب کے تعارف میں مصنف لکھتے ہیں کہ

” ہندوستان کی سرزمین پہ، 16 اپریل 1853 کے دن پہلی بار ریل چلی تھی۔ جس طرح، پل بنانے والے نے دریا کے اس پار کا سچ، اس پار کے حوالے کیا، اسی طرح، ریل کے انجن نے فاصلوں کو نیا مفہوم عطا کیا۔ اباسین ایکسپریس، کلکتہ میل اور خیبر میل، صرف ریل گاڑیوں کے نام نہیں بلکہ ہجر، فراق اور وصل کے استعارے تھے-“

سادگی سے بھرپور ہر جملہ اپنے اندر وسیع معنی لیے ہوئے ہے۔ پنڈی کے بارے مصنف کہتے ہیں کہ اگر اس شہر سے استانی ماؤں کو منہا کر دیا جائے تو شاید شہر میں کوئی ماں ہی نہ بچے۔ بیرون ملک مقیم اکثر گھرانوں کی اولاد کا انتظار کرتے والدین کے بارے حسن معراج کہتے ہیں کہ

“جنوب مشرقی ایشیا میں لکیر کے دونوں طرف، ماں باپ کا المیہ یہ ہے کہ یا تو وہ بچوں کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں یا ان کو ترقی کرتا دیکھ سکتے ہیں-“

مصنف نے اپنے سفر کے دوران راہ میں آنے والے ہر علاقے کا تاریخی تعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔

پوٹھوار کا تعارف کرواتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں

” سلطان غزنوی نے جب اس جگہ کو آباد کرنے کا قصد کیا تو زوروں کی بارشیں ہوئیں، بادل چھٹے تو کٹی پھٹی زمین نمودار ہوئی، چونکہ سلطان کا سومناتھ جانا زیادہ ضروری تھا، لہذا اس نے اس جگہ کو توجہ دینے کی بجائے صرف نام دیا اور آگے بڑھ گیا۔ پھٹ ہار، سے بگڑتے بگڑتے اب اس علاقے کو پوٹھوار کہا جاتا ہے”۔

کتاب کا ہر باب ریل کے ایک سٹیشن کی مانند۔ محسوس ہوتا ہے جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے جڑے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ جہلم پہنچنے پر مصنف کا قلم یوں گویا ہوتا ہے

” دریائے سندھ تو خیر اپنے ماننے والوں کے لیے مقدس ہے ہی، جہلم کے پانی بھی کئی پرانوں کی جڑیں سیراب کرتے ہیں۔ ویتھ دریا، وتستا، ہائیڈس پس! اس کے چند نام ہیں۔ رگ وید کے مطابق یہ دریا، پورے ہندوستان کو پاکیزگی بخشتے ہیں۔ آج کل، بہرحال، اس کے پانی روح روشن کرنے سے زیادہ گھر روشن کرنے کے کام آتے ہیں۔ یونانی دیومالا میں بھی اس دریا سے دلفریب کہانیاں وابستہ ہیں۔ کچھ کتابوں کے مطابق دریا کا نام دیوتا پر ہے اور کچھ کے مطابق دیوتا کا نام دریا پر ہے۔ اب یہ دیو مالا ہے یا حقیقت، کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ الہامی ضرور ہے-“

اس سفر کے درمیان آنے والے لالہ موسی، گجرات، جلال پور جٹاں کے بارے بھی مصنف نے دلکش انداز میں لکھا ہے۔ چناب کے بارے حسن معراج بتاتے ہیں کہ

” اس دریا کو چندر بھاگ بھی کہا جاتا ہے۔ چندر بھاگ، پانی کی کہانی نہیں بلکہ ہمالے کی آنکھ سے ٹپکا ہوا وہ آنسو ہے جسے مٹی، بصد احتیاط، سمندروں کے حوالے کر آتی ہے۔ کشمیر کی پہاڑیوں سے نکلنے والے اس دریا کے ساتھ، پنجاب کے کئی دل دھڑکتے ہیں۔ کھلے دل اور کشادہ مزاج کسانوں کی ہر محبت، یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ دریا کنارے اب بھی کئی ملاح، پانیوں کو عجب طور سے تقسیم کرتے ہیں کہ چناب عاشقاں، راوی راسقاں اور سندھ صادقاں”۔

کتاب پڑھتے ہویے بعض مقامات پر افسانوی انداز بھی محسوس ہوتا ہے، اور کچھ واقعات حقیقت سے زیادہ جذبات پر مبنی نظر آتے ہیں۔ جذباتی پن کی بنا پر حقیقت کچھ دور کھڑی نظر آنے لگتی ہے۔

جھنگ سے گزرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ

“یوں تو یہ آبادی، دریائے چناب کے کنارے کنارے آباد ہے، مگر جہاں جہاں صحرا کی ریت، دریا کے پانی سے ملتی ہے، وہاں وہاں ایک جھنگ بسا ہے۔ ہیر رانجھا کے علاوہ ایک اور عشقیہ داستان ہیرا اور چندربھان کی بھی ہے جس کا اختتام ہجر اور موت پر ہوتا ہے۔ جھنگ کی حقیقت، ایک تکون میں مضمر ہے۔ تصوف، محبت اور شاعری کی اس تروینی کے گرداگرد یہ شہر آباد ہے۔ حضرت سلطان باہو کے علاوہ حضرت شاہ شیخاں، حضرت پیر جبو شہید، شاہ کبیر اور روڈو سلطان کے دربار ہیں۔ اس کے علاوہ سکھوں کے لیے جگت گرونانک دیو کا دربار ہے اور ہندوؤں کے لیے وارے سلیمان میں ایک مندر بھی ہے۔”

یہاں ماضی میں موجود مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کے بارے بعض جگہوں پر مصنف کا قلم غیرجانبدارانہ محسوس نہیں ہوتا۔

چنیوٹ، شورکوٹ، کمالیہ کے علاوہ مصنف نے تلمبہ کا ذکر بھی دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ

” یہاں کھدائیوں کے دوران اتنے سکے ملے ہیں کہ تہذیبوں کا شمار کرنا ممکن نہیں رہا۔ قرائن سے بے نیاز، ملتان کے راستے شمال جانے والے تمام لشکر، تلمبہ سے ہو کر گزرے ہیں۔ یہاں محمد بن قاسم کی یاد میں قاسم بازار اور شیر شاہ سوری کا قلعہ بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ علاقہ مولانا طارق جمیل اور پروفیسر ستیہ ایم رائے کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے۔”

یہاں سے پھر خانیوال اور چک 72/10-R سے گزر کر مصنف ملتان پہنچتے ہیں۔ ملتان کے بارے صاحب کتاب کا کہنا ہے کہ

“تاریخ میں ملتان کا سب سے پرانا نام، آج سے لگ بھگ آٹھ ہزار سال پہلے، میسان یا مائستھان کے طور پر ملتا ہے-“

منشی عبدالرحمن، اپنی کتاب آئینہ ملتان میں یوں لکھتے ہیں کہ

“آدم بہ سراندیپ، حوا نہ جدہ و ابلیس در زمین میسان افتادند”

ان کون جانے ابلیس یہاں اترنے کے بعد کدھر گیا۔ مزید ملتان میں رہنے والے بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ انہی دیمک گھروں میں ایک گھر، شکنتلا کا بھی تھا، جس کی عقیدے سے ماورا آواز نے، ملتان کی چھاؤنی میں بجنے والے، کئی جنگی ترانے گائے تھے۔

بہاولپور کا تذکرہ کرنے کے بعد مصنف اچ شریف پہنچتے ہیں اور اس بارے لکھتے ہیں

“تاریخ کی رنگینی اور وقت کی دھوپ چھاؤں کے باعث، اچ شریف کی یاد، اب اس پوسٹ کارڈ کی مانند ہے، جس کے ایک طرف خوبصورت تصویر اور دوسری طرف اداس تحریر ہوا کرتی ہے۔ خوبصورت تصویر رنگ برنگے دھاگوں سے درختوں پہ ٹنگی مناجاتوں والے ایک احاطے کی ہے جس میں حضرت جلال الدین سرخ پوش، ان کے پوتے حضرت جہانیاں گشت، ان کی پوتی مائی جاوندہ، استاد عبدالعلیم اور ماہر تعمیرات بابا نوریا کے مقابر ہیں اور اداس تحریر، آس، امید سے بوجھل فضا، بھربھری اینٹوں، زمیں بوس گنبدوں اور مٹتے ہوئے نقوش کی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ دونوں طرف سرشاری، ہجر اور وصال کا رنگ، بالکل ایک جیسا ہے”۔

یہ کتاب، مصنف کی الفاظ کی اینٹوں سے کھڑی کی گئی وہ شاندار عمارت ہے، جسے دیکھتے ہی قاری بے ساختہ تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ انشائیہ، آپ بیتی، رپورتاژ کا رنگ لیے یہ کتاب ان تمام علاقوں کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی زندگیوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ 2016 میں شائع ہونے والی یہ کتاب، ناسٹیلجیا کے مریضوں اور تاریخ کے شائقین کے لیے بہترین اثاثہ ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: